تنقیدی جائزہ یا ہجوگوئی؟ (۲)

مولانا حافظ محمد رشید

۷۔ سابقہ سطور میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مضمون نگار کس بے رحمی سے ڈاکٹر غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے درویش منش انسان کو قارونی گروہ کا خاموش حمایتی ثابت کرنے کی کوشش کرچکے ہیں۔اور پھر وہ یہ ثابت بھی کرتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ اور مارکس کے سوا علما و سکالرز کی اکثریت قارونی گروہ کی مخالفت سے اجتناب کے گناہ میں ملوث رہی ہے۔لیکن جب حضرت انعام یہ دیکھتے ہیں کہ محاضرات معیشت میں محترم غازی صاحب افراد معاشرہ کی کفالت اور ان کے لیے روٹی کپڑا اور مکان کا ذمہ داراسلامی ریاست کو قرار دیتے ہیں اور پھراسلاف کے حوالوں کے ساتھ قارونی گروہ کے خلاف بغاوت پران الفاظ میں اکساتے ہیں :

’’فقہائے اسلام میں سے بعض حضرات نے یہ لکھا ہے جن میں علامہ ابن حزم کا نام بہت مشہور ہوگیا ہے کہ اگر ریاست اپنے ان تقاضوں کو پورا نہ کرے یا ریاست ان فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور کوتاہی اختیار کرے اور معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہوں جن کو روزی پیٹ بھر کر نہ ملتی ہو، ایسے لوگ موجود ہوں جن کے پاس تن ڈھانپنے کو لباس نہ ہو، سر چھپانے کو چھت نہ ہوتو وہ زبردستی خود باوسیلہ لوگوں سے اپنا حق وصول کرسکتے ہیں۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ182-183)

تو صاحب محاضرات کے اس خوبصورت چناؤ کی تحسین کرنے کی بجائے عقل کل حضرت انعام کی زبان طعن اس طرح دراز ہوتی ہے: 

’’ڈاکٹر صاحب بندوق چلانا چاہتے ہیں لیکن ابن حزمؒ کے کندھوں پر رکھ کر۔ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے علماء و سکالرز کی اکثریت اس طرح کے معاملات میں طرح مصرع ملنے پر بھی غزل کہنے سے گریز کرتی ہے؟ ان کا یہ سہما سہما معذرت خواہانہ اندازشاید اس لیے ہے کہ ماضی میں سوشلزم کی مخالفت برائے مخالفت میں خود انہی مقاصد(کفاف وغیرہ) سے چشم پوشی کرتے رہے ہیں۔‘‘

یعنی عقل کل حضرت انعام کو بڑی تکلیف اور شدید دکھ ہے کہ جس طرح ماضی میں علماء عوامی حقوق کے بارے میں خاموش رہے ہیں تو اسی طرح اب بھی کوئی نہ بولے۔لہٰذا اب اگر اعلیٰ ترین علمی حلقوں سے محترم غازی صاحب اس معاملے پر علم و برہان اور دلیل و سند کی قوت سے بولتے ہیں تو اسے وہ ’’دوسروں کے کندھوں پر بندوق چلانا‘‘، ’’سہما سہما معذرت خواہانہ انداز‘‘، ’اور ’’ماضی میں چشم پوشی کے جرم‘‘ کا قصور وار ٹھہرا کران کی بات کو ہوا میں اڑاکر بے وزن اور بے حیثیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حضرت انعام کو اس پر بھی پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے کہ ڈاکٹر غازیؒ خلیفہ ا ول کی طبقاتی کشمکش کی پیش بندی کی بات کیوں کرتے ہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں محترم غازی صاحب کے حوالے کو مجبورانہ اعتراف قرار دینے کے فوراً بعد اپنے مضمون ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور‘‘ کا حوالہ دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ اورپھرلکھتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم بھی اس پالیسی سے ملتے جلتے رجحانات رکھتے ہیں۔‘‘

الشریعہ کے صفحہ 442کے نصف آخراور صفحہ443کے نصف اول پر موصوف کے خیالات کو ذرا غور سے پڑھا جائے تو ان کی عقل پر شک سا ہونے لگتا ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ وہ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف کے پردے میں تذلیل کرنا چاہ رہے ہیں یا کہ تذلیل کے ساتھ ساتھ محض بھرتی کے لیے کہیں کہیں کچھ روکھے سے اعترافی کلمات بھی لکھ دیتے ہیں۔

اگلے صفحات میں بھی مضمون نگار اپنی پست فطرتی اور گھٹیا ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے طعن و طنز پر مبنی زبان کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر غازی صاحبؒ پر چٹکیاں لینے کی کوشش کی ہے۔(خاص طور پر صفحہ 446-447)

۷۔ مضمون نگار حضرت انعام کو محترم غازی صاحبؒ پر یہ بھی غصہ ہے کہ وہ مغربی دنیا پر تنقید کیوں کرتے ہیں؟چنانچہ اس پر وہ بڑے سیخ پا ہوتے ہیں ۔ان کے غصہ اور ناپسندیدگی کا اظہار ان کے ان جملوں سے بخوبی ہوتا ہے:

’’ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم Primogenitureجیسے مغربی قوانین پر تنقید سے اک درجہ بڑھ کر ان کے قوانین کے پس منظر اور مغربی فکر و نظر پر بھی ڈرون حملے کرتے ہیں۔‘‘ (صفحہ453)
’’لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب مغربیوں سے خواہمخواہ ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔‘‘(صفحہ453)
’’ہم یہ کہنے کی جسارت نہیں کریں گے کہ ڈاکٹر غازیؒ ایسے حقائق سے بالکل بے خبر رہے، البتہ اتنا ضرور کہیں گے کہ انہیں مغربیوں اور مغربی فکر سے خدا واسطے کا بیر لگتا ہے۔‘‘(صفحہ456)
‘‘غالباً ڈاکٹر صاحب ’’فقط اللہ ہو اللہ ہو‘‘ کے قائل ہیں۔‘‘ (ایضاً)

مضمون نگار اپنے مضمون کا اختتام ان جملوں کے ساتھ کرتا ہے:

’’ان محاضرات کے بین السطور ڈاکٹر غازیؒ مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک ہیں۔ وہ اپنوں کی خامیوں کے بارے میں گول مول بات کرتے ہیں، لیکن غیروں پر ڈرون حملے کرتے ہیں۔ لیکن اسے اونٹ نگلنے اور مچھر چھاننے سے بھی تعبیر کیاجاسکتا ہے۔‘‘ (صفحہ467)

’’مغربیوں سے خواہ مخواہ ادھار کھائے بیٹھے ہیں‘‘، ’’مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک ہیں‘‘، ’’مغربی فکر سے خدا واسطے کا بیر لگتا ہے‘‘، ’’فقط اللہ ہو اللہ ہو کے قائل ہیں‘‘ ، ’’اونٹ نگلنے اور مچھر چھاننے ‘‘یہ ہیں وہ طنز نما القابات جو مضمون نگار اپنے ممدوح ڈاکٹر غازیؒ کوعطا کرتے ہیں۔طنز اور استہزا کے یہ نشترصرف ایسا شخص ہی محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ پر چلا سکتا ہے جو ان کی ذات، ان کے کردار اور ان کے علمی کام کے بارے میں بدترین حد تک جہالت اور ناواقفیت کا شکار ہو۔بالفاظ دیگر طنز و تعریض کا یہ انداز یا تو بدنیتی کی بنا پر اختیار کیا جاتا ہے یا پھر علم کے فقدان کی وجہ سے۔اور بدقسمتی سے مضمون نگار کے مضمون میں یہ دونوں چیزیں بار بار اپنی جھلک پیش کرتی ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ مضمون نگار بار بار اپنا وزن بڑھانے کے لیے الشریعہ میں اپنے شائع ہونے والے مضامین کو سند کے طور پر پیش کرتے ہیں۔گویا غازی صاحب ؒ کی تنقیص کے ساتھ ساتھ اپنا مثبت تعارف اور اپنے خود ساختہ علمی کام کا حوالہ دینا بھی نہیں بھولتے۔

ہم دست بستہ عرض کریں گے کہ اگر مضمون نگار اپنے سر سے ’’پروفیسر‘‘ اور ’’میاں‘‘ کی عظیم المرتبت ٹوپیاں اتار کراور انصاف کی آنکھیں کھول کر محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے افکار وکردارکا مطالعہ کرتے تو یوں ہجو گوئی اور مغالطہ آمیزی کی غیر اخلاقی حرکات سے محفوظ رہتے۔

ایسا نہ سمجھاجائے کہ ہم ’’تنقیدی کام‘‘ کی افادیت و اہمیت کے خلاف ہیں۔قطعاً نہیں۔ ہم علی وجہ البصیرت سمجھتے ہیں کہ معاشروں اور علمی کام کو درست سمت میں قائم رکھنے کے لیے ’’تنقید‘‘ اور ’’تنقید ی جائزہ‘‘ کی میزان کا قائم رکھنا ایک ناگزیر اور بنیادی ضرورت ہے۔لیکن تنقید اور تنقیص دو مخالف چیزیں ہیں۔ تنقید ایک مقدس فریضہ ہے تو تنقیص اخلاق کی پستی کے اظہار کا نام ہے۔پہلی چیزمعاشروں کو درست سمت میں قائم رکھنے والی، علمی و فکری کاموں کی اصلاح کرنے والی ہے تو دوسری چیز معاشرے کی اخلاقی خوبیوں کی جڑیں کاٹنے والی ہے۔خود ہم نے بھی اپنی ناقص بساط کی حدود میں رہتے ہوئے آج سے قریباً 15سال پہلے اپنے ہی ایک ایسے نہایت محترم راہنما کے کام کا مفصل تنقیدی جائزہ ’’تلاش منزل اور بھٹکتے کارواں‘‘ کے عنوان سے تحریر کرکے اس کی خدمت میں ارسال کیا تھا۔جسے ہم نے اپنا ’’امیر‘‘ مانا ہوا تھااور حاضر و موجود دینی و مذہبی راہنماؤں میں سے ہم اپنے اس’’امیر‘‘ سے بے حد مرعوب و متاثر بھی تھے۔اور پھر مسلسل چھ سال تک ہم اپنے تنقیدی وتجزیاتی نکات کا دلیل کے ساتھ رد یا قبول کے لیے یاددہانی کراتے رہے اور اپنے تئیں ہمارے مخلصانہ ’’تنقیدی تجزیہ ‘‘ کے جواب میں ہمارے محترم امیر کامسلسل دھتکارآمیزاصراربالآخر اپنی پسندیدہ اسلامی تنظیم سے ہمارے استعفیٰ کا سبب بن گیا۔اتنے طویل اختلاف کے باوجواس امیر کی وفات پر ہم نہایت گہرے دکھ کے احساسات سے دوچار ہوئے،اب اگر ہم ان کی وفات پر ان کے کام اور فکر کے ’’تنقیدی جائزہ‘‘ کے نام سے مضمون لکھ ماریں اور اس میں نہایت کمزور اور بودے دلائل سے ان پر پھبتیاں،طنز اور تعریض کرنے بیٹھ جائیں تو اسے اخلاق کی پستی اورذاتی انتقام تو کہا جاسکتا ہے، ایک علمی و دینی خدمت قطعاً نہیں۔

مضمون نگار سے ہم یہی بات دست بستہ عرض کریں گے کہ ’’تنقید‘‘ اور ’’تنقیدی جائزہ‘‘ کسی بھی فکر و عمل کے معروضی تجزیہ کا نام ہوتا ہے،اور اس معروضی تجزیہ کے بعد اس کام یا فکر کی خوبیوں اور خامیوں کو اسی معروضی انداز میں بیان کرنا ہی تنقیدی جائزہ کہلاتا ہے۔بلادلیل طنز و تعریض اور استہزا کی لٹھ لے کر دوسروں کو ہانکنے کی کوشش کرنا اخلاق سے گرا ہوا کام تو کہلا سکتا ہے ،اسے کسی بھی طرح ’’علم و تنقید‘‘ کی سند عطا نہیں کی جاسکتی۔

ایک طرف مضمون نگار کی یہ تہمتیں، طنز اور خرافات ہیں تودوسری طرف ذرا استاذ محترم ڈاکٹر غازی صاحبؒ کے درج ذیل پرمغز تجزیے کو ملاحظہ فرمائیے اور بتائیے کہ حضرت انعام نے اپنے مضمون میں محترم غازی صاحبؒ پر جو تہمتیں لگائی ہیں کیااس کے وہ سزاوار بھی ہیں؟ غازی صاحبؒ فرماتے ہیں:

’’مغرب اور مشرق دونوں کے تجربات کیا ہیں؟ کیا رہے ہیں؟ علوم کے میدان میں بھی، صنائع اور فنون کے میدان میں بھی، ان سب سے گہری اور ناقدانہ واقفیت دنیائے اسلام کے مستقبل کے لیے ناگزیرہے۔ مغربی تہذیب بہت جامع اور بھرپور تہذیب ہے۔ مغربی تصورات میں کچھ پہلو مفید ہیں، کچھ پہلو ہمارے لیے غیر ضروری ہیں، کچھ پہلو اسلامی شریعت اور عقیدے کی روشنی میں ناقابل قبول ہیں، کچھ پہلو شدید گمراہیوں پر مبنی ہیں۔ .....یہ گمراہیاں قانون اور سیاست کے میدان میں بھی ہیں ۔ معاشیات کے باب میں بھی ہیں، نفسیات اور اخلاقیات سے بھی ان کا تعلق ہے ، معاشرت و معیشت میں بھی بہت سی غلطیاں ہیں۔
جب تک ان تمام امور کا الگ الگ جائزہ نہیں لیاجائے گا اور ان گمراہیوں اور غلط تصورات پر عقلی تنقید کرکے ان کا برسرغلط ہونا ثابت نہیں کیاجائے گا، اس وقت تک فکر اسلامی کی تشکیل نو اور فقہ اسلامی کی تدوین نو کا عمل دور جدید کے تقاضوں کی روشنی میں مشکل کام ہے۔ ‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ546)

محترم غازی صاحبؒ کا یہ نقطہ نظر ملاحظہ کرنے کے بعدکیا کوئی سنگدل یہ کہہ سکتا ہے کہ ’’ڈاکٹرغازیؒ مغربیوں سے خواہ مخواہ ادھار کھائے بیٹھے تھے‘‘۔ اور یہ کہ ’’وہ مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک تھے۔‘‘ قارئین غور فرمائیں کہ کیا ہی اعلیٰ ، خوبصورت اور متوازن تجزیہ ہے استاذ محترم غازی صاحب کا اور کیا ہی گھٹیا اندازِ تہمت ہے ان سنگدل مضمون نگار کا۔

پھر مشرقی و مغربی دنیا کا جو پرمغزتجزیہ محترم غازی صاحبؒ کرتے ہیں اس کا 100واں حصہ بھی مضمون نگار جیسے فکری افلاس کے شکار خودساختہ قلمکاروں کے بس کی بات نہیں۔ملاحظہ فرمائیے صاحب محاضرات فرماتے ہیں:

’’اہل مغرب کے ہاں فکری یک رنگی موجود ہے۔ پورا مغرب ایک خاص رخ پر چل رہا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو رویہ فرانس اور پیرس میں محسوس ہوتا ہے وہی رویہ دوسرے مغربی ممالک میں محسوس ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو بات امریکہ میں کہی جارہی ہے وہی اٹلی میں بھی کہی جارہی ہے۔ وہی اسپین میں بھی کہی جارہی ہے۔ ان کے ہاں عزم و ارادہ پایاجاتا ہے اور پچھلے دو سو برس سے دنیائے اسلام کے بارے میں وہ اپنے عزائم اور ارادوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ اس معاملہ میں ان کے حکمرانوں اور عامۃ الناس کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ تعلیم کی سطح ان کے ہاں اتنی اونچی ہے اور ان کے اپنے مقاصد سے اتنی ہم آہنگ ہے کہ دنیائے اسلام کے ممالک میں اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ان کی معاشی خوشحالی کی بنیاد بڑی مضبوط اور دیرپا ہے۔ وہ خود کفیل ہیں، ان کے پاس بے پناہ عسکری قوت ہے، ان کے ہاں سائنسی تحقیق کے ہزاروں ادارے کائنات کے ذرہ ذرہ اور چپہ چپہ کا سراغ لگارہے ہیں اور تکریم آدم کا تصور ان کے ہاں ایک حقیقت ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ519)

ہجو گومضمون نگار کو بڑا دکھ ہے کہ ڈاکٹرغازی صاحب ؒ ’’ مغربی فکر و نظر پر ڈرون حملے کرتے ہیں‘‘۔اسی دکھ کی بنیاد پر وہ یہ بے سروپا الزام لگاتے ہیں کہ ڈاکٹر غازی ’’مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک ہیں ‘‘۔لیکن اپنے اس الزام کے ثبوت کے طور پر وہ محترم غازی صاحبؒ کا کوئی حوالہ دینے سے قاصر ہیں ۔جہاں تک ڈرون حملے کرنے کی بات ہے ،توقرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اصطلاح مضمون نگار نے ڈاکٹرغازی صاحبؒ پر طعنہ زنی کے لیے استعمال کی ہے۔اور ’’ڈرون حملہ‘‘ کا لفظ ایک ’’بے رحم، سنگدل ، ظالم ، بے حس اور یک رخا‘‘ شخصیت کاتاثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے ۔کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ دنیا کے مجبور،غریب اور بے قصور مسلمان عوام پر دنیا کا عالمی تھانیدار نہایت سنگدلی ،بے رحمی اور ظالمانہ انداز سے ڈرون طیاروں کے ذریعے سے حملہ آور ہے۔اس اصطلاح کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ ’’ڈرون حملہ‘‘ اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں بالکل غلطی نہیں کرتا اور بالکل درست اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنا کر اسے تہس نہس کرتا ہے۔اب ذرا اس مفہوم کے پس منظر میں محترم ڈاکٹر غازی صاحبؒ پر ’’مغربی فکر ونظر پر ڈرون حملے ‘‘ کے الزام پر غور فرمایے،اور پھر مضمون نگارکے دکھ اور تکلیف کو سمجھیے کہ ان کو اصل دکھ کیا ہے؟ یہی نا کہ محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی مغربی فکر کا بالکل درست تجزیہ کرکے اس کی گمراہی اور بودا پن بالکل درست انداز میں ثابت کرکے اس کے رعب اور دبدبہ کو تہس نہس کردیتے ہیں اور یوں فکری سطح پر مغربی فکر کا بالکل درست نشانہ لگاتے ہیں۔یہ ہے وہ جرم جس کی وجہ سے مضمون نگار کو ہمارے استاد محترم پر غصہ ہے اور یوں وہ غیض و غضب اور بوکھلاہٹ میں’’مغربی فکر پر ڈرون حملے‘‘ کرنے کاواویلا کرنے بیٹھ جاتے ہیں ۔جناب ہجو گو صاحب کے ’’مغربی فکر سے مخالفت برائے مخالفت کی حد تک الرجک‘‘ اور ’’خواہ مخواہ کا بیر‘‘ اور ’’ادھار کھائے بیٹھے ہیں‘‘ جیسے پست ریمارکس کے مقابلے میں محترم غازی صاحبؒ کس خوبصورت انداز سے مغربی فکر کا تجزیہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مضمون نگار جیسے نام نہاد اسلامسٹ(اندر سے مغربسٹ) پر دہشت اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔اسی دہشت اور خوف میں وہ ’’مغربی فکر پر ڈرون حملے‘‘ کی رٹ لگانا شروع کردیتے ہیں۔

مغربی فکر و کردار کا تجزیہ کرتے ہوئے صاحب محاضرات فرماتے ہیں:

’’مغرب کی پوری معیشت دن رات اسی بات کے لیے کوشاں رہتی ہے کہ انسانوں کے دل و دماغ کو نت نئی مادی اور شہوانی خواہشات کی آماج گاہ بنایاجائے۔ ان کی کمپنیاں، ان کی تجارتیں، ان کے بینک، ان کے تجارتی دفاتر، ان کے اشتہارات غرض ہر چیز کا ہدف یہ ہے کہ عام انسانوں کے لیے نئی نئی ضروریات تراشیں۔ پھر لوگو ں کو ان ضروریات کی تکمیل پر آمادہ کریں اور ایسی ایسی چیزیں ان کی بنیادی ضروریات کا حصہ بنادیں جس کے بغیر وہ انتہائی خوشی اور آرام سے زندگی بسر کررہے تھے۔ یہ تصور اسلام کی تعلیم کی رو سے ناقابل قبول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کے بنیادی احکام دراصل اس دنیا اور آخرت دونوں میں انسان کی حقیقی مصلحت کی تکمیل کے لیے دیے گئے ہیں۔ انسان کا حقیقی مفاد اور حقیقی مصلحت کیا ہے؟ یہ وہ ہے جو شریعت نے بیان کی ہے، یعنی اس دنیا میں بھی کامیابی اور آخرت میں بھی کامیابی کا حصول۔یہ فقہ کے، شریعت کے تمام احکام کا بنیادی ہدف اور بنیادی مقصد ہے۔ اس لیے شریعت کا کوئی پہلو چاہے وہ فقہ المعاملات سے تعلق رکھتا ہو، فقہ مالیات سے تعلق رکھتا ہو، معیشت و تجارت سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ اخروی مقاصد اور اہداف کو سرے سے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اسلامی شریعت اس مغربی تصور کو قبول نہیں کرتی کہ معاشی انسان سے مراد وہ زندہ وجود ہے جس کی زندگی کا مقصد وجود صرف یہ ہو کہ وہ مادی زندگی کا بہتر سے بہتر ہدف اور اعلیٰ سے اعلیٰ سطح حاصل کرے، اور حصول مال، حصول زر اور حصول مادیات کے علاوہ اس کا کوئی محرک نہ ہو۔‘‘ (محاضرات معیشت و تجارت صفحہ92)
’’سرمایہ دارانہ معیشت میں اصل ہدف ہر چیز کی بہتات اور کثرت ہے۔ پیداوار کی بہتات اور maximization، دولت کی بہتات اور maximization، منڈیوں کی وسعت اور بہتات، روزانہ نت نئی ضروریات پیدا کرنا اور غیر ضروری ضروریات کو لوگوں کے لیے ناگزیر بنادینا، یہ مغربی سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک اہم پہلو ہے۔ صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے دن رات کوشش جاری رہتی ہے۔ بچتیں بڑھانے کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بچتوں کا سود پر چلانا اس پورے عمل کی روح ہے۔ سودی کاروبار کی بہتات اور maximizationدن رات ہورہی ہے۔ پھر سود در سود ادا کرنے کے لیے پیداوار کو مزید بڑھانا ناگزیر ہے۔ جب پیداوار بڑھے گی تو پھر دولت بھی مزید بڑھے گی۔ پھر منڈیوں کی وسعت پیدا ہوگی۔ اس طرح سے یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک سرکل ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ جس کی انتہاء صرف یہ ہے کہ ناجائز ذرائع، ظلم اور اقتدار کی پشت پناہی سے کچھ لوگ اپنی دولت میں لامتناہی اضافہ کرتے چلے جائیں جیسا کہ ہورہا ہے۔ آج مغربی دنیا میں چند سو یا زیادہ سے زیادہ چند ہزار افراد پر مشتمل ایک اقلیتی طبقہ ہے جو پوری دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرتا ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ94)

قارئین کرام ! غازی صاحب ؒ کے مغربی نظام پر یہ ہیں وہ ’’ڈرون حملے‘‘جس پر جناب ہجوگومضمون نگار چیں بہ چیں ہیں۔آگے چلیے، صاحب محاضرات فرماتے ہیں:

’’ابھی چند سال پہلے ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک بڑے مغربی ملک کے چند تیل کے بڑے تاجروں نے پوری دنیا کو ایک شدید افراتفری اور تباہی کا نشانہ بنایا۔ مسلم ممالک کو تباہ و برباد کیا۔ لاکھوں انسانوں کو تہہ تیغ کیا۔ اربوں کھربوں کی جائیدادیں مسلمانوں کی تباہ کردیں۔ ملکوں کے ملک تلپٹ کردیے۔ اس لیے کہ وہ اپنے تجارتی مفاد کو یقینی بنانا چاہتے تھے۔ ان چند افراد نے اپنے تجارتی مفاد کو محفوظ کرلیا، لیکن اس کی قیمت انسانوں کو کیا ادا کرنی پڑی؟ وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ یہ نتیجہ ہے اس تصور کا جس کی وجہ سے ہر چیز کی بہتات اور کثرت دراصل معیشت کا ہدف ہے۔ یہی maximization اگر حدود سے نکل جائے اور اخلاقی دائرے سے باہر ہوجائے تو اسی کو قرآن کریم کی اصطلاح میں تکاثر کہاگیا ہے۔‘‘ (ایضاً )
’’مذہبی اعتبار سے یا اخلاقی اعتبار سے کوئی چیز اچھی ہے یا بری، مغربی معیشت کو اس سے بحث نہیں ہے۔ اگر انسانوں کی ایک تعداد اس میں دلچسپی رکھتی ہے ، اس پر پیسہ خرچ کرنا چاہتی ہے، اس کو حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو فراہم کرنا ایک تجارتی اور پیداواری سرگرمی ہے۔ظاہر ہے یہ بات اسلامی نقطہ نظر سے قابل قبول نہیں ہے۔ اسلامی معاشیات تو دراصل ایک اخلاقی معاشیات ہے، جس میں قسط یعنی حقیقی انصاف پر زور دیاگیاہے۔ اس میں احسان اور ایثار کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ ظاہر ہے احسان اور ایثار خالص مذہبی اقدار ہیں۔ آج کل کے تصورات کی رو سے تجارت کے باب میں ان کو کوئی باریابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ لیکن اسلام کی تاریخ میں تجارت اور اخلاق، تجارت اور مذہبی تصورات ہمیشہ ساتھ ساتھ چلے ہیں۔ پھر شریعت نے جگہ جگہ نصیحت یعنی خیر خواہی کی تعلیم بھی دی ہے۔ خیر خواہی تجارتی رفیق کے لیے بھی ہے، خیر خواہی کسی گاہک کے لیے بھی۔ خیر خواہی ہر انسان کے لیے اور اللہ کی ہر مخلوق کے لیے ہر وقت پیش نظر رکھنا شریعت کی تعلیم کا بنیادی حصہ ہے۔۔۔۔
خلاصہ یہ کہ اسلامی معیشت کا اخلاق اور مذہبی تصورات سے بالکلیہ الگ الگ کردینا شریعت کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے برعکس بہت سے مغربی ماہرین معاشیات کا محض خیال ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بات ان کے لیے عقیدہ اور یقین کا درجہ رکھتی ہے کہ معاشی ترقی اور مذہبی تصورات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے اپنی تمام معاشی پالیسیاں اور تحقیقات اسی بنیاد پر مرتب و مدون کی ہیں۔ چنانچہ اگر یہ طے کرلیاجائے کہ مذہبی تصورات اور اقتصادی مسائل ایک ساتھ نہیں چل سکتے تو اس کے نتیجے میں بہت سے سوالات اور مسائل پیدا ہوں گے۔ ربا کے ناگزیر ہونے کا سوال پیدا ہوگا۔ غرر پر اصرار، future salesکی افادیت اور ناگزیر ہونا، کاغذی کرنسی، قرض پر مبنی تجارت اور لین کی تمام صورتیں، یہ سب وہ معاملات ہیں جن کا واحد مقصد دولت کمانا اور دولت میں مسلسل اضافہ کرنا ہے۔ دوسری طرف مذہبی تعلیمات اور اخلاقی اعتبارات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سب امور ناپسندیدہ اور ناقابل قبول قرار پاتے ہیں۔
جدید مغربی معاشیات نے محض اخلاقی یا نظری سوالات ہی نہیں اٹھائے ہیں۔ اس نے محض مذہبی مسائل ہی پیدا نہیں کیے، بلکہ اس کے نتیجے میں بہت سے ایسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں جو خود معاشیات کے اہم مسائل قرار پاتے ہیں۔ اور ان کے حل پر دنیا کے مختلف ممالک میں، مختلف علاقوں میں توجہ دی جارہی ہے۔ ان مسائل کا تذکرہ کرنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جدید مغربی معاشیات ہی اب سوویت یونین کے زوال کے بعد دنیائے مغرب بلکہ بڑی حد تک پوری دنیا میں اب واحد معاشی نظام ہے۔ اس جدید معاشی نظام میں اصل حیثیت سرمایہ دارانہ تصورات کو حاصل ہے جن کی اٹھان خالص استحصالی ہے۔‘‘(محاضرات معیشت و تجارت صفحہ127-128)
’’یہ عدم توازن جو آج مشرق و مغرب میں پایا جاتا ہے ، یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ اس معاشی نظام کے لازمی نتائج ہیں جو آج دنیا میں قائم ہے اور جس کے تحفظ اور دفاع کے لیے مغربی دنیا سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔آج فری مارکیٹ اکانومی اور سرمایہ دارانہ معیشت مغربی دنیا کے لیے دین و ایمان کا درجہ رکھتے ہیں اور مغربی دنیا اس کے لیے اسی طرح کی قربانی دینے کو تیار ہے جیسا کہ مخلص مسلمان دین کے تحفظ کے لیے قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ بلکہ آج مسلمانوں میں دین کے لیے قربانی دینے کا جذبہ کم ہوگیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مغربی دنیا میں اپنے اس نظام کے تحفظ کا احساس دن بدن شدید ہوتا جارہا ہے۔ وہ اس نظام کے تحفظ کے لیے ملکوں کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انسانوں کی نسلوں کو برباد کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔ ملکوں کے وسائل پر قبضے کے لیے فوجیں اتارنے میں اور بمباری کرنے میں ان کو کوئی تامل نہیں ہے۔ اس سے یہ اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ مغربی دنیا اپنے اس نظام کے تحفظ کے لیے کہاں تک جاسکتی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ134)
’’بے روزگاری ترقی پذیر معیشتوں کا ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔ بے روزگاری کھلی بھی ہوتی ہے اور چھپی بھی ہوتی ہے۔ کھلی بے روزگاری تو سب کو نظر آجاتی ہے، لیکن چھپی بے روزگاری بہت سے لوگوں کو نظر نہیں آتی۔یہ کھلی اور چھپی بے روزگاری جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے یہ بھی مغرب کے معاشی نظام کا لازمی تقاضا ہے۔ مغربی ممالک میں آئے دن بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی شکایتیں سننے میں آتی ہیں۔ لاکھوں ملازمین کو بڑی بڑی کمپنیاں لے آف کردیتی ہیں، جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ایسا کیوں کرتی ہیں؟ وہ اس لیے کرتی ہیں کہ ان کو اچانک کسی ایسے مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ملازمین کی اتنی بڑی تعداد کا بوجھ نہیں اٹھاسکتیں۔
ایسا اچانک مالیاتی بحران کیوں پیدا ہوتا ہے؟ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کا سارا کاروبار زرغیر حقیقی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ محض کاغذوں میں قرضے کی رقم بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کاغذوں میں آمدنی اور نفع کی رقم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ حقیقی پیداوار یا حقیقی اصول یا موجودات اور اثاثے بہت کم وجود میں آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب تک غبارے میں گنجائش ہوتی ہے ہوا بھرتی رہتی ہے۔ بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس میں ذرا سا بھی سوراخ ہوجائے تو یہ بہت چھوٹا سا سوراخ اس پوری ہوا کو بہت جلد خارج کردیتا ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ136)

مضمون نگار کا الزام ہے کہ صاحب محاضرات ’’اپنوں کے بارے میں گول مول بات کرتے ہیں‘‘۔آئیے، ذرا اس دعوے کا بھی محاضرات معیشت و تجارت کی روشنی میں جائزہ لیتے چلیں:

’’یہ تصوربعض مشرقی ممالک میں اور کچھ مسلم ممالک میں بہت مقبول ہوا۔ کمیونزم تو مسلم ممالک میں زیادہ مقبول نہیں ہوا۔ لیکن سوشلزم کو بعض مسلم حکمرانوں نے بہت پسند کیا۔ کسی معاشی بہبود کی خاطر کم، اقتدار اور استبداد کی خاطر زیادہ۔ انہوں نے دیکھا کہ جن جن ملکوں میں کمیونزم آیا ہے اور وسائل پیداوار پر وہاں ریاست مسلط ہوگئی ہے ان ملکوں میں حکمراں طبقہ کی مخالفت میں کوئی بولنے والا نہیں رہا اور حکمران مطلق العنان اور مستبد ہوگئے ہیں۔یہ منظر بعض مسلمان ڈکٹیٹروں کو بہت پسند آیا اور انہوں نے سوشلزم کے حق میں پروپیگنڈے سے فائدہ اٹھا کر کلی اقتدار اور استبداد کا رویہ اپنایا۔ وسائل پیداوار پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ قوم کی معاشی بہبود کے لیے تو وہ کچھ نہ کرسکے۔ کسی سوشلسٹ مسلم ملک نے اپنے عوام کو وہ عدل و انصاف نہیں دیا۔ وہ وسائل اور سہولتیں فراہم نہیں کیں جن کی فراہمی کا دعویٰ کرکے وہ اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ ہاں استبداد اور ڈکٹیٹرشپ کے ایک سے ایک بڑھ کر نمونے ان مسلم ممالک میں سامنے آئے جہاں سوشلزم کے نام پر کچھ افراد اقتدار پر قابض ہوئے۔‘‘(ایضاً صفحہ95)
’’پاکستان میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔بعض ایسے ذمیندار جن کو انگریزوں نے سینکڑوں، ہزاروں ایکڑ کے حساب سے زمینیں دے دی تھیں۔ آج وہ زمینیں ان میں سے بعض کے خاندانوں کے پاس موجود ہیں۔ لیکن وہ ان کو خود آباد نہیں کرسکتے، کسی کو دینا بھی نہیں چاہتے۔ حکومتوں نے ان سے یہ زمینیں واپس لینے میں کوتاہی کی۔ مختلف سیاسی اور غیر سیاسی مفادات کی وجہ سے اس طبقے کو مزید نوازا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی وہ زرعی اراضی جو پاکستان کی موجودہ آبادی سے کئی گنا آبادی کے لیے کافی ہے اور ذرا سی توجہ سے اس سے زیادہ کے لیے بھی کافی ہوسکتی ہے وہ موجودہ آبادی کے لیے بھی بعض اوقات کافی نہیں ثابت ہوتی اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ پیداوار میں کمی آجاتی ہے۔ اور بعض بہت اہم زرعی اجناس کی پیداوار بیرون ملک سے منگوانی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ذرائع پیداوار کا استعمال نامکمل ہے اور وسائل کی تقسیم غیرعادلانہ ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ 132)
’’مزید برآں ہمارے ملک میں خاص طور پر جاگیرداری کا نظام اس غیر منصفانہ تقسیم دولت اور غیر عادلانہ تقسیم وسائل کو پختہ سے پختہ تر کرنے کا سبب بنا ہے۔ سرمایہ داروں یا جاگیرداروں کے بعض ممالک میں الگ الگ طبقے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بیشتر صورتوں میں یہ دونوں ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انگریزوں نے اپنے وافادر سرداروں اور بااثر لوگوں کو زمینیں دے کر زمینداروں کا ایک طبقہ پیدا کیا۔ اس زمیندار طبقے نے ملک کے زرعی وسائل کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ پھر ان زرعی وسائل سے کام لے کر صنعتیں قائم کیں۔ ان صنعتوں سے کام لے کر بڑی بڑی تجارتیں اپنے کنٹرول میں کیں۔یوں ملک کے بڑے بڑے تجارتی ادارے ان کے انتظام میں آگئے۔ اس معاشی قوت سے کام لے کر انہوں نے سیاسی قوت بھی حاصل کرلی۔ اس طبقے کے بہت سے لوگ سول بیوروکریسی میں بھی شامل ہوئے اور اب صورتحال یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ طبقہ جس کو انگریز نے اپنے استعماری مفادات کی خاطر وسائل سے نوازا تھا، جس کی بدولت چار ہزار انگریز پورے برصغیر پر حکومت کرتے رہے۔ وہ طبقہ اب پاکستان کا مستقل طور پر مالک بن چکا ہے۔ وہ طبقہ اب پاکستان کا مستقل طور پر حاکم بھی بن گیا ہے۔ موجودہ پاکستان کے علاقے میں جو انگریز متعین تھے ان کی تعداد چار پانچ سو سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ چار پانچ سو انگریز جوساڑھے تین لاکھ مربع میل پر حاکم تھے، اسوقت تین ساڑھے تین کروڑ آبادی کو کنٹرول کررہے تھے۔ وہ اسی وفادار اور جاگیردار طبقہ کے زور پر کررہے تھے۔‘‘(ایضاًص141)

کیا ہجوگوصاحب بتاسکتے ہیں کہ ان سطور میں غازی صاحب ؒ نے اپنوں کے بارے میں جوتجزیہ کیا ہے، وہ ’’گول مول‘‘ ہے۔ استاذ محترم ان اہل علم میں سے تھے جنہیں مائیں صدیوں بعد پیدا کرتی ہیں۔اپنے ہوں یا پرائے، ان کی رائے اور تجزیہ بے لاگ، غیر جانبدارانہ، مثبت ، تعمیری اور گہرے و پختہ علم و فکر اور تجربے کا حامل ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک اور مقام پر محترم غازی صاحب ’’اپنوں‘‘ کے بارے میں ایسی ہی بے لاگ اور معروضی رائے کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:

’’اس کے مقابلے میں آپ دیکھیں گے کہ دنیائے اسلام کا کوئی واضح نصب العین اور کوئی متعین ہدف نہیں ہے۔ عامۃ الناس کے عزائم اور خواہشات میں جو ہرجگہ یکساں ہیں اور حکمرانوں کے عزائم اور خیالات میں کوئی توافق اور ہم آہنگی نہیں۔ عامۃ الناس کی خواہشات، آرزوئیں اور امیدیں انڈونیشیا سے مراکش تک ایک جیسی ہیں۔ لیکن حکومتوں کا ، سیاسی قیادتوں کا اور فکری اور سرکاری سیاسی اور اقتصادی راہنماؤں کا کوئی ہدف نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فکری الجھنیں عام ہیں۔ کوئی عزم و ارادہ کسی سطح پر موجود نہیں ہے۔ آپس میں بدترین اختلافات ہیں، تعلیم کی سطح بہت پست ہے، معاشی بنیادیں کمزور ہیں۔ دنیائے اسلام میں جو ممالک بہت خوشحال نظر آتے ہیں، ان کی خوشحالی کی بنیاد بھی کوئی مضبوط اور دیرپا نہیں ہے۔ بہت سی صورتوں میں یہ ظاہری خوشحالی ہے اور بعض بااثر مغربی طاقتوں کی مبنی برمصلحت سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ اس خوشحالی کا کنٹرول اور سوئچ مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ سوئچ آف کردیاجائے تو ساری معاشی چکاچوند آن واحد میں ختم ہوجائے گی۔ مسلم ممالک کا دوسروں پر انحصار ہے، اکثر مسلم ممالک عسکری اور سائنسی طور پر کمزور ہیں۔ بے توقیری آدم کے نمونے ہر مسلم ممالک میں کثرت سے نظر آتے ہیں۔ یہ فرق اس وقت ہمارے اور دنیائے مغرب کے درمیان قائم ہے۔ ان حالات میں کیا دنیائے اسلام اور دنیائے مغرب میں مقابلہ برابر کا ہے؟ ظاہر ہے کہ جواب نفی میں ہے۔‘‘(محاضرات شریعت صفحہ 519۔520)

نہایت متوازن فکر و عمل کے حامل ،علم و فکر کی بلندیوں کو چھونے والے ایک نہایت محترم استاد کی وفات کے موقع پر مضمون نگار کی طرف سے کی جانے والی ہجو گوئی اور فکری کجی پر ہمارے لیے خاموش ہونا ناممکن ہوگیاتھا۔ہمیں افسوس ہے کہ مضمون نگار کے جملوں کی ترتیب ،الفاظ و اصطلاحات کے استعمال اور فکری تجزیے کے مطالعے کے نتیجے میں ہم ان کے بارے میں وہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہوئے جس کا اظہار سابقہ سطور میں بہ تکرار ہوا ہے۔

آراء و افکار