نابالغی کا نکاح اور سیدہ عائشہ کی عمر ۔ چند نئے زاویے (۲)

مولانا محمد عبد اللہ شارق

بلوغتِ سیدہؓ کے قائلین سے ایک سوال:

اول الذکر حضرات جو ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ کو بوقتِ نکاح بالغ ثابت کرنے پر مصر ہیں‘ ان کا مقصد بھی بالعموم یہی ہے کہ اس نکاح کا اخلاقی جواز ثابت کرکے اس پر ہونے والے اعتراضات کا دفعیہ کیا جائے۔ تاہم اپنی اس کاوش کی بنیاد انہوں نے اخلاقیات کے جدید معاشرتی تصورات پر رکھی ہے۔ تبھی تونابالغی کے نکاح کو بنیادی طور پرغیر اخلاقی تسلیم کرلیا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ دور کی نئی معاشرتی اخلاقیات ہی ان حضرات کے نزدیک معیار اور کسوٹی قرار پائی ہیں تو انہیں دیکھ لینا چاہیے کہ کیا بوقتِ نکاح حضرت عائشہ ؓ کو بالغ ثابت کردینے سے یہ نکاح ہماری جدید سماجی وتہذیبی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہو جائے گا؟ ہمارے خیال میں ’’ہنوز دلی دور است‘‘ ۔ جس مقصد کے لیے حضرت عائشہ ؓ کو بوقتِ نکاح بالغ ثابت کرنے کی سعیِ بلیغ کی گئی‘ وہ مقصد ابھی تک ہاتھ نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر حضرت عائشہؓ کو بوقتِ نکاح بالغ ہی تسلیم کرلیا جائے تو ان کی عمر اس وقت زیادہ سے زیادہ کتنی رہی ہوگی؟ بلوغت کے قائلین کے اپنے قول کے مطابق زیادہ سے زیادہ یہی کوئی تقریباً پندرہ سال۔ دوسری طرف اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک تھی تقریباً پچاس سال۔یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہؓ کی عمر کے درمیان تقریباً پینتیس سال کا تفاوت۔عمر کے اس تفاوت کے ساتھ ہونے والے نکاح کو ہمارے معاشرہ میں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ مکرر کہہ دیتا ہوں کہ ایک پختہ عمر کے مرد اور لڑکپن کی حدود سے گزرنے والی دوشیزہ کے باہم نکاح کو ہماری جدید گلوبل سوسائٹی میں کن نگاہوں دیکھا جاتا ہے؟اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ اب خود بتائیے کہ عمومی روایات کے برعکس حضرت عائشہؓ کو بوقتِ نکاح بالغ ثابت کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟ اصل معاملہ تو جوں کا توں ہے۔ نہ حضرت عائشہؓ کا نکاح دورِ جدید کی سماجی ومعاشرتی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہوا اور نہ ہی معترضین کے اعتراضات کا کما حقہ سدباب ہوا کیونکہ ان حضرات کی یہ کاوش معترضین کے لیے اطمینان کا کوئی سامان نہیں کرسکی۔ 

سیدہؓ کے نکاح میں پوشیدہ مصالح اور مقاصد:

جن حضرات کو حضرت عائشہؓ کے نابالغی کے نکاح پر کسی طور اطمینان نہیں ہوتا‘ ان کا ایک اعتراض یہ ہے کہ اتنی کم عمری میں حضرت عائشہؓ کے ساتھ عقدِ نکاح فرمانے میں پیغمبر کی آخر کیا حکمت اور مصلحت تھی؟ دوسرے حضرات کی طرف سے عموماً اس کی یہ توجیہات پیش کی جاتی ہیں:

  • حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ اخوت اور اپنائیت کے رشتہ میں گہرائی پیدا کرنے کے لیے آپ نے یہ نکاح فرمایا۔
  • علوم ومعارف کا جو خزانہ حضرت عائشہؓ ہی کے ذریعہ سے خدا کو امت تک پہنچانا مقصود تھا ‘ اس کے لیے ضروری تھا کہ سیدہ عائشہ ؓ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شب وروز کی رفیق اور شریکِ حیات بنتیں۔وغیرہ وغیرہ

تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح فرماتے ہوئے یقینی طور پر یہ مصالح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اول الذکر حضرات کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ بے شک حضرت عائشہؓ سے نکاح فرمانے کی بدولت یہ ثمرات حاصل ہوئے کہ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ رشتہ کو بھی پائے داری ملی اور حضرت عائشہؓ کے ذریعہ علوم ومعارف کا خزانہ بھی امت کو منتقل ہوا، مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح فرمانے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود بھی یہی تھا۔ نیز ان حضرات کے مطابق اس نکاح کی تجویز بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابوبکرؓ کی بجائے حضرت خولہ بنتِ حکیمؓ کی طرف سے آئی جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ یہ مقاصد پیشگی طور پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر نہ تھے اور نہ ہی حضرت ابوبکرؓ کے سامنے تھے۔

حضرت خولہ بنتِ حکیمؓ کی تجویز والا نکتہ حال ہی میں جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک مضمون کے اندر اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس نکاح کی تجویز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابوبکرؓ کی طرف سے سامنے آئی ہوتی تو کہا جاسکتا تھا کہ ان حضرات کے پیش نظر یہ مقاصد رہے ہوں گے، جبکہ ایسا نہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ غامدی صاحب کے اس نکتۂ نظر میں کوئی حقیقت پسندی نہیں پائی جاتی۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ حضرت خولہؓ نے تجویز تو پیش کی تھی، مگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نکاح کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ یہ خیال اولاً آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ آیا تو کیا ہوا؟ حضرت خولہؓ کی اس تجویز کو آنحضور نے قبول تو اپنی ہی رضاو رغبت سے کیا ہوگا‘ کیا یہ ممکن نہیں کہ اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے مذکورہ مصالح ومقاصد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہے ہوں؟ اگر اس ایک پہلو پر غور کرلیا جائے تو امید ہے کہ غامدی صاحب کے مضمون میں اٹھائے گئے نکتہ کی بنیاد سرے سے ہی ختم ہوجائے گی۔ نیز غامدی صاحب نے اپنے مضمون میں لکھاہے کہ ’’سیدہ کے بارہ میں اگر کسی رؤیا کی بنا پر اس طرح(نکاح) کا کوئی خیال آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں رہا بھی ہو تو آپ نے ہرگز اس کا اظہار نہیں کیا۔ حدیث وسیرت کا ذخیرہ آپ کی طرف سے اس نوعیت کے کسی ایماء‘ اشارے یا تجویز سے بالکل خالی ہے۔‘‘ ان کا دعوی کہ ’’بالکل خالی ہے‘‘ درست نہیں۔ ایک ایسے رؤیا کا پتہ ملتا ہے کہ سیدہ کے ساتھ نکاح سے قبل ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح کی بشارت دے دی گئی تھی۔ ملاحظہ کیجیے:

’’عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لہا: اریتک فی المنام مرتین ‘ اری انک فی سرقۃ من حریر ویقول الملک: ہذہ امرأتک فاکشف فاذا ہی انت ‘ فاقول ان یک ہذا من عند اللہ یمضہ‘‘ [صحیح البخاری حدیث نمبر ۳۸۹۵۔ ۵۰۷۸۔ ۵۱۲۵۔ ۷۰۱۱۔ ۷۰۱۲]
یعنی ’’حضرت عائشہؓ خود نقل کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ میں نے تمہیں دو دفعہ(بعض روایات کے مطابق تین دفعہ) خواب میں دیکھا کہ تم ریشم کے کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور فرشتہ بتاتا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں کپڑا ہٹاتا ہوں تو وہ تم ہوتی ہو۔ پس میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ خواب اللہ کی جانب سے ہے تو وہ خود ہی اسے ظاہر فرمادے گا۔‘‘صرف صحیح البخاری میں مکرر پانچ دفعہ آنے والی یہ حدیث غامدی صاحب کی نظر سے اوجھل رہ گئی ‘ عجیب بات یہ نہیں۔ عجیب ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’سیدہ کے بارہ میں اگر کسی رؤیا کی بنا پر اس طرح(نکاح) کا کوئی خیال آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں رہا بھی ہو تو آپ نے ہرگز اس کا اظہار نہیں کیا۔ حدیث وسیرت کا ذخیرہ آپ کی طرف سے اس نوعیت کے کسی ایماء‘ اشارے یا تجویز سے بالکل خالی ہے۔‘‘ 

حاصلِ کلام یہ کہ اس امکان کو بالکلیہ رد نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ نکاح فرماتے ہوئے یہ مصالح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہے ہوں، بلکہ غالب امکان یہی ہے کہ رہے ہوں گے کیونکہ اس نکاح سے حاصل ہونے والے یہ فوائد اور مبارک ثمرات اتنے خفیہ نہیں تھے کہ نظر ہی نہ آتے۔ تاہم چونکہ اس کا کوئی قطعی ثبوت نہیں اس لیے اگر فرض کرلیا جائے کہ پیشگی طور پر سامنے نہیں رہے ہوں گے تو ایک اصولی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نکاح میں مضمر ان اضافی مصالح ومقاصد کومتعین کرنے کی آخر ہمیں ضرورت کیا آپڑی ہے؟ جب کم عمری کی شادی میں اصولی طور پر کوئی ناانصافی کی بات نہیں‘ صاحبانِ معاملہ اس پر مطمئن بلکہ مسرور ہیں ‘ رخصتی کے وقت لڑکی بھی حقوقِ زوجیت ادا کرنے کی عمر تک پہنچ چکی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ یہ معاملہ اللہ جل مجدہ کی رضاء کے خلاف نہیں ہے تو اگر ہمیں اس نکاح کے اضافی مصالح اور مقاصد معلوم نہ بھی ہوں تو آخر اس بیاہ پر اعتراض کی کیا بنیاد باقی رہ جاتی ہے!

کم سن زوجہ۔ نبی کے بے داغ کردار کی برہان:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے جو پہلو اعجاز کے درجہ کو پہنچے ہوئے ہیں اور دنیا ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے، ان میں ایک پہلو آپ کی کھلی ہوئی بے پردہ زندگی کا ہے۔ آپ کی زندگی کا کوئی قابلِ ذکر گوشہ پردۂ خفا میں نہیں ہے۔ جلوت وخلوت کے سارے احوال اور اعمال کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے ہیں۔ آپ غور کیجئے !بڑے سے بڑاانسان بھی اپنی زندگی کے ذاتی ‘ نجی اور خانگی پہلو منظرِ عام پر لانے سے کنی کتراتا ہے۔ اگر اس کی سیرت اور اس کا کردار سر تاپا صداقت وامانت سے معمور ہو تو تب بھی اسے اپنی شخصیت کے پوشیدہ پہلو ؤں کو منظر پر لاتے ہوئے ایک خوف سا محسوس ہوتا ہے اور انہیں چھپانے کی شعوری یا غیرشعوری کوشش میں مصروف رہتا ہے۔اپنی ذاتی زندگی کو گھر کی چار دیوار ی کے اندر بند رکھنے میں ہی اسے اپنی عافیت اور اپنی بڑائی کی بقاء نظر آتی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ بڑی بڑی تمام شخصیات اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ ہوتی ہیں یا پبلک لائف میں ان کی شخصیت پر چڑھا ہوا خول ان کی اندرونی شخصیت سے متضاد ہوتا ہے۔ بے شک ایسا بہت سے لیڈروں کے ساتھ ہوگا‘ مگر سب کو اس پر قیاس کرنا درست نہیں۔ اس کارگاہِ عالم میں کچھ ایسے انمول تاریخی کردار بھی ہیں جنہیں منافقت او ردورنگی کا طعنہ نہیں دیا جاسکتا‘ ان کی ظاہری شخصیت پر کوئی بہروپ یا مصنوعی خول نہیں وتا‘ ان کا من بھی ان کے تن کی طرح صاف اور ان کی گھریلو زندگی ان کی بیرونی زندگی کی طرح اجلی اور بے داغ ہوتی ہے۔ لیکن یہ اخلاقی جراء ت کم لوگوں میں ہوتی ہے کہ وہ پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ اپنی کتابِ زندگی اٹھاکے تبصرے کے لیے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیں اور اس میں کوئی باک یا ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ 

یہ صفت ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم میں بطریقِ اتم پائی جاتی ہے۔ آپ نے نہ صرف یہ کہ کبھی اپنی زندگی کے کسی گوشہ کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش نہ کی‘ بلکہ ا س کے برعکس آپ کی طرف سے اپنے سب متعلقین کو اذنِ عام تھا کہ میری ذات اور میری زندگی میں جو کچھ دیکھو‘ اسے برملا دوسروں کے سامنے بیان کردو ۔ حدتو یہ ہے کہ بیوی جیسے حساس رشتہ میں بھی کبھی آپ نے پردہ داری نہیں برتی حالانکہ بیوی انسان کی شخصیت کے جمیع پہلوؤں سے انتہائی خطرناک حد تک واقف ہوتی ہے‘ بلکہ اس کے برعکس خود اپنی ازواج کو ہی اپنی گھریلو زندگی کا ترجمان بنادیا اور لوگ آکر ان سے آپ کی گھریلو زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھی۔اس سلسلہ میں آپ کو کبھی یہ خطرہ محسوس نہیں ہوا کہ اس طرح میرا کوئی کم زور یا قابلِ گرفت پہلو لوگوں کے سامنے آجائے گا‘ یا میرے کسی گھریلو معمول کو غلط طور پر سمجھ کر کم زور ایمان والوں کے ایمان میں دراڑ پڑ جائے گی یا پھر میری اپنی بیویاں ہی کسی وقت کسی وقتی رنجش کے زیرِ اثر میرے بارہ میں کوئی غلط تاثر لوگوں میں عام نہ کردیں۔ ہمالیہ جتنی بلندوبالا یہ خود اعتمادی کسی ایسے انسان کے اندر جگہ نہیں بناسکتی جس کی سیرت وکردار میں ذرا بھی جھول پایا جاتا ہو۔ اپنی بات مزید واضح کرنے کے لیے ہم سید سلیمان ندوی کے ’’خطباتِ مدراس‘‘ سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں: 

’’بڑے سے بڑا انسان جو ایک ہی بیوی کاشوہر ہو‘ وہ بھی یہ ہمت نہیں کرسکتا کہ وہ اس کو اذنِ عام دے کہ تم میری ہر بات ‘ ہر حالت او رہر واقعہ کو برملا کہہ دو اورجو کچھ چھپا ہے ‘ وہ سب پر ظاہر کردو مگر آنحضرت کی بیک وقت نو بیویاں تھی او ران میں ہر ایک کو یہ اذنِ عام تھا کہ خلوت میں مجھ کو جو کچھ دیکھو ‘ وہ دن کی روشنی میں ظاہر کردو‘ جو بند کوٹھڑیوں میں دیکھو‘ اس کو کھلی چھتوں پر پکار کر کہہ دو۔ اس اخلاقی وثوق اور اعتماد کی مثال کہیں اور مل سکتی ہے؟‘‘( صفحہ۶۸)ایک اور جگہ کہتے ہیں:’’ انسان کے عادات ‘ اخلاق اور اعمال کا بیوی سے بڑھ کر کوئی واقف کار نہیں ہوسکتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا دعویٰ کیاتو اس وقت حضرت خدیجہؓ کے نکاح کو پندرہ برس ہوچکے تھے اور یہ مدت اتنی بڑی ہے کہ جس میں ایک انسان دوسرے کی عادات وخصائل اور طورطریق سے اچھی طرح واقف ہوسکتا ہے۔ اس واقفیت کا اثر حضرت خدیجہؓ پر یہ پڑتا ہے کہ ادھر آپ کی زبان سے اپنی نبوت کی خبر نکلتی ہے‘ ادھر خدیجہؓ کا دل اس کی تصدیق کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بارِ گراں سے گھبراتے ہیں تو حضرت خدیجہؓ تسکین دیتی ہیں کہ یارسول اللہ ! اللہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔۔آنحضرت کی تمام بیویوں میں حضرت خدیجہؓ کے بعد آپ کو سب سے زیادہ محبوب حضرت عائشہؓ تھیں۔ حضرت عائشہ ؓ نو برس تک متصل آپ کی صحبت میں رہیں۔ وہ گواہی دیتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کسی کو برا بھلا کہنے کی نہ تھی۔ آپ برائی کے بدلہ میں برائی نہیں کرتے تھی‘ بلکہ معاف کردیتے تھے۔ آپ گناہوں کی بات سے کوسوں دور تھے۔ آپ نے کسی سے اپنا بدلہ کبھی نہیں لیا۔ آپ نے کبھی کسی غلام‘ لونڈی ‘ عورت یا خادم یہاں تک کہ کسی جان ور کو کبھی نہیں مارا۔‘‘ (صفحہ ۱۰۰)

جی ہاں! اپنی بیوی کو اپنے خلوت خانوں کا ترجمان بنانے کا خطرہ مول لینا تو دورکی بات ہے‘ اگر یہی بیوی جو اپنے شوہر کے کردار کی ہر اونچ نیچ سے واقف ہے ‘ ا س کی نہ صرف بڑائی اور عظمتِ کردار ‘ بلکہ الوہی منصب کی معترف ‘ مداح او رپرزور داعی بن جائے تو دنیا کی نظر میں یہی بات بھی اس کی صداقت او رعظمت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ خصوصاً جبکہ اس بیوی کی ایک سے لے کر آٹھ تک سوکنیں ہوں‘ ہفتہ گزرنے کے بعد ایک کی باری آتی ہو‘ پھر شوہر کا زیادہ وقت ذکر وعبادت ‘ تعلیمِ دین اور یادِالہی میں صرف ہوتا ہو‘ دعوت ‘ ہجرت او رجہاد کے لیے طویل سفر الگ درپیش رہتے ہوں‘ گھر بھی مالی اعتبار سے زیادہ خوش حال نہ ہو‘ کئی کئی دن تک فاقے رہتے ہوں‘ چولہا جلانے کی نوبت نہ آتی ہو‘ راتوں کو چراغ روشن کرنے کے لیے تیل تک نہ ہو‘ گھر کی کل کائنات ایک حجرہ ہو جس کا دروازہ خستہ حالی کے باعث کبھی بند نہ ہوپایا ہو‘ پانی اور چھوہارے پہ عموماً گزارہ رہتا ہو اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ بیوی ابھی لڑکپن کی حدود سے گزر رہی ہو جب لڑکیوں کا کام کاج سے زیادہ کھیل کود میں دل لگتا ہے‘ خانہ داری کی ذمہ داریاں ٹھیک طرح اٹھا نہیں پاتیں اور کھانے پکانے میں سو طرح کی غلطیاں ہوجاتی ہیں تو سوچئے کہ اس مخصوص صورتِ حال میں اس بیوی سے کتنی غلطیاں ہونے کا امکان ہے‘ انسان سوچتا ہے کہ ان میاں بیوی کے درمیان تو ہر وقت نوک جھونک رہتی ہوگی ‘ لڑکی کے ارمان پورے نہ ہوتے ہوں گے اور وہ دل سے کبھی بھی اپنے شوہر کی نہ ہوسکی ہوگی۔ اس بیوی کو اگر خاوند دنیا کے سامنے اپنی گھریلو زندگی اور خلوت کدوں کاترجمان بناکر بٹھادے تو اسے اپنے پیروں پہ خود کلہاڑا مارنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس بیوی کی تمام خصوصیات حضرت عائشہؓ میں یکجا نظر آتی ہیں۔ (دیکھئے : سیرتِ عائشہؓ ‘سیدسلیمان ندویؒ ) مگر نتیجہ اس کا یہ ہے کہ وہ نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فریفتہ اور صدقے قربان ہیں‘ بلکہ نبی کی دعوت کے حرف حرف پر ایمان رکھتی ہیں‘ انہیں دل و جان سے چاہتی ہیں‘ ان کے ساتھ دفن ہونے کی تمنا رکھتی ہیں(صحیح البخاری‘حدیث ۷۳۲۸) او ران کی تعلیمات کے رنگ میں اس حد تک رنگی ہوئی ہیں کہ حیرت انگیز طور پر ان کا رونا دھونا بھی اس کم عمری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچہ میں ڈھل گیا ہے۔روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ رونے لگیں‘ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیوں رورہی ہو؟ تو جواب دیا کہ جہنم یاد آگئی تھی۔ (ابوداود‘ حدیث ۴۷۵۵)جی ہاں! اپنے شوہر اور پیغمبر کی سیرت وشخصیت اور صداقت سے اس حدتک متاثر ہیں اور ان کی ان دیکھی غیبی خبروں پر اس حد تک ایمان رکھتی ہیں کہ ان کی بتلائی ہوئی جہنم کو یاد کرکے بیٹھے بٹھائے رونا آگیا۔ اللہ اکبر! 

پھر بات اس ذاتی مرعوبیت اور ذاتی تاثر پر ختم نہیں ہوتی ‘ معاملہ کی اصل حساسیت ان کی ترجمانی میں ہے جس میں اصولی طور پر کئی خدشات نظر آتے ہیں۔ غور کیجئے کہ بچے تو بچے ہوتے ہیں جن سے ہر قدم پر ہزار غلطیاں ہوتی ہیں‘ پھر جب ایک کم سن بچی بیوی بھی ہو جو شوہر کے کردار کے تمام پہلوؤں سے واقف ہے اور پھر معاملہ ایک نبی کی صورت وسیرت اورشب وروز کی زندگی نقل کرنے کا ہوتو سوچئے کہ اس کے لیے کتنے محتاظ ترجمان کی ضرورت ہوگی‘ کس طرح ایک ایک قدم سوچ سوچ کر اٹھانے کی ضرورت ہوگی اور اس کم سن بیوی کو یہ فریضہ سونپنے کے نتیجہ میں کتنی بے اعتدالیوں کا خطرہ ہوگا! مگر یہاں ایسا نہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ وہ جس ہستی کی ترجمان بن رہی ہیں ‘ اس کی سیرت وکردار اور حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو شفاف اور تابناک ہے۔ 

ایسا نہیں کہ وہ بچپن کی بھول چوک اور کمی بیشی سے بری تھیں‘ بقول سیدسلیمان ندویؒ : ’’ اس عقل وشعور کے باوجود جو فطرۃً فیاض قدرت کی طرف سے ان کو عطاہوا تھا‘ کم سنی کی غفلت او ربھول چوک سے بری نہ تھیں۔ گھر میں آٹا گوندھ کر رکھتیں او ربے خبر سو جاتیں‘ بکری آتی اور کھا جاتی۔دوسری عمر رسیدہ بیبیوں کے مقابلے میں کھانا بھی اچھا نہیں پکاتی تھیں۔(سیرتِ عائشہؓ ‘صفحہ ۳۵) اور ایسا بھی نہیں کہ کبھی ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی بات پر اختلاف نہ ہوا ہو یا رنجش کا موقع نہ آیا ہو۔ ازواج مطہرات کے ساتھ پیش آنے والے ایسے چند موقعوں کی طرف اشارہ تو قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ (دیکھئے: سورۃ التحریم کی ابتدائی آیات‘ سورۃ الاحزاب آیت نمبر ۸۲ تا ۹۲۔)ایک دفعہ آپ ایسی ہی کسی رنجش کی بنا پر ایک ماہ کے لیے اپنی بیبیوں سے الگ رہے۔ میاں بیوی کے درمیان چلنے والی لطیف نوک جھوک بھی یہاں چلتی رہتی تھی۔ ان تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو اپنا ترجمان بنانا اور حضرت عائشہؓ کا اس ترجمانی کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ‘صاف شفاف زندگی اور عظیم وپرہیبت کردار کی برہان بن جانا حضرت عائشہؓ کا کمال بھی ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ ان کے سرتاج آقائے نام دار صلی اللہ علیہ وسلم کی بے داغ سیرت ‘ صداقت وراست گوئی اور نبوت وپیغمبری کی ایک دلیل ہے۔اگر نبی کی ذات میں کوئی کجی‘ عیب یا نقص ہوتا تونبی کی یہ محرمِ راز بیبیاں جن کا باہم سوکن کا رشتہ تھاوہ کبھی تو کسی کے سامنے اس کا ذکرکرتیں‘خصوصاً کم سن بیوی جن کی عمر ابھی لڑکپن کی ہے۔جہاں رشتہ سوکن کا ہو وہاں نہ ہوتے ہوئے بھی شوہر کی ذات میں بہت سے عیب نظر آنے لگتے ہیں۔ مگر ان بیبیوں کے بیانات کو دیکھیں تو یوں محسوس ہو کہ ان کا بال بال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کردار‘ اعلی اخلاق اور معطر صفات کا گرویدہ ہے۔ خصوصاً سب سے کم سن بی بی نبی کی مدح وثناء میں سب سے زیادہ رطب اللسان ہیں۔ بیبیوں کا آپ کی گھریلو زندگی کاترجمان بننا اپنے اندر یقیناًاور بھی بہت سی حکمتیں رکھتا ہوگا ‘ لیکن یہ بھی اس معاملہ کاایک پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 

یوں لگتا ہے کہ آپ کے کردار کی پاکیزگئ وطہارت اور صداقت وشفافیت کے دوسرے دلائل قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ‘ اس کی گواہی بیبیوں کے ذریعہ دلوانا خود خدا کو مقصود تھا اور اللہ ہی کے تکوینی امر کے تحت آپ نے غریب وامیر‘ کم سن ومعمر اورکنواری وبیوہ ‘ غرض ہرطرح کی بیبیوں سے شادیاں فرمائیں اور خوب کثرت سے فرمائیں تاکہ خدا کی یہ حکمت اعلی درجہ میں پوری ہو اور دنیا کے سامنے آپ کے پاکیزہ اور بے داغ کردار کی یہ شہادت’’ امر‘‘ ہوجائے‘ مگر کم فہم اور بدنصیب لوگ آپ کی ازدواجی زندگی کی اس عظیم الشان شہادت سے بے خبر‘ سب سے زیادہ اعتراض بھی آپ کی ازدواجی زندگی کے ہی مختلف پہلوؤں پرکرتے ہیں۔ ان اعتراضات سے مرعوب ہوکر روایات کے سراسر برعکس‘ نبی کی کم سن محرمِ راز حضرت عائشہؓ کی کم سنی کا انکار کرنا ناقابلِ فہم اور نبی کے عظمتِ کردار کی اس برہان کی آب وتاب گھٹانے کے مترادف ہے۔جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اقدامی عمل کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عیب زندگی کی اس تابناک برہان کو کامل خوداعتمادی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا اور دنیا بھرکے سامنے ان کی نبوت وصداقت کی شہادت دی جاتی۔ صلی اللہ تبارک و تعالی علیہ و علی آلہ و ازواجہ وبارک وسلم تسلیماً کثیرا کثیرا!

[اس مقالہ کی تیاری میں سید سلیمان ندویؒ کی تصانیف سے خاصی مدد لی گئی ہے‘ اللہ تعالی ہماری طرف سے انہیں نیک جزاء عطا فرمائیں۔ آمین]


مآخذ

۱۔ القرآن الحکیم

۲۔ احکام القرآن‘ امام ابوبکر احمد الرازی الجصاص(وفات:۳۷۰ھ) ط: قدیمی کتب خانہ ‘ آرام باغ کراچی

۳۔ صحیح البخاری(معہ فتح الباری) ط: قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی

۴۔ صحیح مسلم۔ ط: بیت الأفکار الدولیۃ

۵۔ سنن ابوداود۔ ط: بیت الأفکار الدولیۃ

۶۔ جامع الترمذی۔ ط: دارالأعلام

۷۔ فتح الباری‘ حافظ ابن حجر العسقلانی(وفات: ۸۵۲ھ)ط: قدیمی کتب خانہ ‘ آرام باغ کراچی

۸۔ کتاب الأم‘ امام شافعیؓ۔ ط:دارالوفاء 

۹۔ الہدایہ‘ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی۔ ط: مکتبۃ البشری‘ کراچی

۱۰۔ سیرتِ عائشہ معہ ضمیمہ’’ تحقیقِ عمرِ عائشہ‘‘ سید سلیمان ندوی۔ط:شمع بک ایجنسی ‘ لاہور

۱۱۔ خطباتِ مدراس‘ سید سلیمان ندوی۔ طارق اکیڈمی ‘ لاہور

۱۲۔ رخصتی کے وقت ام المؤمنین عائشہؓ کی عمر‘ حافظ عمار خان ناصر‘ شاملِ اشاعت : الشریعہ ( شمارہ اپریل 2012ء)

سیرت و تاریخ