’’توہین رسالت کا مسئلہ‘‘ ۔ اعتراضات پر ایک نظر

محمد عمار خان ناصر

گزشتہ دنوں اپنی ایک تحریر میں توہین رسالت اور اس کی سزا کے حوالے سے ہم نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے، بعض اہل قلم نے تحریری اور زبانی طو رپر اس پر مختلف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان حضرات کے تحفظات کو درج ذیل تین نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔ ہم نے اپنی تحریر میں فقہاے احناف کے نقطہ نظر کی درست ترجمانی نہیں کی، کیونکہ توہین رسالت کے مجرم کے لیے کسی رعایت کے بغیر موت کی سزا کو لازم قرار دینے میں فقہاے احناف اور دوسرے فقہی مذاہب یک زبان ہیں۔

۲۔ توہین رسالت کے مجرم کے لیے کوئی قانونی رعایت یاموت سے کم تر سزا کی گنجائش تلاش کرنا دینی غیرت وحمیت کے منافی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ محبت وعقیدت کی کمی کی دلیل ہے۔ 

۳۔ اگر فقہی لٹریچر میں اس ضمن میں کوئی اختلاف پایا جاتا ہے تو بھی ایک ایسے ماحول میں اس بحث کو چھیڑنا جس میں مغرب اور مغرب زدہ طبقے قانون ناموس رسالت کے خاتمے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، درحقیقت اس مسئلے میں مغرب کے موقف کو تائید فراہم کرنے اور مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے مترادف ہے۔

آئندہ سطور میں، ہم ان اعتراضات کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

فقہاے احناف کا نقطہ نظر

بہت سے قارئین کے لیے، جنھوں نے ہماری اصل تحریر کا مطالعہ کیا ہے، یہ اعتراض شاید اس حوالے سے حیرت کا موجب ہو کہ ہم نے اپنی تحریر میں فقہا ے احناف کی طرف اس موقف کی نسبت کا محض دعویٰ نہیں کیا، بلکہ مستند ترین علمی مصادر سے اس کی تائید میں تفصیلی حوالہ جات بھی نقل کیے ہیں۔ تاہم یہ اعتراض پیدا ہونے کی ایک خاص وجہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں اس وقت مذہبی رسائل وجرائد اور اخباری کالموں میں جو اہل قلم دینی موضوعات پر امت کی راہ نمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان میں سے بیشتر کو نہ تو اسلامی علوم کے اعلیٰ مآخذ تک براہ راست رسائی حاصل ہے اور نہ علمی وفقہی موضوعات پر امت مسلمہ کی علمی روایت اور اس کے مختلف رجحانات کا باریک بینی سے مطالعہ اور تجزیہ کرنے کی فرصت میسر ہے۔ چونکہ توہین رسالت کی سزا کے ضمن میں فقہاے احناف کا موقف بعض تکنیکی فقہی نکتوں پر مبنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ احناف کی علمی روایت میں ایک سے زیادہ فقہی رجحانات بھی پائے جاتے ہیں، اس لیے جن حضرات کو زیادہ توجہ سے احناف کے فقہی لٹریچر کا مطالعہ وتجزیہ کرنے کا موقع نہیں ملا، وہ بعض آرا اور عبارات کے درست پس منظر سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے خود بھی ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی الجھی ہوئی تحریریں عام قارئین کے سامنے پیش کر کے ان کے ذہنوں میں بھی کنفیوژن پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فقہاے احناف کے موقف کی کچھ مزید توضیح قارئین کے سامنے رکھ دی جائے۔

اس ضمن میں حنفی فقہا کے ہاں پائے جانے والے مختلف رجحانات کو حسب ذیل نکات کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔ فقہاے احناف کا کلاسیکی موقف یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم جزیہ ادا کرنے کی شرط پر اسلامی ریاست کی شہریت قبول کر لے تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا دین اسلام کو برا بھلا کہنے سے اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹتا، اس لیے اسے تادیب اور تنبیہ کے طو رپر سزا تو دی جائے گی، لیکن نقض عہد کی بنیاد پر مباح الدم قرار نہیں دیا جائے گا۔ احناف کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سب وشتم کفر ہی کی ایک شکل ہے جس پر قائم رہنے کی اجازت عقد ذمہ کی صورت میں غیر مسلموں کو پہلے ہی دی جا چکی ہے، اس وجہ سے شتم رسول کے ارتکاب کو فی نفسہٖ معاہدہ توڑنے کے ہم معنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (کاسانی، بدائع الصنائع، ۷/۱۱۳) 

اس کے مقابلے میں بعض حنفی اہل علم مثلاً جصاص، ابن الہمام اور آلوسی رحمہم اللہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سب وشتم کے ارتکاب کے باوجود معاہدۂ ذمہ کو علی حالہ برقرار سمجھنا درست نہیں، کیونکہ معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اہل ذمہ مسلمانوں کے مقابلے میں ذلیل اور پست ہو کر رہیں گے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرنے والا ذمی معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے مباح الدم ہو جاتا ہے۔ (جصاص، احکام القرآن ۴/۲۷۵۔ ابن الہمام، فتح القدیر، ۲/۶۲) 

ہمارے نزدیک اس باب میں یہ دوسرا نقطہ نظر ہی راجح ہے، اس لیے کہ غیر مسلموں کے ساتھ معاہدے میں انھیں ان کے کفریہ اور مشرکانہ اعتقادات پر قائم رہنے کی اجازت تو دی گئی تھی، لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی اجازت ہرگز اس معاہدے کا حصہ نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خود فقہاے احناف غیر مسلموں کے کفر وشرک پر تو انھیں کوئی سزا دینے کے قائل نہیں، لیکن توہین رسالت کو ایک قابل تعزیر جرم قرار دیتے ہیں جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں بنتا کہ معاہدے کی رو سے انھیں ایسا کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ آلوسی نے جمہور احناف کی راے پر تنقید کرتے ہوئے بجا طو رپر لکھا ہے کہ:

والقول بان اہل الذمۃ یقرون علی کفرہم الاصلی بالجزیۃ وذا لیس باعظم منہ فیقرون علیہ بذلک ایضا .... لیس من الانصاف فی شئ ویلزم علیہ ان لا یعزروا ایضا کما لا یعزرون بعد الجزیۃ علی الکفر الاصلی وفیہ لعمری بیع یتیمۃ الوجود بثمن بخس (روح المعانی ۱۰/۵۸، ۵۹)
’’یہ کہنا کہ چونکہ جزیہ کی ادائیگی کے بعد اہل ذمہ کو ان کے کفر اصلی پر قائم رہنے کی اجازت دی جاتی ہے اور سب وشتم، اس کفر سے زیادہ بڑا جرم نہیں ہے، اس لیے انھیں اس پر بھی قائم رہنے دیا جائے گا، انصاف سے بالکل بعید بات ہے۔ اس صورت میں تو یہ لازم آئے گا کہ جیسے انھیں جزیہ ادا کرنے کے بعد ان کے کفر اصلی پر کوئی تعزیر نہیں کی جاتی، اسی طرح سب وشتم پر بھی کوئی تعزیری سزا نہ دی جائے۔ بخدا، یہ تو کائنات کے در یتیم کو نہایت حقیر قیمت کے عوض فروخت کر دینے کے مترادف ہے۔‘‘

۲۔ فقہ حنفی کے کلاسیکی مآخذ میں سب وشتم کے مرتکب ذمی کے بارے میں صرف تادیبی سزا کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، جبکہ سزاے موت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ امام طحاوی نے لکھا ہے کہ پہلی مرتبہ سب وشتم کرنے والے ذمی کو صرف زبانی تنبیہ کی جائے، جبکہ اس کے بعد اگر وہ اس کا مرتکب ہو تو بھی اسے قتل کرنے کے بجائے تادیبی سزا ہی دی جائے۔ (مختصر الطحاوی، ص ۲۶۲) 

فقہ حنفی کے اس کلاسیکی موقف کے تقابل میں متاخرین میں سے بہت سے حضرات کی رائے یہ ہے کہ چونکہ قتل سے کم تر تعزیری سزا سب وشتم کے جرم سے باز رکھنے میں زیادہ موثر نہیں، اس لیے تعزیر کے طور پر ایسے مجرم کو قتل ہی کی سزا دی جانی چاہیے۔ 

یہاں دو نکتے ملحوظ رہنے چاہییں:

ایک یہ کہ فقہ حنفی کے کلاسیکی مآخذ کی عبارات میں ذمی پر سزاے موت کے عدم نفاذ کا موقف بظاہر کسی قید کے بغیر بالکل مطلق انداز میں بیان کیا گیا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کسی حال میں بھی شاتم رسول کو سزاے موت نہیں دی جا سکتی۔ علامہ ابن نجیم نے علامہ عینی اور ابن الہمام کی طرف سے شاتم رسول کے لیے سزاے موت کے حق میں رجحان ظاہر کرنے پر جو تنقید کی ہے، اس سے بھی بظاہر اس تاثر کی تائید ہوتی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:

ان قول العینی واختیاری ان یقتل بسب النبی لا اصل لہ فی الروایۃ وکذا وقع لابن الہمام بحث ہنا خالف فیہ اہل المذہب وقد افاد العلامۃ قاسم فی فتاواہ انہ لا یعمل بابحاث شیخہ ابن الہمام المخالفۃ للمذہب نعم نفس المومن تمیل الی قول المخالف فی مسالۃ السب لکن اتباعنا للمذہب واجب وفی الحاوی القدسی ویودب الذمی ویعاقب علی سبہ دین الاسلام او النبی او القرآن (البحر الرائق ۵/۱۲۵)
’’علامہ عینی کا یہ کہنا کہ میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے پر ذمی کو قتل کیا جائے، حنفی مذہب میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔ اسی طرح ابن الہمام نے بھی یہاں ایک ایسی بحث کی ہے جس میں انھوں نے حنفی فقہا سے مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ علامہ قاسم بن قطلوبغا نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ ان کے استاذ علامہ ابن الہمام کی جو بحثیں حنفی مذہب کے مخالف ہوں، ان پر عمل نہ کیا جائے۔ ہاں، ایک مسلمان کا دل سب وشتم کے مسئلے میں مخالف قول کی طرف رجحان محسوس کرتا ہے، لیکن ہمارے لیے حنفی مذہب کی پیروی کرنا واجب ہے۔ حاوی قدسی میں ہے کہ دین اسلام یا قرآن یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے پر ذمی کو تادیب کے طور پر سزا دی جائے گی۔‘‘

تاہم علامہ شامی اور صاحب اعلاء السنن نے واضح کیا ہے کہ احناف کے موقف کو سزاے موت کی مطلقاً نفی پر محمول کرنا درست نہیں اور یہ کہ ان کے موقف کا اصل رخ سزاے موت کے امکان کی نفی کی طرف نہیں، بلکہ اسے ایک لازم وواجب سزا قرار دینے کی نفی کی طرف ہے۔ (مجموعہ رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۳، ۳۵۴۔ اعلاء السنن ۱۲/۵۰۵ تا ۵۱۴) 

بہرحال اتنی بات بالکل واضح ہے کہ حنفی فقہا کا اصل رجحان غیر مسلموں کو سزاے موت نہ دینے کی طرف ہے، جبکہ متاخرین کے ہاں ایسے مجرموں کو تعزیراً قتل کرنے کا رجحان عملی مصلحت کے تحت زیادہ نمایاں ہوا ہے۔

دوسرا نکتہ یہ سامنے رہنا چاہیے کہ متاخرین میں سے جو حضرات غیر مسلموں کے لیے تعزیری طور پر سزاے موت کے قائل ہیں، ان کا موقف بھی ہرگز یہ نہیں ہے کہ ایسے مجرم کو توبہ اور اصلاح کا موقع دینے کی کوئی گنجائش نہیں اور پہلی ہی مرتبہ اس جرم کا ارتکاب کرنے پر یا جرم کے ارتکاب کے بعد ندامت ظاہر کرنے کے باوجود اسے موت کی سزا دینا ضروری ہے۔ اس کے بالکل برعکس یہ حضرات اس کے قائل ہیں کہ ایسے مجرم کو سمجھا بجھا کر اس جرم کے ارتکاب سے باز رہنے کی تلقین کرنی چاہیے اور کسی شخص کو اسی وقت قتل کرنا چاہیے جب وہ اپنی روش بدلنے پر آمادہ نہ ہو۔ چنانچہ ابن الہمام لکھتے ہیں:

ہذا البحث منا یوجب انہ اذا استعلی علی المسلمین علی وجہ صار متمردا علیہم حل للامام قتلہ او یرجع الی الذل والصغار (فتح القدیر ۶/۶۲، ۶۳)
’’ہماری اس بحث کا تقاضا یہ ہے کہ اگر ذمی (سب وشتم کی صورت میں) مسلمانوں کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے ہوئے باغیانہ روش اختیار کر لے تو حکمرا ن کے لیے اسے قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، الا یہ کہ وہ دوبارہ ذلت اور پستی کی حالت قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔‘‘

ملا احمد جیون بھی اسی نقطہ نظر کے قائل ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:

والحق ان یکون فتوی اہل العلم فی زماننا علی ہذا اذ لیس فی التعزیر الذی قال ابو حنیفۃ تہدید بحسب ما کان ذلک فی القتل (التفسیرات الاحمدیہ، ص ۴۵۲)
’’حق بات یہ ہے کہ آج کے زمانے میں اہل علم کو اسی پر فتویٰ دینا چاہیے، کیونکہ امام ابوحنیفہ جو تعزیری سزا تجویز کرتے ہیں، وہ اس جرم سے روکنے میں اتنی موثر نہیں جتنی قتل کی سزا موثر ہے۔‘‘

لیکن اسی بحث میں انھوں نے تصریح کی ہے کہ ذمی کو علی الفور قتل کرنے کے بجائے اسے سمجھا بجھا کر اس طرز عمل سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ لکھتے ہیں:

ان من طعن فی الدین ای سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم یجب ان یذاکر معہ فان قبل الذمۃ وکتم ما اظہرہ یترک والا یقتل البتۃ (التفسیرات الاحمدیہ، ص ۴۵۳)
’’جو شخص دین میں طعن کرے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے، اس کے ساتھ بات چیت کرنا واجب ہے۔ اگر وہ دوبارہ عہد ذمہ قبول کر لے اور جن باتوں کا اظہار کرتا ہے، انھیں علانیہ کہنا چھوڑ دے تو اسے چھوڑ دیا جائے، ورنہ اسے لازماً قتل کر دیا جائے۔‘‘

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

من کان کافرا خبیث الاعتقاد وتجاہر بالشتم والالحاد ثم لما رای الحسام بادر الی الاسلام فلا ینبغی لمسلم التوقف فی قتلہ وان تاب لکن بشرط تکرر ذلک منہ وتجاہرہ بہ کما علمتہ مما نقلنا عن الحافظ ابن تیمیۃ عن اکثر الحنفیۃ ومما نقلناہ عن المفتی ابی السعود (رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۶)
’’جو شخص کافر ہو اور خبیث اعتقادات رکھتا ہو اور کھلم کھلا سب وشتم اور الحاد کی باتیں کرے، لیکن جب تلوار دکھائی دے تو فوراً اسلام کی طرف لپک پڑے، ایسے شخص قتل کو کرنے کے بارے میں کسی مسلمان کو توقف نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ توبہ کر لے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس نے یہ جرم بار بار اور لوگوں کے سامنے علانیہ کیا ہو، جیسا کہ ہم نے حافظ ابن تیمیہ کے حوالے سے اکثر احناف کا موقف اور اس کے علاوہ مفتی ابوالسعود کا فتویٰ نقل کیا ہے۔‘‘

۳۔ اگر کسی مسلمان سے سب وشتم کا جرم سرزد ہوجائے تو متقدمین ائمہ احناف کا متفقہ موقف یہ ہے کہ اس کا حکم وہی ہے جو کسی بھی مرتد کا ہوتا ہے، چنانچہ اس سے توبہ کے لیے کہا جائے گا اور اگر وہ توبہ کر لے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس بعض متاخرین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان سب وشتم کے ارتکاب کی وجہ سے مرتد ہو جائے تو اس کے لیے دنیوی قانون کے لحاظ سے توبہ کی کوئی گنجائش نہیں اور اس جرم کی پاداش میں اسے ہر حال میں قتل کر دینا لازم ہے۔ یہ موقف متاخرین میں سے بزازی، تمرتاشی، ابن ہمام اور ابن نجیم وغیرہ نے اختیار کیا ہے۔ 

اس نقطہ نظر کے حوالے سے علامہ ابن عابدین شامی نے اپنی تصنیف ’تنبیہ الولاۃ والحکام‘ میں پوری تحقیق کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ حنفی فقہ میں اس کی سرے سے کوئی بنیاد موجود نہیں اور یہ کہ یہ موقف اصل میں بزازی کے ہاں قاضی عیاض کی ’الشفاء‘ کی ایک عبارت کا بالکل غلط مطلب سمجھنے سے پیدا ہوا اور پھر بعد میں آنے والے بعض حضرات بزازی ہی کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے اسی موقف کو نقل کرتے چلے گئے۔ ’شرح عقود رسم المفتی‘ میں لکھتے ہیں:

قد نقل صاحب الفتاوی البزازیۃ انہ یجب قتلہ عندنا ولا تقبل توبتہ وان اسلم وعزا ذلک الی الشفاء للقاضی عیاض المالکی والصارم المسلول لابن تیمیۃ الحنبلی ثم جاء عامۃ من بعدہ وتابعہ علی ذلک وذکروہ فی کتبہم حتی خاتمۃ المحققین ابن الہمام وصاحب الدرر والغرر مع ان الذی فی الشفاء والصارم المسلول ان ذلک مذہب الشافعیۃ والحنابلۃ واحدی الروایتین عن الامام مالک مع الجزم بنقل قبول التوبۃ عندنا وہو المنقول فی کتب المذہب المتقدمۃ ککتاب الخراج لابی یوسف وشرح مختصر الامام الطحاوی والنتف وغیرہا من کتب المذہب (مجموعہ رسائل ابن عابدین ۱/۱۴)
’’فتاویٰ بزازیہ میں منقول ہے کہ ہمارے نزدیک اس کا قتل واجب ہے اور توبہ قابل قبول نہیں ہے، اگرچہ وہ اسلام قبول کر لے۔ صاحب بزازیہ نے یہ بات قاضی عیاض مالکی کی الشفاء اور ابن تیمیہ حنبلی کی الصارم المسلول کی طرف منسوب کی ہے۔ پھر بزازی کے بعد آنے والے اکثر حضرات نے، یہاں تک کہ خاتمۃ المحققین علامہ ابن الہمام اور الدرر والغرر کے مصنف نے بھی یہی بات اپنی کتابوں میں لکھ دی، حالانکہ الشفاء اور الصارم میں جو بات ہے، وہ یہ ہے کہ یہ شوافع اور حنابلہ کا مذہب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت ہے، جبکہ ہمارا (احناف کا) مذہب قطعیت کے ساتھ یہ نقل کیا ہے کہ ایسے شخص کی توبہ مقبول ہے اور یہی بات قدماء احناف کی کتابوں، مثلاً امام ابو یوسف کی کتاب الخراج، امام طحاوی کی مختصر کی شرح اور النتف وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔‘‘ 

یہاں یہ اہم نکتہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ بزازی، تمرتاشی، ابن ہمام اور ابن نجیم وغیرہ توبہ قبول کیے بغیر شاتم رسول کو قتل کرنے کا جو حکم بیان کرتے ہیں، اس کا تعلق صرف مسلمان سے ہے اور غیر مسلم شاتم رسول ان حضرات کے نزدیک اس کے دائرۂ اطلاق میں نہیں آتا، چنانچہ اہل ذمہ کے بارے میں یہ حضرات بھی، فقہ حنفی کے کلاسیکی موقف کے مطابق، اسی بات کی تصریح کرتے ہیں کہ سب وشتم کے ارتکاب پر معاہدۂ ذمہ نہیں ٹوٹتا اور چونکہ اہل ذمہ پہلے ہی کفر پر قائم ہیں، اس لیے سب وشتم کی صورت میں مزید کفر کے ارتکاب پر انھیں قتل نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طو رپر صاحب ’تنویر الابصار‘ علامہ تمرتاشی نے سب وشتم کے مرتکب مسلمان کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی توبہ کسی حال میں قبول نہیں اور اسے قتل کیا جائے گا (الدر المختار ۴/۲۳۲) جبکہ اہل ذمہ کے بارے میں لکھا ہے کہ سب وشتم سے ان کا معاہدہ ختم نہیں ہوتا، اس لیے انھیں قتل کرنے کے بجائے تادیبی سزا دی جائے گی:

ویودب الذمی ویعاقب علی سبہ دین الاسلام او القرآن والنبی صلی اللہ علیہ وسلم (الدر المختار ۴/۲۱۴)
’’دین اسلام یا قرآن یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے پر ذمی کو تادیب کے طور پر سزا دی جائے گی۔‘‘

اسی طرح علامہ ابن الہمام نے سب وشتم کی وجہ سے مرتد ہو جانے والے مسلمان کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں اور اسے ہر حال میں قتل کیا جائے گا (فتح القدیر ۶/۹۸) لیکن اہل ذمہ کے بارے میں ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ’حل للامام قتلہ او یرجع الی الذل والصغار‘، یعنی امام کے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہے، الا یہ کہ وہ اپنی روش سے باز آکر دوبارہ ذلت اور پستی کی حالت قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ اس سے واضح ہے کہ وہ توبہ کر لینے کی صورت میں ذمی کے قتل کو لازم نہیں سمجھتے۔ 

یہی معاملہ علامہ ابن نجیم کا ہے۔ انھوں نے سب وشتم کے مرتکب مسلمان کی توبہ کو ناقابل قبول اور مجرم کو ہر حال میں واجب القتل کہا ہے، (البحر الرائق ۵/۱۳۶) لیکن اہل ذمہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

ولا ینتقض عہدہ بالاباء عن الجزیۃ والزنا بمسلمۃ وقتل مسلم وسب النبی لان الغایۃ التی ینتہی بہا القتال التزام الجزیۃ (البحر الرائق ۵/۱۲۴)
’’ذمی اگر جزیہ دینے سے انکار کرے یا کسی مسلمان عورت کے ساتھ بدکاری کرے یا کسی مسلمان کو قتل کر دے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے تو اس سے اس کا معاہدہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ وہ غایت جس پر قتال رک جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ ذمی جزیہ ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لے۔‘‘

ابن نجیم نے اسی بحث میں عینی اور ابن الہمام کے اس قول پر تنقید کرتے ہوئے جس میں انھوں نے سب وشتم کے مرتکب ذمی کو قتل کرنے کو راجح قرار دیا ہے، اسے خلاف مذہب قرار دیا ہے۔ (ان کا متعلقہ اقتباس اوپر نقل کیا جا چکا ہے)۔

فقہاے احناف کے ہاں پائے جانے والے ان مختلف رجحانات کے تقابل اور موازنہ سے ایک بنیادی نکتہ یہ سامنے آتا ہے کہ بہت سے پہلووں سے زاویہ نظر کے اختلاف کے باوجود سب وشتم کے مرتکب غیر مسلم کے بارے میں ان کے ہاں اس بات پر قریب قریب اتفاق پایا جاتا ہے کہ اسے اس جرم پر اگر قتل کی سزا دی جائے گی تو دراصل سرکشی اور عناد کے رویے کی وجہ سے دی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں، جرم کے ارتکاب کے بعد ندامت محسوس کرنے اور توبہ ومعذرت کا راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے معافی کی گنجائش تسلیم کرنے پر فقہاے احناف قاطبۃً متفق ہیں اور مذکورہ مختلف رجحانات میں سے کسی بھی رجحان کی نمائندگی کرنے والے اہل علم کو اس پر اصرار نہیں ہے کہ غیر مسلم کو توبہ اور اصلاح کا موقع دیے بغیر نفس جرم کے ارتکاب پر قتل کر دینا ضروری ہے۔

معاصر تناظر میں اس مسئلے پر خامہ فرسائی کرنے والے بیشتر اہل قلم کے ہاں احناف اور جمہور فقہا کے موقف میں موافقت اور ہم آہنگی ثابت کرنے کے لیے ایک ایسا طرز استدلال دیکھنے کو ملتا ہے جس میں اس پوری تفصیل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طو رپر بعض حضرات متاخرین احناف مثلاً علامہ ابن الہمام وغیرہ کے ایسے فتوے نقل کر کے جن میں سب وشتم کے مرتکب ذمی کو تعزیراً قتل کرنے کو راجح قرار دیا گیا ہے، یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ فقہ حنفی کا اصل موقف ہے، حالانکہ خود ان حضرات کی تصریح کے مطابق ان کی یہ راے احناف کے روایتی موقف کی ترجمانی نہیں کرتی، بلکہ اس سے اختلاف پر مبنی ہے۔ مزید یہ کہ متاخرین میں سے یہ رائے اختیار کرنے والے حضرات اس کی بھی تصریح کرتے ہیں کہ سب وشتم کے ارتکاب پر ذمی کے لیے توبہ کی گنجائش موجود ہے اور مجرم کو اسی صورت میں قتل کیا جائے جب وہ تنبیہ وتادیب کے باوجود اپنی روش سے باز نہ آئے اور سرکشی اور عناد ہی کے رویے پر مصر رہے، جیسا کہ ابن الہمام، ابن عابدین اور ملا جیون کی تصریحات سے واضح ہے۔ 

اسی طرح بعض حضرات احناف اور جمہور کے موقف میں یکسانی دکھانے کے لیے بزازی اور ابن نجیم وغیرہ کی ایسی عبارات کا حوالہ دیتے ہیں جن کی رو سے سب وشتم کے مرتکب کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش نہیں، حالانکہ مذکورہ فقہا کا یہ موقف متقدمین ائمہ احناف کی تصریحات کے بالکل برعکس ہے۔ پھر یہ کہ بزازی وغیرہ کا یہ موقف سب وشتم کے مرتکب مسلمان کے بارے میں ہے نہ کہ غیر مسلم کے بارے میں، اس لیے توبہ کی گنجائش تسلیم نہ کرنے کو علی الاطلاق بیان کرنا اور غیر مسلم شاتم رسول کو بھی توبہ کا موقع دیے بغیر واجب القتل قرار دینا خود ان حضرات کے نقطہ نظر کی درست ترجمانی نہیں ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ ظلم علامہ شامی کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور ان کی تصانیف سے وہ جملے نقل کر کے جن میں انھوں نے بزازی وغیرہ کا موقف بیان کیا ہے، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علامہ شامی بھی سب وشتم کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش کے قائل نہیں، حالانکہ ابن عابدین نے رد المحتار اور تنبیہ الولاۃ والحکام میں جو بحث کی ہے، وہ سر تا سر اس نقطہ نظر کی تردید پر مبنی ہے۔

اسلامی غیرت وحمیت کا سوال

اب دوسرے اعتراض کو دیکھیے:

ہمارے نزدیک یہ اعتراض اس جذباتی انداز فکر کا ایک شاخسانہ ہے جس میں اس وقت مسلمانوں کے ’عوامی‘ راہ نماؤں نے انھیں مبتلا کر رکھا ہے اور جو انھیں اس پر برانگیختہ کرتا ہے کہ وہ دینی غیرت وحمیت کا اپنا ایک مخصوص مفہوم طے کریں اور دینی معاملات میں خالصتاً جذبات کو فیصلہ کن حیثیت دیتے ہوئے فقہ وشریعت کی تعبیر کے مسائل کو بھی اسی ذہنی رجحان کے تحت دیکھنا شروع کر دیں اور ایسا کرتے ہوئے خود اپنی تاریخ اور اپنی ہی مستند دینی وعلمی روایت کے ان تمام پہلووں کو نظر انداز کر دیں بلکہ بے غیرتی وبے حمیتی کا مظہر قرار دے دیں جو اس وقت کی ذہنی فضا میں لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔

اس طرز فکر کے حاملین سے ہماری صرف اتنی گزارش ہے کہ وہ تاریخ کے صرف ایسے واقعات کا حوالہ دینے کے بجائے جو بظاہر ان کے تصور غیرت وحمیت سے زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، درج ذیل واقعات کو بھی ملحوظ رکھیں اور غیرت وحمیت کے اس مفہوم کو دینی لحاظ سے حتمی اور معیاری سمجھنے کے بجائے جو انھوں نے اپنے ذہن میں طے کر رکھا ہے، اس معاملے کے حکیمانہ پہلووں کو بھی پورا وزن دیں۔ 

★ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں بیان ہوا ہے کہ ایک شخص کی لونڈی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی اور آپ کی توہین کیا کرتی تھی اور اپنے مالک کے منع کرنے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود اس سے باز نہیں آتی تھی۔ ایک دن اسی بات پر اس نے اشتعال میں آ کر اسے قتل کر دیا۔ (ابوداؤد، ۴۳۶۱) 

عمیر بن امیہ کی بہن نے، جو مشرک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں سب وشتم کو ایک مستقل روش بنا رکھا تھا اور اس کے اس رویے سے تنگ آ کر ایک دن عمیر نے اسے قتل کر دیا تھا۔ (طبرانی، مجمع الزوائد ۶/۲۶۰۔ ابن ابی عاصم، الدیات، ۱/۷۳) 

ان واقعات میں صحابہ نے پہلے مرحلے پر ان مجرموں کے خلاف قتل جیسا انتہائی اقدام کرنے کے بجائے ان کی حرکتوں کو نظر انداز کرنے اور سمجھا بجھا کر اس روش سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ کیا ناقدین اس طرز عمل کو دینی غیرت کے منافی قرار دیں گے؟ 

★  واقعہ افک میں عبد اللہ بن ابی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف تہمت طرازی کا جو طوفان کھڑا کیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس قدر اذیت ناک بن گیا کہ آپ کو لوگوں سے اپیل کرنا پڑی کہ وہ اس کے شر سے آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو بچائیں۔ اس موقع پر اوس کے سردار سعد بن معاذ نے عبد اللہ بن ابی کو قتل کرنے کی اجازت مانگی تو ابن ابی کے قبیلہ، بنو خزرج کے سردار سعد بن عبادہ سخت غصے میں آ گئے اور انھوں نے سعد بن معاذ سے کہا کہ ’’خدا کی قسم، تم اسے قتل نہیں کرو گے اور نہ تم میں اتنی ہمت ہے کہ اسے قتل کر سکو۔ اگر اس کا تعلق تمھارے قبیلے سے ہوتا تو تم کبھی اس کا قتل کیا جانا پسند نہ کرتے۔‘‘ (بخاری، ۳۹۱۰)

اس کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ ناقدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی محبت وعقیدت کے بارے میں کوئی سوال اٹھانے کی جسارت نہیں کریں گے۔

★  فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے افراد کے ساتھ ساتھ سیدنا عثمان کے رضاعی بھائی عبد اللہ بن ابی سرح کو عام معافی سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے اسے قتل کر دینے کا حکم دے دیا۔ تاہم سیدنا عثمان نے اسے اپنے پاس چھپا لیا اور حالات کے پر سکون ہونے پر اسے اپنے ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بے حد اصرار کر کے اس کے لیے معافی کا فیصلہ کروایا۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۵/۶۹، ۷۰۔ الصارم المسلول، ص ۱۰۸)

اگر دینی حمیت کے اسی تصور کو معیار سمجھا جائے جو ناقدین بیان کر رہے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر مبہم اعلان کے باوجود سیدنا عثمان کی طرف سے ابن ابی سرح کو اپنے پاس چھپانے، پناہ دینے اور پھر اصرار کر کے اسے معافی دلوانے کے اس عمل کی کیا توجیہ کیا جائے گی؟ 

★  سیدنا معاویہ کی مجلس میں ابن یامین نضری نے کہا کہ اسے بد عہدی کرتے ہوئے قتل کیا گیا تھا، لیکن سیدنا معاویہ نے اس بیان پر ابن یامین کا کوئی مواخذہ نہیں کیا، بلکہ محمد بن مسلمہ کے احتجاج کے باوجود، جو اسی مجلس میں موجود تھے، ابن یامین پر سزاے موت نافذ کرنا تو کجا، کوئی تادیبی اقدام تک نہیں کیا۔ (بیہقی، دلائل النبوۃ ۳/۱۹۳)

روایت میں سیدنا معاویہ کے اس طرز عمل کی وجہ بیان نہیں ہوئی، لیکن یقینی طور پر ان کے پیش نظر اس کی کوئی نہ کوئی دینی مصلحت تھی۔ اب اگر ناقدین کے تصور حمیت کو معیار مانا جائے تو کیا اس واقعے سے سیدنا معاویہ کے دین وایمان کے بارے میں اس سے مختلف کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے جو مثال کے طور پر اہل تشیع کرتے ہیں؟

★  خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سامنے مالک بن نویرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر استخفاف آمیز اندازمیں کیا تو خالد بن ولید نے کسی توقف کے بغیر اسے وہیں قتل کروا دیا۔ تاہم ان کے اس اقدام پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے سخت اعتراض کیا، سیدنا عمر نے سیدنا ابوبکر سے سفارش کی کہ خالد کو معزول کر دیا جائے، جبکہ خود سیدنا ابوبکر نے مالک بن نویرہ کے بھائی کو اس کی دیت ادا کی۔ (ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ ۶/۳۲۲)

غور طلب بات یہ ہے کہ مروجہ تصورات کے مطابق خالد بن ولید کا فیصلہ دینی غیرت وحمیت سے زیادہ ہم آہنگ بلکہ اس کا عین تقاضا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے اس غیرت مندانہ اقدام پر تین اکابر صحابہ ان سے نالاں ہوئے اور ان کے فیصلے کا قانونی جواز تسلیم کرنے کے بجائے مقتول کی دیت ادا کی گئی؟

★  سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک موقع پر یہودی عالم فنحاص کے پاس بیٹھے تھے کہ اس نے صدقہ اور زکوٰۃ کے حکم کے تناظر میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ہمارا محتاج ہے جبکہ ہم اس سے بے نیاز ہیں۔ سیدنا ابوبکر نے غصے میں آ کر فنحاص کے چہرے پر زور سے تھپڑ رسید کیا اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن، اگر ہمارے اور تمھارے مابین معاہدہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۂ آل عمران، آیت ۱۸۱)

عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک نصرانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر دی تو عرفہ نے زور سے مکہ مار کر اس کی ناک توڑ دی۔ معاملہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے عرفہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے۔ عرفہ نے کہا کہ اس بات سے اللہ کی پناہ کہ ہم نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کھلم کھلا گستاخی کی اجازت دینے پر معاہدہ کیا ہو۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۱۸۴۹۰۔ طبرانی، المعجم الکبیر ۱۸/۲۶۱)

سوال یہ ہے کہ اگر اللہ اور اس کے رسول کے گستاخوں کے خلاف عملی اقدام میں کسی قانونی اور فقہی نکتے کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ’ہر چہ بادا باد‘ کا رویہ ہی غیرت ایمانی کا معیار ہے تو سب وشتم کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے میں معاہدے کو مانع تصو رکرنے والے ان جلیل القدر صحابہ کی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عقیدت ومحبت اور دینی غیرت وحمیت کا درجہ کیا متعین کیا جائے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ توہین رسالت کا مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اتنا نازک ہے کہ اسے محض جذباتی زاویے سے دیکھنا کسی بھی اعتبار سے شرعی حکمتوں اور مصلحتوں کے قرین نہیں۔ اسلام کی دعوت، مسلمان معاشرے کی داخلی تشکیل اور اس کی دینی واخلاقی ساکھ اور دین وملت کے اجتماعی مصالح سے اس مسئلے کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ جذبات کی سطح پر مسلمان اس پر جو بھی رد عمل اپنے دل میں محسوس کرتے ہوں، قانون اور سیاسی پالیسی کی سطح پر اس معاملے میں بہرحال حکیمانہ طرز عمل ہی اختیار کرنا ناگزیر ہے، اس لیے کہ قانون اور سیاست، دونوں کی اپنی عملی تحدیدات، ضروریات اور تقاضے ہیں جنھیں کم سے کم امت کے اہل علم ودانش اور فقہا نظر انداز نہیں کر سکتے۔ علامہ قاسم بن قطلوبغا نے اسی نکتے کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ اگرچہ سب وشتم کے مسئلے میں ایک مسلمان کا دل اسی طرف میلان محسوس کرتا ہے کہ مجرم کو قتل کر دیا جائے، لیکن ہمارے لیے حنفی مذہب کی پیروی واجب ہے۔ بعض لوگ ان کی اس بات کو فقہی تعصب کی مثال کے طو رپر پیش کرتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اس کا درست محل یہ ہے کہ حنفی نقطہ نظر چونکہ قانون کی سطح پر شارع کے منشا کی زیادہ درست ترجمانی کرتا اور قانونی سوالات ومشکلات کا زیادہ قابل عمل جواب فراہم کرتا ہے، اس لیے جذباتی سطح پر ایک مسلمان کے احساسات کچھ بھی ہوں، تعبیر قانون کے دائرے میں اسی راے کی پابندی لازم ہے۔

مغربی مفادات کی تائید

اب اس ضمن کے آخری اعتراض کا جائزہ لیجیے:

اس میں شبہ نہیں کہ اہل مغرب اور ہمارے ہاں ان کے انداز فکر سے متاثر سیکولر حلقے، جو ملک کے سیاسی اور قانونی ڈھانچے کو مغربی طرز پر استوار دیکھنے کے خواہش مند ہیں، اپنے مخصوص تصورات کے تحت پاکستان میں اسلامی قانون سازی کے عمل سے ناخوش ہیں اور ان کی طرف سے ان قوانین کے خاتمے کے لیے مسلسل دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔ جہاں تک سیکولر حلقوں کے اس نقطہ نظر کا تعلق ہے کہ ملک کے اجتماعی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور یہ کہ توہین رسالت پر سزا جیسے قوانین چونکہ ریاست اور قانون کے اس مذہبی تشخص کو مستحکم کرتے ہیں، اس لیے ان کو کتاب قانون سے مٹا دینا چاہیے تو ہم اپنی اصل تحریر میں دوٹوک الفاظ میں واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان جیسے مسلم اکثریتی معاشرے میں اس نقطہ نظر کو کسی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے لکھا ہے:

’’ممکن ہے اہل مغرب اپنے سیکولر زاویہ نگاہ کے تحت یہ مطالبہ کرنے میں اپنے آپ کو فی الواقع حق بجانب سمجھتے ہوں کہ کوئی ریاست قانونی دائرے میں مذہبی شعائر اور شخصیات کے ساتھ کسی وابستگی کا اظہار نہ کرے، لیکن ایک اسلامی ریاست کے لیے ایسے کسی مطالبے کو تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں جو ریاست کے مذہبی تشخص کے حوالے سے اسلام کی واضح ہدایات کو پامال کرتا ہو۔ قرآن مجید کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ وہ مذہب کو صرف انفرادی معاملات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ مسلمانوں کے معاشرے کو سماجی، قانونی اور سیاسی، ہر سطح پر اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے رنگ میں رنگا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو خدا اور اس کے رسولوں کے ساتھ اعتقادی وجذباتی وابستگی اور ان کی حرمت وناموس کی حفاظت محض ایک مسلمان کے انفرادی ایمان واعتقاد کا مسئلہ نہیں، بلکہ نظم اجتماعی کی سطح پر مسلمانوں کے معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے اور جو چیزیں اسلامی ریاست کو ایک مخصوص نظریاتی تشخص اور امتیاز عطا کرتی ہیں، ان میں اسلامی حدود وشعائر کا تحفظ اور ان کی بے حرمتی کا سدباب بھی شامل ہے۔ چنانچہ یہ بات اسلامی ریاست کا ایک بنیادی فریضہ قرار پاتی ہے کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت وناموس اور مسلمانوں کی مذہبی غیرت وحمیت کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے پوری طرح چوکنا رہے اور قانون کی سطح پر اس نوعیت کے اقدامات کے سدباب کا پورا پورا اہتمام کرے۔ ‘‘

ہم نے توہین رسالت کے مسئلے کے حوالے سے جو کچھ عرض کیا ہے، اس کا بنیادی نکتہ سیکولر حلقوں کے مذکورہ زاویہ نظر کی تائید نہیں، بلکہ اس جرم کی شرعی سزا کے حوالے سے مختلف فقہی نقطہ ہائے نظر کی شرح ووضاحت اور ان میں سے احناف کے نقطہ نظر کی علمی ترجیح کو واضح کرنا ہے جو توہین رسالت کے مجرم پر پہلے ہی مرحلے میں سزاے موت نافذ کرنے کے بجائے اسے توبہ واصلاح کا موقع دینے اور عام حالات میں موت سے کم تر تعزیری سزا دینے کے قائل ہیں۔ اس تناظر میں ناقدین کا یہ اعتراض کہ ہماری اٹھائی ہوئی بحث مغربی زاویہ نظر یا مفاد کی تائید کرتی ہے، ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے، یعنی یہ کہ اسلامی قانون کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے مختلف نقطہ ہاے نظر پر غور وخوض اور علمی بحث ومباحثہ میں فیصلہ کن حیثیت مسلمانوں کی علمی وفقہی روایت کے داخلی اصولوں اور ضروریات وترجیحات کو حاصل ہے یا مغرب کے مطالبات کے جواب میں ایک مصنوعی طور پر فرض کیے گئے ’’متفقہ موقف‘‘ کے اظہار کو؟ دوسرے لفظوں میں اگر فقہ وشریعت کے داخلی اصولوں اور دلائل کی روشنی میں یہ واضح ہو جائے کہ کسی مخصوص مجرم کو ایک محدود دائرے میں رعایت دینا شارع کا منشا ہے یا کم از کم شارع کے منشا کے خلاف نہیں ہے تو آیا اس پہلو کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جائے گا کہ اہل مغرب اس جرم پر سرے سے سزا ہی کو ختم کر دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں؟ 

اس طرز فکر کے مضمرات کو ایک مثال سے واضح کرنا مناسب ہوگا۔

قرآن مجید نے قتل عمد کی صورت میں قصاص کو فرض قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ مقتول کے ورثا کی طرف سے دیت پر رضامند ہو جانے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ قاتل کے لیے معافی کی گنجائش ہے، بلکہ اس نے خود ورثا کو ترغیب دی ہے کہ وہ عفو ودرگزر سے کام لیتے ہوئے دیت قبول کر لیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف قانونی اور تکنیکی وجوہ کے تحت قاتل کے لیے رعایت کی بہت سی صورتیں کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ یہی معاملہ چور کے لیے قطع ید اور شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا ہے اور فقہ اسلامی میں ایسے مجرموں کو مختلف صورتوں میں قطع ید اور رجم کی سزا سے مستثنیٰ قرار دے کر کم تر تعزیری سزا دینے کی رعایت نہ صرف ثابت ہے بلکہ ایسی رعایت تلاش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

اسلامی شریعت کے ان تمام احکام پر اس وقت اہل مغرب کو اعتراض ہے۔ مغربی قانونی فکر نہ صرف یہ کہ ہاتھ کاٹنے اور سنگ سار کرنے کو سنگ دلانہ اور وحشیانہ سزائیں قرار دیتی ہے، بلکہ بڑی حد تک کسی بھی جرم پر سزاے موت دینے کو سرے سے ناجائز تصور کرتی ہے اور اہل مغرب کی طرف سے مسلمان معاشروں سے بھی یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں ان سزاؤں کو کتاب قانون سے خارج کر دیں۔ اب زیر بحث طرز فکر کی رو سے اہل مغرب کے اس مطالبے کا جواب یہ بنتا ہے کہ چونکہ اہل مغرب قطع ید اور موت کی سزا کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس لیے ہم قاتل اور شادی شدہ زانی پر ہر حال میں سزاے موت جبکہ چوری کے مجرم پر ہر صورت میں قطع ید کی سزا نافذ کریں گے اور فقہ وشریعت کی روشنی میں ان مجرموں کو رعایت دینے کی کتنی ہی گنجائش کیوں نہ ہو، اہل مغرب کے سامنے ایک بے لچک موقف اختیار کرنے کے شوق میں ہم کسی مجرم کو کوئی رعایت نہیں دیں گے۔ ؂

بریں عقل ودانش بباید گریست

واقعہ یہ ہے کہ مذہبی حلقوں کا یہ جذباتی اور سطحی انداز فکر اسلامی قانون سازی کے عمل کو تقویت پہنچانے اور اسے آگے بڑھانے کے بجائے الٹا اسے نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے، کیونکہ اسلامی قانون سازی کے مخالف حلقوں کی طرف سے اپنے موقف کے حق میں استدلال کے طور پر جہاں اصولی اور نظریاتی دلائل پیش کیے جاتے ہیں، وہاں موجودہ قوانین میں پائے جانے والے بعض نقائص اور خامیاں اور قوانین کے غلط استعمال کی مثالیں بھی ایک کارآمد ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس نوعیت کے اعتراضات کے حوالے سے مذہبی حلقوں کا رویہ نہ صرف یہ کہ سنجیدہ نہیں بلکہ غیر حکیمانہ بھی ہے جس سے نہ صرف ان قوانین کے متعلق بلکہ مذہبی جماعتوں کے متعلق بھی منفی تاثرات جنم لیتے ہیں۔ 

یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ ملک میں جو اسلامی قوانین نافذ ہیں، وہ بہرحال انسانی کاوش ہیں اور ان میں نہ صرف تعبیر قانون کے زاویے سے بلکہ عملی تجربات کے لحاظ سے بھی نقائص رہ جانے کا پورا امکان پایا جاتا ہے۔ چنانچہ شرعی وفقہی اصولوں اور عملی تجربات کی روشنی میں ان کا مسلسل جائزہ لیتے رہنے اور انھیں بہتر سے بہتر بنانے کی گنجائش بلکہ ضرورت بھی پوری طرح موجود ہے۔ تاہم عملاً یہ ہو رہا ہے کہ مذہبی حلقے اسلامی قوانین کے نفاذ کے بعد اس پہلو سے بالکل صرف نظر کرتے چلے آ رہے ہیں جبکہ ان قوانین کے حوالے سے پیدا ہونے والے عملی مسائل کو اجاگر کرنے اور پھر انھیں اسلامائزیشن کے پورے عمل کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرنے کی ذمہ داری سیکولر طبقات نے سنبھال رکھی ہے۔ مذہبی طبقات اس سارے عمل میں صرف اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب کسی قانون کے ضمن میں کوئی عملی اقدام کیا جانے لگتا ہے اور چونکہ میدان اصلاً مخالف عناصر نے سجایا ہوتا ہے، اس لیے کئی مواقع پر غیر جانب دارانہ نظر سے صورت حال کا مشاہدہ کرنے والے کو صاف محسوس ہوتا ہے کہ مذہبی حلقے اپنی دفاعی پوزیشن کی کمزوری کو اقدامی طاقت میں بدلنے کے لیے عوامی جذبات اور رائے عامہ کی طاقت کا سہارا لینے کی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بظاہر متعلقہ قوانین کو ’’بچانے‘‘ میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن قانون کے حوالے سے جو واقعی نظری یا عملی سوالات موجود ہوتے ہیں، وہ جوں کا توں باقی رہتے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں حدود قوانین میں ترمیم کی ضرورت کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں بحث ومباحثہ کا میدان سجایا گیا تو مذہبی حلقوں نے ابتدا میں سارا زور یہ ثابت کرنے پر صرف کیا کہ یہ قوانین اعلیٰ سطحی اسلامی ماہرین نے بہت گہرے غور وفکر اور مشاورت کے بعد بنائے ہیں اور ان میں جو خلا یا نقائص بتائے جاتے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں، اس لیے ان میں کسی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم آخرکار خود علما کی ایک کمیٹی نے ان میں سے بعض قوانین کو شرعی لحاظ سے قابل اصلاح تسلیم کرتے ہوئے خود ان میں ترمیم کے لیے تجاویز پیش کیں۔ اس سارے عمل سے ذہنوں میں ایک سوال تو یہ پیدا ہوا کہ اگر قانون میں یہ خامیاں موجود تھیں تو گزشتہ تیس سال میں مذہبی حلقوں نے ان کی اصلاح کے لیے کوشش کیوں نہیں کی اور ہر موقع پر یہ اصرار کیوں کیا جاتا رہا کہ ان قوانین کو چھیڑنا حدود اللہ اور احکام شرعیہ میں مداخلت کے ہم معنی ہے؟ دوسرا تاثر یہ پیدا ہوا کہ مذہبی طبقات کا رویہ شرعی قانون سازی کے حوالے سے خالص علمی اور شرعی وفقہی بنیادوں کے بجائے سیاسی مصلحتوں اور مفادات پر استوار ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اگر ان کی کوششوں سے کوئی ایسا قانون بن گیا ہے جو شرعاً قابل اصلاح ہے تو بھی اس کی اصلاح وترمیم کے ضمن میں کسی دوسرے فرد یا حلقے کو بات کرنے کا کوئی حق نہیں اور یہ حق بلاشرکت غیرے مذہبی حلقوں ہی کے لیے خاص ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے شرعی قانون سازی کا سارا عمل بنیادی طو رپر ایک سیاسی اور طبقاتی کشمکش کا رنگ اختیار کر کے اپنی اخلاقی اور دینی ساکھ سے محروم ہو جاتا ہے۔

شرعی قوانین اور بالخصوص توہین رسالت کے قانون کے غلط اور غیر ذمہ دارانہ استعمال کی بات بھی نہایت توجہ کے قابل ہے اور اگرچہ الزامی طور پر یہ بات کہہ دینے کی گنجائش موجود ہے کہ غلط استعمال تو ہر قانون کا ہو رہا ہے، تاہم مذہبی طبقات کی طرف سے مثبت طور پر اس کی روک تھام کے لیے جس قدر کوشش کی ضرورت ہے، اس کی ادنیٰ خواہش بھی ان کے ہاں دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے نتیجے میں غیر مسلم اقلیتیں، جو اصولی طورپر توہین رسالت پر سخت سزا کے قانون کے خلاف نہیں اور ان کے اعلیٰ سطحی ذمہ دار راہ نما اپنا یہ موقف برملا ظاہر کر چکے ہیں، جب کسی مشکل سے دوچار ہوتی ہیں تو انھیں اپنے حق میں آواز اٹھانے کے لیے مذہبی راہ نما اور علما نہیں، بلکہ غیر مذہبی قائدین ہی میسر آتے ہیں۔ مظلوم غیر مسلموں کا ساتھ دینا تو دور کی بات ہے، اگر خود مسلمانوں کے مذہبی فرقوں کے مابین کہیں تصادم ہو جائے تو کسی بھی فریق کے ذمہ دار قائدین اور اعلیٰ سطحی راہ نماؤں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے حلقے کے اختیار کردہ طرز عمل کے بارے میں تحفظات یا اعتراضات رکھتے ہوئے بھی عوامی جذبات سے مختلف کوئی بات علانیہ کہہ سکیں۔ اس ضمن میں ان کی عملی مجبوریوں سے انکار نہیں، لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ مذہبی قیادت کو درپیش اس داخلی مشکل سے مسیحی راہ نماؤں کے اس سوال کا کوئی جواب بہرحال فراہم نہیں ہوتا کہ اگر مسلمانوں کے مذہبی راہ نما خود اپنے پیروکاروں کے طرز عمل کو حدود کا پابند رکھنے کی عملی ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو وہ مسیحی اقلیت سے یہ مطالبہ کس منہ سے کرتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سیکولر لابیوں کی مہم کو تقویت پہنچانے کے بجائے اپنا وزن اسلام پسندوں کے پلڑے میں ڈال دیں؟

ہماری رائے میں یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک وملت کے اجتماعی معاملات میں عملی کردار ادا کرنے والے مذہبی طبقات محض جذباتیت کو فروغ دینے اور اس کے سہارے وقتی نوعیت کے سیاسی اقدامات کرنے کے بجائے اپنی دینی واخلاقی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے سنجیدگی کا راستہ اختیار کریں اور مذہب اور اہل مذہب کے اجتماعی کردار کو مفید، مثبت اور موثر بنانے کے لیے اپنی موجودہ حکمت عملی کا گہرا ناقدانہ جائزہ لے کر اس کی اصلاح کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔ ہمارے نزدیک اس ضمن میں حسب ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:

۱۔ ملک میں نافذ اسلامی قوانین کے حوالے سے علمی وفقہی سطح پر یا عملی تجربات کی روشنی میں جو مختلف توجہ طلب سوالات سامنے آتے رہتے ہیں، ان کا جائزہ لینے کے لیے تمام دینی جماعتوں کے نمائندہ علما پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی قائم کر دی جائے جو اس طرح کے مسائل پر تسلسل کے ساتھ غور وفکر کرتی رہے۔ مذہبی جماعتیں اس کمیٹی کے پیش کردہ تجزیوں کی روشنی میں، مخالف عناصر کی طرف سے کسی مہم کا انتظار کرنے کے بجائے، ازخود اصلاح طلب پہلووں کے بارے میں ذمہ دارانہ موقف اختیار کریں اور آئینی وقانونی اداروں کی سطح پر مطلوبہ تبدیلی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

۲۔ توہین رسالت سے متعلق حالیہ قانون چند بنیادی اور اہم پہلووں سے نظر ثانی کا محتاج ہے، اس لیے جید اور ذمہ دار علما کی راہ نمائی میں مذہبی جماعتیں درج ذیل امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک ترمیم شدہ اور جامع مسودۂ قانون پارلیمنٹ میں پیش کریں: 

الف۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شہریت کے لیے اسلام اور پیغمبر اسلام کے احترام کو بنیادی شرط قرار دیا جائے اور کوئی بھی شخص جو اپنے قول وفعل سے اس شرط کی دانستہ خلاف ورزی کرے، اس کے حقوق شہریت منسوخ کر دیے جائیں۔

ب۔ توہین رسالت کا جرم کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، بلکہ پورے مسلمان معاشرے اور ریاست کے خلاف جرم ہے، اس لیے اس میں قانونی طو رپر مدعی بھی کسی فرد کو نہیں، بلکہ ریاست کو ہونا چاہیے، جبکہ عام لوگوں کا کردار ایسے کسی بھی معاملے کو محض قانون کے نوٹس میں لانے تک محدود ہونا چاہیے۔

ج۔ مجرم سے پہلی مرتبہ جرم سرزد ہوا ہو تو اسے توبہ، معذرت اور معافی کا موقع دیا جائے، البتہ جرم کے مکرر ارتکاب کی صورت میں قرائن وشواہد سے یہ واضح ہو جائے کہ مجرم صرف دفع الوقتی کے لیے معذرت کا سہارا لے رہا ہے جبکہ حقیقی طور پر اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ نہیں تو اس کی توبہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے۔

د۔ جرم کی نوعیت اور اثرات کے لحاظ سے سزاے موت کے ساتھ ساتھ متبادل اور کم تر سزاؤں کی گنجائش بھی قانون میں شامل کی جائے، جبکہ موت کی سزا کو اس جرم کی انتہائی سزا قرار دیتے ہوئے اسی صورت میں نافذ کیا جائے جب جرم کے سد باب اور اس کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لیے یہی سزا ناگزیر ہو۔

ہ۔ اگر توہین رسالت کا الزام جھوٹا ثابت ہو تو الزام لگانے والے کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ شخصی اور گروہی وطبقاتی نزاعات میں اس الزام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

۳۔ ہر شہر میں تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علما اور مقامی طور پر بااثر سماجی وسیاسی شخصیات پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی قائم کی جائے جو کسی بھی مسلمان یا غیر مسلم کے خلاف توہین رسالت کا الزام سامنے آنے کی صورت میں اپنے اجتماعی اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی گروہ عوامی جذبات کو بھڑکا کر انھیں قانون کو ہاتھ میں لینے یا پولیس اور عدالت پر دباؤ ڈال کر ان کی جانب داری کو مشکوک بنانے کی کوشش نہ کر سکے۔*

ہذا ما عندی والعلم عند اللہ۔


حواشی

* اس کی ایک اچھی مثال حال ہی میں گوجرانوالہ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں سامنے آئی۔ کھوکھرکی کے علاقے میں، جہاں مسیحی لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں، قرآن مجید کے اوراق جلائے جانے کے الزام میں کچھ مسیحیوں کا نام لے کر ان کے خلاف احتجاجی جلوس منظم کیے گئے جس پر علاقے کی مسیحی آبادی میں خوف وہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ اپنے مکانات چھوڑ کر چلے گئے۔ تاہم شہری انتظامیہ نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ الزام غلط ہے اور ملزموں کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس ضمن میں شہر کے تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علما کی میٹنگ طلب کر کے انھیں صورت حال سے آگاہ کیا گیا تو علما نے کم وبیش اتفاق رائے سے اس حرکت کی مذمت کی اور انتظامیہ پر زور دیا کہ جب الزام کا جھوٹا ہونا معلوم ہو گیا ہے تو بے گناہ مسیحیوں کو تنگ نہ کیا جائے اور اس کے بجائے اصل ذمہ داروں کو تلاش کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

آراء و افکار