مارچ ۲۰۱۳ء

طالبان کے ساتھ مذاکرات ۔ ضرورت اور تقاضے

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

صدر اوبامہ نے دوسری مدت صدارت کی پہلی پالیسی تقریر میں ۲۰۱۴ء کے آخر تک افغان جنگ ختم کر دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ القاعدہ کو غیر موثر بنانے کا ان کا ہدف پورا ہوگیا ہے، اس لیے اب جنگ کو مزید جاری نہیں رکھا جائے گا۔ یہ جنگ ’’القاعدہ‘‘ کے خلاف تھی یا ’’افغان طالبان‘‘ اس کا اصل ہدف تھے؟ جن افغان طالبان کی حکومت کو نیٹو افواج کی عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا گیا تھا، ان سے مذاکرات کی مسلسل کوششیں اس جنگ میں امریکہ اور نیٹو افواج کی ’’کامیابی‘‘ کی اصل کہانی بخوبی بیان کر رہی ہیں اور اس سلسلہ میں ہمیں کچھ عرض کرنے کی ضرورت...

دینی مدارس میں عصری علوم ۔ محمد افضل کاسی کا مکتوب

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں عصری علوم کو شامل کرنے کے حوالہ سے مختلف اصحابِ دانش نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس مفید مباحثہ کے نتیجے میں بہت سے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں جن پر غور و خوض یقیناً اس بحث کو مثبت طور پر آگے بڑھانے کا باعث ہوگا، اس سلسلہ میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک طالب علم محمد افضل کاسی آف کوئٹہ کا خط پیش خدمت ہے، راقم الحروف کے نام اس خط میں انہوں نے اس مسئلہ پر ایک طالب علم کے طور پر اپنے جذبات و تاثرات پیش کیے ہیں جو یقیناً قابل توجہ ہیں۔ ہماری ایک عرصہ سے یہ رائے چلی آرہی ہے جس کا مختلف محافل میں ہم نے اظہار کیا...

دور حاضر کے تقاضے اور شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی

― پروفیسر خالد ہمایوں

کوئی بیس بائیس برس پہلے کی بات ہے، میں نے ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ میں جماعت اسلامی کی فکر اور اُس کی سیاسی جدوجہد پر ایک تنقیدی جائزہ لکھا تو اس میں جماعت کی تمام کتابوں کی فہرست بھی شامل کی تھی۔ دکھانا یہ مقصود تھا کہ ان میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس کا تعلق پاکستانی معاشرے کے عملی مسائل و معاملات سے ہو۔ کسی ایک کتاب میں بھی اُن چیلنجز کا جواب نہیں ملتا جو حصول آزادی کے بعد ہمیں پیش آتے رہے ہیں۔ یہ تمام لٹریچر بڑی حد تک نظری مباحث پر مشتمل ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اسلام فی الواقع سچا اور بہترین دین ہے۔ جس وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد،...

ریاست، معاشرہ اور مذہبی طبقات ۔ پاکستان کے تناظر میں اہم سوالات کے حوالے سے ایک گفتگو

― محمد عمار خان ناصر

مشعل سیف: میرا نام مشعل سیف ہے۔ میں ڈیوک یونیورسٹی امریکا سے پی ایچ ڈی کر رہی ہوں۔ آپ ویسے تو ماشاء اللہ بہت مشہور ہیں، لیکن اگر اپنا مختصر تعارف کرا دیں اور اپنی تعلیم کے بارے میں بتا دیں کہ آپ نے کہاں کہاں سے سندیں حاصل کی ہیں تو مناسب ہوگا۔عمار ناصر: ہمارا جو خاندانی پس منظر ہے، وہ ایک مذہبی گھرانے کا ہے۔ میرے دادا اور میرے والد کے حوالے سے ہمارے خاندان کو ایک معروف مذہبی گھرانے کے طور پر جانا جاتاہے۔ اپنی خاندانی روایت کے مطابق، میں نے بچپن میں حفظ قرآن کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد درس نظامی کا ایک آٹھ سالہ کورس ہوتا ہے جس میں ہمارے روایتی...

امت کا فکری بحران ۔ تاریخی بیانیے کا ایک تنقیدی مطالعہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

امتِ مسلمہ پچھلی کئی صدیوں سے زوال کا شکار ہے۔ زوال و انحطاط کی مدہوشی میں اس کے ہوش و حواس پر ایک ہی منظر چھایا ہوا ہے۔ اس منظر کا نام ’شان دار ماضی‘ ہے۔ شان دار ماضی میں اسلاف ہیں اور اسلاف کے عظیم کارنامے ہیں۔ یہ منظر اپنی مجموعی کلی حیثیت میں پورے کا پورا چھایا ہوا نہیں ہے۔ شان دار ماضی کے حصے بخرے ہو گئے ہیں۔ سیاست، معیشت، فلسفہ، قانون، تصوف، سائنس، عمرانیات، اخلاقیات، الہیات اور زندگی کے دیگر پہلوؤں میں حاصل کی گئیں کامیابیاں اور کامرانیاں الگ الگ خانوں میں بٹ چکی ہیں۔ اگر ان خانوں کو جدا جدا کرنے کا مقصد، انکشافِ حقیقت کی غرض سے یہ...

مولانا عبد القیوم ہزارویؒ / مولانا قاری عبد الحئ عابدؒ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۷ فروری کو نمازِ مغرب کے بعد مری کے قریب ایک تعلیمی مرکز میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ان کی فرمائش پر اپنے دورِ طالب علمی کے کچھ واقعات کا تذکرہ کر رہا تھا اور استاذِ محترم حضرت عبد القیوم ہزارویؒ کا تذکرہ زبان پر تھا۔ میں دوستوں کو بتا رہا تھا کہ جن اساتذہ سے میں نے سب سے زیادہ پڑھا اوربہت کچھ سیکھا ہے، ان میں حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بعد تیسرے بڑے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ ہیں اور اس حوالے سے یہ عرض کر رہا تھا کہ میری ذہن سازی اور تربیت میں مسلک کے دائرے میں حضرت والدِ محترمؒ...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ پچھلے چند سالوں سے الشریعہ زیر مطالعہ ہے۔ تقلید جامد اور علمی وفکری جمود کے دور عروج میں آپ کا رسالہ تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ علمی وفکری موضوعات پرمختلف بلکہ متضاد آرا کا سامنے آنا اس دور میں بہت غنیمت ہے۔ فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں کلمہ حق میں آپ کی تحریر ’’میڈیا کا محاذ اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ نظر سے گزری۔ اس حوالے سے چند گزارشات/ سوالات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’حالت امن اور حالت جنگ کے قوانین میں فرق ہوتا ہے، بہت سی باتیں جو حالت امن میں...

دو قومی نظریہ اور امجد علی شاکر

― سید امتیاز احمد

جہاں علمی ادارے، میڈیا اور ذہن سازی کے جملہ مراکز اور ذرائع نقطہ ہائے نظر کو تاریخی حقائق اور نظریات کو عقائد بنا کر پیش کرنے میں مصروف ہوں، جہاں سماعتیں آدھا سچ سننے اور بصارتیں ادھوری حقیقت پڑھنے کی اس حد تک عادی ہو چکی ہوں کہ پورے سچ اور مکمل حقیقت کے روبرو ہونے کی خواہش ہی موجود نہ رہے، وہاں اگر کوئی دیوانہ پکار اٹھے کہ ’’بادشاہ تو ننگا ہے‘‘، وہاں اگر کوئی مؤرخ، تعصبات سے بلند ہو کر تاریخ کا جائزہ لینے کا حوصلہ کر بیٹھے، وہاں اگر کوئی حقیقت کا متلاشی سچ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کسی کوئے ملامت میں جا نکلے، وہاں اگر کوئی دانش ور سرکاری نقطۂ...

’’رسول اکرم ﷺ کی مجلسی زندگی‘‘ ۔ مضمون نویسی کا انعامی مقابلہ

― حافظ محمد رشید

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان ’’رسول اکرمؐ کی مجلسی زندگی‘‘ کے عنوان پر اس سال مضمون نویسی کے انعامی مقابلہ کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کے دس مدارس کے ۲۲ طلبہ نے حصہ لیا۔ ان میں سے (۱) محمد اشرف علی، جامعہ حقانیہ (۲) حسن البناء ، جامعہ عربیہ (۳) عبد الغنی، جامعہ نصرۃ العلوم (۴) محمد عثمان، دارالعلوم نے بالترتیب اول، دوم، سوم اور چہارم پوزیشن حاصل کی جبکہ محمد حفیظ اللہ (مدرسہ ابو ایوب انصاریؓ ) اور عبد الوہاب (جامعہ نصرۃ العلوم) کو یکساں طور پر پنجم پوزیشن کا مستحق قرار دیا گیا۔ ۳ فروری کو مغرب کے بعد...