سیمینار: ’’پر امن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار‘‘

ادارہ

(پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام قومی سیمینار)


۲۱ تا ۲۳ جون ۲۰۰۱ء کو پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز، اسلام آباد کے زیر اہتمام اسلام آباد ہوٹل، اسلام آباد میں ’’ پُرامن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار‘‘ کے عنوان پر دو روزہ قومی سیمینار منعقد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی اور موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ علمائے کرام نے پاکستان میں پُرامن اور متوازن معاشرے کے قیام کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس اَمر پر زور دیا کہ اختلافِ رائے کو لوگوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اتفاق کیا کہ معاشرے میں پنپنے والے ہر طرح کے پُرتشدد رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ 

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہت سارے مسائل غیر آئینی اور غیر جمہوری ادوار میں فروغ پائے ہیں، اور یہی اَمر معاشرے میں امن اور رواداری کی موجودہ ناگفتہ بہ صورتحال کے پسِ پردہ کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت بُری حکمرانی اور معاشرے کی سمت کا تعین نہ ہونے کے باعث فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ علمائے کرام بھی اپنا اصلاحی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دلیل اور جواز کی جگہ فتوے نے لے لی ہے اور قانون کی حکمرانی پر بندوق کی حکمرانی غالب آگئی ہے۔ انہوں نے اس اَمر پر زور دیا کہ علمائے کرام کو امن اور محبت کے پیغام کو فروغ دینا چاہیے اور ذاتی محاسبہ ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ 

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے کہا کہ پاکستان میں امن و رواداری کے فروغ میں علمائے کرام کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر اُس وقت جب شدت پسنداور پرتشدد رجحانات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور لوگ ان کی حقیقی وجوہات سے آگاہ نہیں ہے ۔

سیمینار کی پہلی نشست بعنوان ’’ پرامن اور متوازن معاشرے کے خدوخال‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر علماء اکادمی، منصورہ ڈاکٹر فرید پراچہ نے موضوع کا علاقائی اور عالمی تناظر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حالتِ جنگ میں ہے اور علماء کرام لوگوں کے درمیان انسانی زندگی کے تقدس کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔جامعۃ المنتظرسے وابستہ مذہبی سکالر ڈاکٹر سید محمد نجفی نے پُرامن اور متوازن معاشرے کے سماجی و ثقافتی عوامل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایسے معاشرے کے قیام لیے یکساں مواقع پیدا کرنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل دارالعلوم گلگت مولانا عطاء اللہ شہاب نے کہاکہ پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے مذہبی اور سیاسی رواداری انتہائی اہم ہے، تاہم پاکستان میں ان دونوں کا وجود نہیں ہے۔ ان کا یہ خیال تھاکہ مذہبی عدم رواداری اور فرقہ واریت مذہب بیزار رویوں کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔

معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر خالد ظہیر نے کہا کہ فرقہ واریت کے تدارک کے لئے یہ مسلمان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جمعہ کے خطبہ کے لیے امام کا تقرر کرے اور خطبے کے متن کی تحریر کا اہتمام بھی کرے۔ پہلی نشست کی صدارت جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ مولانا حنیف جالندھر ی نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ سماجی استحصال کے خاتمے اور فوری اور بروقت انصاف کی فراہمی سے معاشرے میں امن اور رواداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

سیمینار کی دوسری نشست بعنوان ’’ پُرامن اور متوازن معاشرے میں درپیش چیلنجز‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ نعیمیہ ، لاہور کے مہتمم مولانا راغب نعیمی نے کہا کہ تعلیمی مواقع کی کمی اور سماجی تقریق کے باعث معاشرے میں انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی عدم مساوات اور غربت کے باعث معاشرے میں عسکریت پسندی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ متوازن معاشرے کے قیام کے لیے سماجی شعبے کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

پشاوریونیورسٹی کے سنٹر فار اسلامک سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان جہاد کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کو فروغ حاصل ہوا جس نے ان علاقوں میں سماجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جبکہ فرقہ واریت بھی تشویشناک صورت اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام اور رواداری کے فروغ میں علمائے کرام اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

رابطۃ المدارس کے رہنما اور جامعۃ الفلاح کے پرنسپل قاری ضمیر اختر منصوری نے کہا کہ سندھ میں لسانی، فرقہ وارنہ تشدد اور مجرمانہ کارروائیاں سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ کراچی اور اندرونِ سندھ میں حکومت کی رٹ نہ ہونے کے باعث صوبے میں امن وا مان کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔وفاق المدارس شیعہ، بلوچستان کے نمائندے علامہ اکبر حسین زاہدی نے کہا کہ بلوچستان میں شورش ہماری اپنی پالیسیوں کے باعث شروع ہوئی ہے جس کے لیے ہمیں ملکر کام کرنا چاہیے۔ جامعہ اسلامیہ مظفرآباد کے مہتمم قاضی محمود الحسن اشرف نے کہا کہ مساجد اور مدارس کے نظام کی تنظیمِ نو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں علم کے گہوارے بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے ایک صحت مند اور متنوع معاشرے کی علامت ہے۔

دوسری نشست کی صدارت کرتے ہوئے مہناج القرآن علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید فرحت حسین شاہ نے کہا کہ معاشرے میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے لیے مذہبی عقائد اور شعائرات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان حالات میں یہ علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ ہر سطح پر ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

سیمینار کی تیسری نشست بعنوان ’’ پُرامن اور متوازن معاشرے کے قیام میں علماء کا کردار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس سلفیہ کے سربراہ مولانا یٰسین ظفر نے کہا کہ علمائے کرام کی یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں پنپنے والی مذہبی عدم رواداری، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ کے وائس پرنسپل ڈاکٹر ابوالحسن شاہ نے کہا کہ دوسرے مکاتبِ فکر ، ان کے رہنماؤں اور عقائد کا احترام مختلف مسالک کے درمیان کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔ سابق سینیٹر اور مدرسہ عارف الحسینی پشاور کے مہتمم علامہ جواد ہادی نے کہا کہ لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ علماء معاشرے میں بد امنی کے ذمہ دار ہیں۔چنانچہ یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں امن اوررواداری کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ وائس پرنسپل الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ مولانا عمار خان ناصر نے کہا کہ عام لوگوں کی رہنمائی کے لیے علماء کرام قومی ایشوز جیسا کہ افغانستان اور کشمیر میں جہاد اور خروج اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود نے قانون کی حکمرانی قائم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ کسی بھی اسلامی معاشرے میں یہ علماء کرام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ اختتامی نشست سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کی طرز پر اسلامی ممالک کی یونین قائم کی جانی چاہیے۔

رؤیت ہلال کمیٹی اور تنظیم المدارس کے سربراہ مولانا مفتی منیب الرحمٰن نے آخری نشست کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی ہر کوتاہی کی ذمہ داری دوسروں پر عائد نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ذاتی محاسبے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس اَمر پر زور دیا کہ دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کا جواز نہ تراشا جائے اور حکومت بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرے۔ ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز محمد عامر رانا نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ عالمگیریت کے موجودہ دور میں مکالمہ سب سے پُراثر ہتھیار ہے۔ انہوں نے گفتگو میں اٹھائے گئے نکات کو سراہا اور کہا کہ عہدِ حاضر کے مسائل اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے اس نوعیت کی گفتگو کے ذریعے حل کی جانب بڑھا جا سکتا ہے

سیمینار کے دوران معاشرے میں امن اور رواداری کے فروغ پر گفتگو کرنے اور سفارشات کی تشکیل کے لیے پانچ مشاورتی گروپ تشکیل دیے گئے۔ ان مشاورتی گروپوں نے پانچ مختلف موضوعات پر گفتگو اور مشاورت کی:

(1) معاشرے میں متوازن فکر کے فروغ میں مدارس کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

(2) معاشرے میں امن اور رواداری کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے؟

(3) سیاسی رویوں اور سماجی و ثقافتی انتہا پسندی کے رَد کے لیے تجاویز۔

(4) معاشرے سے انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے علماء کا کردار۔

(5) معاشرے میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لیے علما ء کا کردار۔

طویل مشاورت کے بعد یہ مشاورتی گروپ معاشرے میں امن اور رواداری کے قیام کے لیے کچھ سفارشات پر متفق ہوئے اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سفارشات پرامن اور متوازن معاشرے کے قیام کا سبب بن سکتی ہیں۔

پہلے گروپ نے ’’ فرقہ واریت کے خاتمے میں علماء کا کردار‘‘ کے موضوع پر سفارشات پیش کیں۔ اس گروپ میں منتظم بحث سید فرحت حسین شاہ جبکہ محرکِ بحث مولانا عبدالاکبر چترالی تھے، جبکہ شرکا میں مولانا مسعود بیگ، علامہ اکبر حسین زاہدی، مولانا عبدالقدوس محمدی اور مولانا عطاء اللہ شہاب شامل تھے۔ سفارشات یہ ہیں:

(1) جملہ مکاتب فکر کے مابین ’مشترکات‘ کو فروغ دیا جائے۔

(2) جملہ مکاتب فکر جہلا کو اپنی اپنی مساجد کے منبر و محراب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

(3) فرقہ واریت کے اسباب کا سدِباب کیا جائے۔

الف۔ دل آزار تحریروں اور تقریروں پر پابندی عائد کی جائے۔

ب۔ فتویٰ نما نعروں سے تمام علماء اپنے اپنے پیروکاروں کو روکیں۔

ج۔ عالمی استعمار کی سازشوں سے لوگوں کو خبردار کیا جائے۔

(4) اختلافات کے ہوتے ہوئے باہمی احترام اور برداشت کو فروغ دیا جائے۔

(5) تمام مکاتب فکر کے عقائد پر مشتمل، ایک ایسی کتاب مرتب کی جائے جس میں ہر مسلک کا عقیدہ خود انہی کے جید علماء کرام پیش کریں۔

(6) فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیے قرآن و سنت کو محور و مرکز بنایا جائے۔أ) لاؤڈ سپیکر کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے اسے ضابطہ اخلاق کے تحت کیا جائے۔

(8) ملکی سطح پر ایک ایسا فورم تشکیل دیاجائے جو تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام اور مفتیان عظام پر مشتمل ہو اور فتویٰ جاری کرنے کا اختیار اسی فورم کے پاس ہو۔

(9) ایسی سرگرمیاں جن سے باہمی تعلقات کو فروغ ملے، ان کا اہتمام ہو اور ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شرکت کا اہتمام کیا جائے۔

(10) مختلف مسالک نے موضوعات کی جو تقسیم و تفریق کر لی ہے، وہ ختم کی جائے۔ محرم اور ربیع الاول سمیت دیگر مواقع پر تمام مکاتب فکر کے علما شریک ہوں۔

(11) مذہبی ہم آہنگی اور باہمی روابط و مکالمہ کا عمل دینی مدارس کے طلبہ کی سطح سے شروع کیا جائے۔

(12) دینی مدارس، جامعات اور مساجد کے نام عمومی اور قابلِ قبول ہونے چاہئیں جو مسلکی اختلافات کا تاثر نہ دیتے ہوں۔

(13) ہر مکتبۂ فکر میں جو چند گنے چنے لوگ فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں، ان کا محاسبہ کیا جائے۔

(14) توہین آمیز، اشتعال انگیز اور کفر و ارتداد کے فتاویٰ پر مشتمل لٹریچر اور مواد کو ضبط کیا جائے۔

(15) علماء کرام دین کی تبلیغ کو مقدم رکھیں، مسلک کے پرچار کو ترجیح نہ دیں۔

(16) ذرائع ابلاغ کو پابند کیا جائے کہ وہ فرقہ واریت کو ہوا دینے والے پروگرام اور مواد نشر نہ کریں۔

(17) ملکی سا لمیت اور امن و امان کو پیشِ نظر رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔

(18) فرقہ واریت کے نقصانات، خطرات اور تباہ کاریوں کی تقریری اور تحریری صورت میں نشاندہی کی جائے۔

دوسرے گروپ منتظمِ بحث خورشید احمد ندیم اور محرکِ بحث مولانا مفتی محمد زاہد تھے۔ شرکا میں پیرسید مدثر شاہ، مولانا فضل الرحمان مدنی، ڈاکٹر خالد مسعود، علامہ محمد حیات قادری اور علامہ انیس الحسنین خان شامل تھے۔ اس گروپ نے ’’پرتشدد رجحانات کے خاتمے میں علماء کا کردار‘‘ کے عنوان پر اپنی سفارشات مرتب کیں۔ اس گروپ کی رائے میں معاشرے کو تشدد سے پاک کرنے کے لیے علماء کو درج ذیل تین دائروں میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے:

1: ریاستی امور

1.1: سیاست میں علماء کے کردار کے تعین کے لیے برصغیر کی تاریخ میں علماء کے سیاسی کردار کی تفہیم نو کی جائے۔

1.2: جدید ریاست اور اس کے اداروں سے علماء کو متعارف کروانے کا اہتمام کیا جائے۔

1.3: ریاستی امور میں اصلاح کے لیے پرامن ذرائع اختیار کیے جائیں۔

1.4: علماء او ردیگر طبقات کے درمیان موجود بعد کو دور کیا جائے۔

II: سماجی امور

1: اصلاحِ معاشرہ کے لیے دین کی روحانی تعلیمات اور ان سے متعلق اداروں کا احیاء اور اصلاح کی جائے۔

2: سماجی اصلاح کے لیے محراب و منبر کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے۔

III: دینی امور

3.1: دین کے فہم اور تشریح کے لیے معتبر اور جید علماء سے ہی رجوع کیا جائے۔

3.2: علماء ، دینی اداروں اور تنظیموں میں بھی خوداحتسابی کو رواج دیا جائے۔

3.3: مسلکی ہم آہنگی کے لیے دوسرے مسالک کا مبنی بر انصاف تعارف شامل نصاب کیا جائے۔

3.4: مختلف مسالک کے اعلیٰ سطح کے علما کے روابط کو نچلی سطح تک فروغ دیاجائے۔

3.5: فتویٰ دیتے وقت شرعی، اخلاقی اور سماجی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔

3.6: دینی مدارس اور عالمی دینی یونیورسٹیوں میں تعاون اور رابطے میں اضافہ کیا جائے۔

3.7: تکفیر، خروج اور دیگر مسائل میں رائے دینے کے لیے تمام مسالک کے جید علماء اور اسکالرز پر مشتمل ایک فورم بنایا جائے۔

تیسرے گروپ کی سفارشات کا عنوان ’’بدامنی اور عدم توازن کے سیاسی، سماجی اور معاشی محرکات اور تدارک‘‘ تھا۔ اس گروپ کے منتظمِ بحث ڈاکٹر عبدالناصر لطیف اور محرکِ بحث مولانا مفتی محمد رفیق بالاکوٹی تھے، جبکہ شرکا میں قاری ضمیر اختر منصوری، مولانا علی بخش سجادی، مولانا محمد یونس قاسمی اور مولانا خالد ضیاء شامل تھے۔ اس گروپ نے حسب ذیل سفارشات پیش کیں:

سیاسی محرکات :

(1) جمہوری نظام سیاست میں عدمِ برداشت ، سیاست دانوں کی نااہلی اور قیادت کے فقدان کے باعث مسائل کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں حکمران طبقے کو اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں سماجی اور معاشی انصاف کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔

(2) سیاست دانوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عوام کو استعمال کرنے اور ان کے حقوق کو پامال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

(3) پاکستانی طرزِ حکومت قرآن و سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔

(4) ریاست اور حکمرانوں کو بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔

(5) پاکستان کا سیاسی نظام دغا بازی، مکاری اور منافقت پر مبنی ہے۔سیاسی اور جمہوری نظام کی درستگی کے لیے مدبر قیادت کو سامنے آنے کی ضرورت ہے۔

(6) سیاسی نظام کی درستگی کے لیے علماء کے عملی کردار کی ضرورت ہے۔

سماجی محرکات:

(1) عوام کی ناخواندگی، جہالت اور تعلیم سے دوری کے اسباب حکمران اور وڈیرہ شاہی ہے۔حکومتی سطح پر معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

(2) مختلف نظامِ ہائے تعلیم کی پیداوار، مختلف اذہان کی صورت میں جنم لیتی ہے، اور یہی ذہنی اختلاف معاشرے میں عدم توازن کا سبب بنتا ہے۔ایک متوازن تعلیمی نظام، جس سے ایک فکر کے لوگ پیدا ہوں، معاشرے میں امن کا سبب بن سکتاہے۔

(3) حکمران طبقہ ملک میں امن و امان کے فروغ کے لیے علماء کرام اور مذہبی اسکالرز کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے۔

(4) عدمِ مساوات، طبقاتی تقسیم، احساسِ برتری، علماء کی کردارکشی، حکمرانوں کی سرپرستی میں جرائم کا فروغ، اتحاد و اتفاق کا فقدان، عصبیت، لسانیت اور اختلاف برائے محاصمت کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

(5) عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا کا کردار مثبت ہونا چاہیے۔

(6) تطہیر افکار کا نہ ہونا اور فقدان تزکیہ ، ذمہ داریوں کا تعین اور احساسِ ذمہ داری کا نہ ہونا، ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرنا، اسلام کے عائلی نظام کی تباہی، ظلم کے مقابلے میں عدم تعاون، عفو و درگزر اور برداشت کی کمی جیسے عوامل غیرمتوازن رویوں کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں، جن سے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے۔

معاشی محرکات:

(1) جاگیرداری نظام ایک ناسور کی طرح ہے جس کا شرعی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

(2) معاشی عدمِ مساوات اور دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کو ختم کیا جانے چاہیے۔

(3) سستی اور کاہلی کے باعث محنت و عمل کے ذریعے ذرائع آمدن کا حصول کم ہوتا جا رہا ہے۔محنت کے بغیر حاصل ہونے والے منافع اور ذرائع آمدن کی روک تھام کی جانی چاہئے۔ 

(4) اسلام کے اصولِ انفاق (صدقہ و زکوۃ) کے فرضی و نفلی احکامات سے لاپرواہی کی جاتی ہے۔اسلام نے واضح طور پر صدقات اور زکوٰۃ کے مصارف بتائے ہیں، ان پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔

(5) سودی نظام اور سرمایہ دارانہ کلچر معاشرے میں بگاڑ پیدا کررہا ہے جس کا تدارک فوری طور پر ہونا چاہیے۔

(6) بجلی کی پیداوار ، انڈسٹری کا استحکام، زراعت کی پیداوار، فنی مکاسب کی بہتر تنظیم اور ملکی ذخائر کا بہترین استعمال ملک میں معاشی استحکام کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔

(7) بیرونی امداد اور غیرملکی قرضوں کا حصول کم سے کم کیا جائے اور ملک کے اندر ذرائع آمدن پیدا کیے جائیں۔

چوتھے گروپ کے منتظمِ بحث مولانا بابر حسین بابر اور محرکِ بحث مولانا محمد عمار خان ناصر تھے، جبکہ شرکا میں مولانا یٰسین ظفر، مولانا عبدالحق ہاشمی، مولانا ممتاز نظامی، علامہ ڈاکٹر سید محمد نجفی، مولانا اصغر عسکری اور مولانا عبدالسلام شامل تھے۔ اس گروپ نے ’’برداشت کے کلچر کا فروغ کیسے ہو؟‘‘ کے زیر عنوان اپنی سفارشات مرتب کیں جو حسب ذیل ہیں:

1۔ برداشت کے کلچر کے فروغ کے لیے افراد معاشرہ کی تربیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے اس کا آغاز گھر کے ماحول سے ہونا چاہیے اور بچوں کو اس کی عملی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ ناپسندیدہ صورت حال میں اپنے رد عمل کو منفی ہونے سے بچا سکیں۔ 

2۔ افراد میں متوازن شخصیت کی تعمیر کو تعلیمی نصاب، ذرائع ابلاغ کے پروگراموں، مذہبی خطبات ودروس اور تربیتی ورک شاپس کا باقاعدہ موضوع بنایا جائے۔

3۔ دینی مدارس اور جدید تعلیمی اداروں کے نصابات میں ایسا مواد شامل کیا جائے جس کا مقصد مختلف فکری دھاروں کا مثبت تعارف حاصل کرنا ہو اور جس سے دوسرے طبقات کے انداز فکر کو دیانت داری اور رواداری کے ساتھ سمجھنے کا رویہ پیدا ہو۔

4۔ علما وخطبا دعوت وتبلیغ میں مسلکی پہلو کو غالب کرنے کے بجائے مشترکہ دینی تعلیمات اور اخلاقیات پر توجہ مرکوز کریں تاکہ سامعین میں افتراق وانتشار کے بجائے اتحاد کے جذبات پیدا ہوں۔

5۔ اس بات کو بطور ایک مسلمہ اصول اور قدر کے فروغ دیا جائے کہ ہر طبقے کو اپنے فہم کے مطابق عقیدہ اور رائے رکھنے اور اسے مثبت طو رپر بیان کرنے کا حق حاصل ہے۔ نیز یہ کہ کسی بھی طبقے کے نظریات اور عقائد کی وہی تشریح مستند اور قابل قبول ہے جسے وہ خود بیان کرتا ہو۔

6۔ جن امور میں (چاہے وہ مذہبی واعتقادی ہوں یا فکری وسیاسی وسماجی) اختلاف رائے پایا جاتا ہے، ان میں مخالف نقطۂ نظر پر تنقید کرتے ہوئے علمی رویے کو فروغ دیا جائے۔ اہل علم کے مابین ایسی بحثوں پر علمی رنگ غالب ہونا چاہیے، جبکہ عوامی سطح پر اظہار خیال کرتے ہوئے تنقید کے انداز سے ہمدردی اور خیر خواہی کی جھلک دکھائی دینی چاہیے۔

7۔ مختلف طبقہ ہاے فکر کی مستند اور اکابر شخصیات کی ایسی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے جو برداشت، رواداری اور اختلاف رائے میں آداب کی پابندی کی تلقین کرتی ہیں۔

8۔ نزاعی امور پر غیر علمی اور سطحی اظہار خیال کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لیے متعلقہ موضوعات پر سنجیدہ اور بلند پایہ اہل قلم کی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کی جائے۔

9۔ بہت سے سوالات علمی وفکری یا فقہی سطح پر ابہام کا شکار ہیں اور اس ابہام کی وجہ سے عدم برداشت کے رویوں کے لیے گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ مثلا تکفیر کے اصول وضوابط اور شرائط کیا ہیں؟ معاشرے میں نہی عن المنکر کی حدود اور آداب اور اس کا دائرۂ اختیار کیا ہے؟ جہاد کا حق اور اختیار کسے حاصل ہے؟ وغیرہ۔ ان مسائل پر پائے جانے والے ابہام کو سنجیدہ علمی بحث ومباحثہ کا موضوع بنائے بغیر فکری ابہام کو دو ر نہیں کیا جا سکتا۔

10۔ برداشت یا عدم برداشت کے مسئلے کو صرف مذہبی طبقات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اسے ایک عمومی سماجی رویے کے طور پر لیا جائے اور مختلف مذاہب، برادریوں، طبقات اور فکری وسیاسی دھڑوں کے مابین پائے جانے والے عدم برداشت کے رویوں کو یکساں سطح پر زیر بحث لایا جائے۔

11۔ عدم برداشت اور شدت پسندی کے رویے کے خاتمے کے لیے ان اسباب (سیاسی وسماجی ومعاشی ناہمواری، ظلم ونا انصافی، ناروا اور جارحانہ مذہبی رویے وغیرہ) کو بھی دور کرنا ضروری ہے جن سے یہ رویے پیدا ہوتے ہیں۔

12۔ تاریخ اور سیرت سے ایسی مثالیں تلاش کر کے انہیں منظر عام پر لایا جائے جن میں اختلافات کے باوجود معاشرتی تعلقات قائم رکھے گئے۔ اسی طرح اہل علم حضرات کی جانب سے دیگر اہل علم حضرات کے احترام کے واقعات کو نمایاں کیا جائے۔ حج اور عمرے کے موقع پر ہر طرح کے تنوع اور رنگا رنگی اور تحمل وبرداشت کے جو منظر دیکھنے میں آتے ہیں، ان کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی جائے۔

13۔ برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے دنیا کے دوسرے مسلمان یا غیر مسلم ممالک میں جو کامیاب کوششیں کی گئی ہیں، انھیں ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جائے اور ان سے جو روشنی ملتی ہے، اسے مقامی صورت پر منطبق کرتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کی جائے۔

14۔ مختلف الخیال طبقات (مسلم وغیر مسلم، مذہبی وغیر مذہبی وغیرہ) کے مابین مکالمہ کا عمل ایک تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے اور ایسا کرتے ہوئے شدت پسندانہ رجحانات رکھنے والے عناصر کو نظر انداز کرنے کے بجائے انھیں بھی مکالمہ کے عمل میں شریک کرنے کی کوشش کی جائے۔

15۔ معاشرے کے مختلف طبقات کے باہمی نزاعات کو صرف ان کا مسئلہ قرار دے کر انہی کے سپرد کر دینے کے بجائے اس رجحان کو فروغ دیا جائے کہ ایک طبقہ دوسرے طبقے کے مسائل میں دلچسپی لے اور ان کے داخلی نزاعات کو کم سے کم کرنے اور افہام وتفہیم کی فضا پیدا کرنے کے لیے پل کا کردار ادا کیا جائے۔

16۔ معاشرے کی سربرآوردہ شخصیات کی طرف سے سیرت نبوی ؐکی اتباع میں ایسے نمونے پیش کیے جائیں جن میں مخالفین کی طرف سے ناروا یا جارحانہ طرز عمل کا جواب اچھے برتاؤ، حسن سلوک اور درگزر سے دیا جائے۔

17۔ مختلف الخیال طبقات کی اہم شخصیات کے باہمی روابط کا عوامی سطح پر اظہار کیا جائے اور باہمی میل ملاقات اور سماجی تعلقات کو عوام کے سامنے نمایاں کیا جائے تاکہ عوام تک ایک مثبت پیغام پہنچے اور شدت پسندی کے رجحانات میں کمی لائی جا سکے۔ 

18۔ مختلف طبقات کے ذمہ دار حضرات اپنی تحریروں، بیانات اورخطبات میں مختلف حوالوں سے دوسرے طبقہ ہاے فکر کے خیالات یا خدمات یا ان کے ساتھ اپنے روابط کا ذکر کریں۔ایسے مشترکہ فورمز بھی قائم کیے جائیں جہاں ہر طبقہ فکر سے وابستہ حضرات اجتماعی مسائل پر غور وخوض کریں۔ 

19۔ ہر طبقہ فکر جس حد تک ممکن ہو، داخلی احتساب کا نظام وضع کرے اور اپنی صفوں کے اندر شدت پسندانہ رجحانات رکھنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور کسی بھی حال میں ان کی واضح یا ملفوف تائید نہ کی جائے۔

20۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور اس طرح کے دوسرے ادارے مختلف طبقات کے مابین مکالمے کے فروغ کے لیے پل کا کردار ادا کریں اور معاشرتی مسائل پر تجزیاتی ومعلوماتی مواد ہر طبقے کے رجحان ساز افراد تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔

پانچویں گروپ کی سفارشات ’’مدارس کا کردار اور متوازن فکر‘‘ کے عنوان سے تھیں۔ منتظمِ بحث ڈاکٹر ابوالحسن شاہ اور محرکِ بحث مولانا زکریا ذاکر تھے جبکہ مولانا ضیاء نقشبندی، علامہ سید جواد ہادی، مولانا انوارالحق حقانی اور مولانا شمشاد نے شرکا کی حیثیت سے بحث میں حصہ لیا۔ اس گروپ کی مرتب کردہ سفارشات درج ذیل ہیں:

1۔ معاشرے کی خرابی کے ذمہ دار صرف علما اور مدارس ہی نہیں ہیں،اس ضمن میں دیگر عناصر کے کردار پر بھی گفتگو ضروری ہے۔

2۔ طلبہ اور سامعین کو تنقید سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔

3۔ ہر طبقہ میں شرپسند اور اختلاف پھیلانے والوں سے براء ت کا اظہار کرنا چاہیے۔

4۔ مدارس ؂ کی لائبریری میں تمام مکاتبِ فکر کی کتب ہونی چاہیے۔

5۔ ہر مسلک کی تشریح اس مسلک کا نمائندہ ہی کرے۔

6۔ مدارس میں مثبت اختلافات کی حامل نصابی کتب پر زیادہ توجہ دی جائے۔

7۔ عصری علوم کے بارے میں بنیادی واقفیت اور آگاہی دی جائے۔

8۔ حکومت اہلِ مدارس اور علماء کی معاشی ضروریات کو معاشرے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

9۔ علما کی فکری نشو ونما کے لیے اُن کی حالاتِ حاضرہ سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے اہتمام کیا جائے۔

10۔ اساتذہ اور عملہ کی اعلیٰ تربیت کا اہتمام کیاجائے اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔

11۔ فتاویٰ دینے، خاص طور پر دوسرے مسلک کے حوالے سے اختیاط کی جائے۔

12۔ مختلف مکاتبِ فکر میں مشترک نکات کو اجاگر کیاجائے اور فروعی اختلافات کو علمی درسگاہوں تک محدود رکھاجائے اور انہیں اس طرح بیان کیا جائے کہ اختلاف نہ پھیلے۔

13۔ مختلف مذہبی ایام پر مدارس و مساجد میں مشترکہ اجتماعات منعقد کیے جائیں۔

14۔ اہلِ مدارس کی تعلیمی اسناد کو دنیاوی تعلیمی اسناد کے مساوی تسلیم کرکے امتیازی سلوک ختم کیا جائے، تاکہ مدارس سے فارغ التحصیل افراد بھی حکومتی اور نجی اداروں میں اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔

15۔ ’’کسی کے مسلک کو چھیڑو ، نہ اپنے مسلک کو چھوڑو‘‘ کی پالیسی کو عام کیا جائے۔

اخبار و آثار