غزالی اور ابنِ رشد کا قضیہ ۔ اصل عربی متون کی روشنی میں (۱)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

(نوٹ: بعض عربی عبارات کا ترجمہ نہیں کیا گیا، کیونکہ عربی عبارت نقل کرنے سے قبل ہی ان کا مفہوم، اپنے الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔)


غزالی نے اپنے دور میں خود کو مسلم کہنے والے بعض فلسفیوں کی کچھ آراء پر سخت علمی تنقید کی جو ان کی کتاب ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ کی صورت میں آج تک موجود ہے، جبکہ ایک مشہور فلسفی ’’ابنِ رشد‘‘ نے ’’تہافت التہافت‘‘ کے نام سے اس نقد کا جواب لکھا۔ غزالی اور ابنِ رشد کی اس آویزش کو غزالی اور ابنِ رشد کا قضیہ کہا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اس علمی آویزش اور بحث کے تمام پہلوؤں کو زیرِ بحث لانا مقصود نہیں، نہ یہ مفید ہے اور نہ ہی آج کے جدید ذہن کے لئے یہ سب پہلو قابلِ فہم ہوں گے۔ موجودہ دور میں بہت سے لوگ غزالی کے مقابلہ میں ابنِ رشد کو اپنا راہ نما قرار دیتے ہیں اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان کی اکثریت نے غزالی اور ابن رشد کے عربی متون کو تو درکنار، ان کے تراجم کو بھی نہیں پڑھا۔ کہیں کسی تحقیقی مجلہ میں اس موضوع پر دو، ایک مقالے پڑھ کر وہ اس معاملہ میں ثالثی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے قومی اخبارات کے بہت سے کالم نگاروں کا یہ پسندیدہ موضوع ہے اور وہ وقفہ وقفہ سے اِس موضوع پر رائے زنی کرتے ہوئے غزالی کے موقف پر ابن رشد کے موقف کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ غزالی کے حوالہ سے یہ حضرات کچھ سنگین قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر عالمِ اسلام‘ غزالی کی بجائے ابنِ رشد کو اپنا راہ نما بناتا تو آج ذلت کے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ ان کا خیال ہے کہ ابن رشد سائنس اور اسلام کے درمیان ہم آہنگی کا قائل تھا، جبکہ غزالی سائنس کے مخالف ومنکر تھے اور گیارہویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے درمیان آنے والا سائنسی وفکری انحطاط غزالی کی مخالفت ہی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ زیرِ نظر مضمون میں دراصل انہی ’’مغالطوں‘‘ کا ازالہ مقصود ہے۔ ان حضرات پر میری تنقید غزالی سے اندھی عقیدت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ سوچی سمجھی رائے ہے جو غزالی اور ابن رشد کے اصل عربی متون کو براہِ راست پڑھنے کے بعد میرے اندر پیدا ہوئی ہے۔ 

امام غزالی رحمہ اللہ کا موقف

غزالی نے فلسفیوں پر کوئی ایسا جبر نہیں کیا کہ وہ فلسفہ نہ پڑھیں یا سائنسی تحقیقات کرنا چھوڑ دیں اور نہ ہی کبھی انہوں نے یہ کہا کہ اسلام اور سائنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ غزالی کے پیروکاروں نے ایسے فلسفیوں اور سائنس دانوں پر کبھی تنقید نہیں کی جنہوں نے خود کو سائنسی تجربات اور ریاضی وطب جیسے مفید، کارآمد اور اوریجنل سائنسی علوم تک محدود رکھا۔ چنانچہ ہمارے علم کے مطابق الخوارزمی (الجبرا کے بانی)، ابن الہیثم (ماہرِ طب)، حکیم یحییٰ بن ابی منصور، ابو ریحان البیرونی (ماہرین جیومٹری)، مسلم بن فراس (پہلا ہوا باز)، عباس بن سعید جوہری اور سند بن علی (آلاتِ رصد بنانے کے ماہر)، بنو موسیٰ بن شاکر (گھڑی جیسے متحرک آلات بنانے کے ماہر)، محمد بن زکریا رازی (ماہر کیمیا)، حکیم ابو محمد العدلی القائنی، ابو سہل ویجن بن رستم کوہی اور حکیم ابو الوفاء بوزجانی (ماہرین ریاضی) جیسے لوگوں کو کبھی بھی کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم حکماء اور سائنس دانوں میں اکثر لوگ ایسے ہی تھے جنہوں نے خالصتاً ریاضی وطب جیسے حقیقی اور تجرباتی علوم تک اپنے آپ کو محدود رکھا اور اس میدان میں خدمات انجام دیں، لیکن ان کی زیادہ شہرت نہیں۔

مولانا عبدالسلام ندوی کے بقول’’ صرف مامون الرشید کے زمانہ تک مسلمانوں میں متعدد ریاضی دان پیدا ہوئے اور مشہور ہوئے، مگر فلسفی صرف کندی پیدا ہوا۔ ‘‘ (حکمائے اسلام۔ جلد۱، صفحہ۱۰۵)لیکن ان ریاضی دانوں اور جینوئن سائنس دانوں کے نہ تو آج نام زیادہ معروف ہیں اور نہ ہی تاریخ میں ان کے احوال زیادہ محفوظ ہیں، وجہ وہی کہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی اور یہ لوگ اپنا سا کام کرتے رہتے تھے، متنازعہ امور میں یا مذہب کے معاملہ میں ٹانگ اڑا کر انہوں نے کبھی مشہور ہونے کی کوشش نہیں کی۔ دیکھئے، بنو موسیٰ بن شاکر، حکیم یحییٰ بن منصور ، عباس بن سعید وغیرہ کے نام سے کون واقف ہے؟ صرف الخوارزمی کا نام جانا پہچانا ہے، مگر اس کے حالات بھی آدھے صفحہ سے زیادہ نہیں ملتے۔ ایسے لوگوں کو بھی اگرچہ بعض اوقات فلسفی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دور میں ریاضی وطب جیسے علوم بھی فلسفہ کا ایک شعبہ سمجھے جاتے تھے، لیکن فی الجملہ ان کو فلسفی کی بجائے ’’حکیم‘‘ کہا جاتا ہے۔ فلسفی کا لفظ اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جنہوں نے خود کو ان جینوئن علوم تک محدود نہیں رکھا، بلکہ مذہبیات اور مابعد الطبیعیات میں ٹانگ اڑا کر اس میں بھی نئی نئی ’’ایجادات‘‘ پیش کرنے کی کوشش کی یا دوسروں کی ’’ایجادات‘‘ کو رد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ لطفی جمعہ کی ’’تاریخ فلاسفۃ الاسلام‘‘ میں صرف ایسے ہی لوگوں کا تذکرہ ملتا ہے، جینوئن حکماء اور سائنس دانوں کا نہیں۔ 

غزالی کی تنقید کا رخ انہی ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کی طرف ہے جنہوں نے اپنے متنازعہ ’’کارناموں‘‘ کی وجہ سے شہرت حاصل کی اور ان میں سے بعض نے اپنی الہیات اور مابعد الطبیعیات (Metaphysics)کو اسلام میں داخل کرنے کی سعی کی۔ان فلسفیوں نے اپنے علمِ الہیات میں خداوند تعالی کے بارہ میں یہ عجیب وغریب دعوی کیا کہ وہ اپنی مخلوق کی کلیات کو اور ان پر طاری ہونے والے جزوی حالات کو جانتا ہے یعنی یہ کہ میری مخلوق میں انسان ہے، چرند ہے، پرند ہے،ان میں کس نے کب پیدا ہونا اور کب مرنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ ان جزئیات میں آنے والے موقع بموقع تغیر سے بے خبر اور غافل ہے، یعنی انسانوں میں اس وقت کتنے انسان موجود ہیں ، کون پیدا ہورہا ہے؟ کون مررہا ہے؟کون سا درخت پھل رہا ہے اور کون سا درخت سوکھ رہا ہے؟ کونسا ہوچکا ہے اور کس نے ہونا ہے؟ اگر کسی کو یہ ’’منطق‘‘ ناقابلِ فہم اور عجیب وغریب محسوس ہوتی ہے تو وہ فلسفیوں کا سر پیٹے، ہمارا نہیں۔ یہ حرف بحرف انہی کا عقیدہ ہے۔ فلسفہ کے مشور و متداول متن ’’ہدایۃ الحکمۃ‘ ‘ کے مصنف اثیر الدین ابہری کے الفاظ ہیں: ’’الواجب لذاتہ عالم بالجزئیات المتغیرۃ علی وجہ کلی۔۔۔ لکن لا یدرکہا مع تغیرہا‘‘ (ہدایۃ الحکمۃ۔ صفحہ۷۲) اہل سنت کے ہاں مشہور یہ رہا ہے کہ فلسفی سرے سے یہ ہی نہیں مانتے کہ اللہ کی ذات کو جزئیات کا علم حاصل ہے، لیکن یہ بات درست نہیں۔ علامہ شبلی نے بھی یہ وضاحت کی ہے۔ (علم الکلام۔ جلد اول،صفحہ۱۲۹) صحیح بات یہی ہے کہ وہ اسے مانتے بھی ہیں اور نہیں بھی، یعنی مانتے ہیں لیکن اپنی عجیب وغریب منطق کے ساتھ۔ تہافت التہافت کے محقق ڈاکٹر سلیمان دنیا نے بوعلی کی سینا کی تصنیف ’’الشفاء‘‘ سے عبارت نقل کرکے دعوی کیا ہے کہ وہ باری تعالیٰ کے بارہ میں جزئیات سے بالکل ناواقف ہونے کا قائل تھا۔ (تہافت التہافت۔ صفحہ۵۸)لیکن میری سمجھ سے یہ بالا تر ہے کیونکہ اس کی محولہ عبارت میں ہی الفاظ یہ ہیں: ’’لایجوز ان یکون عاقلا لہذہ المتغیرات مع تغیرہا من حیث ہی متغیرۃ عقلا زمانیا مشخصا (بل علی نحو آخر نبینہ) ۔۔۔واجب الوجود انما یعقل کل شیء علی نحو کلی۔۔۔‘‘ (تہافت التہافت۔صفحہ۵۰) مزید سنئے، اسی طرح ان فلسفیوں نے یہ دعوی کیا کہ خدا ایک بے دست وپا قسم کی قوت (جسے وہ ’’عقل ‘‘ کہتے ہیں) کا نام ہے جس سے ایک اور قوت نے جنم لیا، اس سے پھر ایک اور قوت نے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ دسویں قوت اور ’’عقل‘‘ تک پہنچا۔ اس دسویں عقل اور قوت سے یہ سارا جہان نمودار ہوا۔ اثیر الدین ابہری کے الفاظ ہیں: ’’الصادر من المبدء الاول انما ہو الواحد لانہ بسیط والبسیط لا یصدر عنہ الا الواحد کمامر‘‘ (ہدایۃ الحکمۃ۔ صفحہ۷۵) 

یہ باتیں دلیل کی رو سے کتنی بے سروپا اور احمقانہ ہیں، اس بحث میں پڑے بغیر فی الحال صرف یہ دیکھئے کہ ایک آدمی یہ سب باتیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے اسلام ہی کے نام پر کرتا ہے تو کیا اسے اس بات کا حق پہنچتا ہے اور اگر کوئی غزالی اس پہ تنقید کرے تو کیا یہ بلاجواز ہے؟ بات بڑی واضح ہے کہ ان ہفوات کو فلسفی بے شک اپنے ’’علم الہیات‘‘ کا جزو بنائیں کیونکہ دین میں جبر نہیں، مگر انہیں اس بات کاکوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ سب باتیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے بھی کریں اور یوں مسلمانوں کے لئے تشویش، انتشار اور افتراق کا باعث بنیں۔ طرہ یہ کہ ’’مسلم‘‘ فلسفی اپنی الہیات کو ریاضی اور منطق کی طرح حتمی اور شبہات سے پاک بھی سمجھتے تھے، مگر ان کا دعوی تھا کہ اس کے دلائل کو سمجھنا صرف فلسفیوں کے لیے ممکن ہے۔ 

غزالی یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان فلسفہ اور سائنس کے صرف کارآمد علوم کو اختیار کریں اور مذہب کے دائرہ سے ان کو الگ رکھتے ہوئے ان کی بنیاد پر اسلام کو بدلنے کی کوئی کوشش نہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک حکمت وفلسفہ اور سائنس کے تمام اجزاء قابلِ اعتراض نہیں، بلکہ صرف وہ حصہ جو اسلام کی تعلیمات سے صریحاً متصادم ہے ۔غزالی کے اپنے الفاظ ہیں:

 ’’ہذا الفن ونظائرہ ہو الذی ینبغی ان یظہر فساد مذہبہم فیہ دون ما عداہ‘‘ (تہافت الفلاسفۃ۔صفحہ۸۱) 
یعنی ’’فن الہیات اور اس کی امثال ہی فلسفہ کا وہ شعبہ ہیں جہاں ان کے مذہب کی تردید مقصود ہے،فلسفہ کے کسی اور فن یا شعبہ (ریاضی، طب، منطق، سوشل سائنسز وغیرہ) پر تنقید کرنا ہمیں مطلوب نہیں۔‘‘

اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ دیکھیں:

 ’’علومہم اربعۃ اقسام: الریاضیات والالہیات والمنطقیات والطبیعیات، اما الریاضیات۔۔۔ فلا غرض لنا فی الاشتغال بایرادہ، واما الالہیات فاکثر عقائدہم فیہا علی خلاف الحق والصواب نادر فیہا، واما المنطقیات ۔۔۔ فیخالفون اہل الحق فیہا بالاصطلاحات والایرادات دون المعانی والمقاصد اذ غرضہا تہذیب طرق الاستدلالات، واما الطبیعیات فالحق فیہا مشوب بالباطل‘‘ (مقاصد الفلاسفہ صفحہ۱۰،۱۱) 
یعنی ’’فلسفیوں کے نظریاتی علوم کے چار بنیادی شعبے ہیں، ایک تو ریاضی ہے جس کو موضوعِ بحث بنانا مطلوب نہیں، دوسرا الہیات ہے ، اس میں ان کے اکثر عقائد راہِ راست سے ہٹے ہوئے ہیں، تیسرا منطق ہے جس میں اہلِ حق کے ساتھ ان کا اختلاف صرف اصطلاح میں ہے، اصل مفاہیم میں نہیں ، چوتھا طبیعیات ہے جس میں الٹی سیدھی، دونوں طرح کی باتیں پائی جاتی ہیں۔‘‘

تہافت التہافت کی فہرست پر ایک نظر ڈال کر بھی یہ بات بآسانی معلوم کی جاسکتی ہے کہ غزالی کی گفتگو کا محور یا تو الٰہیات کے ان مسائل کی نشان دہی ہے جو دین کی تعلیمات سے صریحاً متصادم ہیں، یا پھر وہ فلسفیوں کے اس زعم کو رد کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی الہیات ریاضی اور منطق کی طرح شک وشبہ سے پاک ہے۔اپنی کتاب میں ان کے صرف یہی دو اہداف ہیں۔ دوسروں کی بنائی ہوئی فہرستوں کو بھی چھوڑ دیجئے، وہ خود ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ کے مقدمہ میں ایک عنوان قائم کرتے ہیں:

 ’’فہرست المسائل التی اظہرنا تناقض مذہبہم فیہا فی ہذا الکتاب‘‘ (صفحہ۸۶) 
یعنی ’’ان مسائل کی فہرست جن کے اندر فلسفیوں فلسفیوں کے مذہب کے ضعف کو ہم نے اس کتاب میں بیان کیا ہے۔‘‘

 اس کے بعد انہوں نے خودبیس مسائل کی فہرست دی ہے۔ ان مسائل پہ ایک سرسری نظر بھی ڈال لی جائے تو اندازاہ ہوجائے گا کہ ان کے اہداف صرف یہی دو ہیں۔ وہ الٰہیات کے ان مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں جو دین کی تعلیمات سے صریحاً متصادم ہیں یا پھر وہ فلسفیوں کے اس زعم کو رد کرتے ہیں کہ ان کی الٰہیات ریاضی اور منطق کی طرح شک وشبہ سے پاک ہے۔

اب خود بتائیے کہ کیا غزالی سائنس کے منکر ہیں؟ اسلام کی حقانیت دو اور دو ، چار کی طرح واضح ہے کیونکہ اللہ کا وجود اس کائنات کا سب سے بدیہی سچ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت وراست گوئی کو آج کے غیر متعصب ’’نان مسلم‘‘ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسلام کے اثبات کے لئے کسی فلسفیانہ دلیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی فلسفیانہ دلیل کی بنا پر ایسے بدیہی سچ پہ تنقید روا ہے۔ کجا یہ کہ اسلام پہ یہ تنقید خود کو مسلمان کہتے ہوئے (یعنی اسلام کے نام پر) ہی کی جائے۔ 

ان واضح تصریحات کے بعد کسی کے لئے یہ کہنے کی گنجائش نہ تھی کہ غزالی سائنس کے منکرہیں یا مذہب اور سائنس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے خلاف ہیں۔ لیکن پروپیگنڈے کاتو کام ہی یہی ہے کہ حقائق کو تروڑا مروڑا جائے۔ بہتر ہوگا کہ یہاں پر ڈاکٹر سلیمان دنیا کی رائے بھی نقل کردی جائے۔ ڈاکٹر سلیمان دنیاجامعۃ الازہر، مصر میں فلسفہ کے استاد اور المرکز الثقافی الاسلامی، نیویارک کے مدیر رہے۔ وہ امام غزالی کی ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘اور ابن رشد کی ’’تہافت التہافت‘‘ دونوں کے بیک وقت محقق، حاشیہ نگار اور مقدمہ نگار ہیں۔ انہوں نے دونوں کتابوں کے حرف حرف کو پڑھا، سمجھا، ان پہ اپنے وقیع علمی حواشی تحریر کیے، موقع بموقع غزالی اور ابن رشد دونوں پہ بے لاگ نقد کیا، دونوں کتابوں کے شروع میں گراں قدر تحقیقی مقدمے تحریر کیے اور مختلف قلمی نسخوں کو سامنے رکھتے ہوئے الفاظ کے معمولی اختلاف تک کو بھی جابجا واضح کیا۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ غزالی اور ابن رشد کے قضیہ کے بارہ میں ان کی رائے کسی بھی دوسرے آدمی کے مقابلہ میں کس پائے کی ہوگی؟غزالی کے بارہ میں وہ لکھتے ہیں: 

’’غفل قوم عن ذالک فی القدیم والحدیث، وظنوا ان الغزالی یحمل علی التفکیر العقلی جملۃ ویکرہہ ویحاربہ ویریدہ ان لایکون، ومن ہنا قالوا ما قالوا من ان الغزالی قد ضرب الفلسفۃ ۔یعنون کلہا۔ ضربۃ لم تقم لہا بعد الشرق قائمۃ، ومن الغریب انہ حتی فی عصرنا ہذا ، بعد ما تیسر طبع کثیر من الکتب وتیسر تبعا لذالک الاطلاع علی کثیر من کتب الغزالی، مایزال بعض المنتسبین الی العلم والواضعین انفسہم بین اہلہ فی مقام الصدارۃ یجہلون ہذہ الحقیقۃ‘‘ (تہافت التہافت بہ تحقیق سلیمان دنیا۔ صفحہ۱۶) 
’’قدیم اور جدید، دونوں ادوار میں لوگوں کے ایک گروہ کا یہ خیال رہا ہے کہ غزالی پوری عقلی وفکری روایت پر حملہ آور ہیں، فکری کاوشوں کو ناپسند کرتے ہیں، ان کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پوری روایت کا خاتمہ ہو۔ اسی بناء پر ان لوگوں نے غزالی کے بارہ میں وہ سب کہا جو ان کے منہ میں آیا۔ ان لوگوں کے مطابق غزالی نے پورے فلسفہ اور سائنس کی ایسی بیخ کنی کی ہے کہ اس کے بعد وہ مشرق میں پیروں پہ کھڑا نہیں ہوسکا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں جبکہ کتابیں آسانی سے دستیاب ہیں اور غزالی کی کتابوں سے مراجعت کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا، اب بھی خود کو علم سے منسوب کرنے والے اور اہلِ علم میں خود کو صدر نشینی کا اہل سمجھنے والے لوگ اس حقیقت سے جاہل ہیں۔‘‘ 

ڈاکٹر سلیمان دنیا کا تعجب بجا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ روشن خیال اپنی روشن خیالی کو مصدقہ کروانے کے چکر میں ہر وہ کام کرتے ہیں جس میں انہیں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ غزالی کو پڑھے بغیر ، غزالی کی طرف غلط موقف منسوب کرنا اور پھر ان پہ نقد کرنا بھی شاید اسی غرض سے ہے ۔ خالص عربی زبان میں بپا ہونے والے اس قضیہ کے بارہ میں بھی ان حضرات کا خیال ہے کہ عربی متون کے حوالے ثانوی درجہ رکھتے ہیں اور انگریزی مقالات کے حوالے ان سے زیادہ معتبر ہیں۔ 

ْ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ فلسفیوں کے علمِ الہیات پر تنقید کرنے میں غزالی تنہا نہیں، فخر الدین رازی اور ابنِ تیمیہ جیسے کئی علماء نے بھی ان پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ سب حضرات (فقہی مسائل میں مختلف الخیال ہونے کے باوجود) فلسفیوں پر تنقید کرنے میں یک زبان ہیں۔ اور تو اور، خود ’’سلسلہ فلسفیہ‘‘ میں ایک بڑا نام ابو البرکات بغدادی کا آتا ہے۔ یہ مذہبا یہودی تھا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کیا۔ اس نے بھی خود اپنی کتاب ’’المعتبر‘‘ میں فلسفیوں کی الہیات پر شدید اور بھر پور تنقید کی ہے۔ بعض حضرات کے بقول، بعد میں رازی اور ابنِ تیمیہ کی فلسفہ پر تنقید اکثرو بیشتر اسی ’’المعتبر‘‘ سے ماخوذ ہوتی ہے جو سلسلہ فلسفیہ کے ہی ایک عظیم رکن کی تصنیف ہے۔(حکمائے اسلام۔ جلد۱، صفحہ۴۵۰، ۴۵۱)

علامہ اقبال کے درجِ ذیل مشہورِ زمانہ شعر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی فلسفہ کے ناروا پہلوؤں پر غزالی کی تنقید کو درست اور قابلِ رشک سمجھتے تھے۔

رسمِ اذاں رہ گئی ، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا ، تلقینِ غزالی نہ رہی

ابن رشد کی تنقید

ابن رشد نے اگر چہ غزالی کی ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ پر تنقید لکھی ہے، مگر جنہوں نے دونوں کو پڑھا ہے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ابن رشد اپنی تمام تر تنقید کے باوصف غزالی کی کتاب کا قد کاٹھ گھٹا نہیں سکے۔ابنِ رشد کا مقصد ’’تہافت التہافت‘‘ میں کیا ہے اور وہ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ بات اگر میں ابن رشد کے حامیوں سے پوچھوں تو مجھے یقین ہے کہ بغلیں جھانکنے کے سوا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا یا پھر ان میں سے جو لوگ ذرا زبان آور ہیں، وہ اندھیرے میں تیر چلاتے ہوئے کوئی نہ کوئی بات بنا لیں گے۔ اس قضیہ سے ان لوگوں کی واقفیت کا عالم تو یہ ہے کہ یہ غزالی کو سائنس ومذہب کی ہم آہنگی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ خود ابن رشد نے بھی ’’تہافت التہافت‘‘ میں کہیں غزالی پرکم از کم یہ الزام عائد نہیں کیا۔ غزالی کے مقابلہ میں ابن رشد کو راہ نما بنانے کے شوقین جانتے ہی نہیں کہ ابن رشد نے خود لکھا کیا ہے اور غزالی نے ایسا کیا لکھا تھا جس سے ابن رشد نے اختلاف کیا ہے۔

(۱)

غزالی کا مقصود(جیساکہ گذشتہ عنوان کے تحت بھی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے) ایک تو فلاسفہ کی الٰہیات کے ان مسائل کی نشان دہی ہے جو دین کی تعلیمات سے صریحا متصادم ہیں۔ ان میں سے دو مثالوں کا ذکر ہم بھی گذشتہ سطور میں کرچکے ہیں: 

ا۔ مخلوق کے جزئی احوال سے نا واقفیت والی بات۔ 

۲۔ یہ سارا جہان اللہ نے پیدا نہیں کیا۔ وہ ایک قوت ہے جسے وہ ’’عقل‘‘ کا نام دیتے ہیں، اس سے ایک قوت اور عقل نے جنم لیا، اس سے ایک اور عقل نے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ دسویں عقل تک پہنچا اور اسی سے یہ سارا جہان نمودار ہوا۔

باقی مسائل جو غزالی نے فلاسفہ کی الہیات کی طرف منسوب کئے ہیں، ان سے ہم صرفِ نظر کرتے ہیں، صرف انہی دو مثالوں پر اکتفا کیجیے۔ ابن رشد کے ’’دیسی پیروؤں‘‘ کا خیال ہوگا کہ شاید ابن رشد نے فلاسفہ کی طرف ان مسائل کی نسبت کو غلط ثابت کیا ہوگا اور اس نسبت سے انکار کیا ہوگا، حالانکہ فی الواقع ایسا نہیں۔ پہلا مسئلہ ابن سینا کی تصانیف ’’الاشارات‘‘ اور ’’الشفاء‘‘میں موجود ہے اور ابنِ رشد نے بھی ابن سینا سے اس کی نسبت کو قطع نہیں کیا۔ ڈاکٹر سلیمان دنیا نے ’’الشفاء‘‘ کی طویل عبارت حرف بحرف نقل کی ہے۔ (تہافت التہافت۔ صفحہ۵۸)جبکہ دوسرے مسئلہ کی نسبت کو ابن رشد نے فلاسفہ سے قطع ضرور کیا ہے مگر یونانی فلاسفہ سے، بوعلی سینا اور اس کے ہم نواؤں سے نہیں، انہیں وہ الٹا دوہرا مجرم نام زد کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے خانہ ساز اس عقیدہ کی نسبت غلط طور پر یونانیوں کی طرف کی ہے۔ (تہافت التہافت۔ صفحہ۳۰۹، ۳۰۱) اور غزالی کا مقدمہ خود غزالی ہی کے بقول بوعلی سینا اور اس کے ہم نواؤں کے خلاف ہے۔ (تہافت الفلاسفۃ، صفحہ۷۶، ۷۸۔غزالی کی اصل عبارت بھی آگے ہم نقل کردیں گے۔) سبحان اللہ! اب خود بتائیے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ یونانی فلسفیوں کی جان تو چھوٹ گئی کہ ابنِ رشد کے بقول ان کی طرف اس مسئلہ اور عقیدہ کی نسبت درست نہیں، لیکن کیا اس کے ساتھ ہی ساتھ بوعلی سینا وغیرہ کے خلاف غزالی کی ’’چارج شیٹ‘‘ زیادہ مضبوط نہیں ہوگئی (جن کی تردید کرنا غزالی کو مطلوب تھا)؟ کیونکہ ابنِ رشد ہی کے دعوی کے مطابق اس مسئلہ میں بوعلی سینا وغیرہ ناقل نہیں، بلکہ خود ان کے موجد ہیں۔

بوعلی سینا وغیرہ نے اپنی تصانیف میں کئی ایسے مسائل نقل کئے ہیں، جن کے بارہ میں ابنِ رشد کہتا ہے کہ بوعلی سینا نے یونانی فلاسفہ کی طرف ان کی نسبت غلط طور پر کی ہے اور درحقیقت یہ اس کے اپنے ذاتی افکار ہیں۔مثلا دیکھئے: تہافت التہافت، صفحہ۸۹، ۱۲۱۔ ایسے مسائل کی ایک فہرست علامہ شبلی نے ’’علم الکلام‘‘ میں ترتیب بھی دی ہے۔ (علم الکلام۔ جلد۱، صفحہ۱۲۴)انہی میں سے وہ دوسرا مسئلہ بھی ہے جو ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔

(۲)

جیساکہ ہم نے عرض کیا،غزالی کا مقصود ایک تو ’’الہیات‘‘ کے ان مسائل کی نشان دہی ہے جو دین کی تعلیمات سے صریحا متصادم ہیں۔دوسرا جب وہ فلسفہ کے الہیاتی مسائل پر تنقید کرتے ہیں اور فلسفیوں کے دلائل کے مقابلہ میں مخالف عقلی والزامی دلائل پیش کرتے ہیں تو ان کا مقصود فقط یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ فلاسفہ کی الہیات ریاضی اور منطق کے اصولوں کی طرح قطعی نہیں اور اس میں دلیل کے اعتبار سے اشتباہ اور اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:

 ’’یستدلون علی صدق علومہم الالہیۃ بظہور العلوم الحسابیۃ والمنطقیۃ ویستدرجون بہ ضعفاء العقول ولوکانت علومہم الالہیۃ متقنۃ البراہین نقیۃ عن التخمین کعلومہم الحسابیۃ لما اختلفوا فیہا کما لم یختلفوا فی الحسابیۃ‘‘ (تہافت الفلاسفۃ۔ صفحہ ۷۶،۷۷)
یعنی ’’ارسطو کے سحر میں مبتلا ’’مسلم‘‘ فلسفی علم الہیات کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے یہ حیلہ سازی کرتے ہیں کہ جس طرح یونانی فلاسفہ کے وضع کردہ علمِ ریاضی اور علمِ منطق شک وشبہ سے پاک ہیں، اسی طرح ان کا وضع کردہ علم الہیات بھی قطعی اور حتمی ہے، یوں وہ کم عقلوں کو اپنی الہیات سے مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اگر ان کا علمِ الہیات علومِ حسابیہ کی طرح مدلل اور شبہات سے پاک ہوتا تو کم ازکم ان کے پیش رو یونانیوں کا اس میں کوئی اختلاف نہ ہوتا جیساکہ علومِ حسابیہ میں ان کا کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔‘‘(جبکہ ان کا اس میں شدید اختلاف منقول ہے اور خود غزالی نے وہ نقل کیا ہے۔)

فلاسفہ کے استدلال کے جواب میں ان کا عقلی اور الزامی استدلال محض یہی بات ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے کہ الہیات کے اندر فلاسفہ کے دلائل اس طرح قطعی نہیں جس طرح کہ ریاضی اور منطق کے مسائل ہیں اور جس طرح کہ ارسطو سے زیادہ ارسطو کے وفادار ’’مسلم‘‘ فلسفی سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پر فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ افلاک ذی روح ہیں اور وہ خدا تعالی(جسے وہ ’’عقلِ اول‘‘ کہتے ہیں) کے برعکس مخلوقات کے افعال اور جزئیات میں آنے والے تغیر سے بھی لمحہ بہ لمحہ واقف رہتے ہیں۔ اب اگر کوئی اسے ثابت کرنے کا کہتا تو بتایا جاتا کہ یہ آسان کام نہیں اور اس کے لئے بہت ہی عالی قسم کا دماغ درکار ہے۔ میرا نہیں خیال کہ آج کا کوئی روشن خیال مسلمان بھی فلسفیوں کے اس رویہ کی حمایت کرے یا یہ خیال کرے کہ الہیات کے حوالہ سے ’’مسلم فلسفیو ں‘‘ کی اندھی عقیدت بجا تھی اور غزالی نے جس طرح الہیات کو موضوع بحث بنایا ہے، الہیات کے مسائل کو جس طرح قطعی کی بجائے ظن وتخمین کا مجموعہ بتایا ہے اور ان پر قطعی دلائل کا مطالبہ کیا ہے، یہ ناجائز تھا۔ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو اسے چاہئے کہ کم از کم ایک دفعہ ضرور فلسفیوں کی الہیات کا مطالعہ کرلے۔

فلسفیوں کا علمِ الہیات حماقتوں کا ایک پلندہ تھا۔ ابنِ خلدون کے بقول، سمجھ نہ آنے کے باوجود لوگ اس سے چمٹے رہتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ سمجھ آجائے تو انسان کو ایک خاص قسم کی غیبی قوت حاصل ہوجاتی ہے۔ (مقدمہ ابنِ خلدون۔ صفحہ۵۶۱) چنانچہ عام لوگ تو رہے ایک طرف، ارسطو کے بعد فلسفہ کے تیسرے بڑے استاد بو علی سینا کے بارہ میں منقول ہے کہ اس نے ’’الہیات‘‘ کے موضوع پر فلسفہ کے دوسرے استاد الفارابی کی ’’مابعد الطبیعہ‘‘ نامی ایک کتاب پڑھی، مگر کچھ پلے نہ پڑا۔ جذبہ ایسا قوی تھا کہ یکے بعد دیگرے اسے چالیس دفعہ پڑھ ڈالا، کتاب لفظ بہ لفظ یاد ہوگئی مگر پلے پھر بھی کچھ نہ پڑا۔یہاں تک کہ اس علم سے مایوس ہوگیااور جوش ٹھنڈا پڑ گیا، لیکن دل میں خلش تھی۔ ایک دفعہ پھر کسی موقع پر اسے پڑھا تو محسوس ہوا کہ اب مجھے سمجھ آنے لگی ہے۔ (حکمائے اسلام۔ جلد۱۔ صفحہ۲۹۵) اور یہ کوئی ہوائی بات نہیں۔ ’’مسلم‘‘ فلسفیوں کا علمِ الہیات آج بھی دستیاب ہے، خود اس کے اس کا مطالعہ کرکے اس کی ’’بے سرو سامانی ‘‘ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسے بے سروپا علم کے مسائل کو اگر کوئی فلسفی اپنا عقیدہ بنائے ، خود کو مسلمان کہتے ہوئے بنائے اور اوپر سے یہ دعوی بھی کرے کہ ہمارا علمِ الہیات ریاضی کی طرح شک وشبہ سے پاک ہے، مگر اس کا سمجھنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں تو کیا وہ اب بھی قابل تنقید نہیں، قابلِ تعریف ہے؟ غزالی کا قصور یہی ہے کہ انہوں اس رویہ پر تنقید کی ہے۔الہیاتی مسائل کو ثابت کرنے کے لئے فلسفی جو استدلال کرتے ہیں، غزالی نے اس کے برخلاف استدلال کرکے محض یہ بتایا کہ اس کی گنجائش بھی موجود ہے اور الہیات میں فلسفیوں کا استدلال دواور دو، چار کی طرح شک وشبہ سے پاک نہیں، بلکہ وہ محض امکانات ہیں جنہیں ان لوگوں نے عقائد کا درجہ دے رکھاہے۔

اب ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ میں جگہ جگہ بکھری ہوئی غزالی کی اس تنقید کے جواب میں ابن رشد کیا کہتے ہیں؟ یہ بھی سمجھنے کی چیز ہے۔ اس کے جواب میں ابن رشد نے دیگر فلسفیوں کی طرح ایک تو یہی مضحکہ خیز ’’اندازِ استدلال‘‘ اختیار کیا ہے کہ چونکہ ان دلائل کا سمجھنا عالی دماغ ’’خواص‘‘ کا کام ہے اور عوام کے سامنے ان کی حقیقت کو بیان کرنا درست نہیں، لہذا ان دلائل کی حقیقت‘ میں اپنی اس کتاب ’’تہافت التہافت‘‘ میں کھول نہیں سکتاکیونکہ یہ کتاب میں نے عوام کے لئے لکھی ہے اور ان دلائل کا ان کی رسائی سے دور رہنا ضروری ہے۔ مثلاً ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:

’’ہذا العلم لاسبیل الی افشاء ہ فی ہذا الموضع‘‘ (صفحہ۹۲)یعنی ’’اس کتاب میں اس علم کو بے نقاب کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘ ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’لا یقف علی مذاہبہم فی ہذہ الاشیاء الا من نظر فی کتبہم مع الشروط التی وضعوہا مع فطرۃ فائقۃ ومعلم عارف‘‘ (صفحہ ۱۹۵) 

اسی طرح کا نادر اندازِ استدلال صفحہ۱۱۳، ۱۱۷، ۱۲۹، ۱۷۳، ۳۱۱و ۴۱۷ پر بھی نظر آتا ہے۔ ایک جگہ فلاسفہ کے موقف کے علمی اثبات کو مشکل کہہ کر اس سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: ’’القدیم لایتغیر بضرب من ضروب التغیر، وہذا کلہ عسیر البیان‘‘ (صفحہ۶۵)

ان کے اسی طرزِ استدلال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سلیمان دنیا لکھتے ہیں: ’’الاولی بابن رشد اثبات دعواہ، لاالتہرب منہا بدعوی عسر بیانہا، ثم مہاجمۃ دعوی خصمہ‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۶۵) یعنی ’’ ابن رشد کو اپنا دعویٰ ثابت کرنا چاہیے تھا، دعویٰ کے اثبات کو مشکل کہہ کر جان چھڑا لینااور پھر مخالف سے جھگڑا بھی کرنا ‘ یہ کوئی طریقہ نہیں۔‘‘ ابن رشد کے مرید بھی ابن رشد کے اس اندازِ استدلال سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اس کے اس قول کی کوئی توجیہ نہیں کرپاتے کہ ’’عوام کو علم وحکمت کی باتوں سے دور رکھنا چاہیے۔‘‘ درج ذیل لنک پر ابن رشد کے مریدوں کا اس موضوع پر مکالمہ دیکھا جاسکتا ہے۔ 

http://www.mukalma.com/?dialogue=11361

دوسرا ابن رشد کو غزالی کے اس اسلوبِ نقد کو سمجھنے میں ہی سرے سے مغالطہ ہوا ہے۔ فلاسفہ کے استدلال کے مقابلہ میں غزالی جو مخالف استدلال کرتے ہیں، وہ اس کی قطعیت کا دعوی نہیں کرتے، اس سے مقصود محض فلسفیوں کے استدلال میں تشکیک کو اجاگر کرنا اور یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ایسے مسائل میں اشتباہ اور اختلاف کی گنجائش موجود ہے، لہٰذا فلسفیوں کا عوام کو یہ کہہ کر الو بنانا غلط ہے کہ ان کا سمجھنا آسان نہیں، ورنہ یہ بھی ریاضی کی طرح قطعی اور حتمی ہیں۔ مثلاً افلاک کو جان دار ثابت کرنے کے لئے فلسفی ’’اٹکل نما‘‘ جو استدلال کرتے ہیں، غزالی نے اس کے مخالف استدلال کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ افلاک ضرور بے جان ہی ہیں، بلکہ محض یہ بتایا کہ فلسفی اپنے جس تصور کو حتمی اور قطعی سمجھتے ہیں، اس کے لئے کوئی قطعی دلیل موجود نہیں ہے۔ مثلا وہ اپنے مقدمہ میں ہی وضاحت کرتے ہیں:

 ’’لا ادخل فی الاعتراض علیہم الا دخول مطالب منکر، لا دخول مدع مثبت‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۸۲)
 یعنی ’’ان پر میرے اعتراض سے مقصودجانبِ مخالف کا دعویٰ اور اس کا اثبات نہیں ہوتا ، بلکہ صرف یہ کھانا ہوتا ہے کہ ان کا موقف غیر قطعی ہے اور دوسرے امکان کی گنجائش بھی موجود ہے۔‘‘ 

ابن رشد نے ایسے موقعوں پر یہ سمجھا ہے کہ وہ شاید اپنے مخالف استدلال کو قطعی بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی تصنیف میں جابجا بس یہی ثابت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہاں پر غزالی کا مخالف استدلال بھی قطعی نہیں، حالانکہ یہ چیز غزالی کے موقف کو کم زور کرنے کی بجائے الٹا اسے تقویت دیتی ہے کیونکہ جب وہ غزالی کے موقف کو غیر حتمی کہتے ہیں تو اس کا بالواسطہ یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ فلاسفہ کا استدلال بھی اس کے مقابلہ میں حتمی اور قطعی نہیں(اور یہی ثابت کرنا غزالی کا مقصود ہے) ، ورنہ ظاہر ہے کہ اگر ان کا استدلال حتمی اور قطعی ہوتا تو غزالی کے استدلال کو وہ غیر حتمی کی بجائے باطل اور غلطِ محض کہتے۔ 

’’تہافت التہافت‘‘ کے دو سطری مقدمہ میں ’’تہافت التہافت‘‘ تحریر کرنے کا مقصد خود ابن رشد ہی کے الفاظ میں یہ ہے:

 ’’فان الغرض فی ہذا القول ان نبین مراتب الاقاویل المثبتۃ فی کتاب التہافت لابی حامدفی التصدیق والاقناع وقصور اکثرہا عن رتبۃ الیقین‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۵۵) 
یعنی ’’اس کتاب میں ہمارا مقصود یہ بتانا ہے کہ ابو حامد الغزالی کی کتاب ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ میں جو بیانات اور دلائل مذکور ہیں، استدلال کی رو سے ان کا کیا درجہ ہے اور یہ کہ ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو یقین کے رتبہ سے فروتر ہیں۔‘‘

بعینہ اسی طرح کا مضمون لفظوں کے ذرا اختلاف کے ساتھ صفحہ ۸۲ پر بھی موجود ہے۔

’’ فقد تبین لک انہ لیس فی الادلۃ التی حکاہا عن المتکلمین فی حدوث العالم کفایۃ فی ان تبلغ مرتبۃ الیقین، وانہا لیست تلحق بمراتب البرہان، ولا الادلۃ التی ادخلہا عن الفلاسفۃ فی ہذاالکتاب لاحقۃ بمراتب البرہان۔ وہو الذی قصدنا بیانہ فی ہذا الکتاب‘‘ ۔

ڈاکٹر سلیمان دنیا اس پہ تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 ’’الغزالی لیس بصدد ان یثبت عقیدۃ فی کتاب تہافت الفلاسفۃ، وانما ہدفہ ہو التشکیک فی ادلۃ الفلاسفۃ تلک الادلۃ التی یزعم الفلاسفۃ انہا بلغت حد الیقین والریاضی ۔۔۔فلیس اذن من حق ابن رشد ان ینتظر من الغزالی فی کتابہ تہافت الفلاسفۃ ان یکون مثبتا ولیس من حقہ کذلک ان یتصید من کلامہ ما یسمیہ ادلۃ لم تبلغ مرتبۃ الیقین‘‘ (تہافت التہافت۔ صفحہ۸۲) 
یعنی ’’غزالی اپنی کتاب ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ میں اپنے عقیدہ کو قطعی دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کے در پے نہیں ہیں (یہ کام غالبا انہوں نے اپنی ایک اور کتاب قواعد العقائد میں کیا ہے جو احیاء العلوم کا حصہ ہے) اس کتاب میں ان کا مقصود محض فلاسفہ کے دلائل میں اشتباہ کی گنجائش نکال کر دکھانا ہے جنہیں فلسفی ریاضی کی طرح قطعی سمجھتے ہیں اور بس،لہذا ابن رشد کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غزالی سے اس کتاب میں قطعی دلائل کی توقع رکھے اور نہ ہی اس کے لئے یہ مناسب ہے کہ ان کے غیر یقینی استدلالات کو غیر یقینی کہہ کر ان کا شکار کھیلے۔‘‘ 

(جاری)

شخصیات