مولانا عبد القیوم ہزارویؒ / مولانا قاری عبد الحئ عابدؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا عبد القیوم ہزارویؒ 

۷ فروری کو نمازِ مغرب کے بعد مری کے قریب ایک تعلیمی مرکز میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ان کی فرمائش پر اپنے دورِ طالب علمی کے کچھ واقعات کا تذکرہ کر رہا تھا اور استاذِ محترم حضرت عبد القیوم ہزارویؒ کا تذکرہ زبان پر تھا۔ میں دوستوں کو بتا رہا تھا کہ جن اساتذہ سے میں نے سب سے زیادہ پڑھا اوربہت کچھ سیکھا ہے، ان میں حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بعد تیسرے بڑے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ ہیں اور اس حوالے سے یہ عرض کر رہا تھا کہ میری ذہن سازی اور تربیت میں مسلک کے دائرے میں حضرت والدِ محترمؒ اور فکری محاذ پر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ میں ابھی یہ بات کر ہی رہا تھا کہ مجلس میں موجود ایک دوست کے موبائل فون کی بیل بجنے لگی وہ اٹھ کر باہر گئے اور واپس آکر بتایا کہ استاذِ محترم مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے آغاز سے ہی حضرت صوفی صاحبؒ کے رفیقِ کار تھے اور ہمارے طالب علمی کے دور میں حضرات شیخینؒ کے ساتھ وہ تیسرے بڑے استاذ کا درجہ رکھتے تھے۔ انہوں نے چار عشروں سے زیادہ عرصہ تک مسلسل نصرۃ العلوم میں تدریسی خدمات سر انجام دیں۔ میں نے زرّادی اور زنجانی سے لے کر دورۂ حدیث میں ابو داؤد شریف تک مختلف فنون کی بہت سی کتابیں ان سے پڑھی ہیں۔ معقولات کے اونچے درجے کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ مزاج کے سخت تھے اور عبارت وغیرہ میں نرمی اور کمزوری برداشت نہیں کرتے تھے، اس لیے ان کے سبق میں خاصی تیاری کر کے بیٹھنا پڑتا تھا۔ ابتدا میں ان کا طرز اَنّھی والے استاذ حضرت مولانا ولی اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ والا ہوتا تھا۔ طالب علم کو خود مطالعہ کر کے اور سبق حل کر کے آنا ہوتا تھا۔ استاذ صرف سنتے تھے اور اگر کوئی بات ضروری ہوتی تو وضاحت کر دیتے تھے۔ میں نے نور الانوار سمیت بہت سی کتابیں اس طرز پر ان سے پڑھی ہیں۔ وہ کتاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہن سازی کی طرف بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ سیاسی طور پر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے زیادہ قریب تھے اور زندگی بھر اسی فکر پر رہے۔ دینی اور روحانی حوالہ سے شیرانوالہ لاہور اور حضرت درخواستیؒ کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے تھے۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کے ساتھ ان کی اکثر و بیشتر معاملات میں ذہنی ہم آہنگی ہوتی تھی۔ ایک دور میں مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت میں عملی طور پر متحرک رہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کی تنظیم نو میں شریک تھے اور ایک مرحلہ میں شہر کے امیر بھی رہے ہیں۔

صدر ایوب خان مرحوم کے دور میں ان کی آمریت کے خلاف عوامی جدوجہد اور ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب کی فکری بے روی کے خلاف جمعیۃ علماء اسلام کی تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ متحدہ حزب اختلاف کے زیر اہتمام شیرانوالہ باغ میں ہونے والے اس عوامی جلسہ کی صدارت انہوں نے ہی کی تھی جس پر پولیس نے پہلے آنسو گیس پھینکی اور پھر فائرنگ کی تھی۔ اس فائرنگ میں غالباً دو نوجوان شہید ہوئے تھے اور گوجرانوالہ ایوبی آمریت کے خلاف عوامی تحریک کا اہم مرکز بن گیا تھا۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء کے آغاز میں انہوں نے مسجد فاروقیہ پونڈانوالہ میں خطبۂ جمعہ کے دوران قادیانیوں کی تردید کی جس کے نتیجے میں وہ مارشل لاء کے تحت گرفتار ہوئے۔ اس کے علاوہ تحریک ختم نبوت کے دوران بھی گرفتار ہوئے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ قادیانیوں کے خلاف تحریک میں وہ اس دور میں پورے جوش و جذبہ کے ساتھ سرگرم حصہ لیتے رہے جس دور میں کسی خطبہ یا تقریر میں قادیانیوں کا نام لینا بھی قانونی جرم سمجھا جاتا تھا اور اس پر مقدمہ درج ہو جایا کرتا تھا۔ 

استاذِ محترمؒ جامع مسجد فاروقیہ پونڈانوالہ کے ایک عرصہ تک خطیب رہے ہیں اور ان کے دور میں یہ مسجد مسلکی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک ختم نبوت اور دیگر دینی تحریکات کا بھی مورچہ ہوتی تھی۔ صدر یحییٰ خان کے مارشل لاء میں خطبہ جمعۃ المبارک کے دوران قادیانیوں کے خلاف تقریر کے بعد وہ گرفتارر ہوگئے تو حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے مجھے طلب فرمایا کہ مولانا عبد القیومؒ گرفتار ہوگئے ہیں۔ اب اگر اگلے جمعہ پر اس مسجد میں قادیانیوں کے بارے میں کوئی بات نہ ہوئی تو اسے ہماری کمزوری سمجھا جائے گا اور اگر تقریر کرنے کے بعد دوسرا خطیب بھی گرفتار ہوگیا تو یہ سلسلہ تحریک کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس کا ابھی موقع مناسب نہیں ہے۔ اس لیے یہ جمعہ مسجد فاروقیہ میں تم نے پڑھانا ہے، اس طرح کہ ختم نبوت پر بات بھی پوری ہو اور گرفتاری کی صورت بھی نہ بنے۔ میں اس وقت نصرۃ العلوم میں غالباً موقوف علیہ کے درجہ کا طالب علم تھا۔ حضرت مفتی صاحبؒ کے حکم پر میں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور میں اسے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی چند صحبتوں کا فیضان سمجھتا ہوں کہ عقیدۂ ختم نبوت پر ایک گھنٹہ خطاب کے باوجود گرفتاری سے محفوظ رہا۔ سی آئی ڈی میں ہمارے ایک دوست سید مہتاب علی شاہ مرحوم ہوتے تھے۔ انہوں نے بعد میں ایک موقع پر بتایا کہ محکمہ پولیس کے مقدمات کے انچارج پی ڈی ایس پی نے تین مرتبہ ٹیپ ریکارڈر سے آپ کی تقریر سنی ہے، لیکن وہ کوئی ایسی بات تلاش نہیں کر سکے جسے مقدمہ کی بنیاد بنایا جا سکے۔ یہ بات میں نے تحدیث نعمت کے لیے عرض کی ہے اور یہ بات بتانے کے لیے لکھی ہے کہ ہمارے بزرگ بالخصوص حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ہمیں اس بات کی تلقین کرتے تھے اور تربیت دیا کرتے تھے کہ اپنی بات صحیح طریقہ سے پوری بیان کرنا تو ضروری ہے، لیکن پکڑے جانا ضروری نہیں ہے۔

عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، ملک میں نفاذِ شریعت اور دیوبندی مسلک کے فروغ و تحفظ میں حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ اس دور میں ہمارے لیے راہ نما اور رہبر کی حیثیت رکھتے تھے اور میری سیاسی و تحریکی زندگی کا آغاز ان کی انگلی پکڑ کر ہوا تھا۔ بعد میں جمعیۃ علماء اسلام کی بعض پالیسیوں سے اختلاف کی وجہ سے جن کا اظہار وہ کھلم کھلا کرتے تھے، وہ رفتہ رفتہ پیچھے ہٹتے گئے جبکہ میری پیش رفت جاری رہی۔ وہ مجھے بھی سمجھایا کرتے تھے اور کبھی کبھی ناراض بھی ہو جاتے تھے جسے میں ان کا بزرگانہ حق سمجھ کر خاموشی کے ساتھ سن لیا کرتا تھا۔ مجھے مزاج اور ڈیلنگ کے حوالے سے بہت نرم سمجھا جاتا ہے اور کسی حد تک میں ہوں بھی، لیکن موقف اور پالیسی کے معاملہ میں ہمیشہ بے لچک رہا ہوں۔ سنتا سب کی ہوں مگر کرتا وہی ہوں جسے صحیح اور مناسب سمجھتا ہوں اور اسے بھی استاذِ محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کے فیض کا حصہ سمجھتا ہوں۔ کافی عرصہ سے علیل تھے، لیکن اس کے باوجود جامعہ محمدیہ چائنہ چوک اسلام آباد میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے کئی سال تک انہوں نے تدریسی خدمات سر انجام دی ہیں۔ وہاں کئی بار ان کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک سے قبل مانسہرہ کے ایک سفر کے دوران تمبرکھولا حاضری ہوئی۔ ملاقات و زیارت کے ساتھ ساتھ ان کی دُعا اور شفقت سے بھی شاد کام ہوا۔ آج وہ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں، لیکن ان کا فیض اور یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کے صدقات جاریہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور جامعہ محمدیہ اسلام آباد کے علاوہ ان کے ہزاروں شاگردوں کی صورت میں ان کے ذخیرۂ آخرت میں اضافے کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 


مولانا قاری عبد الحئ عابدؒ 

حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں اور اپنے ہزاروں سامعین، دوستوں اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحب محترمؒ اپنے وقت کے ایک بڑے خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے چھوٹے بھائی تھے اور خود بھی ایک بڑے خطیب تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان میں اپنی خطابت کا سکہ جمایا ہے اور صرف سامعین میں اپنا وسیع حلقہ قائم نہیں کیا بلکہ خطیب گر کے طور پر بیسیوں خطباء کو بھی اپنی لائن پر چلایا ہے۔

دونوں بھائیوں کا خطابت و وعظ کا اپنا منفرد انداز تھا اور ان کے دورِ عروج میں ہزاروں سامعین ان کے خطابات سننے کے لیے دور دراز سے جمع ہوا کرتے تھے، اکابر علماء دیوبند کا والہانہ انداز میں تذکرہ، توحید و سنت کا پرچار، عظمت صحابہ کرامؓ کا تذکرہ اور شرعت و بدعات کی مخصوص لہجے میں تردید و ابطال ان کی خطابت و وعظ کے سب سے نمایاں پہلو تھے۔

حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ وعظ و خطابت کے ساتھ ساتھ تحریکی ذوق بھی رکھتے تھے اور بہت سی دینی تحریکات میں انہوں نے سرگرم اور بھرپور کردار ادا کیا ہے جبکہ مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ خطابت و وعظ کے ساتھ اصلاح و سلوک کے ذوق سے بہرہ ور تھے، ان کا روحانی تعلق شیرانوالہ لاہور سے تھا، ہمارے شیخ حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کے مجازین میں شامل تھے، اپنے عوامی خطابات میں ذکر خداوندی کی تلقین اور اس کا ورد عام طور پر کیا کرتے تھے اور اپنے سلسلہ کے سالانہ روحانی اجتماع کا بھی اہتمام کرتے تھے، دینی اور مسلکی حمیت میں اپنے بہت سے معاصرین میں ممتاز تھے اور دین و مسلک کے لیے ایثار و قربانی کا ہر موقع پر عملاً اظہار کرتے تھے۔

مجھے یاد نہیں کہ دونوں بھائیوں میں سے پہلے کس کی تقریر میں نے سنی ہے لیکن اتنا یاد ہے کہ طالب علمی کے دور میں ان کی بیسیوں تقریریں سن چکا تھا۔ پھر عملی زندگی میں ان کے ساتھ چار عشروں سے زیادہ عرصے تک رفاقت رہی ہے۔ مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا دو حوالوں سے میری جماعتی و تحریکی زندگی میں گہرا دخل ہے، جمعیۃ علماء اسلام میں ضلعی سطح پر میں طالب علمی کے دور میں ہی متحرک تھا اور ضلعی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کرتا تھا، مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ جب جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے سیکرٹری جنرل چنے گئے تو انہوں نے مجھے صوبائی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر اپنی ٹیم میں شامل کیا اور میری جماعتی سرگرمیوں کا دائرہ پورے صوبے تک وسیع ہوگیا۔ جبکہ ۱۹۸۵ء کے دوران لندن میں منعقد ہونے والی پہلی سالانہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس میں میری شرکت کے پہلے محرک وہ تھے اور انہی کی ترغیب اور تحریک پر میں نے اس کانفرنس کے لیے لندن کا پہلا سفر کیا تھا۔ مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ کے ساتھ میرا رابطہ شیرانوالہ لاہور کے حوالہ سے زیادہ تھا کہ میں بھی اسی روحانی مرکز سے وابستہ تھا اور حضرت الشیخ مولانا محمد عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کی محافل میں ہماری شرکت و رفاقت رہتی تھی۔

مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ کچھ عرصہ مجلس احرار اسلام میں شامل رہے ہیں اور احرار راہ نماؤں کے ساتھ دینی تحریکات میں شریک کار رہے ہیں۔ حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ دونوں بھائیوں کا گہرا تعلق تھا اور حضرت والد مکرمؒ بھی ان کی دینی سرگرمیوں اور خدمات کو سراہتے تھے۔ گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ کی مسجد میں متعدد بار حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ اور حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ نے دینی اجتماعات سے خطاب کیا ہے اور جس دور میں مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ جامعہ قاسمیہ فیصل آباد میں شعبان المعظم اور رمضان المبارک کے دوران علماء کرام کے لیے تربیتی کورس کا اہتمام کرتے تھے کئی سال تک حضرت والد محترمؒ علماء کرام کو مختلف مسائل کی تحقیق پڑھانے کے لیے فیصل آباد تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ دونوں بھائی وقتاً فوقتاً گکھڑ آتے اور ملاقات کے ساتھ ساتھ مختلف مسائل میں حضرت والد محترمؒ سے مشورہ اور راہ نمائی حاصل کرتے تھے۔

دونوں بھائیوں کی خطابت کا انداز کم و بیش یکساں تھا البتہ مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی خطابت میں تحریکی گھن گرج کا پہلو نمایاں ہوتا تھا جبکہ قاری صاحبؒ حضرت سلطان باہوؒ اور حضرت بابا فریدؒ کا کلام مخصوص لہجے اور ترنم کے ساتھ پڑھنے کا ذوق زیادہ رکھتے تھے اور سامعین ان کی خطابت کے ساتھ ساتھ نعت و شعر کے ذوق اور ترنم سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔ برطانیہ کے مختلف اسفار میں حضرت قاری صاحبؒ کے ساتھ میری رفاقت رہی ہے، وہاں بھی ان کے سامعین اور عقیدت مندوں کا بڑا حلقہ ہے جو بطور خاص انہیں سننے کے لیے جلسوں میں آیا کرتا تھا۔ دوست بنانے اور دوستی نبھانے کا ذوق دونوں بھائیوں میں بھرپور تھا جبکہ قاسمی صاحبؒ دوست نوازی اور دوستوں کو آگے بڑھانے میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔

مجھے قاسمی صاحب محترمؒ کا وہ جملہ اکثر یاد آتا ہے جو میری تمام دینی حلقوں اور جماعتوں کے ساتھ یکساں رابطہ رکھنے کی کوشش کو دیکھ کر ’’رانجھا سب دا سانجھا‘‘ کہہ کر داد دیا کرتے تھے اور قاری صاحبؒ کا یہ دعائیہ جملہ مجھے نہیں بھولتا جو وہ کم و بیش ہر دوست کے لیے کہا کرتے تھے ’’جتھے پیر اوتھے خیر‘‘ (یعنی جہاں بھی قدم پڑے وہاں خیر ہو)۔ اللہ تعالیٰ دونوں بھائیوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے پسماندگان کو ان کی روایات کا تسلسل جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

اخبار و آثار