جنوری ۲۰۱۳ء

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی ضرورت

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے نظام تعلیم اور نصاب میں ضروریات زمانہ کے تناظر میں رد و بدل اور حک و اضافہ کے بارے میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے جو اس لحاظ سے بہت مفید اور ضروری ہے کہ جہاں موجودہ نصاب کی اہمیت و افادیت کے بہت سے نئے پہلو اجاگر ہو رہے ہیں، وہاں عصر حاضر کی ضروریات کی طرف بھی توجہ مبذول ہونے لگی ہے اور صرف توجہ نہیں بلکہ بہت سے اداروں میں عصری تقاضوں کو دینی مدارس کے نصاب و نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا کام بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے جس میں سر فہرست جامعۃ الرشید ہے اور اس کے علاوہ بہت سے دیگر دینی تعلیمی ادارے بھی اس کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مختلف حوالوں...

معاہدۂ حدیبیہ اور اس کے سبق آموز پہلو

― مولانا محمد جمیل اختر ندوی

مدینے آئے ہوئے چھ سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔کعبہ سے دوری اور مہجوری پر چھ دور گزر چکے تھے۔ وطنِ عزیز کو چھوڑے ہوئے ایک لمبی مدت ہوچکی تھی۔ شوق گھڑیاں گن رہاتھا۔ امنگیں لمحے شمارکررہی تھیں۔ چاہت بڑھتی جا رہی تھی۔ خواہش دوچندہورہی تھی۔ جذبات کی تلاطم خیزی قنوط کی بندپرضربیں اوراحساس کی شدت صبرکے حصارپرٹھوکریں لگارہی تھیں کہ ایک رات شہِ لولاک نے خواب دیکھاکہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ حلق کرائے ہوئے امن وسکون کے ساتھ مکہ داخل ہورہے ہیں۔ ( دلائل النبوۃ للبیھقی، باب نزول سورۃ الفتح۔۔۔: ۴/۱۶۴(حدیث نمبر: ۱۵۱۲)، السیرۃ الحلبیۃ، غزوۃ الحدیبیۃ:۲/۶۸۸)۔ زبانِ...

محافل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

― مولانا وقار احمد

ربیع الاول میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور قدسی ہوا ۔ اس مناسبت سے دنیا بھر میں مسلمان ربیع الاول میں میلاد النبی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات سے محافل منعقد کرتے ہیں۔ ان محافل میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور کردار کو واضح کرنے کی اپنی سی سعی کی جاتی ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ایسی محافل بہت ہی بابرکت اور بہترین ہیں کہ ان میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کیا جاتا ہے اور مبارک ہیں وہ قلوب جو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز ہیں۔ بلا...

دو ہفتے پاکستان میں

― مولانا محمد عیسٰی منصوری

بندہ تقریباً چار پانچ سال سے پاکستان نہیں جا سکا تھا۔ وجہ پاکستان کے دھماکہ خیز حالات، بدامنی، دہشت گردی، علاقائی ولسانی جھگڑے۔ ان چیزوں نے ملک کو کسی علمی، دینی، اصلاحی کام کے لیے ناساز گار بنا دیا ہے۔ دوسرے، بھارت و پاکستان کے درمیان کشیدگی وبے اعتمادی۔ دونوں طرف ایک چھوٹا سا طبقہ ہے جو نہایت طاقتور ہے اور وہ حالات کو بہتر ہوتے نہیں دیکھ سکتا اور بڑی عالمی طاقتوں کا مفاد بھی دنیا بھر کے ممالک و قوموں کے لڑانے میں ہے۔ بندہ نے ۲۰۱۱ء کے اواخر میں اس خیال سے ویزا لے لیاتھا کہ رائے ونڈ کے سالانہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کرسکا تو چلا جاؤں گا۔ بھارت...

نابالغی کا نکاح اور سیدہ عائشہ کی عمر ۔ چند نئے زاویے (۲)

― مولانا محمد عبد اللہ شارق

’’شکست آرزو‘‘

― عرفان احمد بھٹی

مصنف: ڈاکٹر سید سجاد حسین۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی، 35ڈی، بلاک 5فیڈرل بی ایریا کراچی، 75950۔ صفحات 352۔ دسمبر سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے‘ ٹھٹھرتی طویل راتیں سال بھر کی خوش گوار اور تلخ یادوں کو تازہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ان خوش گوار راتوں‘ چمکتے سنہرے دنوں اور ماضی کی خوش گوار یادوں میں 16دسمبر اپنی ناخوشگوار اور تلخ یادوں کی وجہ سے اداس کرنے والا بھی ہوتا ہے، جب ایک نظریہ اور ملت کی بنیاد پر وجود میں آئی، نظریاتی مملکت دولخت ہوئی، اور اغیار نے یہ طعنہ دیا کہ ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ سنہری ریشوں کی سرزمین کا تاحد...

سیمینار: ’’حفظ قرآن کریم کے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی‘‘

― حافظ محمد رشید

الشریعہ اکادمی کنگنی والہ، گوجرانوالہ کی علمی و فکری سرگرمیوں میں ایک سرگرمی مختلف موضوعات پر ہونے والے سیمینار بھی ہیں جن میں متنوع اہم موضوعات پر اہل فکر و دانش کو اظہار خیال کے لیے دعوت دی جاتی ہے۔ رواں سال میں اکادمی میں جن موضوعات پر سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان میں سے پہلا موضوع ’’حفظ قرآن کریم کے طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی‘‘ تھا۔ اس موضوع پر مؤرخہ ۲ دسمبر ۲۰۱۲ء بروز اتوار بعد از نماز مغرب سیمینار کا اہتمام کیا گیا جو عشا کی نماز تک جاری رہا۔ اس سیمینار میں حفظ کے اساتذہ مدعو تھے۔ سیمینار کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا...

ہماری خوراکی بے اعتدالیاں اور کینسر کا مرض

― حکیم محمد عمران مغل

خبردار! کینسر کا اژدہا آپ کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے۔ شوگر، ہیپا ٹائٹس، گردوں کے امراض نے معاشرے کو اپنے چنگل میں جکڑ لیا ہے۔ اگر ان کا علاج اصول کے خلاف کیا گیا تو کینسر کا حملہ ہو سکتا ہے۔ ہماری خوراکی کمزوریاں لگاتار بڑھ رہی ہیں۔ آج سے ایک صدی پہلے کینسر کا نام ہی سنتے تھے، جبکہ اب آبادی کی اکثریت جلدی امرا ض میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے۔ جرمن معالجین نے وضاحت سے بتایا ہے کہ گوشت خوری کی عادت نے جلدی امراض کے ساتھ کینسر کو بھی بڑھا دیا ہے۔ جرمن قوم جفاکش، محنتی اور خود دار ہے۔ اس قوم کی تحقیق یہ ہے کہ جوں جوں گوشت زیادہ کھایا جا رہا ہے، کینسر کا اژدہا...