اُسامہ

خورشید احمد ندیم

یہ خبر نہیں، اداسی کی ا یک لہر تھی جس نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔پہلا ردِ عمل ایک جملہ تھا: اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ایک دنیامدت سے موت بن کراُس کی تلاش میں تھی۔ تورہ بورہ کا مقتل، افغانستان کے صحرا، پاکستان کی وادیاں، کہاں کہاں اُس کا پیچھا نہیں کیا گیا۔لیکن اسے کب اور کہاں مر ناہے، یہ صرف عالم کا پروردگار جانتا تھا۔اِس کی خبرتو اس نے پیغمبروں کو بھی نہیں دی۔ وہ وقت آیا تو اسامہ کو مو ت کے حوا لے کر دیا گیا۔ لا ریب، ہم سب کو مرنا ہے اور ہم سب کو اپنے رب کی طرف لو ٹنا ہے۔

موت کسی کی بھی ،مجھے اداس کر دیتی ہے۔ اِس مو ت کی اداسی مگر دوگنا تھی۔ ایک اس کا رنج کہ ایک مسلمان مارا گیا۔ دوسرا اس کا دکھ کہ ایسے عزم اور حو صلے والا، اگر اپنی صلاحیتوں کو اس امت کی فلاح کے لیے صرف کر دیتا تو اس زمین کے کتنے صحراؤں کو گلزار بنا سکتا تھا۔ جس نے امریکا کو چیلنج کیا، اگر پہلے ہمارے افلاس کو مخاطب بنا تا توہم اغیار کی دریوزہ گری سے نکل آتے۔ اگر ہماری جہالت کو اپنا ہدف بناتا تو دنیا طلب علم کے لیے واشنگٹن اور کیمبرج کے بجائے کابل اور اسلام آ باد کا رخ کر تی۔ جب ہم علم اور ما دی وسائل میں خود کفیل ہو تے توغلامی کی زنجیریں ٹو ٹتیں۔ ہم اپنے فیصلے خود کر تے اور ہمارے شہر قتل گاہوں میں تبدیل نہ ہو تے۔ جو امریکا کے خلاف جہاد کے لیے ایک ولولہ تازہ دے سکتا تھا، وہ جہالت ا ور غربت کے خلاف جہاد کے لیے بھی مجاہدین کے لشکر تیا رکر سکتا تھا۔ کاش ایسا ہو سکتا۔ صرف افغانستان ہی اگر تعمیر کا نمو نہ بن جاتا تو ہم دنیا کو دکھاتے کہ مسلمان کس طرح ایک نئی دنیا کی تعمیر کا سلیقہ رکھتے ہیں۔صد افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔ میرے لیے یہ ایک مسلمان بھائی کی موت ہی نہیں، ایک ایسے حو صلے کی بھی موت ہے جو بد قسمتی سے مسلمانوں اور دنیا کے لیے تباہی کا پیغام بن گیا۔

اسا مہ رخصت ہو ئے۔اب ان کا معا ملہ ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ لیکن وہ ہمارے لیے بہت سے سوال چھوڑ گئے، ہمیں جن کے جواب تلاش کر نے ہیں۔ یہ سوال ہیں کیا؟

  • عہدِ حاضر میں اگر مسلمانوں کو وقار کے ساتھ جینا ہے تواس کی حکمتِ عملی کیا ہو نی چا ہیے؟
  • علم کے بغیر، جس کا ایک مظہر سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت ہے، کیا کو ئی معر کہ سر کیا جا سکتا ہے؟
  • اگر امریکا بطور عالمی قوت ختم ہو جا ئے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ ہمارے لیے کو ئی نیا سامراج وجود میں نہیں آئے گا؟
  • اس دور میں جارح کے خلاف جنگ کیا محض جذبے کے ساتھ جیتی جا سکتی ہے جب کہ وسائل میں غیر معمولی فرق ہو؟
  • اس عسکریت پسندی نے ہمیں کیا دیا؟ مسلمان ملکوں کو مقتل بنانے میں اس سوچ کا کتنا دخل ہے اور کیا یہ کو ئی کامیابی ہے؟
  • اگر اس مہم جو ئی کے نتیجے میں ایک مسلمان بھی بے گناہ مارا گیا تو اس کی جان کا وبال کس کے سر ہے؟ کیا ہمارے پاس کو ئی ایسا جواب مو جود ہے جو ہم اپنے رب کے حضور میں پیش کر سکیں؟
  • ۱۱/۹ کے بعد مسلمانوں کا کتنا نقصان ہوا ہے اور امریکا کا کتنا؟
  • کیا القاعدہ اور بلیک واٹر کی سر گرمیوں کے مابین کوئی واضح حدِ فاصل تلاش کی جا سکتی ہے؟تحریک طالبان پاکستان کیا ہے؟ القاعدہ، بلیک واٹر یا ایک واہمہ؟
  • کیا ہم کسی دوسری ایسی مزاحمتی تحریک کا تصور کر سکتے ہیں جس کی بنیاد مسلمان معا شروں کی تعمیر ہو اور جس میں خسارہ نہ ہو نے کے برابر ہو، تاہم اس کے نتیجے میں ہم اغیار کے اثرو رسو خ کا خاتمہ کر سکیں؟

ہم نہیں جا نتے کتنے باعزم اور حو صلے والے جوان اب بھی اس راستے پر چل رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں انہیں امریکی وحشت اور بربریت سے بچا نا ہے۔ اس کے ساتھ ان کی صلاحیتوں کو امت کے لیے مفید بنانا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان سوالات پر غور کیا جائے اور ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں ہمارے قیمتی لوگ محفوظ رہیں اور ہم ان کی صلاحیتوں سے بہتر فائدہ اٹھاسکیں۔

مجھے دکھ اس کا بھی ہے کہ ایک مسلمان کی جا ن ہی نہیں گئی، اس کے ساتھ ہمارے اس اعتبار کا جنازہ بھی اٹھ گیا جو ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے دنیا میں ہماری پہچان ہو نا چا ہیے تھا۔ ہم بر سوں سے ساری دنیا کو یہ کہتے رہے کہ اسامہ یا ان سے متعلق لوگ پاکستان میں نہیں ہیں۔ اب ایک تو امریکیوں نے اسامہ کو ہماری سر زمین سے تلاش کر لیا اور دوسرا یہ کہ ہماری مکمل لا علمی میں انہوں نے عین ہماری ناک کے نیچے ایک آ پر یشن کیا اور ہم بے خبر رہے۔ جب امریکی یہ آپریشن کر رہے تھے، ہماری فوج کے سپریم کمانڈر اور صدر مملکت سیاسی جو ڑ توڑ میں مصروف تھے جب کہ ہمارے سپہ سالار بھی اسی سیاسی قضیے میں کسی دوسرے کا دکھڑا سن رہے تھے۔ اب ایک طرف عالمی برادری میں ہمارا وقار شکوک کی زد میں ہے اور دوسری طرف بیرونی جا رحیت سے محفوظ رکھنے کی ریاستی صلاحیت کے بارے میں بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ یہ معمولی صدمہ نہیں اور اس سے میرے دکھ میں تشویش بھی شامل ہو گئی ہے۔

زندہ افراد کی نشانی یہ ہے کہ وہ حادثات سے سیکھتے ہیں۔ یہ جو کچھ ہوا ،نہ تو اچانک ہوا اور نہ ہی یہ غیر متوقع تھا۔ اس کالم میں بار ہا اس کی طرف تو جہ دلا ئی جاتی رہی۔مجھے یہ زعم نہیں کہ پالیسی ساز اس کالم سے کو ئی راہنمائی لیتے ہیں اور نہ ہی کسی کو زبر دستی مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ ہم جیسے لوگ تو تاریخ کے سامنے اپنی گواہی پیش کر دیتے ہیں۔یہ رب کے حضور میں ہماری معذرت ہو گی کہ ہم نے جو سمجھا ،اس کے مطابق لوگوں کو خبر دار کر دیا اور یوں بساط بھر ’انذار ‘ کا فریضہ سر انجام دیا۔آج ایک بار پھر میں نے یہ اپنا دکھ ریاست کے ذمہ دار ان اور فکرِ اسامہ کے متاثرین کے سامنے رکھ دیاہے۔یہ ایک عجیب کیفیت کا اظہار ہے جب دکھ اور تشویش باہم گلے مل رہے ہیں۔ دکھ اس کا کہ اسامہ جیسا حو صلہ مند ایک فکری غلطی کی نذر ہو گیا اور تشویش اس کی کہ عالمی سطح پر ہمارے وقار کا کیا ہوگا۔اگر ہمارے اربابِ حل وعقد اور احیائے امت کے علمبرداروں نے اب بھی اپنی سوچ پر نظر ثانی نہ کی تو اس امت کا کیا بنے گا؟ اھدنا الصراط المستقیم!

(بشکریہ روزنامہ اوصاف)

حالات و واقعات