ٹی بی ۔ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ

حکیم محمد عمران مغل

ایک دس سالہ بچے کی روٹی تقریباً دس ماہ سے بالکل بند کر کے اسے دودھ یا اس قسم کی دیگر نرم اغذیہ پر لگا دیا گیا تھا۔ دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ شہر کے ایک مستند معالج کا حکم ہے کہ بچہ بالکل نحیف ہو چکا ہے، معدہ اور انٹریوں کے نازک امراض نے بچے کو ٹھوس غذا کھانے کا متحمل نہیں چھوڑا، اس لیے اسے ڈبل روٹی، دودھ، دلیا، ساگو دانہ وغیرہ دیا جائے۔ بچے کی والدہ نے بتایا کہ ہم پریشان ہیں۔ معالج نے کہا ہے کہ روٹی یا ایسی کوئی ٹھوس غذا کھلائی گئی تو بچے کی زندگی کا چراغ گل ہو سکتا ہے، لیکن بچہ چھپ چھپا کر روٹی کھا لیتا ہے۔ دس ماہ سے مسلسل نرم غذا کے ساتھ ادویہ بھی دی جا رہی ہیں، لیکن افاقہ کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ 

تحقیق کی گئی تو بچے کے خاندان میں ٹی بی کے اثرات پائے گئے۔ بچے کی ہڈیوں کی ساخت ٹی بی کی وجہ سے بدوضع ہو چکی تھی۔ اس کے والدین کو یقین نہ آیا، نہ کسی نے آگاہ کیا تھا۔ میرے ذہن میں حکیم سعید شہید کی بات گونجنے لگی کہ حکومت کہتی ہے کہ تعلیم تیس فی صد سے اوپر جا رہی ہے، جبکہ معاشرے میں بمشکل چھ فیصدی بھی تعلیم کا بڑھاوا نہیں ہے۔ ٹی بی کے متعلق بھی یہی مفروضہ پھیلایا گیا ہے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہے اور ٹی بی قابل علاج ہے۔ جو حضرات اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد صحت سے ہم کنار ہوئے، وہ بے شک موٹے تازہ نظر آ رہے ہیں، لیکن زندگی کا لطف انھیں حاصل نہیں۔ وہ دائمی تھکاوٹ اور نزلہ زکام کی گرفت میں ہیں۔

بہرحال میں نے کیلشیم، فولاد اور دیگر نمکیات کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا، شربت فولاد، جوارش جالینوس، حب کبد نوشادری کا انتخاب کر کے بچے کی والدہ کو سمجھا دیا کہ ان ادویہ کو کب اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ بچے کی انتڑیاں، معدہ اور جگر بالکل ریشم بنی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا کہ میری موجودگی میں بچے کوپیٹ بھر کر روٹی کھلائیں۔ بچے نے پیٹ بھر کر روٹی کھائی۔ بعد میں بتائی گئی ترکیب سے ادویہ دی گئیں۔ رات کا کچھ حصہ بچے نے درد او ربے چینی سے گزارا۔ صبح میں نے دریافت کیا اور بتایا کہ دو چار دن یہی تکلیف رہے گی، لیکن پریشانی کی بات نہیں۔ چوتھے دن بچے نے بالکل نارمل زندگی گزارنا شروع کردی۔ ایک ہفتے کے بعد کچھ مزید ادویہ دی گئیں، خصوصاً اجمل دواخانہ کی تیار کردہ حب سرطان (کیکڑا)نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ یہ دو سال پرانا واقعہ ہے۔ اب یہ بچہ موٹا تازہ ہے اور تعلیم حاصل کرنے میں خوب مگن ہے۔

امراض و علاج

(دسمبر ۲۰۱۲ء)

دسمبر ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۱۲

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مذہبی تعلیم سے وابستہ چند فکری پہلو
محمد عمار خان ناصر

قائد اعظم یا طالبان، کس کا پاکستان؟
خورشید احمد ندیم

عالم اسلام کے معروضی حالات میں اصل مسئلہ
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

نابالغی کا نکاح اور سیدہ عائشہؓ کی عمر ۔ چند نئے زاویے (۱)
مولانا محمد عبد اللہ شارق

.... اور کافری کیا ہے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمن

ریاست کے اندر ریاست
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قاضی صاحب پر حملہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’مقالاتِ جاوید‘‘ پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

ٹی بی ۔ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
حکیم محمد عمران مغل

Flag Counter