محافل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

مولانا وقار احمد

ربیع الاول میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور قدسی ہوا ۔ اس مناسبت سے دنیا بھر میں مسلمان ربیع الاول میں میلاد النبی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات سے محافل منعقد کرتے ہیں۔ ان محافل میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور کردار کو واضح کرنے کی اپنی سی سعی کی جاتی ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ایسی محافل بہت ہی بابرکت اور بہترین ہیں کہ ان میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کیا جاتا ہے اور مبارک ہیں وہ قلوب جو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز ہیں۔

بلا شک و شبہ انسانیت کی معراج اور ایمان کی ابتدا و انتہا پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور ایمان باللہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ ارشاد ربانی ہے : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ (بقرہ :۵۶۱) جو لوگ ایمان لائے ان کو اللہ سے شدید محبت ہے۔ اور محبت الٰہی کا مظہر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔ سورۂ آل عمران آیت نمبر ۱۳ میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو محبت الٰہی کے لیے شرط قرار دیا ہے۔ جب اتباع پیغمبر محبت الٰہی کے لیے شرط ہے تو پھر محبت بطریق اولیٰ شرط ہو گی، کیونکہ بغیر محبت کے اتباع ممکن نہیں ہے۔

خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔ صحیحین کی روایت ہے : ’’ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے والدین ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں‘‘۔ ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کہ خدا کی قسم، تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب نہ رکھو۔

قرآن نے ایسے رویے اور انداز سے سختی کے ساتھ مسلمانوں کو منع کیا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ اور تعظیم کے منافی ہو اور ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کو کم عقل اور بیوقوف قرار دیا ہے۔ ( الحجرات: ۴، ۵)

جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت جزو ایمان ہے تو پھر اس کا اظہار اور ذکر بھی لوازمات ایمان میں سے ہے، اس لیے ایسی تمام محافل بابرکت ہیں جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی مناسبت سے قائم کی جائے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ان محافل اور مجالس سے مطلوبہ مقاصد و اہداف حاصل کرتے ہیں؟ کیا ان کے انعقاد کے لیے کوئی عظیم مقصد پیش نظر ہوتا ہے یا محض رسم زمانہ پوری کی جاتی ہے؟ کیا ان کے انعقاد کا طریق کار اسوہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہے؟ کہیں یہ مسلمانوں میں انتشار پھیلانے اور اپنے جتھے کو مضبوط کرنے اور جماعتی نمائش کے لیے تو منعقد نہیں ہوتی ہیں؟ کیا یہ محافل ہماری اجتماعی اور مجلسی قوتوں کو ضائع کرنے کا سبب تو نہیں بن رہیں؟

ان مجالس کا مقصد واحد اسوہ حسنہ کا بیان ہونا چاہیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کا تذکرہ ہونا چاہیے اور ایک مسلمان کی زندگی میں نبی معلم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا عملی نمونہ پیدا کرنے کی سعی وجہد ہی ان مجالس کا مقصد وحید ہونا چاہیے۔ اسی کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب: ۱۲) ’’بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اتباع کا بہترین نمونہ ہے۔‘‘ اگر اس مقصد کے تحت ان مجالس کو منعقد کیا جائے تو بلا شک و شبہ یہ مسلمانوں کے لیے فلاح دارین کا ذریعہ ہیں، مگر ہمارے ہاں یہ مقصد فوت ہو گیا ہے اور یہ مجالس محض رسم بن کر رہ گئی ہیں۔

ان مجالس کے انعقاد کے طریقہ کار پر نظر ڈالی جائے تو یہ کسی بھی صورت نبوی منہج سے میل نہیں کھاتیں۔ ان کے انعقاد کے لیے وسائل کی فراہمی میں حلت و حرمت سے بے توجہی، ساری رات محفل میں شرکت اور ترک فرائض، اسپیکر کا استعمال اور احترام انسانیت کا فقدان، کوئی بھی چیز تو اسوہ نبوی سے مناسبت نہیں رکھتی۔

مجالس میں بیان ہونے والے مواد کی حالت اس سے بھی زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔ روایات ضعیفہ اور قصص موضوعہ سے تقاریر کو لچھے دار بنایا جاتا ہے۔ ان روایات کی صحت و عدم صحت پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی اور نہ اس بات پر توجہ دی جاتی ہے کہ یہ ہمارے مقاصد سے کس قدر مناسبت رکھتی ہیں۔ پیشہ ور مقررین اور نعت خوانوں کے پیش نظر تو کوئی بڑا مقصد ہوتا ہی نہیں۔ وہ محض گرمی محفل کے لیے یہ قصے بیان کرتے اور اپنے پیٹ کا دھندہ چلاتے ہیں۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اسوہ حیات اور مقاصد بعثت کو چند قصص کے بیان پر قربان کر دیا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اسوہ پر محیر العقول قصص کا پردہ ڈال کر مسلمانوں کو عملی زندگی سے دور کر دیا جاتا ہے۔ قرون اولی کے مسلمانوں کی عظیم کامیابیوں کو کرامات کا حاصل قرار دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی خطیب ان خرافات کے بیان سے گریز کرے گا تو وہ مسلمانوں کے چند باہمی جزوی اختلافات کے بیان میں تمام قوتیں صرف کر دے گا اور محافل سیرت کو مسلمانوں کے مابین انتشار اور افتراق کا سبب بنا دے گا۔ اگر ان محافل کے انعقاد میں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملحوظ رکھا جائے اور مواد بیان کو حیات رسول کے مستند بیان تک محدود کر دیا جائے تو ان سے مسلمان بحیثیت مجموعی عظیم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ محافل مسلمانوں کی بہت بڑی اجتماعی قوت بن سکتی ہیں، اگر ان کو بامقصد بنایا جائے۔ مگر ہم اس وقت اس قوت کو ضائع کر رہے ہیں۔ 

ربیع الاول میں انتہائی جوش وخروش سے جشن آمد رسول منایا جاتا ہے۔ تمام انسانیت کے رہبر و رہنما کی پیدائش پر خوشی کا اظہار بجائے خود ایک اچھی بات ہے۔ مگر واضح رہے کہ ربیع الاول ہمارے لیے خوشی کا پیغام اس لیے تھا کہ اس مبارک ماہ میں وہ عظیم انسان آیا جس نے ظلم وجبر کے ماحول کو یکسر ختم کر دیا، اخوت اور بھائی چارے کی فضا کو عام کیا اور بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر ایک خدا کی بندگی میں دیا۔ کس قدر مقام تعجب ہے کہ آج ہم اس کی آمد کے مقصد کو یکسر نظر انداز کر کے اسی کی آمد کے جشن مناتے ہیں۔ نتیجتاً ہم دنیا میں غلاموں کا ایک ریوڑ بن چکے ہیں۔ ہمارے دل توحید کی لذت سے ناآشنا اور اعمال الٰہی نور سے محروم ہو چکے ہیں۔ دنیا ہمیں ستانے کے لیے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرتی ہے اور ہم احتجاج و جشن منانے کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ مسلمان اپنی حیات اجتماعی میں اسوہ رسول کو زندہ کرتے اور پھر جشن مناتے تو دنیا میں کامیاب و کامران ہوتے۔ تب دنیا کے کسی رزیل کو ان کے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔

ہماری ان محافل سیرت و میلاد پر مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تبصرہ کتنا جامع ہے۔ فرماتے ہیں: مروجہ سیرت کانفرنسیں امت کے لیے زہر کی میٹھی گولیاں ہیں۔

مشاہدات و تاثرات