صحت کی بحالی کے لیے کم خرچ بالا نشیں عادات

حکیم محمد عمران مغل

گزشتہ اشاعت کو اکثر قارئین کرام نے حد سے سوا پسند فرمایا جس کا مجھے اندازہ نہ تھا۔ میں نے اسی موضوع پر مزید عرض کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ اکثر قارئین کرام منتظر ہیں کہ میں علم کے سمندر سے کون سا قیمتی موتی ان کے لیے نکال کر لاتا ہوں۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ماہنامہ الشریعہ میں زیب داستاں کے لیے کوئی بات اب تک نہیں لکھی کہ یہ پرچہ قارئین کو فرش سے عرش پر لے جاتا ہے۔ ملک کا ذی وقار طبقہ اس کا منتظر رہتا ہے۔ علماء کرام کی اکثریت اس سے نہ صرف مانوس ہے بلکہ اسے اپنے علم میں اضافہ کا باعث سمجھتی ہے۔

یہی اضافہ ایک متقی پرہیز گار عالم دین کو مانسہرہ سے کھینچ لایا۔ دوا دارو کے بعد بات آگے بڑھی تو فرمانے لگے کہ بحر ہند کے بہت ہی قیمتی موتی کی نشان دہی کرتا ہوں۔ اسے نکال کر اس کی تراش خراش کر کے طب اسلامی کی انگوٹھی میں نصب کریں۔ پھر دیکھیں کہ اس کی کرنیں کہاں تک پہنچتی ہیں۔ اس موتی کے نام سے میں واقف تھا، لیکن کام سے اب واقفیت ہوئی۔ یہ موتی عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت استاذ العلماء مولانا غلام رسول خان صاحب مرحوم ومغفور تھے۔ اللہ ان پر کروڑہا برکات نازل کرے۔ جامعہ اشرفیہ لاہور میں علوم وفنون کے دریا بہا گئے۔ مانسہرہ کے مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ (۱) حضرات دوران اسباق فضول گفتگو نہ فرماتے تھے، صرف تبسم سے کام چلاتے تھے۔ (۲) خور ونوش کی کوئی چیز پسند نہ ہوتی تو اسے کبھی ہاتھ نہ لگاتے۔ (۳) صبح شام نظم وضبط کے ساتھ سیر فرماتے۔ حکیم آفتاب قریشی مرحوم نے ایک بار انٹرویو میں فرمایا کہ میں نے حضرت سے صحت کا راز اور لمبی عمر پانے کی حکمت عملی پوچھی تو فرمانے لگے کہ گرمی ہو یا سردی، خزاں ہو یا بہار یا برف باری، میری سیر میں ناغہ نہیں ہوتا۔ (۴) ہر کھانے کے ساتھ دہی ضرور کھاتے تھے۔ (۵) برف کے استعمال سے واقف نہ تھے۔ (۶) پسینہ آتا تو پنکھے کا استعمال نہ فرماتے تھے۔

میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ چین کے لوگ کھانے کے ساتھ معمولاً گرم پانی پیتے ہیں۔ ہم نے صبح سے شام تک ٹھنڈی بوتلیں پی پی کر اپنے جگر اور گردوں کو خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ ہمارے ملک کے مایہ ناز حکیم جناب صابر ملتانی کی تحقیقات حرف آخر ہیں۔ قوم کی بدحالی اور امراض کی بھرمار سے سخت بدظن ہو کر دنیا سے منہ موڑ لیا۔ ان کی ایک کتاب ’’تحقیقات امراض‘‘ موتیوں سے بھرپور ہے۔ اس کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ آپ اپنے اکثر امراض کو سمجھ کر ان کا سہل الحصول علاج کر سکیں گے۔ فریز میں یخ بستہ اشیائے خور ونوش بھی امراض کا باعث ہیں۔ میری ان گزارشات کامقصد یہ ہے کہ آپ اپنے خون پسینے کی کمائی سے صحت نہیں خرید سکتے تو بیماریاں بھی نہ خریدیں۔

امراض و علاج

(اپریل ۲۰۱۲ء)

Flag Counter