فروری ۲۰۱۴ء

موجودہ صورتحال اور افغان طالبان کا موقف

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امارت اسلامی افغانستان کی اعلیٰ سطحی قیادت ان دنوں پاکستان کے سرکردہ علماء کرام اور دینی راہ نماؤں کو اپنے موقف اور پالیسیوں کے حوالہ سے بریف کرنے کے لیے ان سے رابطوں میں مصروف ہے جو ایک خوشگوار امر ہے اور اس کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی۔ افغان طالبان کے بارے میں عالمی اور علاقائی میڈیا طرح طرح کی خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جو عموماً منفی اور کردار کشی پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ خود افغان طالبان کا میڈیا محاذ اس حوالہ سے بہت کمزور ہے اور ان کے پاس اس کے وسائل بھی نظر نہیں آتے۔ اس خلا کو کسی حد تک باہمی رابطوں اور میل...

شیعہ سنی کشیدگی اور فریقین کی قیادت کی ذمہ داری

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ محرم الحرام میں راولپنڈی میں رونما ہونے دردناک سانحہ کے تناظر میں ہم راولپنڈی کی ایک درد مند دل رکھنے والی خاتون غزالہ یاسمین کا ایک خط قارئین کی نذر کر رہے ہیں جس میں انہوں نے اس مسئلہ پر اپنا دردِ دل پیش کیا ہے اور اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے عام شہریوں کے جذبات اس معاملہ میں کیا ہیں اور وہ اپنی مذہبی قیادتوں سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ محترمہ غزالہ یاسمین صاحبہ اپنے اس خط کی اشاعت کی فرمائش کے ساتھ لکھتی ہیں کہ: ’’پاکستان کبھی امن و آشتی اور یگانگت کا مظہر تھا۔ اسی قوت کے باعث اس ملک کا قیام عمل میں آیا تھا۔ لیکن نہ جانے اس ملک...

ترجمہ قرآنی ۔اور۔ میری کہانی

― مولانا سید سلمان الحسینی الندوی

ستمبر ۱۹۵۴ء میں میری پیدائش ہوئی۔ والد صاحب مظاہر علوم سے فارغ ہوکر حضرت مولانا علی میاںؒ کی خدمت میں ۱۹۵۰ء میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ وہ حضرت مولاناؒ کے ۱۹۵۰ء کے سفرِحجاز میں دیگر چند حضرات کے ساتھ شریک تھے۔ سفر تبلیغی ودعوتی تھا۔ والد صاحب دوسال کے لیے حجاز میں رہ گئے۔اس دوران عراق ،شام وفلسطین کے تبلیغی اسفار کا موقع ملا۔ حجاز کے دورانِ قیام امامِ حرمِ مکی شیخ عبد المہیمن مصری سے قراء ت کی مشق کی۔ قرآن پاک کا حفظ بھی شروع کیا۔ وہ ان کے لہجہ سے متاثر ہوئے۔ حفظ مکمل تو نہیں ہوسکا تھا لیکن...

غزالی اور ابنِ رشد کا قضیہ ۔ اصل عربی متون کی روشنی میں (۱)

― مولانا محمد عبد اللہ شارق

غزالی نے اپنے دور میں خود کو مسلم کہنے والے بعض فلسفیوں کی کچھ آراء پر سخت علمی تنقید کی جو ان کی کتاب ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ کی صورت میں آج تک موجود ہے، جبکہ ایک مشہور فلسفی ’’ابنِ رشد‘‘ نے ’’تہافت التہافت‘‘ کے نام سے اس نقد کا جواب لکھا۔ غزالی اور ابنِ رشد کی اس آویزش کو غزالی اور ابنِ رشد کا قضیہ کہا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اس علمی آویزش اور بحث کے تمام پہلوؤں کو زیرِ بحث لانا مقصود نہیں، نہ یہ مفید ہے اور نہ ہی آج کے جدید ذہن کے لئے یہ سب پہلو قابلِ فہم ہوں گے۔ موجودہ دور میں بہت سے لوگ غزالی کے مقابلہ میں ابنِ رشد کو اپنا راہ نما قرار...

فکرِ مغرب : بعض معاصر مسلم ناقدین کے افکار کا تجزیہ (۱)

― ڈاکٹر محمد شہباز منج

مغربی فکر سے متعلق ہمارے یہاں کے علمی حلقوں میں بالعموم دو رویے پائے جاتے ہیں۔ایک یہ کہ مغربی فکر معیارِ حق ہے،اس کے حاصلات کو نہ صرف یہ کہ رد نہیں کرنا چاہیے بلکہ نعمتِ غیر مترقبہ سمجھتے ہوئے قبول کر لینا چاہیے۔اس رویے کے حامل مذہبی عقائد و نظریات کے مغربی نتائجِ فکر سے تطابق کومعراجِ علم خیال کرتے ہیں۔ان کے نزدیک مذہب کی اس دور میں سب سے بڑی خدمت اس کے ذریعے یہ ثابت کر دینا ہے کہ اے مغرب:مستند ہے’’تیرا‘‘ فرمایا ہوا۔ یہاں تک کہ وہ اس کوشش میں مسلمات و بدیہیاتِ دین کو بھی تاویل کی سان پر چڑھا دیتے ہیں۔ دوسرا رویہ یہ ہے کہ مغربی فکر اور اس...

مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح ۔ ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے استدلال کا تنقیدی جائزہ

― مولانا سید متین احمد شاہ

جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی علوم کے سربراہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج نے اپنی سرپرستی میں شائع ہونے والے مجلے شش ماہی ’’التفسیر‘‘ میں اس کے جواز کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جو اب ان کے مجموعہ مضامین ’’نسائیات‘‘ میں شامل ہے۔یوں تواس مجموعے کے مختلف مندرجات پر گفتگو کی جاسکتی ہے تاہم اس وقت پیش نظر اسی مضمون ’’محصنین اہلِ کتاب سے مسلم عورتوں کا نکاح‘‘پر اپنی ناچیز معروضات پیش کرنا مقصود ہے۔ عہد جدید کے تہذیبی و تمدنی ارتقا اورمشرق و مغرب کے فکری تصادم کے نتیجے میں کئی ایسے مسائل اہلِ علم کے سامنے آئے جن سے گزشتہ دور کے اہلِ علم کو واسطہ پیش...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ دسمبر کے الشریعہ میں ایک مضمون ’’ پاکستانی جامعات میں قرآنیات کا مطالعہ‘‘ نظر سے گزرا۔عنوان پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا اور اس امید کے ساتھ پڑھنا شروع کیا کہ اس میں پاکستانی جامعات کے نصابِ تفسیر وعلومِ تفسیر کے حوالے سے ایک جامع استقرا سے کام لیا گیا ہو گا اور اس کے محاسن و معائب کو نمایاں کیا گیا ہوگا، لیکن افسوس ہے کہ ’’پاکستانی جامعات ‘‘ کے عنوان کے اعتبار سے موضوع جس وسعت کا متقاضی تھا، وہ زیرِ نظر مضمون میں نظر نہیں آیا۔ اصولِ تفسیر کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب فرماتے...