اپریل ۲۰۱۲ء

حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ ۔ چند تاثرات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قدس اللہ سرہ العزیز کی زیارت میں نے طالب علمی کے دور میں پہلی بار کی۔ سن یاد نہیں، لیکن اتنا ذہن میں ہے کہ انار کلی لاہور میں جلسہ عام تھا ،میرا بچپن اورلڑکپن کا درمیان کا زمانہ تھا،والد محترم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم جلسہ سننے کے لیے گوجرانوالہ سے لاہورگئے تو مجھے ساتھ لے گئے۔ انار کلی بازار میں بہت بڑا اجتماع تھا اور حضرت قاری صاحب نورّ اللہ مرقدہ نے اس سے خطاب فرمایا۔ خطاب کے مشتملات ذہن میں نہیں ہیں اورنہ ہی میں اس وقت عمر کے اس مرحلہ میں تھا کہ تقریر کے موضوع اور مواد کو...

’’کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ (۲)

― مولانا محمد بدر عالم

11) دیگر مذاہب کے اثرات:خارجی اثرات نے بھی بہتوں کو گمراہ کیا۔ اسلام جزیرہ عرب سے باہر نکلاتو بجلی کی سی رفتار سے بڑھنے لگا۔ غیر اقوام ومذاہب کے لوگ جو غلط عقائد پر اپنی عمریں گذار چکے تھے۔ ترک مذہب کرکے داخل اسلام ہوئے تولاشعوری طور پر سابقہ اثرات بھی ہمراہ لائے کئی مسائل جو ان کے دماغی سانچے میں ماقبل اثرات کی وجہ سے درست نہ بیٹھے تو انہوں نے ان کی نئی تعبیر پیش کردی۔ انہی لوگوں سے مسلمانوں کااختلاط ہواتو ان کے عقائد ورسوم کا بہت کچھ اثر ان مسلمانوں نے بھی قبول کیا جو لاعلم یاکم علم تھے۔ ایسے ہی اثرات اس وقت بھی مرتب ہوئے جب غیر اقوام کی کتابیں...

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر طاہر مسعود سے انٹرویو)

― عرفان احمد

میں 1957ء میں سابق مشرقی پاکستان کے شہرراج شاہی میں پیداہوا۔ میرے والد صاحب کتابوں کے تاجر تھے۔ راج شاہی میں اُن کی کتابوں کی تقریباً تین دکانیں تھیں۔ میں نے جب سکول جانا شروع کیاتو میرے راستے میں ہی ہماری کتابوں کی دکان تھی۔ اُس کانام اُردو لابئریری تھا تو میں سکول کی واپسی پراُس دکان میں ٹھہرتا تھا۔ اُس کے پچھلے حصے میں ایک میز پر کتابیں رکھی ہوتی تھیں۔ اُس پربیٹھ جاتا تھا اورکتابیں نکال کے اُن کامطالعہ کرتارہتا تھا۔ تواُس زمانے میں وہاں رسائل بھی آتے تھے،اخبارات بھی آتے تھے۔ اردو ڈائجسٹ کی بڑی شہرت تھی۔ اُس کامطالعہ کرتا تھا۔ پھروہ ادبی...

رخصتی کے وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر

― محمد عمار خان ناصر

حدیث وسیرت کی روایات میں بیان ہوا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھے سال تھی، جبکہ ان کی رخصتی اس کے تین سال بعد مدینہ منورہ میں ہوئی۔ حدیث وسیرت کے کلاسیکی اہل علم کے ہاں اسی بات پر اتفاق چلا آ رہا ہے، تاہم دور جدید میں بعض اہل علم نے متعدد پہلووں سے ان روایات پر شبہات وارد کیے ہیں اور ان کے تاریخی وواقعاتی استناد کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس ضمن میں ان حضرات کی تحریروں سے اس زاویہ نظر کا بنیادی محرک تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زید مجدہم۔ محترم مولانا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ آپ کو یہ جان کر یقیناًخوشی ہوگی کہ وہ شخص جس کے لیے آپ نے قارئین الشریعہ سے دعائے صحت کی درخواست کی تھی، وہ بالآخر اتنا صحت مند ہو ہی گیا کہ مایوسی کے ساتھ ہندوستان جا کر پھر لندن لوٹ آیا ہے۔ آپ ہی نے سب سے پہلے خاکسار کے لیے دعائے صحت کی درخواست کی تھی، سو آپ ہی کو سب سے پہلے بہتری کی اطلاع دے رہا ہوں۔ ڈیڑھ سال سے قلم ہاتھ میں نہیں لیا تھا۔ اسی کا اثر ہے کہ حروف صاف نہیں بن رہے۔ بالفاظ دیگر لکھنا بھول گیا ہوں۔ کمپیوٹر کی وجہ سے لکھنے کی عادت چھوٹ بھی گئی تھی۔...

سیمینار: ’’سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن مجید کی تعلیم‘‘

― ادارہ

پنجاب اسمبلی نے ۸ مارچ ۲۰۱۲ء کو محترمہ عاصمہ ممدوٹ کی پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر پاس کی ہے جس میں قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: o سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم کو نصابی کتاب کے طو رپر شامل کیا جائے۔ o مکمل قرآن کریم ترجمہ سمیت پڑھایا جائے۔ o اس کے لیے حکومت کی طرف سے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ o قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ یہ اگرچہ ایک قرارداد ہے جس کی حیثیت صرف سفارش کی ہے، اس کے باوجود اس حوالے سے یہ خوش آئند ہے...

صحت کی بحالی کے لیے کم خرچ بالا نشیں عادات

― حکیم محمد عمران مغل

گزشتہ اشاعت کو اکثر قارئین کرام نے حد سے سوا پسند فرمایا جس کا مجھے اندازہ نہ تھا۔ میں نے اسی موضوع پر مزید عرض کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ اکثر قارئین کرام منتظر ہیں کہ میں علم کے سمندر سے کون سا قیمتی موتی ان کے لیے نکال کر لاتا ہوں۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ماہنامہ الشریعہ میں زیب داستاں کے لیے کوئی بات اب تک نہیں لکھی کہ یہ پرچہ قارئین کو فرش سے عرش پر لے جاتا ہے۔ ملک کا ذی وقار طبقہ اس کا منتظر رہتا ہے۔ علماء کرام کی اکثریت اس سے نہ صرف مانوس ہے بلکہ اسے اپنے علم میں اضافہ کا باعث سمجھتی ہے۔ یہی اضافہ ایک متقی پرہیز گار عالم دین...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter