ہماری خوراکی بے اعتدالیاں اور کینسر کا مرض

حکیم محمد عمران مغل

خبردار! کینسر کا اژدہا آپ کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے۔ شوگر، ہیپا ٹائٹس، گردوں کے امراض نے معاشرے کو اپنے چنگل میں جکڑ لیا ہے۔ اگر ان کا علاج اصول کے خلاف کیا گیا تو کینسر کا حملہ ہو سکتا ہے۔

ہماری خوراکی کمزوریاں لگاتار بڑھ رہی ہیں۔ آج سے ایک صدی پہلے کینسر کا نام ہی سنتے تھے، جبکہ اب آبادی کی اکثریت جلدی امرا ض میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے۔ جرمن معالجین نے وضاحت سے بتایا ہے کہ گوشت خوری کی عادت نے جلدی امراض کے ساتھ کینسر کو بھی بڑھا دیا ہے۔ جرمن قوم جفاکش، محنتی اور خود دار ہے۔ اس قوم کی تحقیق یہ ہے کہ جوں جوں گوشت زیادہ کھایا جا رہا ہے، کینسر کا اژدہا بھی اتنی ہی تیز رفتاری سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ 

ایک اخباری اطلاع کے مطابق مردار مرغیوں کے دو ٹرک راستے میں پکڑے گئے جو پنجاب سے کراچی لے جائے جا رہے تھے۔ ہماری خاطر تواضع اسی قسم کے گوشت سے ہو رہی ہے۔ خونی امراض، جگر کے امراض اورہیپا ٹائٹس تو فوراً کینسر کا رخ اختیار کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چالیس دن میں ایک دفعہ گوشت ضرور کھا لینا چاہیے۔ اس سے جگر کا مرض قابو میں رہتا ہے۔ مگر آج تو بکرے کی سالم ران اور مرغ مسلم ہر دستر خوان کی زینت ہے۔ اس کے بغیر دعوت مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ اوپر سے بند بوتلوں کا تیزابی پانی!

اگر اللہ نے آپ کو مذکورہ امراض سے بچایا ہے تو پھر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے احتیاط سے زندگی گزاریں۔ کئی کئی دن کی باسی غذا اور بند ڈبوں کی خور ونوش کی خوراک سے پرہیز کریں۔ سردیوں میں کئی کئی ہفتے سے اسٹور کی ہوئی گلی سڑی مچھلیاں بھی کینسر کا باعث ہو سکتی ہیں۔ بے تحاشا گوشت خوری کی عادت آپ کو چاروں شانے چت گرا سکتی ہے۔

امراض و علاج

(جنوری ۲۰۱۳ء)

Flag Counter