سیمینار: ’’سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن مجید کی تعلیم‘‘

ادارہ

(الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار)


پنجاب اسمبلی نے ۸ مارچ ۲۰۱۲ء کو محترمہ عاصمہ ممدوٹ کی پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر پاس کی ہے جس میں قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:

  • سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم کو نصابی کتاب کے طو رپر شامل کیا جائے۔
  • مکمل قرآن کریم ترجمہ سمیت پڑھایا جائے۔
  • اس کے لیے حکومت کی طرف سے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔
  • قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

یہ اگرچہ ایک قرارداد ہے جس کی حیثیت صرف سفارش کی ہے، اس کے باوجود اس حوالے سے یہ خوش آئند ہے اور اسے منظور کرنے پر تمام ارکان اسمبلی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ یہ قرآن کریم کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی منتخب اسمبلی کی طرف سے تعلق کا اظہار ہے اور اس سے پاکستان کی نظریاتی اسلامی شناخت ایک بار پھر جمہوری انداز میں سامنے آئی ہے۔

اس سلسلے میں ۲۲  مارچ کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت معروف ماہر تعلیم اور المشرق سائنس کالج گوجرانوالہ کے سربراہ ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی نے کی اور اس میں الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مختلف تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کی مذکورہ قراردادکی روشنی میں قرآن وحدیث کی تعلیم کے حوالے سے موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پیش کرنے والی خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ اور منظور کرنے والے تمام ارکان اسمبلی کو مبارک باد دی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ قرارداد کے بعد اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ بل بھی اسمبلی میں اسی طرح پیش ہو کر متفقہ طور پر منظور ہونا چاہیے تاکہ محض سفارش کی بجائے باضابطہ قانون سازی کے ذریعے ارکان اسمبلی کی اس خواہش کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

اجلاس میں اس امر کو لمحہ فکریہ سے تعبیر کیا گیا کہ قیام پاکستان کو پینسٹھ برس گزر جانے کے باوجود ابھی ہم اس مرحلے میں ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی صرف یہ سوچ رہی ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ہمارے تعلیمی اداروں میں کسی حد تک ہونی چاہیے اور ترجمہ کے ساتھ ہونی چاہیے اور حکومت کو اس کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے چاہییں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سرکاری تعلیمی نظام میں اس وقت بھی ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم مڈل تک ضروری ہے اور اس کے لیے امتحان میں نمبر بھی مختص کیے گئے ہیں، لیکن عملاً ا س کا کوئی اہتمام موجود نہیں ہے۔ نہ تو قومی تعلیمی پالیسی کے تحت جاری ہونے والی ہدایات میں اس سلسلے میں کوئی راہ نمائی ہوتی ہے، نہ ہی سرکاری تعلیمی اداروں کے سربراہ اور اساتذہ اس کی طرف توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی قرآن کریم کی تعلیم اور امتحان کا کوئی اہتمام ہوتا ہے، بلکہ اکثر اداروں میں تعلیم اور امتحان کے بغیر ہی قرآن کریم کے نمبر امتحانی پرچوں پر لگا دیے جاتے ہیں اور اسے دوسرے مضامین کے امتحانات میں طلبہ کے نمبروں کی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک اسکول ٹیچر نے سیمینار کے دوران بتایا کہ انھوں نے ایک کلاس کے امتحان میں قرآن کریم کا باقاعدہ امتحان لے کر طلبہ کو ان کی حیثیت کے مطابق نمبر دے تو اسکول کے دوسرے اساتذہ نے ان سے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ نے طلبہ پر ظلم کیا ہے، اس لیے کہ یہی نمبر تو طلبہ کے دوسرے مضامین میں نمبروں کی کمی کو پورا کرتے ہیں اور امتحان میں ان کے پاس ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

اجلاس میں اس صورت حال کو محکمہ تعلیم، تعلیمی اداروں کے سربراہوں اور ایسا کرنے والے اساتذہ کی غفلت اور بے پروائی قرار دے کر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا اور اس کی تلافی کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ ایک تجویز میں کہا گیا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت دی جانے والی ہدایات میں یہ ہدایت شامل کی جائے کہ سرکاری نصاب کے مطابق قرآن کریم کی تعلیم وتدریس اور امتحان کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنایا جائے اور جس طرح ڈینگی کے بارے میں باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے، اسی طرح قرآن کریم کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے مہم چلائی جائے۔ ایک تجویز یہ پیش کی گئی کہ مڈل یا میٹرک کی سند کو قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ مشروط کیا جائے اور قرآن کریم ناظرہ کا باقاعدہ امتحان لینے کے بعد سند جاری کی جائے، البتہ اس سے غیر مسلم طلبہ کو مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

ایک تجویز اس سلسلے میں یہ سامنے آئی کہ اس سلسلے میں اساتذہ کے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے جن میں اساتذہ کو قرآن کریم کی تعلیم کی اہمیت وضرورت کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ان کی عملی راہ نمائی اور ٹریننگ کا انتظام کیا جائے۔ ایک تجویز یہ پیش کی گئی کہ ہر اسکول میں پہلا پیریڈ قرآن کریم کے لیے مخصوص کیا جائے جس میں قرآن کریم کے ساتھ ساتھ نماز اور ضروریات دین کی تعلیم کو ضروری قرار دیا جائے اور متعلقہ استاذ کو ہدایت کی جائے کہ وہ محض وقت گزاری کی بجائے سنجیدگی اور دلچسپی کے ساتھ یہ تعلیم دے۔

اجلاس میں اس صورت حال کا جائزہ لیا گیا کہ یہ تو قرآن کریم کی تعلیم کے اس حصے کی بات ہے جو آج بھی تعلیمی نصاب ونظام کا حصہ ہے، مگر محکمہ تعلیم اور اساتذہ، دونوں کی کوتاہی کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، جبکہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد میں مکمل قرآن کریم باترجمہ کی بات کی گئی ہے اور قرآن وحدیث کی ضروری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب قرآن بورڈ کا کردار بھی زیر بحث آیا جو حکومت پنجاب کی طرف سے باقاعدہ طور پر قائم ہے اور مختلف حوالوں سے متحرک ہے۔ سیمینار میں طے پایا کہ پنجاب قرآن بورڈ سے رابطہ کر کے اسے اس طرف توجہ دلائی جائے کہ وہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لے جو مبینہ طور پر انتہائی افسوس ناک ہے اور جس کی اصلاح کے لیے خاصی محنت کی ضرورت ہے۔ پنجاب قرآن بورڈ سے یہ گزارش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ وہ اس افسوس ناک صورت حال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر اس سلسلے میں پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح کے لیے جامع رپورٹ مرتب کرے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس کی باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کرے۔ پنجاب قرآن بورڈ سے یہ استدعا کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ وہ پنجاب اسمبلی کی مذکورہ قرارداد پر عمل درآمد کو اپنے باقاعدہ پروگرام میں شامل کرے اور اسے قانونی بل کے طور پر اسمبلی میں پیش کرانے اور منظور کرانے کے لیے لابنگ اور بریفنگ کا کردار ادا کرے۔

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ نئی نسل کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے روشناس کرانا دستوری طو رپر بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اور شرعی حوالے سے بھی ایک مسلمان حکومت کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ عام شہریوں کی دینی تعلیم وتربیت کا اہتما م کرے۔ مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ جمعہ میں مسلم حکام کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مختلف شہروں اور علاقوں میں انھوں نے جن حکام کو مقرر کیا ہے، ان کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ ’’لیعلمہم دینہم وسنۃ نبیہم‘‘، وہ لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم کا اہتما م کریں، لیکن ہمارے ہاں اس سلسلے میں مسلسل کوتاہی سے کام لیا جا رہا ہے اور حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے سربراہ اور اساتذہ بھی اس کوتاہی میں شریک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نئی نسل میں اخلاقی بے راہ روی اور فکری انتشار بڑھتا جا رہا ہے اور سیکولر لابیاں اور غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی این جی اوز ہماری نئی نسل کی قرآن وسنت کی تعلیمات سے بے خبری کی آڑ میں اپنے گمراہ کن ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں، اس لیے حکومتی اداروں کو توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اپنی اپنی جگہ بھی یہ ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے کردار ادا کریں اور نور کے علم کے ساتھ جہالت اور جاہلیت دونوں کا موثر مقابلہ کریں۔

الشریعہ اکادمی کی لائبریری کے لیے ’’مسند احمد‘‘ کا ہدیہ

گزشتہ دنوں جامعہ لاہور الاسلامیہ کے سربراہ جناب مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی اور ان کے دست راست جناب ڈاکٹر حافظ حسن مدنی نے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی لائبریری کے لیے ’’المحصل لمسند الامام احمد بن حنبل‘‘ کا وقیع علمی ہدیہ عنایت کیا۔ یہ جناب عبداللہ بن ابراہیم بن عثمان القرعاوی کی گراں قدر علمی کاوش ہے جس میں علم حدیث کے عظیم ذخیرہ مسند احمد بن حنبل کی تمام روایات کو موضوعاتی ترتیب سے جمع کیا گیا ہے اور یوں حدیث کے اس انسائیکلو پیڈیا سے استفادہ کو علم حدیث کے طلبہ کے لیے بہت آسان بنا دیا گیا ہے۔ ۲۵ جلدوں پر مشتمل یہ مجموعہ ریاض، سعودی عرب کے اشاعتی ادارے دار العاصمۃ کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ 

الشریعہ اکادمی