پانی پینے کے طبی اصول

حکیم محمد عمران مغل

پانی کا سب سے اہم کام خون کو پتلا کرنا ہے جس سے یہ رگوں میں دوڑتا ہے۔ چین کے لوگ ساری زندگی گرم پانی پیتے ہیں، ہماری طرح برف کے گولے حلق میں نہیں ٹھونستے۔ پانی کا برتن گہرا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ کشادہ ہونا چاہیے تاکہ اس میں خاکی ذرات ہوں تو نظر آ سکیں۔

آدمی کو پانی کب پینا چاہیے؟ پرانے اطبا نے انسانی مزاجوں کے لحاظ سے درجات مقرر کیے ہیں۔ مرطوب مزاج تھوڑا صبر کر کے پیے، لیکن خشک مزاج فوری پیے۔ اگر ایسا نہ کرے گا تو تب دق، احتراق اخلاط، ضعف دماغ اور سرد کا اندیشہ ہے۔ غذا کے ساتھ پانی پینے کے متعلق اطبا کا کافی اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے غذا کچی رہ جاتی ہے اور بعض کا خیال ہے کہ ہاضمہ تیز ہوتا ہے۔ اس بات پر سب متفق ہیں کہ مرطوب مزاج والا بہرکیف نقصان اٹھاتا ہے۔ صرف خشک مزاج والے کو اطبا نے اجازت دی ہے کہ پیاس کو فوری بجھائے۔ صفراوی مزاج والا غذا کھانے کے دو گھنٹہ بعد، سوداوی مزاج تین گھنٹہ بعد، بلغمی مزاج چار گھنٹہ بعد اور بعض اطبا نے گھنٹہ دو گھنٹہ بعد کی بھی پابندی عائد کی ہے۔ اگر معدہ او رجگر میں گرمی ہو تو پھر فوری پئیں۔ 

بدن کے مسامات کھلے ہوں یا معدہ خالی ہو تو پانی کی سردی بلا اصلاح اعضائے رئیسہ اور اعصاب میں سرایت کر جاتی ہے جو حرارت غریزیہ کے لیے باعث نقصان ہے۔ جماع کے بعد پانی پینے سے حرارت غریزیہ بجھتی ہے۔ رعشہ، تشنج پیدا ہوتا ہے اور بھوک بھی مر جاتی ہے۔

نہار منہ پانی پینے سے اگر دل کی طرف چلا گیا تو دل کی حرارت بجھا کر باعث موت ہو سکتا ہے۔ جگر کی طرف چلا گیا تو خطرناک مرض استسقا (پانی کا بھر جانا) پیدا کرتا ہے۔ نہارمنہ ٹھنڈا پانی پینے سے معدہ اور اعضاء تنفس سکڑ جاتے ہیں، لیکن خشک مزاج اور طاعون کے مریض کو نہار منہ پینا جائز ہے کیونکہ پانی ان کی اندرونی حرارت کی اصلاح کرتا ہے۔

ریاضت، حمام یا اسہال کے بعد ٹھنڈا پانی پینے سے وہی عوارض ہوں گے جو جماع کے بعد ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ناقابل برداشت جگر کا درد بھی ہوا کرتا ہے۔ نیند سے بیدار ہو کر فوری طور پر پانی پینے سے زکام اور دماغی امراض ہوں گے۔ قے کے بعد پانی پینے سے ضعف معدہ ہوا کرتا ہے۔ رات کو تھوڑا پینا چاہیے۔ کھڑے کھڑے یا اوندھے منہ یا تکیہ کی ٹیک لگا کر پینے سے احشا اور اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔ جنھیں اعصابی دردیں ہوں، وہ یہی لوگ ہوتے ہیں۔ 

کنویں او رنہر کا پانی ملا کر کبھی نہ پئیں۔ دو مختلف کنووں کا پانی بھی ملا کر نہ پئیں۔ اس سے تبخیر اور قراقر پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح بارش، کنویں اور نہر کا پانی قطعاً ملا کر نہ پینا چاہیے۔ یہ لطیف اور کثیف کا اجتماع ہے۔ تربوز کا پانی پینے سے برص کا مرض ہوتا ہے۔ یہ برس ہا برس کی تحقیقات ہیں۔

نوٹ: مئی کی اشاعت میں کتابت کی غلطی سے یہ جملہ شائع ہو گیا ہے کہ ’’مٹی کے برتنوں سے بھی شوگر کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔‘‘ مٹی کے برتنوں کا استعمال ہرگز شوگر کا باعث نہیں بنتا۔

امراض و علاج