شخصیت پرستی اور مشیخیت کے دینی و اخلاقی مفاسد

مولانا محمد عیسٰی منصوری

علماء کرام کا ایک بنیادی کام عوام کے ذوق و سوچ و فکر کی نگہداشت بھی ہے کہ دین کے کسی شعبہ میں غلو نہ پیدا ہونے پائے، دین کا ہر کام پورے توازن و اعتدال سے جاری و ساری رہے اور ملت اسلامیہ ذہنی و فکری طور پر جادۂ اعتدال سے ہٹنے نہ پائے۔ اس کی خاطر علماء کرام کو ہر دور میں بڑے حزم و احتیاط سے کام لینا پڑا۔ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کا شجرہ بیعت رضوان کو کٹوا دینا یا حجر اسود کے سامنے اعلان فرمانا کہ : ’’تو ایک پتھر ہے، نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان‘‘ اسی حزم و احتیاط کا نمونہ تھا۔ 

اورنگ زیب عالمگیرؒ، جنہیں عصرحاضر کے عظیم عالم و مفکر شیخ طنطاوی نے چھٹا خلیفہ راشد کہا ہے اور اقبالؒ نے ’’ترکش مارا خدنگ آخرین‘‘، وہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے انتہائی عقیدت مند تھے بلکہ بعض نے عالمگیر ؒ کو حضرت خواجہ معصوم ؒ کا مرید لکھا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے پوتوں تک سے ایسی عقیدت و تعلق تھا کہ گولکنڈہ کی فتح کے بعد وہاں کے حکمران شاہ کی بیٹیوں میں ایک کی شادی اپنے صاحبزادے سے اور دوسرے کی حضرت مجدد ؒ کے پوتے سے کرتے ہیں۔ عالمگیر کو جو کتب نہایت عزیز تھیں، ان میں ’’مکتوبات مجدد‘‘ اور ’’دیوان حافظ‘‘ شامل تھیں جو ان کے سرہانے رکھی رہتی تھیں، مگر ایک وقت میں عالمگیر ؒ نے اورنگ آباد کے حاکم کو فرمان لکھ بھیجا کہ ان دونوں کتب کے پڑھنے پڑھانے سے لوگوں کو حکماً روک دیا جائے کہ ان کے بعض مضامین عوام کی سطح سے بالاتر ہیں۔ 

’’ارواح ثلاثہ ‘‘ میں حضرت گنگوہی ؒ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے:

’’حکایت: (۲۹۷) خاں صاحب قبلہ نے فرمایا کہ : ایک مرتبہ حضرت گنگوہیؒ دیوبند سے واپسی میں سہارنپور سے رامپور تشریف لے جارہے تھے ( اور غالباً حضرت پھر دیوبند نہیں تشریف لے جا سکے)۔ اگلی گاڑی میں حضرت مولانا اور حکیم ضیاء الدین صاحب تھے اور پچھلی گاڑی میں، میں اورمولوی مسعود احمد صاحب۔ حضرت نے گاڑی کے پیچھے کا پردہ اٹھا کر مجھ سے باتیں کرنی چاہیں، مگر چونکہ گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے بات چیت مشکل تھی، اس لیے میں گاڑی سے اتر کر اور حضرت کی گاڑی کا ڈنڈا پکڑ کر ساتھ ساتھ ہو لیا۔ حضرت نے فرمایا: ’’میاں امیر شاہ خاں! ابتدا سے اور اس وقت تک جس قدر ضرر دین کو صوفیہ سے پہنچا ہے، اتنا کسی اور فرقہ سے نہیں پہنچا۔ ان سے روایت کے ذریعے بھی دین کو ضرر ہوا اور عقائد کے لحاظ سے بھی اور اعمال کے لحاظ سے بھی اور خیالات کے لحاظ سے بھی‘‘۔

اس کے بعد اس کی قدرے تفصیل فرمائی اور فرمایا کہ : 

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت روحانی کی یہ حالت تھی کہ بڑے سے بڑے کافر کو ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہتے ہی مرتبہ احسان حاصل ہو جاتا تھا جس کی ایک نظیر یہ ہے کہ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم پاخانہ ، پیشاب وغیرہ کیسے کریں اور حق تعالیٰ کے سامنے ننگے کیونکر ہوں؟ یہ انتہا ہے۔ اور ان کو مجاہدات وریاضات کی ضرورت نہ ہوتی تھی اور یہ قوت بہ فیض نبوی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ میں تھی، مگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کم اور تابعینؒ میں بھی تھی مگر صحابہ سے کم، لیکن تبع تابعین میں یہ قوت بہت ہی کم ہو گئی اور اس کمی کی تلافی کے لیے بزرگوں نے مجاہدات اور ریاضات ایجاد کیے۔ ایک زمانہ تک تو محض وسائل غیر مقصودہ کے درجہ میں رہے، مگرجوں جوں خیر القرون کو بعد ہوتا گیا، ان میں مقصودیت کی شان پیدا ہوتی رہی اور وقتاً فوقتاً ان میں اضافہ بھی ہوتا رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین میں بے حد بدعات علمی وعملی اور اعتقادی داخل ہو گئیں۔ محققین صوفیہ نے ان خرابیوں کی اصلاح بھی کی، مگر اس کا نتیجہ صرف اتنا ہوا کہ ان بدعات میں کچھ کمی ہو گئی، لیکن بالکل ازالہ نہ ہوا‘‘۔ 

حضرت نے مصلحین میں شیخ عبدالقادر جیلانی اور شیخ شہاب الدین سہروردی اور مجدد الف ثانی اور سید احمد قدست اسرارہم کانام خصوصیت سے لیا اور فرمایا کہ ’’ ان حضرات نے بہت اصلاحیں کی ہیں، مگر خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا‘‘۔ (حکایات اولیاء، المعروف بہ ارواح ثلاثہ ، ص ۲۹۷ تا ۲۹۹، حکایت نمبر : ۲۹۷) 

یاد رہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے بعد گزشتہ دو سو سال میں امام ربانی حضرت گنگوہی ؒ جیسی جامع ومحقق کوئی ہستی نظر نہیں آتی۔ حضرت گنگوہی ، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب، حضرت تھانوی ، حضرت مدنی، حضرت مولانا الیاس صاحب رحمہم اللہ سمیت تقریباً ہمارے پورے ہی حلقے کے شیخ ورہبر ہیں اورآپ کا یہ ملفوظ زندگی کے آخری دنوں کا ہے، گویا پوری زندگی کے تجربات کا خلاصہ ہے۔ حضرت گنگوہی ؒ نے بڑی گہری بات فرمائی ہے۔ جس کی تصوف تاریخ پر وسیع نظر ہو، وہ حضرت کی بصیرت کی گہرائی کو سمجھ سکے گا۔ حضرت امام ربانیؒ نے چند جملوں میں گویا پوری تاریخ کا عطروخلاصہ بیان فرمادیا ہے۔ 

تصوف کے بے شمار سلسلے، خلاف شریعت اور باطل محض رہے ہیں، جیسے مداری، روشنی ، حلولی، حلاجی، قلندری ، ملامتی وغیرہ وغیرہ اور صحیح سلسلوں میں بھی بعد والوں کی ذرا سی بے احتیاطی یا غلو سے بے شمار خرابیاں اور بگاڑ پیدا ہوئے۔ دور کیوں جائیے، برصغیر میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے لے کر تمام اکابر اولیا ء اپنے اپنے زمانہ کے صحیح اہل حق ہی تو تھے۔ ا نہوں نے ساری زندگی شریعت کی اتباع اور مخلوق کو اللہ سے ملانے میں گزاری، مگر آج تقریباً سب ہی آستانے ومزارات شرک وبدعات کے گڑھ بنے ہوئے ہیں۔ تصوف میں جب بھی بگاڑ وفساد آیا، کسی شخصیت کے ساتھ عقیدت میں غلو کے نتیجہ میں آیا۔ اکثر بزرگان دین اور اولیا ء کبار کی کچھ پشتوں کے بعد ان کے جانشینوں نے ان کی تعظیم میں غلو کر کے ان کی ہستی کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیا کہ اب تا قیامت انہیں روزی کے لیے پسینہ بہانے ومحنت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ خواجہ کے نام پر حرام خوری کرنی ہے۔ 

حضرت مجدد الف ثانی ؒ سے بڑھ کر بدعات ورسوم وخرافات اور شیعیت کے خلاف کس نے لکھا ہوگا؟ مگر تیسری پشت ہی میں ان کی اولاد کے متعدد بزرگ دعوے دار تھے کہ وہی آج کے ’’قیوم‘‘ ہیں، زمین وآسمان انھی کے سروں پر قائم ہیں۔ ’’روضۃ القیومیۃ‘‘ جیسی کتاب اٹھا کردیکھیں ! قیوم کی تعریف وصفات میں صفحے کے صفحے بھرے پڑے ہیں، ساری الوہی وخدائی صفات’’قیوم‘‘ کو حاصل ہیں۔ قیومیت کا منصب کیا ہے ؟ اس کی توضیح وتشریح احسان مجددی نے اپنی کتاب ’’روضۃ القیومیۃ‘‘ میں کی ہے جو سلسلہ مجددیہ کے مطابق قیوم رابع کے خلیفہ تھے۔ لکھتے ہیں:

’’ قیوم اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ماتحت اسماء وصفات، شؤنات، اعتبارات اور اصول ہوں اور تمام گزشتہ وآئندہ مخلوقات کے عالم موجودات، انسان وحوش، پرند ونباتات، پھر ذی روح، پتھر ودرخت، بحر وبر ہر شے، عرش وکرسی، لوح وقلم، سیارہ، ثواقب، سورج، چاند، آسمان بروج سب کے اس کے سایہ میں ہوں۔ افلاک وبروج کی حرکت وسکون، سمندر کی لہروں کی حرکت، درختوں کے پتوں کا ہلنا، بارش کے قطروں کا گرنا، پھلوں کا پکنا، پرندوں کا چونچ پھیلانا، دن رات کا پیدا ہونا، گردش کنندہ آسمان کی موافق وناموافق رفتار، یہ سب کچھ اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ بارش کا ایک قطرہ بھی ایسا نہیں جو اس کی اطلاع کے بغیر گرتا ہو، زمین کی حرکت وسکون اس کی مرضی کے بغیر نہیں‘‘۔ (۱؍ ۹۴) 

بس پڑھتے جائیں! یہ سب عقیدت میں غلو کی کارستانی ہی تو ہے۔ یہ ساری خرابیاں تعظیم میں غلو اور اعجوبہ پسندی کی ذہنیت سے پیدا ہوئیں، اس لیے عوام کی ذہنیت کی نگہداشت علماء کرام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک بار حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحبؒ نے فرمایا:

’’ جو اللہ کو اس کی ظاہری قدرت سے پہچانے گا ( جسے قرآن نے جگہ جگہ بیان کیا ہے)، مردہ زمین کو زندہ کرنا، جہازوں کا سمندر میں چلانا، آسمان کا بغیر ستون کے قائم کرنا وغیرہ وغیرہ، اس کا ایمان پہاڑوں جیسا مضبوط ہوگا اور جو عجوبہ پسندی (کشف وکرامات) کے دل دادہ ہوں گے، وہ سب دجال کے چیلے بن جائیں گے کہ دجال اس قسم کے سارے عجوبے وخارق چیزیں لے کر آئے گا، حتی کہ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے گا تو زمین کا ایک جھٹکا ( زلزلہ) مدینہ منورہ میں مقیم اس قسم کے ۷۰؍ ہزار عاشقان رسول کو دجال کی گود میں پھینک دے گا اور وہ سب دجال کے چیلے بن جائیں گے۔ ‘‘ 

اس لیے علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے ذہنوں کو اس طرح کے تماشوں کے بجائے عملی کاموں کی طرف لانے کی سعی کریں۔ دین کے دیگر شعبوں مثلاً تعلیم وتعلم، دعوت وتبلیغ وغیرہ میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، مگر ان کا نقصان تصوف کے نقصان سے بہت کم ہوتا ہے، کیوں کہ تصوف کا بگاڑ براہ راست شرک وبدعات پر منتج ہو تاہے۔ دنیا میں جتنی بدعات ہیں، سب نیک نیتی اور اچھے جذبات سے شروع ہوتی ہیں جیسے شیخ کے انتقال پر ان کی تعلیمات وطریقہ کی حفاظت کے لیے ان کے وفات کے دن خلفا ومتعلقین کا جمع ہونا، یا اگر کہیں لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے اور جمعہ آیا تو کسی نے کہا کہ چونکہ یہ پڑھ نہیں سکتے، اس لیے ایک شخص سورہ کہف جہراً پڑھ لے تو باقی سب کو سننے کا ثواب مل جائے گا یا ایصال ثواب کی رسوم وغیرہ۔ 

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلویؒ کے بعد ہمارے اکابرین کا اصل مشغلہ تو تعلیم وتعلم، دعوت وتبلیغ، تزکیہ واصلاح، تصنیف وتالیف وغیرہ تھا، لیکن خدا سے تعلق بڑھانے، اللہ کی طرف متوجہ رہنے اور کمال اخلاص کے حصول کے لیے ضمناً ساتھ ساتھ ذکر وفکر بھی تھا۔ ان اکابرین کا اوڑھنا بچھونا علم دین خصوصاً علم حدیث وفقہ تھا، سیرت واحوال صحابہؓ پر گہری نظر تھی، اس لیے اگر تصوف کی راہ سے کوئی غیر شرعی ، رسمی یا عجمی شے آتی تو فوراً کٹ جاتی تھی، مگر علوم حقیقی کے زوال کے زمانہ میں اگر گہری نگہداشت نہ کی گئی تو خاموشی سے بظاہر بے ضرر نظر آنے والی رسوم داخل ہو کر اپنی جگہ بنالیں گی، پھر ان کا ازالہ مشکل ہو جائے گا۔

بندہ نے مولانایوسف متالا صاحب کو ایک ملاقات میں کہا تھا کہ : پیر تو پیر ہوتا ہے، دیوبندی یا بریلوی میں اب فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم بھی غیر شعوری طور پر اسی راہ پر چل پڑے ہیں۔ اپنی پسندیدہ شخصیات کے بارے میں غلو وعقیدت کا اس طرح مظاہرہ ہونے لگا ہے کہ علما بھی، جن سے توقع ہوتی ہے کہ وہ حزم واحتیاط ، توازن واعتدال کو قائم رکھتے ہوئے عوام کو عقیدت کے سطحی مظاہروں سے ہٹا کر عملی امور کی طرف متوجہ کریں گے، وہ بھی عوام کے ریلے میں بہہ جاتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے، اگر یہ رخ چل پڑا تو ہر شخص’’ کھیڑا لو باپو‘‘ بننے کی سعی کرے گا جس کا دعویٰ تھا کہ ہر بیماری وپریشانی سے نجات کے لیے اس کی پھونک اتنے میل تک جاتی ہے۔ جب وہ کسی علاقے میں آتا تو وہاں کی مساجد کے حوض پانی سے خالی ہو جاتے تھے۔

بندہ کو اپنی ۶۶ سالہ زندگی میں ہند و بیرون ہند کے بہت سے بزرگوں اور اکابر اولیا کی زیارت نصیب ہوئی۔ اکثر بزرگوں کو قریب سے دیکھا اور ان کی خدمت میں کئی کئی دن رہنا نصیب ہوا، جیسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب، حضرت جی مولانا محمد یوسف صاحب، حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب، حضرت شاہ وصی اللہ صاحب الہ آبادی ، حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب، حضرت مولانا منظورنعمانی، حضرت مولانا علی میاں صاحب، حضرت مولانا صدیق صاحب باندوی، حضرت مولانا عبدالحلیم جونپوری (رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) وغیرہ۔ ان اکابرین کے دوروں کے مواقع پر اس طرح کی ہنگامہ خیزی اور بعض دوستوں کے الفاظ میں’’ مرجعیت ومقبولیت ‘‘ کہیں نہیں دیکھی جس کا مظاہرہ آج کل کے بعض پیران کرام کی آمد کے موقع پر ہوتا ہے۔ گجرات میں ان بزرگوں کے دورے بھی نظر کے سامنے ہیں۔ حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ نے گجرات کے مدرسوں کا سفر فرمایا تھا۔ محض اساتذہ کرام اور طلبہ ہوتے تھے۔ حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ کی متعدد تقریریں سورت کے ’’ نگین چند ہال‘‘ میں سنیں۔ مشکل سے ۴؍۵ سوا فراد ہوتے تھے۔ اسی طرح حضرت مولانا صدیق باندوی،حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب، حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی (رحمہم اللہ تعالیٰ) وغیرہ کے دوروں پر بھی یہی کیفیت ہوتی تھی۔ حضرت جی کے دوروں کے مواقع پر عالمی اجتماعات میں تو لاکھوں کا مجمع ہوتا تھا، مگر شہروں اور بستیوں میں سیکڑوں یا زیادہ سے زیادہ ہزاروں کی تعداد ہوتی۔ 

حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ کی ایک نہایت قیمتی نصیحت یاد آتی ہے۔ فرمایا: مولوی صاحب! دو: راستے ہیں۔ ایک شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کا ، دوسرا شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ کا۔ ایک میں عوام کی حفاظت ہے، دوسرے میں خواص کی منفعت ۔ آپ میزان کر لیں کہ دونوں میں کیا عزیز ہے، عوام کی حفاظت یا خواص کی منفعت؟

اس زمانہ میں ایک بے اعتدالی جو کچھ عرصہ سے ہم دیوبندیوں میں بھی بڑھ رہی ہے، وہ یہ کہ ہم اسلام کو اپنے بزرگوں کے حوالے سے پیش کررہے ہیں، جب کہ اسلام جب بھی پیش کیا جائے گا، قرآن وسنت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ کرامؓ کے حوالے سے پیش کیاجائے گا، نہ کہ حضرت شاہ وصی اللہ صاحب، حضرت مولانا مسیح اللہ صاحب، حضرت شیخ الحدیث صاحب اور دوسرے اکابر کے حوالے سے، جیسا کہ ساؤتھ افریقہ والوں نے انٹر نیٹ پر اپنے اپنے بزرگوں کے معمولات، کشف وکرامات واحوال کی بھرمار کر رکھی ہے۔ اکابرین کے معمولات اور طریقہ کار یقیناًبہت اچھے اور مفید ہیں، مگر پوری امت اس کی مکلف نہیں۔ اگر کسی بزرگ نے اپنے تجربات اورا جتہاد کی روشنی میں دین کی تین باتوں یا چھ باتوں کو محور بتاکر ان پر زور دیا تویقیناًیہ ان کا حق ہے، مگر عوام الناس کے سامنے ہمیشہ قرآن وسنت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے حوالے سے ہی اسلام کو پیش کیاجائے گا، نہ کہ بزرگوں کے ذوقی نکات کے حوالے سے۔ خاص طور پر تصوف کا مسئلہ بہت ہی نازک ہے۔ تصوف کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ تصوف چاہے جہاں سے چلے، چند پشتوں کے بعد اس کا مآل (انجام) وہی ہوتا ہے جو اکابر اولیا ء اللہ کے مزارات پر نظر آتا ہے کہ جب ٹھوس علم نہ رہے تو آہستہ آہستہ عقیدت میں غلو پیدا ہوکر بدعات ورسوم ، دین بن جاتی ہیں۔ 

برصغیر کے مسلم فاتحین کی اکثریت نو مسلم تھی اور اسلامی زندگی سے ناآشنا، خاص طور پر مغلوں کا دور دینی اعتبار سے بڑا ہی منحوس اور نامبارک ثابت ہوا۔ مغل حکمران ہمایوں کے دور حکومت سے لے کر آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے عہد تک تقریباً تین سو سال کے طویل عرصہ میں مسلم معاشرہ پر شیعیت کی زبردست یلغاررہی۔ حکومتی عہدے دار، علوم، نصاب تعلیم اور سب سے بڑھ کر تقیہ بردار شیعی شیوخِ تصوف کی خانقاہوں کے ذریعے سے (خواجہ اجمیری ؒ کے خلفا میں کئی شیعہ تھے) مسلم عوام کے ذہنی استحصال کے نتیجے میں امت مسلمہ کے عوام وخواص کے دلوں میں قرآنی احکام وہدایات اورحدیث وسنت کی اہمیت کم ہوتے ہوتے تقریباً معدوم ہوگئی تھی اور اس کی جگہ اولیا ء کرام اور بزرگان دین کے بے سند قصص وحکایات اور ملفوظات نے لے لی تھی۔ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ لکھتے ہیں کہ :

’’ مسلمانوں پر ایک ایسا وقت بھی آیا جب وہ اس تاریخ سے بے گانہ ہو کر اس کو فراموش کر بیٹھے۔ ہمارے اہل وعظ وارشاد اور اہل قلم ومصنفین نے اپنی تمام تر توجہ اولیاء متاخرین کے واقعات اور ارباب زہد ومشیخیت کی حکایات بیا ن کرنے پر صرف کردی اور لوگ بھی اس پر ایسے فریفتہ ہوئے کہ وعظ وارشاد کی مجالس، درس وتدریس کے حلقے اوراس دور کی ساری تصانیف اور کتابیں ان ہی واقعات سے بھر گئیں اور سارا علمی سرمایہ صوفیاء کرام کے احوال وکرامات کی نذر ہو گیا‘‘۔ ( مقدمہ حیاۃ الصحابہ اردو ، ۱؍۲۰) 

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی ، اس کی مجموعی صورت حال کا نقشہ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے یوں کھینچا ہے:

’’سلطنت مغلیہ کاآفتاب لب بام تھا، مسلمانوں میں رسوم وبدعات کا زور تھا، جھوٹے فقرا ء اور نام ونہاد مشایخ اپنے اپنے بزرگوں کی خانقاہو ں میں مسند بچھائے اور اپنے بزرگوں کے مزاروں پر چراغ جلائے بیٹھے تھے، مدرسوں کا گوشہ گوشہ منطق وحکمت کے ہنگاموں سے پر شور تھا، فقہ وفتاویٰ کی لفظی پرستش ہر مفتی کے پیش نظرتھی، تحقیق وتدقیق مذہب کا سب سے بڑا جرم تھا، عوام تو عوام، خواص تک قرآن پاک کے معانی، مطالب اور احادیث کے احکام وارشادات اور فقہ دین سے بے خبر تھے‘‘۔ (مقالات سلیمانی، ص ۴۴)

آج جس قدر قرآن وسنت کا چرچا ہے، اسی طرح عجمی تصوف سے نبوی تزکیہ واحسان کی طرف توجہ مبذول ہونا بھی سب حضرت شاہ ولی اللہ ؒ اورآپ کے خانوادہ ؒ کی برکت ہے۔ شاہ ولی اللہ ؒ کے والد محترم شاہ عبدالرحیم ؒ اور چچا شیخ محمد رضا ؒ دونوں اہل طریقت میں تھے۔ معاصر تذکروں اور ’’روضۃ القیومیۃ‘‘ میں ان کا تذکرہ مشایخ تصوف کے ضمن میں ہوا ہے نہ کہ علماء کی صف میں۔ ایسی صورت میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی تصوف سے غیر معمولی دلچسپی کوئی تعجب خیزبات نہیں۔ شاہ ولی اللہ کو تصوف کی اہمیت اور اس کی ضرورت کا بھی احساس تھا اور اس میں شامل عجمی افکار اور شیعیت کے باطل نظریات کی زہرناکی سے بھی پوری طرح آگاہ تھے، چنانچہ آپ نے عہد زوال کے تصوف کی، جو اسلامی احسا ن وتزکیہ کی بگڑی ہوئی شکل تھی، اصلاح کی پوری کوشش فرمائی۔ بعد کے دور میں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے تصوف کے متعلق تفصیلی کتب لکھ کر شاہ ولی اللہ ؒ کے کام کو آگے بڑھایا اور شاہ ولی اللہ ؒ کے نقطۂ نظر کی وضاحت وترجمانی فرمائی اور یہی کام ہر دور میں علماء کرام کو کرنا ہوگا۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے اپنے وصیت نامہ میں تیسری وصیت یہ فرمائی کہ:

’’اس زمانہ کے مشایخ جو طرح طرح کی بدعتوں میں مبتلا ہیں، ان سے بیعت ہرگز نہ کریں۔ ایسے لوگوں کی بیعت ممنوع ہے۔ اس سلسلہ میں عوام الناس کے غلو عقیدت کی پروا نہ کریں، نہ ان سے وابستہ کرامات کے و اقعات پر یقین کریں، کیوں کہ اکثر عوام الناس میں غلوِ عقیدت محض رسمی ہوتا ہے اور امور رسمیہ کاحقیقت میں کوئی اعتبار نہیں ہوتا‘‘۔ ( رود کوثر ، ص۵۸۰)

مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن ندویؒ نے اپنی کتاب’’ تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی تحریک کا خلاصہ سات نکات میں بیان فرمایا ہے جس میں سب سے اہم ابتدائی دو نکات ہیں۔ ایک اصلاح عقائد ودعوت قرآن اور دوسرا حدیث وسنت کی اشاعت وترویج۔ شاہ ولی اللہ ؒ اوران کے خانوادے کی برکت سے قرآن وسنت، سیرت وفقہ، تزکیہ واحسان، دعوت وجہاد کے شعبے زندہ ہوئے۔ حضرت سید احمد شہیدؒ کے ایک سفر حج میں لاکھوں نے توبہ کی اور ہزاروں مسلمان ہوئے۔ حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ نے شیعیت کے (جو پور ے ملک پر حاوی ہو گئی تھی ، حتی کہ اکثر بزرگان دین کی گدیوں پر براجمان سجادہ نشین تقیہ کے پردہ میں شیعی ذہنیت کے حامل تھے اور آج بھی ہیں) مراکز وقلعوں پر جارحانہ حملے کر کے انہیں دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔ یہ ولی اللہ تحریک ومکتب فکر، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے نواسے شاہ محمد اسحاق اور شاگرد رشید مولانا رشید الدین دہلویؒ کی درسگاہ سے ہوتی ہوئی مولانا مملوک علی تک پہنچی اور ؒ پھر آپ کے صاحبزادے مولانا یعقوب نانوتوی اور شاگرد رشید حضرت گنگوہی و حضرت نانوتوی ؒ وغیرہ کے ذریعے سے پھل پھول کر ایک تناور درخت بن گئی۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ولی اللہی مکتب فکر کے حقیقی وارث اور علمبردار علماء دیوبند تھے۔ شاہ ولی اللہ سے لے کر حضرت شیخ الہند کے دورتک امت پنے کی ذہن سے کام ہوا اور عملی طور پر پوری امت کی فکر کی گئی۔ پھر فکر وجہد برصغیر تک محدود ہوگئی اور برصغیر کے تین ملک ہونے کے بعد اپنے اپنے علاقے تک۔ اب صورت حال یہاں تک پہنچ گئی کہ یہاں لندن میں برصغیر کے تینوں ممالک کے مشایخ وعلماء کی فکری حدود اپنے اپنے قبیلے وقوم یاضلع تک سمٹ چکی ہیں۔ 

تصوف میں جب کبھی مشیخیت ، روحانیت پر غالب آئی، تصوف انتہائی نقصان دہ بن گیا۔ جس طرح حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تجدیدی تحریک مشیخیت کے ذہن سے پیدا شدہ نظریہ قیومیت کے سراب میں گم ہوگئی، اسی طرح اب حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی برپا کر دہ تحریک (تعلیم قرآن، سنت اور دعوت) علماء کی غفلت سے پھر مشیخیت (شخصیت پرستی کے غلو) میں گم ہونے جارہی ہے۔ آج کل علما نے شرک وبدعات کا رد چھوڑ رکھا ہے جس کی وجہ سے اہل بدعات کا پھر غلبہ ہو گیا ہے۔ آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ مشیخیت یعنی اپنے مقرب ہونے کا غرہ ہے۔ اس مشیخیت کی وجہ سے ہم اہل بدعت کے مماثل بنتے جارہے ہیں۔ انگلینڈ کے ایک بڑے مشہور شہر میں دو پیر صاحبان نے اپنا اپنا علاقہ تقسیم کررکھا ہے۔ ایک کا اعلان دوسرے کی مسجد میں نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ دنوں جب حضرت مولانا طلحہ صاحب تشریف لائے تو دونوں کے ہاں ان کا پروگرام تھا۔ ایک جگہ پہنچے تو شاید تھکان کی وجہ سے آرام کے لیے چلے گئے۔ دوسرے پیر صاحب سینکڑوں مصلیوں کے ساتھ آدھی رات تک اپنی ہی مسجد میں انتظار فرماتے رہے۔ پھر باتیں چلیں کہ فلاں نے آنے نہیں دیا۔ یہ دونوں پیر صاحبان جب نماز کے بعد اپنے گھر تشریف لے جاتے ہیں تو متعدد لوگ مشایعت کے لیے پیچھے چلتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ اگر مریدوں میں سے کسی کونماز میں دیر ہو جائے تو وہ نماز توڑ کر پیر صاحب کی مشایعت کو ضروری سمجھتا ہے۔ تصوف کی منزل کا تو پہلا قدم ہی اپنے نفس وانانیت کو توڑنا ہے۔ یہاں درجن بھر قطب الاقطاب کا یہ حال ہے کہ عالم اسلام یا برصغیر کی کوئی بھی بڑی شخصیت آجائے، یہ اپنے گھر انتظا ر کرتے ہیں اور خود جا کر ملنا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔ بندہ نے تقریباً دو سال پہلے مولانا عبداللہ پٹیل صاحب کو عرض کیا تھا کہ اس مشیخیت کی خبر لیجیے! ورنہ بندہ اپنے انداز میں کچھ کہے گا تو سختی ودرشتی کی شکایت نہ کیجیے گا۔ بندہ کے نزدیک اس دور کا سب سے بڑا فتنہ یہی مشیخیت ہے۔

بندہ جب ۱۹۷۵ء میں تبلیغی مرکز کے امام کے طور پر یہاں (لندن) پہنچا تو مرکز پر، مسجد واسلامک سنٹر میں رمضان المبارک میں حضرت شیخ الحدیث ؒ کے معمولات کے عنوان سے ایک چارٹ دیکھا۔ انہی دنوں علاقہ میں ایک پاکستانی دوست کے جوان بچے کا حادثہ ہو گیا۔ بندہ چند تبلیغی احباب کے ہمراہ تعزیت کے لیے ان کے ہاں گیا۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے اور مسجد کے خطیب صاحب، جو بریلوی مکتب فکر کے تھے، تقریر کر رہے تھے۔ شاید ان کی مسجد میں بھی چارٹ بھیجا گیا ہوگا۔ ہمیں دیکھ کر انہوں نے کہنا شروع کیا: ہم نماز کے بعد جہری ذکرکریں تو بدعت،ان کے شیخ الحدیث کے ہاں روزانہ عصر کے بعد ذکر جہری ہوتا ہے، وہ سنت۔ ہم ختم خواجگان کریں تو بدعت، ان کے شیخ کے ہاں روزانہ ظہر کے بعد ختم خواجگان ہوتا ہے، وہ سنت۔ ہم بزرگوں کی قبروں پر جائیں تو بدعت، ان کے شیخ، حضرت گنگوہیؒ کی قبر پر دو گھنٹے مراقبہ کریں، وہ سنت۔ ہم کریں تو بدعت، دیوبندی کریں تو سنت۔ چند دنوں کے بعد ہندوپاک کے متعدد اکابر علماء تشریف لائے۔ ا ن میں حضرت مفتی زین العابدین ؒ بھی تھے۔ بندہ نے اکابر سے اس گفتگو کا تذکرہ کیا تو تقریباً سب ہی نے کہا : ان خطیب صاحب نے کوئی غلط بات تو نہیں کہی۔

اسی طرح حضرت شیخ الحدیث کی یہاں آمد ثانی کے موقع پر خلفا کی طرف سے مبشرات پر مشتمل ایک کتابچہ چھاپا گیا جس کا عنوان غالباً ’’ محبتیں‘‘ تھا۔ اس پر سلفی حضرات کے ماہنامہ ’’ صراط مستقیم‘‘ میں کئی قسطوں میں سخت تبصرہ چھپا کہ ان کے شیخ جب افریقہ، ری یونین، انگلینڈ تشریف لے جاتے ہیں تو سروردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم،خلفائے راشدین اور دیگر اکابر صحابہ شیخ کے استقبال، انتظامات اور دیگر خدمات کے لیے پہنچتے ہیں۔ ا ن دیوبندیوں نے سرو رد وعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کو شیخ کا خادم بنا دیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی بہت سی باتوں پر جب کبھی بندہ نے مولانا یوسف متالا کو ٹوکا تو ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا : غلطی ہو گئی۔ 

ماضی میں بزرگان دین اپنی خانقاہوں میں خاموشی سے افراد سازی فرماتے تھے۔ ہر میدان کے رجال کار تلاش کر کے انہیں کام میں لگاتے تھے، ان کی سر پر ستی، وسائل سے اعانت اور ہمت افزائی فرماتے تھے اور ان سے مختلف میدانوں میں اجتماعی کام لیتے تھے، جیسے دونوں حضرات راے پوری، تبلیغی جماعت، جمعیت علماء، مجلس احرار، ختم نبوت، جنگ آزادی کے مجاہدین، سیاسی وخدمت خلق کے میدانوں میں کام کرنے والے اور مختلف عملی وتصنیفی کام کرنے والے حضرات۔ دیوبند، مظاہر، ندوۃ چھوٹے بڑے مدارس ومکاتب کی سرپرستی فرماتے۔ اس طرح یہ حضرات خاموشی سے ملت کو منضبط ومتحد کرتے تھے۔ اول تو سفر بہت کم فرماتے ۔ اگر کرتے تو عموماً دین سے دور اور غربت زدہ علاقوں میں کرتے۔ اب حال یہ ہے کہ ایک ایک شیخ کے خلفا، پھر ہر خلیفہ کے درجنوں خلفا، امت کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزار رہے ہیں۔ آج عالم کفر عالمگیریت کے دور میں پہنچ کر ایک ایک مسلم ملک، قوم، طاقت اور ادارہ کو مل کر اقوام متحدہ کے زیر سایہ باری باری تباہ کررہا ہے۔ ادھر اللہ سے تعلق اور روحانیت کے دعوے دار ایک دوسرے کے مریدوں کی چھینا جھپٹی میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمارا مقصود متاع دنیا اور دنیوی وجاہت بن گیا ہے۔ ان اللہ والوں کے زیادہ تر اسفار گجرات اور دنیا بھرمیں پھیلے ہوئے گجراتی اہل ثروت کی طرف ہوتے ہیں۔ خلافت کی ریوڑیاں بھی زیادہ ترانہی لوگوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔ ( ایک مولوی کو ایک نہیں، کئی کئی خلافتیں)۔ بھارت کے بیس کروڑ مسلمان نظر التفات سے عموماً محروم رہتے ہیں۔ گزشتہ سال دُبیؔ کے چند دوستوں نے بتایا کہ فلا ں حضرت اپنے آدھ درجن بیٹوں وپوتوں کے ساتھ تشریف لائے۔ ان کی تشریف بری کے بعد دیکھا کہ بہت سوں کے ہدایا میزبان کے گھر پڑے تھے، کیونکہ ۶؍ ٹکٹوں پر زیادہ حضرت صرف قیمتی ہدایا ہی ساتھ لے جا سکے۔ یہاں لندن میں ہر خلیفہ نے اپنی ضروریات کے لیے چند اہل ثروت کو چن رکھا ہے اور یہ اللہ والے عموماً کسی کروڑ پتی کے ہاں قیام فرماتے ہیں، کسی غریب مرید کے ہاں شاذ ونادر ہی نزول فرمائیں گے۔ حقیقی روحانیت ہمیشہ فقر وفاقہ میں مست اور خوش رہتی ہے اور مشیخیت پیسوں کا کھیل بن جاتی ہے۔

سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہربرائی اور گناہ کی جڑ دنیا کی محبت کو اور امت کے لیے فتنہ ، عورت اور مال کو قرار دیا۔ چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے، اہل دین میں ہمیشہ فتنہ (فساد وبگاڑ) مال کی جہت ہی سے آیا ہے۔ کسی قوم اور ملت کی تباہی وزوال کی بنیادی وجہ حکمرانوں اور علما کا بگاڑ ہوتا ہے۔ اگر ان دو میں سے ایک بھی اپنا فریضہ صحیح طور پر ادا کر رہا ہوتو فساد وبگاڑ نصف رہ جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیش گوئی فرما چکے ہیں کہ امت اور اس کے مشایخ وعلماء (احبار ورہبان) بنی اسرائیل کی قدم بقدم پیروی کریں گے۔ قرآن پاک میں بنی اسرائیل کے علماء ومشایخ کے حالات دیکھ لیں، کیا ہم انھی کے نقش قدم پر نہیں بڑھ رہے ہیں؟ آج کل اکثر مولوی مال بٹورنے اور جمع کرنے والی آیت ادھوری پڑھتے ہیں اور وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ  سے شروع فرماتے ہیں، جب کہ آیت میں اصل وعید ودھمکی علما و مشایخ (احبار ورہبان) ہی کی حرام خوری کے متعلق ہے۔ 

آج غریب آدمی اولیاء اللہ سے مصافحہ تو درکنار زیارت بھی بمشکل کر سکتا ہے۔ میرے ایک پاکستانی دوست جو یہاں بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہیں، کہنے لگے: میں پاکستان میں فلاں فلاں مشایخ وبزرگوں اور اکابرین سے مل کر آرہا ہوں، سب ہی نے مجھ پر بڑی شفقت کی اور خوب اکرام فرمایا۔ بندہ نے عرض کیا: کیوں نہ کرتے، آپ انگلینڈ سے جو گئے تھے، اونچے عہدے پر جو ہیں۔ اب ایک بار اور جائیے، دیہاتی لباس میں اور سب سے عرض کیجیے: حضرت! چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، قرض ہو گیا ہے، بہت پریشان ہوں، دعا کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر دیکھیے، کس طرح آپ کو دسترخوان پر ساتھ بٹھا کر اکرام فرماتے ہیں۔

آج کے پیر صاحبان، مہتمم صاحبان، تبلیغی جماعت کے امرا کو اگر موٹا سا ہدیہ دیا تو دسترخوان پر داہنی جانب عزو وقار کے ساتھ بٹھائیں گے، بلکہ دست مبارک سے لقمہ دیں گے۔ بدقسمتی سے غریب ہیں تو دور سے زیارت ہی کو خوش نصیبی اور جنت کا ٹکٹ سمجھئے۔ بھوپال کے حضرت مولانا حبیب ریحان ندوی ( شیخ الحدیث تاج المساجد) جب کبھی یہاں تشریف لاتے، ایک رات بندہ کے ہاں گزارتے اور بے تکلفی سے باتیں ہوتیں۔ تقریباً پندرہ سال پہلے کا واقعہ ہے، کہنے لگے: آج کے بعض مولوی اور پیروں سے زیادہ حرام خور کوئی نہیں۔ اس بات پر بندہ کی مولانا سے جھڑپ ہو گئی۔ مجھے اللہ معاف کرے، بہت سخت سست کہہ دیا اور یہاں تک کہہ دیا : یہ علماء دشمن مودودیت بول رہی ہے۔ (آپ مولانا مودودی صاحب کی تحریروں سے بھی متاثر تھے) وغیرہ وغیرہ۔ ادھر بدقسمتی سے ان پندرہ سالوں میں ایسے تجربے ہوئے کہ الامان والحفیظ۔ ۳۰، ۳۰ لاکھ کی کوٹھیاں بن رہی ہیں۔ انگلینڈ میں ایک شہر سے دوسرے شہر تک کالی ٹیکسی سے تشریف لے جاتے ہیں ( جو اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ یہاں والے بھی ہمت نہیں کرتے۔) ان کی جیبوں میں دنیا بھر کے ہوائی جہاز کے اوپن ٹکٹ پڑے رہتے ہیں۔ گھر کے نقشے ،عیش وعشرت ہی نہیں، عیاشی تک پہنچے ہوئے ہیں۔غرض جس قدر خلفاء کرام، عالی یشان جامعات اور علماء کرام کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، اسی قدر ہدایت گھٹتی جا رہی ہے۔

اب یہاں ہم دیوبندیوں میں ایک بدعت یہ شروع ہوگئی ہے کہ یہ اللہ والے اپنے مدرسے سے تمام فارغ ہونے والوں کو خود ہی بیعت فرما لیتے ہیں کہ ہماری مرغیوں کے انڈے ہم ہی کھائیں، دوسرا کوئی کیوں فائدہ اٹھائے، اس لیے ان کے طلبہ پوری امت کے علماء و اہل اللہ سے کٹ کر صرف اپنے پیر سے مرتبط رہتے ہیں۔ کوئی ایسا عالم دین یا بزرگ جو ان کے شیخ کو قطب الاقطاب نہ مانتا ہو، اس کے قریب بھی نہیں جائیں گے جب کہ ہمیشہ صحیح روحانیت والوں کا طریقہ یہ تھا کہ طلبہ کی ذہنی مناسبت وصلاحیت کے اعتبار سے انہیں اہل اللہ کے حوالے فرماتے، جیسے حضرت رائے پوری ؒ نے اپنے خادم خاص حضرت مولانا عبدالمنان دہلویؒ کو حضرت شیخ الحدیث ؒ کے پاس اور حضرت تھانویؒ نے اپنے پاس مرید ہونے کے لیے آنے والے مولانا عبدالماجد دریا بادی کو حضرت مدنیؒ کے پاس بیعت کے لیے بھیجا۔ اب اس زمانہ کے اللہ والوں کی دیکھادیکھی تبلیغی ذمہ داربھی زور دینے لگے ہیں کہ بھائی، ہمارے کام کرنے والوں کو تو حافظ پٹیل صاحب ہی سے بیعت کرنی چاہیے، تب ہی تبلیغی کام کا پورا فائدہ ہوگا۔ یہ سارے کرشمے مشیخیت کے ہیں جو سچی روحانیت سے بہت دور ہے۔ اگر یہ مشیخیت اسی طرح بڑھتی رہی تو اندیشہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ سے شروع ہونے والی توحید وسنت، قرآن وحدیث کی اشاعت کی دعوت اور سچی روحانیت کا یہ سفر ترقی معکوس کر کے شاہ صاحب سے پہلے والی جہالت اولیٰ پر نہ منتج ہو جائے۔ آج دیوبندیوں کے ہاں بھی اپنے بزرگوں اور اکابرین کانام بیچ کرمال بٹورنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ آج مال بٹورنے کا یہ سب سے سہل نسخہ یہی بن چکا ہے، لیکن میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ اب یہ مشیخیت یاجعلی روحانیت کامیاب نہیں ہوسکے گی، بلکہ منہ کی کھائے گی۔ ہمارے اکابر کی ڈھائی سو سالہ قربانیاں اور جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔ اب صرف قرآن وسنت، سیرت نبوی وصحابہ کی بات ہی چلے گی، نہ کہ بعد والی عجمی افکارواعمال کی ملاوٹ زدہ مشیخیت، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم دیوبندی اس مشیخیت وشخصیت پرستی کے مہلک سراب سے نکل کر اپنے اصل بزرگوں کی طرف لوٹیں۔ وماذلک علی اللہ بعزیز۔ 

آراء و افکار