دماغی رسولی کا آپریشن بذریعہ پسینہ

حکیم محمد عمران مغل

آنے والے ادوار میں جب برصغیر کے اطباء عظام کا شمار کیا جائے گا تو جگراں والے اطبا سرفہرست ہوں گے۔ یہ سارا خاندان حافظ قرآن، حاجی، نمازی، تہجد گزار، غریب پرور، رحم دل اور غم گسار ہے، ایسے کہ اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں۔ حکمت ودانائی ان کے گھر کی لونڈی، جڑی بوٹیاں ان کی غلام۔ یہی وجہ ہے کہ صبح وشام ان کے مطب پر مریضوں کا ازدحام رہتا تھا۔ 

رسولی اور گلٹی کا تعلق ٹی بی یا سرطان سے بتایا جاتا ہے۔ وکٹوریہ ہسپتال بہاول نگر سے ایک ادھیڑ عمر مریضہ کو ایک صاحب لائے کہ یہ میری چچی ہیں۔ میری ساری پرورش ان کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ ان کی موجودہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔ پہلے ان کے سر میں ہلکی سی خارش ہوتی رہی جو بعد میں رسولی کی شکل اختیار کر گئی۔ اب ہر جگہ اس کا آخری علاج آپریشن بتایا جا رہا ہے، مگر ان کی خواہش ہے کہ رسولی آپریشن کے بغیر ختم ہو جائے۔ آپ علاج کریں یا کوئی ایسا مشورہ دیں کہ بغیر آپریشن کے رسولی تحلیل ہو جائے۔ میں نے تسلی دی کہ ان شاء اللہ بغیر آپریشن کے رسولی نہ صرف تحلیل ہوگی بلکہ تازیت یہاں دوبارہ پیدا بھی نہیں ہوگی۔ 

ان دنوں میری مصروفیت حد سے سوا تھا۔ میں نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ صدر بازار لاہور میں حکیم جگرانوی صاحب کے پاس چلے جائیں اور میری طرف سے عرض کریں۔ وہ اگلے دن وہاں پہنچے۔ حکیم جگرانوی صاحب کو گزشتہ حالات سے آگاہ کیا۔ انھوں نے چند رسمی باتوں کے بعد فرمایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ آپریشن کی نوبت نہیں آئے گی اور انشاء اللہ بذریعہ پسینہ رسولی تحلیل ہو جائے گی۔ انھوں نے سات دن کی دوا کے پچیس روپے لیے۔ (یہ تقریباً تیس سال پرانا واقعہ ہے۔) پہلے سات دن میں تو کوئی قابل ذکر افاقہ نہ ہوا مگر اگلے سات دن کے بعد رسولی نے جگہ چھوڑ دی۔ اس طرح دو ماہ سے کم عرصہ سے رسولی کوبذریعہ پسینہ نیست ونابود کر دیا گیا۔

انسانی جسم کی مشین کو چوبیس گھنٹے ٹھنڈا رکھنے سے اور خوراک میں رد وبدل سے رسولیاں اور گلٹیاں نمودار ہوا کرتی ہیں۔ بہاول پور میں گزشتہ کئی سال سے ٹی بی کی لہر آئی ہوئی ہے۔ علامہ صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق دو ہفتہ متواتر بغیر کسی وقفہ کے آلو کھائے جائیں تو ٹی بی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ آلو چاول بہاول پور والوں کا من بھاتا کھاجا ہے۔ اس پر غور وفکر کی ضرورت ہے۔ انسانی صحت کے لیے پسینہ کی اہمیت پر ایک مستقل مضمون درکار ہے، کبھی عرض کروں گا۔ آج کل جتنے جلدی امراض ہیں، ان میں سے پچاس فی صد امراض پسینے میں شرابور رہنے سے ختم ہو سکتے ہیں۔ اطبا نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ پسینہ صحت کا خزینہ ہے۔ اطبا کے ہاں صدیوں پرانا جوشاندہ ان امراض میں بڑے نام کا اور بڑے کام کا مانا گیا ہے۔ اس سے پسینہ فوری آتا ہے اور گلٹیوں اور رسولیوں کو تحلیل کر جاتا ہے۔ ٹھنڈے مشروبات پینے کے بعد اے سی اور پنکھوں کی ہوا سے لطف اندوز ہونے والے حضرات گردو ں اور جگر کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ بند ڈبوں کی تمام اشیا، حلوائی اور بیکری کی تمام مصنوعات کا ان امراض کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ان پائیں چھٹکارا یا پھر ان بیماریوں کو کریں گوارا!

امراض و علاج