عذابِ قبر اور قرآنِ کریم (۲)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

برزخ میں زندگی؟

عذابِ قبر اور قرآن میں تضاد دکھانے کے لیے منکرین نے جو سوال اٹھایا ہے کہ قرآن سے تو انسان کی صرف دو زندگیاں ثابت ہوتی ہیں جبکہ عذابِ قبر سے ایک تیسری زندگی کا اثبات ہوتا ہے ، آئیے اب ذرا ایک نظر اس کو دیکھتے ہیں۔ منکرینِ برزخ کی اس بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کو صرف دو ہی زندگیاں عطا فرمائی ہیں جن کا ذکر سورۃ البقرۃ کی آیت۲۸ اور سورۃ المومن کی آیت ۱۱ میں ہے۔ اس سے بظاہر کسی تیسری زندگی کی نفی ہوتی ہے اور یہی بات درست ہے۔ اہلِ سنت جو منکرین کے مقابلہ میں ہمیشہ عذابِ قبر کے قائل رہے ہیں، وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پہلی زندگی موت پر ختم ہوگی اور دوسری زندگی صورِ اسرافیل کے بعد شروع ہوگی۔ سوائے ایک آدھ غیر معروف عالم کے ان میں سے کسی سے بھی یہ منقول نہیں کہ قبر اور برزخ کے دورانیہ میں انسان کو کوئی تیسری جیتی جاگتی زندگی حاصل ہوتی ہے جو باقی دو زندگیوں کی طرح حقیقی زندگی ہوتی ہے۔ (تفسیر طبری، البقرۃ:۲۸) ایک غیر معروف عالم سے جو اس کے خلاف منقول ہے، وہ بھی محض ایک آیت کی تفسیر کے ضمن میں اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ اسی عالم سے اس آیت کی مختلف توجیہات منقول ہیں جن میں سے ایک توجیہ کی رو سے تین زندگیوں کا اثبات ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خودا س عالم کو بھی تین زندگیوں کے اثبات پر اصرار نہیں، یہی وجہ ہے کہ خود اس سے منقول اگر آیت کی ایک توجیہ کی رو سے تین زندگیوں کا اثبات ہوتا ہے تو دوسری توجیہ بھی اسی سے منقول ہے جس کے قائل جمہور ہیں اور جس کی رو سے تیسری زندگی کی نفی بھی ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ علم العقائد کی بڑی کتابوں ’شرح العقیدۃ الطحاویۃ‘ اور ’النبراس‘ وغیرہ میں جہاں احوالِ برزخ پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے، وہاں خود اہلِ سنت کے کئی قول نقل کیے گئے ہیں کہ اس دوران انسان کو کس طرح کا شعور اور احساس حاصل ہوگا، مگر اس قول سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا ۔ اسی طرح بعث بعد الموت کا مطلب بھی ان کے ہاں یہی لیا جاتا ہے کہ دنیا میں موت آنے کے بعد انسان صورِ اسرافیل پر دوبارہ کھڑا کیا جائے گا۔ اگر مرنے کے فوراً بعد ان کے نزدیک برزخ میں ہی حقیقی زندگی دوبارہ شروع ہوجاتی تو ان کے نزدیک بعث بعد الموت کا محل صورِ اسرافیل کی بجائے قبرو برزخ ہوتے۔ 

صدیق مغل صاحب نے عذابِ قبر کے اثبات کے لیے جس طرح البقرۃ کی آیت ۲۸ سے استدلال کیا ہے ، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک برزخ میں ہی انسان کو ایک مکمل زندگی حاصل ہوجاتی ہے۔ آیت یہ ہے: ’کنتم أمواتا فأحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم ألیہ ترجعون‘ اللہ تعالی نے اس میں انسان کی دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلی موت سے مراد پیدائش سے قبل کا زمانہ اور دوسری سے مراد دنیا میں آنے والی موت ہے، جبکہ پہلی زندگی سے مراد دنیا کی زندگی اور دوسری زندگی سے مراد بعث بعد الموت کی زندگی ہے۔ دوسری زندگی کے بعد فرمایا ہے : ’ثم الیہ ترجعون‘ یعنی ’پھر اس دوسری زندگی کے بعد تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘ مغل صاحب کہتے ہیں کہ ’دوسری موت (دنیاوی موت) کے بعد جس دوسری زندگی کا ذکر ہے، وہ لوٹائے جانے سے قبل (عالمِ برزخ) میں ہوگی۔‘ دلیل دیتے ہیں کہ’لفظ ’ثم‘ کا استعمال بتا رہا ہے کہ یہ برزخی حیات اور یومِ آخرت کو اللہ کی طرف لوٹایا جانا دو الگ الگ واقعے ہیں جن میں زمانی مغایرت ہے۔‘ اب ان کو خود ہی بتانا چاہئے کہ اگر یہ زندگی وہی زندگی ہے جو تاابد جاری رہے گی تو کیا ان کے نزدیک بعث بعد الموت کا محل قبر ہے؟ کیونکہ بعث بعد الموت سے حاصل ہونے والی زندگی ہی تاابد جاری رہے گی۔ حالانکہ اہلِ سنت ، بلکہ تمام مسلم فرقوں میں سے شاید کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ اگر یہ وہ زندگی نہیں ہے اور بعث بعد الموت کا وقت ان کے نزدیک بھی صورِ اسرافیل ہی ہے تو کیا ان کے نزدیک انسان کودو کی بجائے تین دفعہ موت او رحیات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ یہ بات مذکورہ آیت کی ایک توجیہ کے ضمن میں ایک عالم ابوصالح (گذشتہ سطروں میں جس غیر معروف عالم کا ذکر ہوا ہے ، ان سے مراد بھی یہی ابو صالح ہیں) سے منقول ضرور ہے، مگر خود اہلِ سنت ہی اس پر شروع سے تنقید کرتے آرہے ہیں اور وہ اس کو سورۃ المومن کی آیت ۱۱ سے متصادم قرار دیتے ہیں جس میں صراحتاً صرف دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے۔ اگر’ثم الیہ ترجعون‘ کا مطلب تیسری زندگی ہے تو اس سے پہلے ایک تیسری موت کا ذکر بھی ہونا چاہئے تھا جس سے دوسری زندگی ختم ہوکر تیسری زندگی شروع ہوگی، اس کا ذکر کیوں نہیں؟ صرف ’ثم‘ کا سہارالینے سے کام نہیں چلے گا۔ ’ثم‘ دو ایسے واقعات کے درمیان آتا ہے جن کے درمیان وقفہ ہو، لیکن اس کے لیے معمولی وقفہ بھی کافی ہوتا ہے، لہذا ’ثم‘ کی رو سے یہ ممکن ہے کہ صورِ اسرافیل کے بعد دوسری زندگی ملتے ہی اللہ کی طرف لوٹائے جانے کاعمل شروع ہوجائے۔ آخر وہ مفسرین کرام جو دوسری زندگی سے ہمیشہ بعث بعد الموت کی زندگے مراد لیتے رہے، وہ بھی تو ’ثم‘ کا کوئی معنی لیتے تھے۔ ابوصالح نے اگرچہ جمہور کے برخلاف اپنی متنازعہ توجیہ کی روسے مذکورہ آیت سے عذابِ قبر کا اثبات کیا ہے، مگر وہ بھی اس طر ح نہیں جس طرح صدیق مغل صاحب کر رہے ہیں، بلکہ اس طرح کہ پہلی زندگی سے انہوں نے دنیاوی زندگی کی بجائے قبر کی زندگی اور دوسری زندگی سے آخرت کی زندگی مراد لی ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے لکھا ہے، خود اہلِ سنت کے محققین نے ہی اس پر صریح لفظوں میں تنقید کی ہے۔ (تفسیر طبری) علامہ آلوسی نے اس توجیہ کو آیت کی دیگر تمام توجیہات سے زیادہ ناگوار اور ناقابلِ فہم قرار دیا ہے۔ علم العقائد کی کتابوں میں اس قول کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔پھر انہی ابوصالح کے بارہ میں بھی گزر چکا ہے کہ انہیں بھی آیت کی صرف اس ایک توجیہ پر اصرار نہیں، بلکہ انہوں نے آیت کی مختلف توجیہات کے ضمن میں اس کو محض ایک ممکنہ توجیہ کے طور پر ذکر کیا ہے۔ (تفسیرِ طبری)واللہ اعلم

اسی طرح بعث بعد الموت کے معنی ہیں’موت کے بعد دوبارہ زندگی ملنا۔‘ اگر یہ زندگی قبر میں مل جاتی تو کم از کم بعث بعد الموت کا پہلا مصداق یہی زندگی کہلاتی، حالانکہ اسلام اس کا ہرگز دعوے دار نہیں۔ قرآن میں کئی جگہ کفار کا اعتراض نقل کیا گیا ہے:’مرنے کے بعد جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہمیں کون کھڑا کرے گا، کیا برسوں پہلے مرنے والے ہمارے آباؤ اجداد بھی پھر زندہ ہوں گے؟‘ سادہ سی بات ہے کہ اگر قبر کا دورانیہ کوئی جیتی جاگتی زندگی کا دورانیہ ہوتا تو بعث بعد الموت سے قرآن کی یہی مراد ہوتی اور ان کے اعتراض کا جواب یوں دیا جاتا کہ’تمہارے آباؤ اجداد کب سے زندہ ہوچکے ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں، اسی طرح تمہاری بھی ہڈیاں بوسیدہ ہونے کی نوبت نہیں آئے گی اور اس سے پہلے زندہ ہوجاؤگے۔‘ مگر قرآن کبھی بھی یہ انداز اختیار نہیں کرتا ، بلکہ یوں اثبات کا انداز اختیار کرتا ہے کہ ہاں! (ہڈیاں بکھر جانے کے بعد تم بھی زندہ کیے جاؤ گے اور تمہارے آباؤ اجداد بھی) اور ان کے جوا ب میں قیامت کے نقشے کھینچنے لگتا ہے۔اگر بعث بعد الموت یعنی موت کے بعد زندگی کا سلسلہ قبرو برزخ سے ہی دوبارہ شروع ہوجاتا تو دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ کیا پھر کفار کے اعتراض کا یہی جواب ہوتا؟اسی طرح قرآن میں اور خود اہلِ سنت کے ہاں جس طرح اس دورانیہ کے لیے ’برزخ‘ یعنی حدفاصل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ، اس سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ قرآن او رخود اہلِ سنت کے ہاں اس دورانیہ میں انسان کو زندگی جیسی کوئی زندگی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس کو الٹا دو زندگیوں کے درمیان حائل حد فاصل سمجھتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ صدیق مغل صاحب اپنے استدلال سے رجوع کرلیں۔

قرآن وسنت کی ساری نصوص اسی بات کی تائید کرتی ہیں او راہلِ سنت بھی اسی کے قائل ہیں کہ قبرو برزخ کا دورانیہ کوئی جیتی جاگتی انسانی زندگی کا دورانیہ نہیں۔ حقیقی اور کامل زندگیاں صرف دو ہیں جن کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ جبکہ قبرو برزخ کا دورانیہ فی الجملہ موت کی کیفیت میں ہی گزرے گا۔ البتہ ایک حدیث یہاں ایسی ہے جو وضاحت طلب ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ ’میت کو قبر میں رکھ کر جب لوگ واپس چلے جاتے ہیں تو منکر ونکیر اس کے پاس آتے ہیں اور سوال وجواب کے لیے میت میں روح لوٹائی جاتی ہے۔‘ (ابوداود۔حدیث۴۷۵۵) محدثین کا اختلاف ہے کہ سند کی رو سے یہ حدیث صحیح بھی ہے یا نہیں۔ ابنِ حزم ظاہری لکھتے ہیں: ’یہ سمجھنا کہ میت قبر میں جاکر قیامت سے پہلے ہی زندہ ہوجاتا ہے، یہ غلط ہے۔ قرآنی آیات اس کی نفی کرتی ہیں کیونکہ اس صورت میں تین زندگیوں اورتین موتوں کا عقیدہ رکھنا ہوگا۔‘ مزید لکھتے ہیں: ’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صحیح حدیث میں یہ منقول نہیں کہ منکرونکیر سے سوال وجواب کے وقت مردوں میں ان کی ارواح لوٹا دی جاتی ہیں۔ اگر یہ بات صحیح سند سے ثابت ہوجائے تو ہم بھی اسی کو تسلیم کریں گے۔ روح لوٹائے جانے کی بات کا اضافہ صرف منہال بن عمرو کی روایت میں ہے، باقی روایات میں نہیں اور منہال بن عمرو قوی نہیں۔‘ مزید لکھتے ہیں: ’یہ بات جو ہم نے لکھی ہے۔ یہی صحابہ سے بھی ثابت ہے۔‘ (الملل والنحل۴/۱۱۸۔۱۱۹) حافظ ابنِ قیم نے ابنِ حزم کی مکمل عبارت نقل کرکے لکھا ہے کہ ’روح لوٹائے جانے کی حدیث کو ضعیف کہنا درست نہیں ہے، منہال بن عمرو کے علاوہ بھی کئی لوگ اس کے راوی ہیں اور خود منہال بھی ضعیف نہیں،بلکہ مستند اورثقہ راوی ہے۔‘ (الروح۔ صفحہ۴۴، ۴۷) تاہم اس کے باوجود وہ روح لوٹائے جانے کا معنی کیا لیتے ہیں؟ وہ قابلِ غور ہے: ’’جس طرح کی زندگی ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ انسان تدبر وتصرف کرتاہے اور کھانے ، پینے ولباس کا محتاج ہوتا ہے، اگر ابنِ حزم برزخ میں ایسی زندگی کی نفی کرتے ہیں تو واقعی ایسی زندگی کو برزخ میں ثابت سمجھنا غلط ہے، حس اور عقل کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کی نصوص بھی اس کی نفی کرتی ہیں ( کیونکہ ایسی زندگی صرف دنیا میں اور پھر صورِ اسرافیل کے بعد حاصل ہوگی) لیکن اگر ابنِ حزم اس دیکھی بھالی زندگی کے علاوہ کسی بھی قسم کی زندگی کی بھی نفی کرتے ہیں تو ان کی بات ٹھیک نہیں۔ 

حدیث میں جور وح لوٹائے جانے کا ذکر ہے اس سے مراد یہی مختلف قسم کی کوئی زندگی ہے جو آزمائش اور سوال وجواب کے لیے اس میں لوٹائی جاتی ہے۔ اس پر یہ اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ اللہ نے تو قرآن میں دو زندگیوں کا ذکر کیا ہے ، پھر یہ تیسری زندگی کہاں سے آگئی؟ کیونکہ یہ زندگی تھوڑے سے وقفہ کے لیے ہوگی اور تھوڑے سے وقفہ کے لیے تو اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کے اس مقتول کو بھی زندہ فرمایا تھا جس کے قاتل کا پتہ نہ چل رہا تھا (اسی طرح قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی بطورِ معجزہ کے بعض مردوں کو زندہ فرمایا کرتے تھے، البقرۃ کی آیت ۲۵۹کی رو سے مردہ بستی کے کھنڈرات پر گزرنے والے اس آدمی کو بھی اللہ نے ایک سو سال تک موت کی نیند سلا کر دوبارہ زندہ کردیا تھاجس نے تعجب سے کہا تھا کہ اللہ اس مردہ بستی کو پھر کیسے زندہ کرے گا؟ نیز البقرۃ کی آیت ۲۴۳ کی رو سے اللہ نے ایک گناہ کی وجہ سے کسی قوم کو موت دی اور پھر توبہ کا موقع دینے کے لیے محض اپنی رحمت سے ان کو دوبارہ زندہ کردیا) اگر قرآن میں مذکور ان مثالوں پریہ اعتراض نہیں ہوتا کہ مذکورہ انسانوں کو خلافِ ضابطہ تیسری زندگی کیسے حاصل ہوگئی تھی تو روح لوٹائے جانے کی حدیث پر بھی یہ اعتراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ روح کا یہ لوٹنا بھی بالکل معمولی سے وقفہ کے لیے ہوگا۔‘ (الروح۔ صفحہ۴۲، ۲۰۹) بلکہ مذکورہ قرآنی مثالوں میں حاصل ہونے والی ’تیسری‘ زندگی تو پھر بھی عام فہم ،جیتی جاگتی اور حرکت کرتی زندگی تھی اور اس پہ اعتراض نہیں ہوتا، جبکہ قبر میں روح لوٹائے جانے کا معنی تو خود ابنِ قیم ہی کے بقول ’اس طرح کی زندگی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد کوئی ناقابلِ فہم ، غیر مرئی اور ضعیف قسم کی زندگی ہے جیسے بے ہوش اور سوئے ہوئے کی زندگی ہوتی ہے اسی وجہ سے عین ممکن ہے کہ وہ میت جس کو دفن کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی اور وہ ہماری آنکھوں کے سامنے گل سڑ گیا ہے ، ڈوب گیا ہے، جل گیا ہے یا کسی جان ور کے پیٹ کی غذا بن گیا ہے، اللہ سوال وجواب کے لیے اس کے باقی ماندہ اجزاء میں بھی روح لوٹائیں مگر کسی کو کچھ نظر نہ آئے (اور یہی وجہ ہے کہ قبر کو کھول کر دیکھا جائے تو میت پر بھی تھوڑی دیر پہلے ہلنے جلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے)۔ ‘ (الروح۔ صفحہ۶۹) اسی طرح علامہ ابن ابی العز الحنفی لکھتے ہیں: ’وارد ہے کہ سلام کہنے والا جب سلام کہتا ہے تو میت کی روح اس کے بدن میں لوٹ آتی ہے اور یہ بھی وارد ہے کہ دفن کرنے والے جب منہ موڑ کر جانے لگتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز بھی سنتا ہے(لہذا اس موقع پر روح لوٹ آتی ہوگی جیساکہ سلام سننے کے لیے لوٹ آتی ہے) روح کے اس لوٹنے سے کوئی خاص قسم کا لوٹنا مراد ہے، یہ نہیں کہ قیامت سے پہلے اس کوکوئی (تیسری) بدنی زندگی حاصل ہوجاتی ہے۔‘ ( شرح العقیدۃ الطحاویۃ۔ صفحہ۳۹۹) 

علامہ کی اس گفتگو پر کچھ اشکالات ہیں ، جن کو میں خود محسوس کر رہا ہوں۔ لیکن میرا مقصود ان حوالہ جات سے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ جو حضرات برزخ کے بعض موقعوں پر روح لوٹنے کے قائل ہیں، وہ بھی اس سے کوئی ناقابلِ فہم قسم کا لوٹنا مراد لیتے ہیں، جیتی جاگتی زندگی کا شاید کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ مولانا عبدالعزیز پرہاروی نے ’النبراس‘ میں جو کچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ ’منکر ونکیر کے سوال کے وقت اگرچہ مردہ میں روح لوٹ آتی ہے، مگر یہ کم زور قسم کی زندگی ہوتی ہے (جس کو تیسری زندگی اور ) جس کے دوبارہ زوال کو موت نہیں کہا جاسکتا۔ سورۃ الدخان کی آیت ۵۶ کے مطابق انسان کو موت کا ذائقہ صرف ایک ہی بار دنیا میں چکھنا ہے ( اور صحیح البخاری کی حدیث۳۶۶۷ سے بھی یہی کچھ ثابت ہوتا ہے)یہ ساری کیفیات دنیا میں آنے والی موت کا ضمیمہ ہیں جس کے بعد کوئی اورموت یا زندگی نہیں ہے، صرف بعث بعد الموت کے بعد ایک آخری زندگی حاصل ہونی ہے۔ برزخ کے بعض موقعوں پر روح لوٹنے کو زندگی اور اس کے خاتمہ کو موت ا س لیے نہیں کہہ سکتے کہ روح لوٹنے سے کوئی حیاتِ کامل مرادنہیں ہے۔‘ ( صفحہ۳۲۲) حافظ ابنِ حجر بھی منکر ونکیر کی آمد پر روح لوٹ آنے کے قائل ہیں۔ وہ بھی اس سے کم زور قسم کی زندگی مراد لیتے ہیں اورگذشتہ سب بزرگوں سے بھی بڑھ کر یہ کہتے ہیں: ’حدیث سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ خود روح کا لوٹنا ہی پورے جسم میں نہیں، بلکہ صرف اوپر کے آدھے دھڑ میں ہوگا۔‘ (النبراس۔ صفحہ۳۲۲) 

خلاصہ یہ کہ اس کا تو قائل نہیں کہ قبرو برزخ کا پورا دورانیہ ایک زندگی کی صورت میں گزرتا ہے۔ صرف بعض موقعوں پر روح لوٹ آنے کا جو معاملہ ہے، اس کو بھی بعض تو تسلیم نہیں کرتے اور اکثر علماء جو تسلیم کرتے ہیں، وہ بھی ایک تو تھوڑے سے وقفہ کے لیے روح لوٹنے کے قائل ہیں اور دوسرا اس روح لوٹنے سے بھی کوئی خاص قسم کا لوٹنا مراد لیتے ہیں۔ کامل حیات کا کوئی قائل نہیں، یہ صرف دنیا میں حاصل ہے یا پھر صورِ اسرافیل کے بعد حاصل ہوگی۔واللہ اعلم

بغیر زندگی کے عذاب و جزا کا احساس کیسے ہوگا؟

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر قبرو برزخ کا دورانیہ بدون زندگی کے ہی گزرے گا تو عذاب وجزاء کی ان کیفیات کااحساس کیسے ہوگاجن کا ذکر احادیث میں ملتا ہے؟ منکرین تو انکاراس وجہ سے کرتے تھے کہ عذاب وجزاء کے احساس کے لیے زندگی ضروری ہے۔ جب قرآن کی رو سے زندگیاں صرف دو ہیں اور برزخ میں کوئی زندگی نہیں تو برزخ میں عذاب وجزاء کی بات بھی غلط ہے۔ یہ تو تھا اس فریق کا استدلال۔ اب حیرت کی بات یہ ہے کہ مغل صاحب جو عذابِ قبر کا عقیدہ رکھتے ہیں، وہ بھی عذاب وجزاء کے احساس کے لیے زندگی ضروری سمجھتے ہیں، تبھی تو البقرۃ کی آیت ۲۸ سے استدلال کرتے ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ پہلا فریق جب اس زندگی کے وجود سے انکار کرتا ہے تو عذابِ قبر کا بھی انکار کرتا ہے اور دوسرا فریق جب عذابِ قبر کو تسلیم کرتا ہے تو اس زندگی کے وجود کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ جب بنیاد غلط رکھی گئی تو استدلال کا نتیجہ بھی غلط نکلا۔

حقیقت یہ ہے کہ عذاب وجزاء کے احساس کے لیے جیتی جاگتی زندگی کا ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ نہ اہلِ سنت میں سے کوئی برزخ کی جیتی جاگتی زندگی کا قائل ہے او رنہ ہی قرآن وسنت اس کے دعوی دار ہیں۔ عذابِ قبر کا تصور جس قرآن وحدیث سے ثابت ہے، دو زندگیوں کا تصور بھی اسی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ لہذا ایک تصور کو دوسرے پہ ترجیح دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ دونوں باتوں کو من وعن تسلیم کیا جائے، ان کے مطابق اپنے کردار وعمل کی اصلاح کی جائے اور غیر ضروری تدقیقات سے احتراز کیا جائے۔ ہم ایمان اس لیے نہیں لائے کہ غیبی حقائق کی اصل ماہیت کو عدسہ لگا کر دریافت کر نا شروع کردیں گے۔ ایمان بالغیب کا معنی ہے کہ نبی کے فرامین کو چپ چاپ تسلیم کیا جائے۔ جو اللہ کو اللہ سمجھتا ہے اور رسول کو رسول سمجھتا ہے، اس کو ان سب باتوں پر ایمان لانے میں ہرگز تردد نہیں ہوگا۔ یہ جہان اسرار کا جہان ہے۔ اس میں کئی سربستہ راز ایسے ہیں ، جن کو ہم لاکھ سرپٹخیں، اگر اللہ نہ چاہے تو ان کے سایہ کو بھی نہیں پاسکتے۔ انسانی آنکھ اور ٹیلی اسکوپ کی حیثیت کیا ہے؟ سائنس خود اپنے کئی مفروضات کو غلط ثابت کرچکی ہے اور آج بھی تسلیم کرتی ہے کہ اس کائنات کا جو کچھ حصہ ہم نے دیکھا ہے ، وہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو نہیں دیکھا۔ موت بھی اس کائنات کے سربستہ رازوں میں سے ایک راز ہے۔ عقلیت پسندوں کے لیے یہ بات ایک معمہ رہی ہے کہ موت کے بعد انسان کے احساس، وجدان، شعور اور ’خودی‘ کا کیا بنتا ہے؟ دیکھئے ’خطباتِ اقبال‘ میں خودی کی بحث۔ یہ ہم نے کہاں سے معلوم کر لیا ہے کہ موت کے بعد انسان میں تمام قسم کے احساسات فنا ہوجاتے ہیں؟ یہ عین ممکن ہے کہ بغیر زندگی کے اور موت کی کیفیت میں رہتے ہوئے بھی انسان جزاؤ عذاب کو محسوس کرتا رہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ کیسے کرتا ہے؟ تو بہتر یہی ہے کہ اس بحث میں نہ الجھا جائے۔ اگر زبانِ رسول پر ہمیں اعتماد ہے تو خاموشی سے سرِ تسلیم خم کرنا چاہئے اور غیبیات کی اصل ماہیت کو اللہ کے سپر د کرنا چاہئے۔ یہی سلامتی کا راستہ ہے۔ امام ابوجنیفہ کا نکتۂ نظر بھی یہی ہے کہ برزخی شعور کی اصل کیفیت کے بارہ میں سکوت اختیار کیا جائے۔ (شرح العقیدۃ الطحاویہ للغنیمی۔ صفحہ۱۱۷) نجم الدین نسفی نے ’العقائد النسفیۃ‘ میں ، ابن ابی العز الحنفی نے ’شرح العقیدۃ الطحاویہ‘ (صفحہ ۳۹۹) میں ،شیخ عبدالوہاب شعرانی نے’الیواقیت والجواہر‘ (صفحہ۴۲۰) میں ، مولانا عبدالعزیز پرہاروی نے ’النبراس‘ (صفحہ۳۱۵) میں اور دیگر کئی علماء نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے کہ برزخی احساس(جسے مجازاً حیات بھی کہا جاتا ہے) کی کیفیت کے بارہ میں کوئی قیاس آرائی نہ کی جائے اور سکوت اختیار کیا جائے۔ اللہ کی قدرت کے نمونے ہماری آنکھوں کے سامنے ہی اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے یہ چیز اس کی قدرت سے ہرگز بعید معلوم نہیں ہوتی کہ موت کے بعد بھی وہ انسان کے شعور اور احساس کو کسی غیر مرئی طریقہ پر برقرار رکھے۔ 

تاہم بعض اہلِ سنت نے شاید منکرین کے سوالات کا زور توڑنے کے لیے اس کیفیت کا قرائن سے اندازہ لگا نے کی کوشش بھی کی ہے ، لیکن چونکہ یہ معاملہ غیر منصوص ہے ، اس لیے خود ان کے ہاں ہی اس میں اختلاف دیکھنے کو ملتا ہے کہ آیا جزاؤ عذاب کا ا حساس میت کے بے جان جسم کو ہوتا ہے؟ صرف روح کو؟ یا دونوں کو؟ اگر دونوں کو تو اس کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟

(۱) تفسیر بالحدیث کے امام ، ابنِ جریر طبری کی رائے یہ ہے کہ عذاب میت کے بے جان جسم کو ہوتا ہے اور اللہ کی قدرت سے یہ چیز بعید نہیں۔ قرآن ہی سے ثابت ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے جس میں جمادات بھی شامل ہیں، پتھر خدا کے خوف سے روتے اور گر پڑتے ہیں، شجر و حجر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر خدا کی قدرت ان جمادات میں اتنا احساس اور شعور پیدا کرسکتی ہے کہ وہ اس کی تسبیح کریں، اس کے خوف سے روئیں اور اوپر سے نیچے آگریں تو میت کے بے جان جسم میں جزاؤ عذاب کا احساس پیدا کرنا بھی اس کی قدرت سے بعید نہیں ہونا چاہئے۔ (النبراس۔ صفحہ۳۲۱)

(۲) فقہِ ظاہری کے امام، ابنِ حزم کی رائے یہ ہے کہ جزاؤ عذاب کا تعلق صرف میت کی روح کے ساتھ ہے۔ (الملل والنحل۴/۱۱۸) منکرینِ برزخ انسانی روح کے وجود سے بھی انکار کرتے ہیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ قرآن میں اس کا کہیں ذکر نہیں ہے اور کہیں ہوا ہے تو وہ اس مفہوم میں نہیں جوہمارے ہاں ’الروح‘ کا مفہوم سمجھا جاتاہے۔ گو قرآن میں ’الروح‘ کا لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے جو ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے اور خود عربوں کے ہاں بھی سمجھا جاتا تھا، چنانچہ جمہور کے مطابق سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۸۵ میں ’ویسئلونک عن الروح‘ کے اندر ’الروح‘ سے یہی مراد ہے اور جمہور کا قول ہی درست محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر فرض کرلیا جائے کہ قرآن میں واقعی انسانی روح کا ذکر نہیں ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا قرآن نے انسانی روح کے وجود سے انکار بھی کیا ہے؟ کسی بات کا ذکر نہ کرنا اور کسی بات کا انکار کرنا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ’اہلِ قرآن‘ کواگر قرآن میں کہیں انسانی روح کا تصور نہیں ملتا تو ان کا حق یہ ہے کہ وہ بھی قرآن کی طرح اس معاملہ میں سکوت اختیار کریں ، نہ یہ کہ انکار اور نفی شروع کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی روح کا تصور نبوی احادیث میں صراحتاً موجود ہے کہ یہ جسم اوربدن سے الگ ایک وجود ہے۔ منکرینِ حدیث کہتے تو ہمیشہ یہی ہیں کہ ہم صرف ان احادیث کا انکار کرتے ہیں جو قرآن کے خلاف ہوں، لیکن ان کا طرزِ عمل اس سے متضاد تصویر پیش کرتا ہے۔ اب دیکھ لیجئے کہ انسانی روح کے وجود سے انکا رکیا جاتا ہے ، حالانکہ اس کا ذکر احادیث میں صراحتاً موجود ہے اور خود ان کے اپنے اعتراف کے مطابق قرآن میں اس کی کہیں نفی بھی نہیں ہے۔ مولانا اصلاحی کے بارہ میں یہ تاثر دینا درست نہیں کہ وہ انسانی روح کے وجود سے منکر ہیں، سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۸۵ میں اگرچہ انہوں نے ’الروح‘ سے مراد انسانی روح کی بجائے ’قرآن‘ لیا ہے، لیکن وہ فی الجملہ انسانی روح کے ماثور تصور کے منکر نہیں۔ چنانچہ مذکورہ آیت ہی کی تفسیر کے ضمن میں ان کا ایک جملہ ہے کہ ’جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے، اسی طرح روح و عقل اور دل کی زندگی وحیِ الہی سے ہے۔‘ (تدبرِ قرآن۴/۵۳۹) منکرین تو جسم کے ساتھ کسی روح کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ باقی آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں مولانا اصلاحی سے پہلے ماضی بعید کے کئی مفسرین بھی جمہور کے برعکس ’الروح‘ سے مراد قرآن لیتے رہے ہیں۔ دیکھئے: تفسیرطبری، بغوی اور روح المعانی وغیرہ۔

(۳)اہلِ سنت کے بہت سے حضرات کے نزدیک عذابِ قبر کا تعلق جسم یا جسم کے باقی ماندہ حصہ اور روح کے ساتھ ہے ۔ ان کے نزدیک موت کے بعد بھی جسم یا اس کے باقی ماندہ حصہ کے ساتھ ساتھ روح کا تعلق باقی رہتا ہے۔ تاہم یہ تعلق جیتی جاگتی زندگی کی طرح کامل اورمضبوط نہیں ہوتا بلکہ نیند کی طرح ہوتا ہے جس میں روح کا جسم کے ساتھ تعلق ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی ہوتا۔ یعنی موت کے بعد بھی روح جسم سے بالکل بے تعلق نہیں ہوجاتی مگر یہ تعلق ایسا بھی نہیں ہوتا کہ اس پر زندگی کا اطلاق ہوسکے، بلکہ وہ موت کی کیفیت ہی ہوتی ہے۔ 

یہ سب اقوال دراصل ممکنہ صورتیں ہیںیہ سمجھنے کے لیے کہ بغیر زندگی کے بھی انسان کو کیسے اور کیسے عذاب و جزاء کا احساس ہوسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ حقیقتا عذاب وجزاء کی صورت انہی میں سے کوئی ایک ہو۔ ان ممکنہ صورتوں کے بیان سے اس اعتراض کا دفعیہ ہوجاتا ہے کہ بغیر زندگی کے عذاب وجزاء کا احساس ممکن نہیں۔

جسم اور روح کی بحث میں پڑے بغیر ،مجھے خود قرآن وحدیث کے بعض اشاروں سے جوکچھ محسوس ہوا ہے وہ یہ ہے کہ موت کی کیفیت دراصل نیند سے ملتی جلتی کوئی کیفیت ہے، جس میں شعور اور احساس باوجود زندگی نہ ہونے کے ’خواب وخیال ‘ کے انداز میں کسی قدر باقی رہتا ہے۔ چند اشارے ملاحظہ کریں: 

(۱) ’ونفخ فی الصور فاذاہم من الأجداث الی ربہم الی ینسلون قالوا یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا‘ یعنی ’صور پھونکا جائے گا تو یکایک یہ اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے قبر سے نکل کھڑے ہوں گے، (گھبر ا کر) کہیں گے کہ ہائے! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہ سے اٹھا دیا‘ (یس:۵۱) کافروں کا صورِ اسرافیل پر جی اٹھنے کے بعد یہ کہنا کہ ’ہمیں کس نے ہماری خواب گاہ سے اٹھا دیا‘ برزخ میں گزرنے والے دورانیہ کو نیند سے تعبیر کرنا اور قرآنِ مجید میں ان کے احساس کا ان الفاظ میں ذکرہونا اشارہ دے رہا ہے کہ قبر وبرزخ اور صورِ اسرافیل سے پہلے کا دورانیہ نیند کی سی کیفیت میں گزرے گا اور جی اٹھنے کے بعد ایک خواب کی طرح ان کو یاد آئے گا۔

(۲) ’أو کالذی مر علی قریۃ وہی خاویۃ علی عروشہا قال أنی یحیی ہذہ اللہ بعد موتہا فأماتہ اللہ ماءۃ عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوما أو بعض یوم قال بل لبثت مائۃ عام ‘ یعنی ’وہ شخص جو ایک بستی پر سے گزرا اور وہ کھنڈر بنی ہوئی تھی، کہنے لگا کہ اللہ اس مردہ بستی کو پھر کیسے زندہ کرے گا، پس اللہ نے ایک سو سال تک کے لیے اسے موت دے دی اور پھر اسے زندہ کرکے پوچھا کہ کتنا عرصہ یہاں پڑے رہے، وہ کہنے لگا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم، اللہ نے فرمایا کہ تم ایک سو سال یہاں پڑے رہے ہو‘ (البقرۃ: ۲۵۹)آیت کے کامل سیاق وسباق کو بغور دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ آدمی موت کے دورانیہ کو نیند سمجھ رہا تھا، تبھی تو جی اٹھنے کے بعد یہاں گزرے وقت کو ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سمجھ رہا تھا اور اس کو یہ وہم بھی نہیں گزرا کہ میں سو سال تک موت کی کیفیت میں رہا اور اب مرکر اٹھا ہوں تاآنکہ اللہ تعالی نے خود یہ وضاحت فرمائی۔ آیت کے الفاظ سے یہی کچھ محسوس ہوتا ہے۔ 

(۳) ’اللہ یتوفی الأنفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا فیمسک التی قضی علیہا الموت ویرسل الأخری الی أجل مسمی‘ یعنی ’اللہ روحوں کو موت کے وقت قبض فرما لیتا ہے او ران ارواح کو نیند کے وقت جو مرے نہیں، پھر جن ارواح کے لیے موت کا فیصلہ فرمایا ہے، ان کی ارواح روک لیتا ہے اور باقی (نیند والی ارواح) کو(بیدار ہونے پر) موت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ ‘ (الزمر: ۴۲)اس آیت سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ موت کی کیفیت نیند اور خواب سے ملتی جلتی کوئی کیفیت ہے، بس فرق یہ ہے کہ نیند کی کیفیت بیداری پر بدل جاتی ہے اور مرنے والے کی مخصوص کیفیت وقتِ مقرر یعنی صورِ اسرافیل تک باقی رہتی ہے۔ 

(۴)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’النوم اخو الموت‘ یعنی ’ نیند موت سے ملتی جلتی چیز ہے۔‘ (شعب الایمان۔ حدیث ۴۷۴۵) اس سے بھی ضمنا یہی اندازہ ہوتا ہے کہ مردہ سوئے ہوئے کی طرح خواب وخیال کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ 

چنانچہ جس طرح سویا ہوا انسان خواب دیکھتا ہے، کسی بات پہ فرحت اور کسی بات پہ رنج محسوس کرتا ہے، ڈر بھی جاتا ہے، کھانے پینے کے مزے لیتا ہے، سردی گرمی کو محسوس کرتا ہے، دوستوں سے ملاقات کرکے لطف اندوز ہوتا ہے، باوجودیکہ کسی بیدار کھڑے انسان کو سوئے ہوئے کے جسم پر یہ ساری کیفیات نظر آتی ہیں اورنہ ہی وہ منظر نظر آتے ہیں جو سوئے ہوئے کو نظر آرہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ عین ممکن ہے کہ مرجانے والے کے احساس اور شعور کو بھی اللہ تعالی باقی رکھیں، نیند والے خواب سے زیادہ گہرے اور مضبوط خواب کی کوئی صورت پیدا کردیں اور مرنے والا اسی کیفیت میں رہتے ہوئے بغیر زندگی کے جزاؤ عذاب کے سارے احساسات سے گزرتا رہے۔ ابنِ حجر نے فتح الباری (۳/۳۰۱)میں، ابن قیم نے الروح (صفحہ۶۱) میں ، ابن ابی العز الحنفی نے شرح العقیدۃ الطحاویۃ (صفحہ۳۹۹) میں، عبدالوہاب شعرانی نے الیواقیت والجواہر (صفحہ۴۱۸) میں اور دیگر کئی علماء نے جس طرح منکرین کے اعتراض کو دفع کرنے کے لیے برزخی دورانیہ کے شعور کو نیند کے شعور سے مثال دے کر ثابت کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان سب کے نزدیک موت کی کیفیت نیند سے ملتی جلتی کوئی کیفیت ہے اور اس دوران جزاؤ عذاب کا احساس ان کے نزدیک خواب یا اس سے ملتی جلتی کسی کیفیت میں ہوتا رہتا ہے۔ 

اب تک کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حقیقی اور جیتی جاگتی زندگیاں صرف دو ہیں او راسلام میں کسی تیسری زندگی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ عذابِ قبر کے لیے جیتی جاگتی زندگی کا ہونا ضروری نہیں ، بلکہ اس کے بغیر بھی اللہ تعالی مردہ کے اندر عذاب وجزاء کا احساس پیدا کرسکتے ہیں۔ لہذا احادیث میں مذکور احوالِ برزخ کو خلافِ قرآن کہنے کا کوئی جواز نہیں۔ قبرو آخرت اور غیبیات کے بارہ میں اسلام کی جتنی تعلیمات ہیں، بہتر یہی ہے کہ ان کومن وعن تسلیم کیا جائے اور ان کی اصل کیفیت کو اللہ کے سپرد کیا جائے، اسی کا نام اسلام اور اسی کا نام ایمان بالغیب ہے۔ 

تیسرا سوال

احادیث کے اپنے بیانات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ احوالِ برزخ اور میت کی تمام تر کیفیات وحرکات انسانی حواس کے ادراک سے ماو راء ہیں اور غیر مرئی ہیں۔ نیز جیسا کہ ابھی بیان ہوا ہے، احادیث میں مذکور احوالِ برزخ کسی حرکت کرتی اور جیتی جاگتی زندگی کو مستلزم نہیں اور نہ ہی احادیث کسی کامل برزخی حیات کی مدعی ہیں۔ لہذا احوالِ برزخ کی صداقت کو جانچنے کے لیے قبر کو کھولنے کا تکلف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جب وہ غیر مرئی ہی ہیں تو نظر کیسے آسکتے ہیں؟ اگر کچھ زیادہ ہی شوق ہو تو ان کی صداقت کو جانچنے کے لیے قبر کو کھولنا کافی نہیں، بلکہ مر کر دیکھنا ضروری ہے کیونکہ دنیا کی اس زندگی میں انسان کی آنکھ میں وہ بلب نہیں جو برزخی کیفیات کا ادراک کرنے کے لیے درکار ہے۔ 

ایک حدیث ہے کہ ’لوگ جب میت کو لے کر قبرستان کی طرف چلتے ہیں تو نیک میت کہہ رہا ہوتا ہے کہ مجھے جلدی لے چلو اور بدکار گھبراہٹ کے یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ مجھے کہاں لے کر جارہے ہو؟ میت کی یہ آواز انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے۔‘ (صحیح البخاری۔ حدیث۱۳۱۴) ایک اور حدیث ہے کہ ’کافر جب منکر ونکیر کے امتحان میں ناکام ہوتا ہے تو اسے زور سے لوہے کا گرز مارا جاتا ہے اور وہ ایک چیخ مارتا ہے جسے جنوں اور انسانوں کے علاوہ آس پاس کی ہر مخلوق سنتی ہے۔ ‘ (صحیح البخاری۔ حدیث۱۳۷۴) یہ دو احادیث بڑی وضاحت سے بتار ہی ہیں کہ احوالِ برزخ غیر مرئی ہیں اور انسانی ادراک سے ماوراء ہیں۔ 

برزخی احوال کانظر نہ آنا ان کے جھوٹ ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر مرئی ہیں اور یہ کہ احوالِ برزخ کسی تیسری حیات کو مستلزم نہیں جس میں انسان کو جیتی جاگتی اور حرکت کرتی زندگی حاصل ہو۔ منکرین مذکورہ جس سوال کو اشکال اور اعتراض بنا کر انکارِ حدیث کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اسی سوال کو حدیث کے صحیح فہم کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔ اس سے دوسرا اعتراض بھی رفع ہوسکتا تھا ، تیسرابھی اور چوتھا بھی۔ 

چوتھا سوال

جواب اس کا بھی وہی ہے کہ احوالِ برزخ جب غیر مرئی ہیں تو ہمیں ان کا ادراک کیسے ہوسکتا ہے۔ جو آدمی ڈوب کر مرگیا ہے، کسی جان ور کی غذا بن گیا ہے، جل کر راکھ ہوگیا ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے گل سڑ کر خاک ہوگیا ہے یا فرعون کی ممی کی صورت میں عرصۂ دراز سے ہمارے سامنے پڑا ہے، اللہ تعالی چاہیں تو ان سب کے باقی ماندہ اجزاء میں شعور نما پیدا کرکے، اس کی روح سے یا کسی اور ناقابلِ فہم قسم کی صورت میں اس سے سوال وجواب بھی فرمالیں، جزاؤ عذاب کا احساس پیدا کردیں اور دیکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہو مگر انہیں کچھ نظرنہ آئے۔ اس لیے کہ انسان صرف وہی کچھ دیکھ اور پہچان سکتا ہے جسے دیکھنے کی اجازت اللہ تعالی انسان کے حواس کو دیں۔ ہمارا ایمان ہے او رقرآن سے ثابت ہے کہ فرشتے اور شیاطین ہمارے آس پاس موجود رہتے ہیں، مگر ہمیں نظر نہیں آتے تو کیا اس وجہ سے ہم ان کے وجود سے انکار کرسکتے ہیں؟ اگر دنیا میں ہی غیبیات ہمیں نظر آنا شروع ہوجائیں تو ایمان بالغیب کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی کی منشاء ہی یہ ہے کہ میرے بندے میری قدرت کو دیکھ کر، میرے اتارے گئے معجزات او رمیرے رسول کی صداقت کو سمجھ کر غیبیات پر بن دیکھے ایمان لے آئیں۔ ورنہ اگر اللہ تعالی چاہیں تو آسمان سے کوئی ایسی نشانی بھی نازل کر سکتے ہیں جسے دیکھ کر سب انسانوں کی گردنیں جھک جائیں۔ (الشعراء: ۴) اگر احوالِ برزخ اس دنیامیں ہی نظر آنا شروع ہوجائیں تو یہ ایک ایسی نشانی ہوگی جو اسلام کی صداقت کے آگے گردن جھکانے پر مجبور کردے گی جو کہ منشاءِ خداوندی کے خلاف ہے۔ اس صورت میں ایمان بالغیب اور اس قرآنی اصول کا کیا معنی رہ جائے گا کہ اللہ تعالی گردنوں کو جھکانے والی اور مجبور کردینے والی کسی نشانی کو قصداً نہیں اتار رہے؟ اللہ تعالی کی قدرت کو اپنی حقیر سی عقل کے ساتھ نہیں ناپنا چاہئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے ہی جان ور اور پرندے ایسے ہیں جو اندھیرے میں دیکھتے ہیں، لیکن انسان کی آنکھیں اندھیرے میں اندھی ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح سوئے ہوئے انسان کو وہ کچھ خواب میں نظر آتا ہے جو بیدار کھڑے انسان کو نظر نہیں آتا۔ اگر احوالِ برزخ کو دیکھنے والی روشنی بھی خدا نے انسانی آنکھ میں نہ رکھی ہو تو یہ کوئی ناقابلِ فہم بات نہیں۔ جو آدمی ایمان بالغیب کا دعوی بھی رکھتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ احوالِ برزخ مجھے نظر نہیں آتے لہذا میں ان کو نہیں مانتا تو اسے چاہئے کہ کسی عربی لغت میں ایمان بالغیب کا معنی دوبارہ دیکھ لے۔ میری تمنا ہے کہ امتیاز احمد عثمانی حق کی طرف رجوع کرنے میں پہل کریں اور باقیوں کے لیے مثال قائم کریں۔ 

ضروری وضاحت:میرے مضمون میں برزخی احساس وشعور کو نیند اور خواب کے ساتھ جو تشبیہ دی گئی ہے، اس سے مقصود محض ایک تکنیکی وضاحت ہے۔ خواب وخیال کہہ کر برزخی جزاؤ عذاب کی اہمیت کو گھٹانا مقصود نہیں اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ برزخ میں جزاؤ عذاب خواب کی سی کیفیت میں ہی ہو۔ جس جزاؤ سزا کو اللہ کے رسول نے فکر مندی پیدا کرنے کے لیے بیان فرمایا ہے، اس کی اہمیت ہمارے دلوں میں کم نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کسی کو مذکورہ بحث سے کوئی ایسا تاثر ملا ہو تو بہتر ہے کہ وہ اس کا ازالہ کرلے۔ قبرو برزخ آخرت کی گھاٹیوں میں سے پہلی گھاٹی اور آخرت کا دیباچہ ہے۔ جو اس گھاٹی میں کامیاب ہوجائے گا، اس کی آخرت بھی ان شاء اللہ خوش گوار ہوگی اور جو اس مرحلہ میں ناکام ہوجائے گا، اس کو آخرت میں خسارہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 


مراجع

۱۔ القرآن الکریم 

۲۔ترجمہ قرآن، شاہ رفیع الدین 

۳۔تفسیر طبری۔ ط:مؤسسۃ الرسالۃ

۴۔ تفسیر ابن کثیر۔ ط:دار طیبۃ 

۵۔ روح المعانی، علامہ آلوسی۔ ط: دار احیاء التراث العربی

۶۔تفسیر بغوی۔ ط: دار احیاء التراث العربی

۷۔ لباب النقول، سیوطی۔ ط: دار احیاء العلوم 

۸۔ تدبرِ قرآن، امین احسن اصلاحی۔ ط:فاران پبلشرز 

۹۔ الاتقان، سیوطی۔ ط: مطبعۃ حجازی 

۱۰۔ التبیان ، محمد علی الصابونی۔ ط: مکتبۃ الغزالی

۱۱۔ صحیح البخاری۔ ط: دار طوق النجاۃ 

۱۲۔ صحیح مسلم۔ ط:دار الغرب الاسلامی 

۱۳۔ سنن ابواود۔ ط: دار الکتاب العربی 

۱۴۔ مسند احمد۔ ط:مؤسسۃ قرطبۃ

۱۵۔ شعب الایمان، بیہقی۔ ط: دار الکتب العلمیہ 

۱۵۔ کنز العمال، علی المتقی۔ ط:مؤسسۃ الرسالۃ

۱۶۔ فتح الباری، ابن حجر۔ ط: قدیمی کتب خانہ کراچی

۱۷۔ الملل والنحل، ابن حزم۔ ط: دار الجیل 

۱۸۔ الروح، ابن قیم۔ ط:دار الحدیث 

۱۹۔ شرح العقیدۃ الطحاویۃ، ابن ابی العز الحنفی۔ ط:مکتبہ حقانیہ 

۲۰۔ العقائد النسفیہ مع شرح النبراس، نجم الدین نسفی۔ ط:مؤسسۃ الشرف 

۲۱۔الیواقیت والجواہر، علامہ شعرانی۔ ط:دار الکتب العلمیہ 

۲۲۔ شرح العقیدۃ الطحاویۃ، عبد الغنی الغنیمی۔ ط: زمزم پبلشرز

۲۳۔ النبراس، عبدالعزیز پرہاروی۔ ط: مؤسسۃ الشرف

۲۴۔ سیرتِ عائشہ، سید سلیمان ندوی۔ ط: شمع بک کمپنی 

۲۵۔ خطباتِ اقبال، ترجمہ شہزاد احمدط: علم وعرفان ببلشرز

۲۶۔ الشریعہ، فروری، اپریل۲۰۱۳ء

قرآن / علوم قرآن

اکتوبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۰

برصغیر کے فقہی و اجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اخلاقیات کی غیر الہامی بنیادوں کا داخلی محاکمہ
محمد زاہد صدیق مغل

خاطرات
محمد عمار خان ناصر

دو مرحوم بزرگوں کا تذکرہ
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

سزائے موت۔ ایک نئی بحث
خورشید احمد ندیم

عذابِ قبر اور قرآنِ کریم (۲)
مولانا محمد عبد اللہ شارق

برصغیر میں برداشت کا عنصر ۔ دو وضاحتیں
مولانا مفتی محمد زاہد

مکاتیب
ادارہ

شہوانی جذبات میں اضافے کی وجوہات
حکیم محمد عمران مغل