ہیپا ٹائٹس ۔ کل اور آج

حکیم محمد عمران مغل

کل کی چیونٹی کو آج کا مست ہاتھی کیونکر بنا دیا گیا؟ اصل بات یہ ہے کہ جن معالجین نے علم کی روح کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، ان کے نزدیک یہ مست ہاتھی آج بھی محض ایک چیونٹی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ پرانے اطبا نے بیماریوں کے بحر ظلمات میں نہ صرف گھوڑے دوڑائے بلکہ حیران کن ریکارڈ بھی قائم کیے۔ تاریخ میں ایسے سیکڑوں واقعات درج ہیں۔

ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ جناب ریٹائرڈ جسٹس الیاس قادری صاحب نے روزنامہ نوائے وقت میں اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جب انھیں عدلیہ میں ملازمت ملی تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ ایک دن یرقان نے انھیں آن گھیرا۔ ضابطہ کی کارروائی مکمل کر کے فی الفور تین ماہ کے لیے اسپتال داخل کر دیا گیا۔ دوسرے دن حسب معمول دوست احباب ملنے آئے تو پتہ چلا کہ جسٹس صاحب کو تو اسپتال داخل کر دیا گیا ہے اور کم از کم تین ماہ کا کورس پورا کرنا ہے۔ دوست سیدھے اسپتال پہنچے اور جسٹس صاحب سے کہنے لگے کہ آپ کو کس نے کہا کہ تین ماہ تک اسپتال میں ایڑیاں رگڑیں؟ ہمارے علم میں اس وقت ایک فرشتہ سیرت حکیم صاحب ہیں، وہ چند دنوں میں آپ کا علاج کر دیں گے۔ جسٹس صاحب نے فرمایا کہ میرا معالج، میری رہائش، خور ونوش اور میری ملازمت سب سرکاری ہیں اور میں سرتاپا سرکار کی تحویل میں ہوں۔ آپ کی کسی خواہش کی تکمیل میرے بس میں نہیں۔ دوستوں نے ایک نہ سنی اور زبردستی اسپتال سے اٹھا لائے۔ 

لوہاری دروازہ میں حکیم شیخ محمد حسین کا شہرہ چار دانگ عالم میں پھیلا ہوا تھا۔ تشخیص اور تجویز ان کی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی تھی۔ دو چار منٹ نبض دیکھی اور باتیں کیں۔ حکیم صاحب نے کہا کہ تین چار دن میں اللہ کے فضل سے یرقان نیست ونابود ہو جائے گا، آپ نے ضرور تین ماہ انتظار کرنا ہے؟ چوتھے دن جسٹس صاحب بھلے چنگے ہوئے۔ خوشی خوشی ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ میری باقی چھٹی ختم کر کے مجھے نوکری پر بھیجا جائے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تین چار دن میں یرقان کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ ایک تو آپ سرکاری ملازم، پھر بغیر پوچھے اسپتال سے باہر جا کر کسی حکیم سے علاج کرا آئے ہیں۔ پھر آپ کا دعویٰ کہ آپ بالکل ٹھیک ہوگئے ہیں۔ یہ سب غلط ہے۔ میں کسی حکیم یا حکمت کو نہیں مانتا۔ دوستوں نے صورت حال دیکھی تو فوراً حکیم صاحب سے ایک مفصل تصدیق لکھوا کر ساتھ ہی ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ جج صاحب نے فوری طور پر طرفین کو بلایا۔ ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ کا مریض تین چار دن میں ٹھیک ہو گیا ہے۔ معالج کا حلفیہ بیان بھی مسلک ہے۔ آپ مریض کا تین ماہ مزید علاج کرنے پر کیوں بضد ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے مجلس کو بغور دیکھا، کچھ باتیں کیں، مگر حکیم صاحب نے ایک نہ چلنے دی۔ جج صاحب نے دیکھاکہ ڈاکٹر صاحب آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ حکیم صاحب کی طرف سے زیر بحث نکتہ یہ ہے کہ آپ یرقان کی تعریف بھی نہیں کر سکتے۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے بھری مجلس میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی۔

میں نے اخبار میں یہ مضمون پڑھ کر شیخ محمد حسین صاحب مرحوم کے خاندان کو ڈھونڈ نکالا۔ ان کے ایک پوتے حکیم جاوید شیخ راوی روڈ لاہور پر مطب کرتے ہیں۔ علیک سلیک کے بعد نسخے پر بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ عام سی گولیاں ہیں۔ اصل نسخہ شربت بزوری معتدل ہی ہے۔ عوام کو بے وقوف بنا کر یرقان کی پانچ اقسام بنا دی گئی ہیں او رہیپا ٹائٹس کا ہوا کھڑا کر دیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے انجکشن کا کورس پورا کیا ہے، ان میں سے کچھ کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہو گئی ہے۔

قارئین کے سامنے مختصر نسخہ عرض کرتا ہوں کہ ابتدا یہاں سے کریں۔ ساری زندگی پانی ابال کر لازماً مٹی کے برتن میں رکھیں اور پئیں۔ سکندر اعظم کی فوج میں براہ راست کنویں، دریا اور چشمے سے پانی لا کر پینا قانوناً جرم تھا۔ چین کے لوگ ہمیشہ نیم گرم پانی پیتے ہیں، اسی لیے میں نے جس مریضہ کا علاج کیا تھا، اسے ٹھنڈے پانی اور ٹھنڈی ہوا سے بچا کر رکھا تھا۔ سر سے پاؤں تک پسینے میں شرابور کر کے پیچش، کھانسی اور بخار چڑھایا۔ اس کے جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے کے لیے کئی جتن کیے۔ اللہ نے میری کوشش کو کامیاب کیا۔ فیثاغورث نے کہا تھا کہ مجھے پانی یا مشروب پینے کے لیے کھلے منہ کا برتن، چمڑے کا جوتا اور کھانے کے لیے موٹا آٹا ملتا رہے تو میں زمین پر بیٹھ کر آسمان کے سارے حالات بتا سکتا ہوں۔ آج کل جتنے رنگین مشروبات استعمال ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں قرشی دواخانہ کے ہر دل عزیز ڈاکٹر جنجوعہ صاحب سے پوچھ لیں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ ہمیں روزانہ کتنا زہر پلایا جا رہا ہے۔ کبھی کھڑے کھڑے پانی نہ پئیں۔ اس سے جگر آناً فاناً کمزور ہو جاتا ہے اور انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ اسی لیے حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے۔

اوپر جتنی باتیں کہی گئی ہیں، ہر بات کی تفصیل کے لیے کئی صفحات درکار ہیں۔ اگر اللہ نے آپ کو بصیرت عطا کی ہے تو ان باتوں کو سمجھ لینے سے صحت کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ بہت سے احباب نے نسخہ جات کے لیے فرمایا ہے۔ یاد رکھیں ہر نسخہ ہر مریض پر کام نہیں کرتا۔ پھر بھی ایک نسخہ عرض کرتا ہوں جو ان شاء اللہ ہر مریض پر کارگر ہوگا۔

جب ہیپا ٹائٹس یعنی یرقان کاحملہ ہو جائے تو بند پیکٹ کی کوئی چیز ہرگز استعمال نہ کریں، ورنہ کینسر کا شدید حملہ ہو سکتا ہے۔ حملے کے بعد عرق مکوہ اور عرق کاسنی آدھا آدھا کپ ملا کر دن میں تین بار پئیں۔ انار یا شربت انار، املی آلو بخارے کا شربت، کنو، مالٹا، سنگترہ جو میسر ہو، استعمال میں لائیں۔ ساری زندگی پانی ابال کر پینے والے کو یہ تکلیف نہیں ہوگی۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ بازاری شربت اور بوتلیں گردوں کو کاٹ کر رکھ دیتی ہیں، اس لیے کہ تمام رنگین اشیا کا رنگ گردے میں پتھری کا باعث بنتا ہے۔ گردے اس رنگ کو چھانٹ لیتے ہیں۔

امراض و علاج

(جون ۲۰۱۱ء)

جون ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۶

تلاش

Flag Counter