سیمینار: ’’حفظ قرآن کریم کے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی‘‘

حافظ محمد رشید

الشریعہ اکادمی کنگنی والہ، گوجرانوالہ کی علمی و فکری سرگرمیوں میں ایک سرگرمی مختلف موضوعات پر ہونے والے سیمینار بھی ہیں جن میں متنوع اہم موضوعات پر اہل فکر و دانش کو اظہار خیال کے لیے دعوت دی جاتی ہے۔ رواں سال میں اکادمی میں جن موضوعات پر سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان میں سے پہلا موضوع ’’حفظ قرآن کریم کے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی‘‘ تھا۔ اس موضوع پر مؤرخہ ۲ دسمبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار بعد از نماز مغرب سیمینار کا اہتمام کیا گیا جو عشا کی نماز تک جاری رہا۔ اس سیمینار میں حفظ کے اساتذہ مدعو تھے۔ سیمینار کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی۔ مقررین میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے قرأت و تجوید کے مایہ ناز استاد قاری سعید احمد، صفہ اسلامک سنٹر کے بانی و سرپرست جناب سلیم رؤف، دارالعلوم گوجرانوالہ کے استاد قاری عبد الشکور اور سیمینار کے مہمان خصوصی مولانا جہانگیر محمود شامل تھے جو لاہور سے سیمینار میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے۔ تلاوت قرآن کریم اور نعت رسول مقبول کے بعد مولانا زاہد الراشدی نے افتتاحی کلمات میں سیمینار کے کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا : 

ہم وقتاً فوقتاً ان عملی مسائل پر گفتگو کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جواساتذہ و طلبہ کو درپیش ہوتے ہیں۔ ان مسائل پر گفتگو کا مقصد ان مسائل کا قابل عمل حل تلاش کرنا، جو لوگ اس میدان میں سرگرم عمل ہیں، ان کے تجربات سے استفادہ کرنا اور یہ شعور پیدا کرنا ہوتا ہے کہ طلبہ و اساتذہ کس طرح اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید دور کی مفید تحقیقات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آج کا موضوع حفظ کے طلبہ کے مسائل و مشکلات اور ان کی تربیت کے بہتر اسالیب کی نشاندہی ہے۔ میں نے سن ۱۹۶۰ء میں حفظ مکمل کیا تھا۔ مجھے حفظ کے طلبہ کے جو مسائل محسوس ہوتے ہیں، وہ مختصراً کچھ یوں ہیں: 

یہ مشاہدے کی بات ہے کہ حفظ کرنے والے بچوں میں سے ستر فیصد بعد میں حفظ کو سنبھال نہیں سکتے۔ میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر طالب علم کو حفظ کروانا ضروری ہوتا ہے؟ میری رائے میں بچے کو ایک دوپارے حفظ کروا کر استاذ کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا یہ بچہ حفظ مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ بچہ حفظ مکمل کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے تو اس کو آگے چلایا جائے، وگرنہ انہیں۔ ایک یا دو پاروں کو پختہ کروا کے بچے کو کسی اور کام کے لیے فارغ کر دینا چاہیے۔ بچے نے جو ایک یا دو پارے حفظ کر لیے ہیں، اتنا قرآن تو ویسے بھی ہر مسلمان کو یاد ہونا چاہیے۔ ایک مسئلہ حفظ کے طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت کا بھی ہے کہ بچہ نما زکا کتنا پابند ہے، اسے جھوٹ سے کتنی نفرت ہے، حلال و حرام کی تمیز ہے یا نہیں، چھوٹے بڑے کا فرق جانتا ہے یا نہیں۔عام طور پر گھر والوں کی طرف سے یہ شکایت آتی ہے کہ جب سے اس نے حفظ شروع کیا ہے، یہ گھر والوں کی کوئی بات مانتا ہی نہیں۔ اس طرح جب بچہ حفظ کر لیتا ہے تو اس کے اعمال و کردار میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جو دوسروں کو ممتاز نظر آئے، بلکہ بسا اوقات تو حافظ صاحب جب حفظ سے فارغ ہوتے ہیں تو دوسروں سے بڑھ کر ایسی سرگرمیوں میں مصروف و منہمک ہو جاتے ہیں جن کی معاشرہ ان سے توقع بھی نہیں کر سکتا۔ نتیجہ یہ کہ ان حافظ صاحب کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو حفظ یا دینی لائن میں لانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان مسائل کا کیا حل ہے؟ اس کے علاوکیا یہ ممکن ہے کہ حفظ کے سخت معمولات کے ساتھ بچے میں فہم قرآن کا ذوق بھی پیدا کیا جا سکے اور اس مقصد کے لیے بچوں کو قرآن کریم کے کچھ حصے کا ترجمہ بھی پڑھا دیا جائے؟ پھر اگر بچہ حفظ مکمل کر لیتا ہے تو اس کے قرآن کریم یاد رکھنے کی کیا ترتیب اور نظم ہونا چاہیے؟ ایک بہت اہم سوال حفظ کے طلبہ کی بعد از حفظ تعلیمی لائن کا تعین ہے ۔ حفظ کے دوران بچے کے تین چار سال لگ جاتے ہیں اور اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ دوبارہ اس کے تعلیمی مستقبل کی تعیین میں ضائع کیا جائے، اس لیے دوران حفظ ہی بچے کی آئندہ تعلیمی لائن کا تعین ہو جانا ضروری ہے۔ اس کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں ؟ 

مولانا زاہد الراشدی کی افتتاحی گفتگو کے بعد قاری سعید احمد صاحب کو گفتگو کی دعوت دی گئی۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

میں سب سے پہلے ان طلبہ و اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جو آج کے دور میں قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے میں مشغول ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی میں برکت عطا فرمائے اور ان کو اس کام کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جتنا اونچا کام ہوتا ہے، اتنی ہی اس کی ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے جہاں یہ لوگ اس دور میں قرآن کریم کی خدمت میں مصروفیت پر مبارک باد کے مستحق ہیں، وہیں ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے ۔ ہم سب سے پہلے ان کوتاہیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو عام طور پر حفظ کرواتے ہوئے دہرائی جاتی ہیں اور جن سے حفظ کے طلبہ کی استعداد پر برا اثر پڑتا ہے۔حفظ کی کلاس میں استاد کا ماہر ہونا انتہائی ضروری ہے، لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ اساتذہ جو حفظ کے طلبہ کو نورانی قاعدہ پڑھاتے ہیں، ان کا اپنا نورانی قاعدہ درست نہیں ہوتا۔ الفاظ کی ادائیگی قرآن کریم کی تعلیم میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے اور اگر خود استاد کی ادائیگی درست نہ ہوگی تو وہ طلبہ کی ادائیگی کیسے درست کروائے گا؟ اسی طرح بعض جگہ نورانی قاعدہ جلدی پڑھا دیا جاتا ہے اور بعض جگہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ نورانی قاعدہ پر ہی دو دو سال لگا دیے گئے۔ یہ بھی درست نہیں۔ ایک مناسب مدت میں نورانی قاعدہ مکمل کروا دینا چاہیے۔ نورانی قاعدہ مکمل کروا دینے کے فوراً بعد حفظ شروع کروا دینا بھی ٹھیک نہیں۔ پہلے عم پارہ ہجے کے ساتھ پڑھایا جائے۔ پھر دو یا تین پارے ناظرہ پڑھا کر پھر حفظ شروع کروا یا جانا چاہیے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مطالعہ اور سبق سننے میں کوتاہی کی جاتی ہے۔ مطالعہ اساتذہ خود نہیں سنتے اور نہ ہی سبق توجہ سے سنا جاتا ہے جس سے طلبہ کی غلطیاں پختہ ہو جاتی ہیں۔ استاد کو چاہیے کہ ہر طالب علم کا مطالعہ اور سبق خود فرداً فرداً سنے۔ اسی طرح سبقی اور منزل بھی ہر طالب علم کی فرداً فرداً سننی چاہیے۔ ہاں، اگر طلبہ زیادہ ہیں تو ذہین طلبہ کو اپنے دائیں بائیں بٹھا کر ان پر نظر رکھتے ہوئے ان کی منزل سن سکتا ہے۔ منزل کی مقدار بھی مناسب ہونی چاہیے۔ جب طالب علم کے دس پارے ہو جائیں تو اس کی صرف آدھا پارہ یا ایک پارہ منزل کافی نہیں، بلکہ منزل کی اتنی مقدار ہونی چاہیے جس سے جلدی پاروں کا دور مکمل ہو جائے۔ان سب باتوں کو یقینی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ استاد کو اس کی معاشی مشکلات سے آزاد کر دیا جائے تاکہ وہ توجہ کے ساتھ اپنا کام کر سکے۔ 

کلاس میں بچوں کو سزا دینے کا بھی کوئی مہذب طریقہ رائج ہونا چاہیے۔ اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ درس گاہ میں انتہائی درد ناک اور توہین آمیز طریقے سے سزا دی جاتی ہے جس سے ڈرتے ہوئے بعض بچے حفظ سے ہی توبہ کر جاتے ہیں۔ بچے کو سزا دینے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ جب غلطی آئے تو اس پر نشان لگائے۔ دوسری مرتبہ غلطی آئے تو گول دائرہ لگا دے۔ تیسری مرتبہ غلطی آنے پر اس میں نقطہ لگا دے اور معمولی سزا دے اور سزا دینے میں ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے بچے کی اصلاح ہو نہ کہ وہ تعلیم سے ہی بد ظن ہو جائے۔ کلاس میں بچوں کی تعداد کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ بعض جگہوں پر کلاس میں ساٹھ ساٹھ بچے بھر دیے جاتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک بچے کو بھی منزل صحیح طرح یاد نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال سے بچنا چاہیے۔ میری رائے میں تین کتابیں ایسی ہیں جو حفظ کے ہر استاد کے پاس ہونی چاہییں۔ ۱۔ قواعد ہجاء القرآن مصنفہ قاری شکیل صاحب، ۲۔ رہنمائے مدرسین مصنفہ قاری رحیم بخش صاحب، ۳۔ تدریب المعلمین۔

قاری سعید احمد کے بعد جناب سلیم رؤف کو خیالات کے اظہار کی دعوت دی گئی ، انہوں نے کہا:

مولانا زاہد الراشدی صاحب نے جو حفظ کی تدریس کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ہیں، نہایت اہم ہیں ، لیکن ان میں سے اکثر حفظ کے میدان میں ممکن نہیں۔ مثلاً یہ بات کہ بچے کو ایک دو پارے یاد کروانے کے بعد اس کے حفظ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے اور اگر بچہ حفظ نہیں کر سکتا تو اس کو فارغ کر دیا جائے، اس کام میں سب سے بڑی رکاوٹ خود والدین ہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین نے کوئی منت مانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے کو حفظ کروائیں گے۔ ایسی صورت میں بچے کو کلاس سے نکالنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر والدین کی حالت یہ ہوتی ہے کہ باپ خود تو نماز بھی نہیں پڑھتا اور بچے کے بارے میں اس کے ذہن میں ہوتا ہے کہ وہ ولی اللہ بن جائے، اس لیے حفظ تو لازمی کروانا ہے، چاہے اس میں سو سال لگ جائیں۔ اس حالت میں استاد ان کو کیسے باور کرائے کہ بچہ حفظ نہیں کر سکتا، اس لیے آپ اس کی تعلیم کا کوئی اور بندوبست کر لیں۔ اگر استاد کہہ بھی دے کہ یہ بچہ حفظ نہیں کر سکتا تو ایسی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں کہ بچہ آیا اور آکر کہا گیا کہ اس بچے کو حفظ کروانا ہے۔ اس کا استاد کہتا ہے کہ یہ حفظ نہیں کر سکتا۔ اب یہ چیلنج ہے اور استاد کو دکھانا ہے کہ یہ حفظ کر سکتا ہے۔ اساتذہ کو اس صورت میں چاہیے کہ والدین کو مثالوں سے سمجھائیں کہ دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو پورے قرآن کے حافظ نہیں ہیں، بلکہ ایک یا دو پارے ہی انہوں نے حفظ کیے ہیں۔ شاید بات ان کی سمجھ میں آجائے۔ ایسے بچے جب حفظ کی کلاس سے نکلتے ہیں تو بہت نقصان ہوتا ہے اور ان کی وہی حالت ہوتی ہے جس کا ذکر مولانا زاہد الراشدی نے اپنے سوالات میں کیا ہے۔

حافظ صاحب کے یہ رویہ اپنانے کی ایک وجہ بے جا سختی یا غلط طریقے سے سزا دینا بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی بچے کو اس کے بڑے بھائی کی وجہ سے سزا ملے تو لازمی بات ہے کہ اس کے دل میں اپنے بڑے بھائی کی نفرت پیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر قرآن کی وجہ سے بچے کو سزا ملے گی تو اس کے دل میں قرآن سے نفرت پیدا ہو سکتی ہے اور جب وہ حفظ کی فیلڈ سے نکلتا ہے تو قرآن سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ والدین کا رویہ بھی ہے۔ والدین عام طور پر اس بچے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو اسکول وغیرہ کی تعلیم حاصل کر رہا ہو۔ اگر حفظ کرنے والے بچے نے ماں سے ناشتہ مانگا اور ماں نے کہا کہ تو صبر کر اور اس بچے کو جو سکول میں پڑھتا ہے، پہلے ناشتہ دیا تو حفظ کے طالب علم کے دل میں کیسے جذبات پیدا ہوں گے، اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اس لیے والدین کی بھی تربیت کرنی چاہیے۔ استاد اگر بچے کو اپنے ساتھ مانوس کر لے اور اسے پیار سے تعلیم دے تو طالب علم استاد کی بات کو دل و جان سے مانے گا اور تعلیم میں خاطر خواہ بہتری آ جائے گی۔میں نے اس کا کئی مرتبہ تجربہ کیا ہے کہ ایک بچہ عرصہ دراز سے اپنے والدین کی کوئی بات نہیں مان رہا، لیکن میرے یا اپنے استاد کے کہنے پر اپنی ضد چھوڑ کر اس کام کو کرنے پر آمادہ ہو گیا۔بچے کے آئندہ تعلیمی مستقبل کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اگر چوتھی کلاس پڑھنے کے بعد بچے کو حفظ شروع کروایا جائے اور وہ تین سال بھی اگر حفظ میں لگا لے تو بعد میں اس کے پاس اتنا وقت بچ جاتا ہے کہ آٹھویں کلاس میں داخلہ لے سکے۔ 

جہاں تک تعلق ہے حافظ صاحب کے معاشرے میں ایسے برے کام کرنے کا جن کی وجہ سے اہل معاشرہ اس سے بدظن ہو جاتے ہیں تو میرے خیال میں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر نقد وبال ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ معاشرے میں حاجی صاحب اور حافظ صاحب کے القاب بہت بدنام ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ دونوں بہت بڑے کام ہیں، یہ کام کر کے(حج کر کے اور قرآن کریم کو اپنے دل میں محفوظ کر لینے کے بعد) بھی جب لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں چھوڑتے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کو بدنام کر دیتا ہے۔ جہاں تک تعلق ہے حفظ کے طلبہ میں فہم قرآن پیدا کرنے کا تو اس میں بنیادی کردار استاد کا ہوتا ہے اور ۹۹ فیصد حفظ کے استاد ایسے ہیں کہ ان کو خود قرآن کا فہم حاصل نہیں ہوتا۔ صورتحال یہ بنتی ہے کہ استاد بچے کو پڑھا رہا ہے کہ پڑھو: لاَ تَنَابَزُوا بِالاَلْقَابِ اور قاف وغیرہ کے صحیح پڑھنے پر بڑا زور دے رہا ہے، لیکن بچے سے صحیح ادائیگی نہیں ہو رہی تو لاَ تَنَابَزُوا بِالاَلْقَابِ  پڑھانے والا استاد بچے کو کہتا ہے : او کتے، سؤر! صحیح پڑھ ۔ گویا جو پڑھا رہا ہے، اس کے خلاف اسی وقت خود عمل کر رہا ہے۔ یا مثلاً وہی بچہ گھر جا کر سبق یاد کرتا ہے: وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا  اور ماں اسے کہتی ہے کہ بیٹا جاؤ، ذرا بازار سے چینی تو لا دو۔ تو اسی وقت وہ کہتا ہے کہ میں نہیں جاتا کسی اور سے منگوا لو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی پڑھتا جا رہا ہے: وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔اس لیے فہم قرآن پیدا کرنے والی تجویز پر عمل کرنا حفظ کے سخت شیڈول اور اساتذہ کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل ہے۔ 

اس بارے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر میری رائے یہ ہے کہ اگر صبح پندرہ منٹ کی اسمبلی کا اہتما م کر لیا جائے اور اس میں بچوں کی تربیت کی محنت کی جائے تو بڑے اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً مختلف قسم کے انعامات کا اعلان کر کے بچوں میں نیکی کے کاموں میں مقابلے کی فضا قائم کی جائے تاکہ ان میں نیکی عادت بن جائے۔ اسی طرح پورا ہفتہ ایک ہی موضوع پر بھر پور تیاری کے ساتھ اگر اسمبلی میں بچوں کو معلومات فراہم کی جائیں تو ان کے پاس کافی ذخیرہ جمع ہو جاتا ہے اور کئی باتیں ان کے عمل میں آجائیں گی، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ کام مستقل مزاجی اور پوری محنت و تیاری کے ساتھ کیا جائے۔

دارالعلوم گوجرانوالہ کے استاد قاری عبد الشکور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حفظ کی تدریس بہت مشکل کام ہے۔ اس کی افادیت کا سارا دارومدار استاد پر ہوتا ہے۔ استاد کی اپنی تربیت ہونی چاہیے، خود بھی تعلیم یافتہ ہو، متقی ہو پرہیز گار ہو اور پڑھانا بھی جانتا ہو۔ مدارس کے ذمہ داران کو بھی اس بات کا خیال کرناچاہیے کہ وہ دیکھ بھال کر حفظ کی کلاس کسی کے حوالے کریں۔ استاد کا تجربہ کار اور محنتی ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی استاد کے پاس بیس پچیس بچوں کی کلاس ہے تو وہ تقریباً سارا دن ان سے فارغ نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا استاد یہ کہتا ہے کہ میرے پاس فارغ وقت ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ استاد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا اور اپنے کام میں خیانت کر رہا ہے۔ استاد کوچاہیے کہ بچوں کو نورانی قاعدہ محنت سے پڑھائے ۔ ہر بچے کا تجوید سے مطالعہ سنے، پھر سبق یاد کروائے۔ ہمارے ہاں دار العلوم میں بچے صبح چار بجے اٹھ جاتے ہیں اور نماز فجر سے پہلے استاد کو سبق سنا دیتے ہیں۔ اس ترتیب میں استاد ۹ بجے تک منزل و سبقی سے فارغ ہو جاتا ہے۔ بچوں پر یہ پابندی ہونی چاہیے کہ وہ عشاء کی نماز تک یا عشاء کی نماز کے بعد اپنے ساتھی کو سبق یاد کر کے سنا دیں تاکہ صبح سبق سنانے میں دقت نہ ہو۔ بچے ایک تو منزل سناتے ہیں اور دوسرا منزل پڑھتے ہیں۔ منزل پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر پابندی ہے کہ وہ روزانہ اپنی منزل سنانے کے علاوہ پاروں کی ایک مخصوص مقدار پڑھیں، چار یا پانچ پارے۔ اس طرح منزل کا پارہ، سبقی کا پارہ اور ان کے علاوہ جو پارے وہ پڑھتا ہے، یہ سب ملا کر روزانہ کے تقریبا آٹھ، دس پارے بنتے ہیں ۔ اس طرح بچے کی منزل بہت پختہ ہو جاتی ہے اور قرآن بھولنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔

سیمینار کے مہمان خصوصی مولانا جہانگیر محمود صاحب نے اپنے خطاب میں کہا:

آپ کا پروگرام بہت اچھا ہے، لیکن میری رائے یہ ہے کہ اس موضوع پر ہفتہ یا دس دن کا کوئی تربیتی پروگرام ترتیب دیا جائے تو زیادہ فائدہ ہو گا۔ مجھے ملک و بیرون ملک طریقہ تعلیم و تدریس پر گفتگو کا موقع ملا ہے، میں جدید فلسفہ تعلیم سے بہت متاثر ہوا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے خیال میں وہ لوگ اپنی ذاتی تحقیق سے اس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم کو ۶۰ فیصد تک اپنا چکے ہیں۔ ابھی سو فیصد تک تو نہیں پہنچ سکے، البتہ اپنی تحقیق اور محنت سے وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم کا ساٹھ فیصد حصہ اپنا چکے ہیں۔ میں اس نشست میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم پر بات کروں گا۔ تعلیم و تعلم میں استاد و طالب علم کا باہمی رشتہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہم صحابہ کرامؓ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے واقعات تو بہت مزے لے کر سنتے اور سناتے ہیں، لیکن عام طور پر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ صحابہ کرامؓ کی یہ محبت اصل میں عمل نہیں بلکہ ردعمل تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ساتھ محبت کا۔ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ استاد و معلم تھے، ان کو اپنے شاگردوں یعنی صحابہ کرامؓ کے ساتھ کس درجہ محبت تھی۔ میں اگر معلم کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی صفت منتخب کروں تو وہ سب سے اول آپ کی اپنے شاگردوں کے ساتھ شفقت و محبت ہو گی۔ آج ہم اپنے طلبہ کو یہ تو بتاتے ہیں کہ پہلے زمانے میں شاگرد اپنے استاد کے سامنے بولا بھی نہیں کرتے تھے، لیکن میں یہ نہیں بتاتا کہ استاد بھی اپنے طلبہ کے جوتے تک اٹھا لیا کرتے تھے۔ آپ نے احادیث کی کتابوں میں ایک جملہ پڑھا ہو گا کہ صحابہ کرام حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فداک ابی و امی کے الفاظ استعمال کیا کرتے تھے، لیکن کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ جملہ سب سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ایک صحابی کے لیے استعمال کیا تھا۔اس لیے ہمیں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا اس حوالے سے بھی مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کہ بطور معلم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے شاگردوں کے ساتھ کیسا رویہ اوربرتاؤ تھا۔ اگر استاد اپنے شاگرد کی اصلاح کے لیے سخت سزا کا طریقہ اپناتا ہے تو بقول قاری رحیم بخش صاحب جو استاد اپنے شاگرد کی اصلاح کے لیے چالیس دن تک تہجد میں دعا نہیں کرتا، اس کو اسے مارنے کا بھی کوئی حق نہیں۔گویا استاد کی شفقت و محبت شاگرد کی اصلاح و تعلیم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

جدید طریقہ تعلیم میں بھی اس عنصر کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ جدید فلسفہ تعلیم میں تعلیم کے ہر پہلو پر تحقیق ہو ئی ہے، حتی کہ بچے کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اور شاباش کہنے کے ۱۰۱ طریقے متعارف ہوئے ہیں۔ بچوں کو ترغیب و تشویق دلانے کی کچھ مثالیں میرے بھائی جناب سلیم رؤف صاحب نے ذکر کیں اور میرے خیال میں ان کے ذہن میں اور مثالیں بھی لازمی ہوں گی جو کہ سامعین کے سامنے آنی چاہیےیں۔ ہم نے بھی اپنے ادارے میں ایک طریقہ اپنایا ہے۔ مثلاً ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک نقطہ لگ جاتا ہے۔ یہ حدیث ہمارے اس طریقہ کی بنیاد ہے۔ ہم نے اسکول میں دیوار کے ساتھ کاغذ کے علامتی دل بنا کر لگا دیے ہیں اور بچوں کو یہ بتایا ہے کہ جس بچے کا رویہ خراب ہو گا، اس کے دل پر ایک کالا نشان لگا دیا جائے گا اور سال کے اختتام پر دیکھا جائے گا کہ کس بچے کے دل پر کم کالے نشان ہیں۔ پھر اس کو انعام دیا جائے گا۔ سال کے آخر میں ہم ایک تقریب میں ایسے بچے کے والدین کو بلاتے ہیں اور اس کو سنہری رنگ کا علامتی دل پیش کرتے ہیں اور ساتھ یہ بتاتے ہیں کہ یہ آپ کے بچے کا دل ہے جو سارا سال صاف و شفاف رہا۔ اب بچے اس بات کی احتیاط کرتے ہیں اور دیکھتے رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے دل پر کوئی نشان نہ لگ جائے۔ اس سے خود بخود ان کی تربیت ہوتی رہتی ہے۔ 

آج کل بچوں سے بات منوانے کے لیے عام طور پر سختی اور مار پیٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے اس مار پیٹ کی کوئی مثال پیش کر کے دکھا دیں۔ آپ کہتے ہیں کہ آج کلاس میں چالیس چالیس بچے ہیں، اس لیے کام پورا نہیں ہوتا، مار پیٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کا کام پورا نہیں ہوتا تو نہ ہو، آپ یہ دیکھیں کہ آپ کی سختی اور مار پیٹ سے کیا یہ مزاج بچے کی شخصیت کا حصہ تو نہیں بن جاتا! اس مزاج کو لے کر جب وہ معاشرے میں جائے گا تو کیسا کردار ادا کرے گا؟ کیا آپ کے اس سلوک سے اس کی شخصیت تو نہیں بگڑ رہی؟ سختی سے آپ عادات تو بنا دیں گے، شخصیت کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں خود پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج اور انداز تربیت سیکھنے کی ضرورت ہے۔کلاس کی ترتیب و نظم کے لیے ہمیں غزوہ بدر کے واقعہ سے راہنمائی ملتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قیدی کو دس مسلمان بچوں کو پڑھانے کا کہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ صحیح تعلیم کے لیے دس طالب علموں کی ہی کلاس ہونی چاہیے۔ آج کا بین الاقوامی معیار آٹھ کا ہے۔ اس لیے آج کی میری گفتگو کا بنیادی اور مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ہمیں طریقہ تعلیم اور انداز تدریس کے سلسلے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے راہنمائی لینی چاہیے اور پہلے خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم کو سیکھنا چاہیے۔ اگر اہل مغرب اپنی محنت اور کوشش سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم کے ۶۰ فیصد تک پہنچ سکتے ہیں اور اس کو استعمال کر کے انتہائی عمدہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں تو ہم سب کچھ پاس ہوتے ہوئے بھی ان نتائج سے کیوں محروم ہیں۔ 

مولانا جہانگیر محمود کے خطاب کے بعد انھی کی دعا پر اس سیمینار کا اختتام کیا گیا۔ سیمینار کے بعد غیر رسمی نشست میں بھی اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا اور سب حضرات نے بچوں اور والدین کے رویے کے حوالے سے اپنے اپنے تجربات بیان کیے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ والدین کی تربیت کا بھی کوئی انتظام ہونا چاہیے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دینی تعلیم میں بہتری کے لیے جو حضرات اپنی اپنی جگہ انفرادی محنت کر رہے ہیں، ان کو ایک جگہ جمع کرنے اور ان کے تجربات سے استفادہ کا کوئی نظم ہونا چاہیے تاکہ دوسرے احباب بھی ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

الشریعہ اکادمی