توہین رسالت کے مسئلے پر ایک مراسلت

محمد عمار خان ناصر

(گزشتہ دنوں توہین رسالت کی سزا سے متعلق بعض اہل علم ودانش کے ساتھ مراسلت میں راقم کو اس کے بعض اہم پہلووں کی توضیح کا موقع ملا جسے نقد ونظر کے لیے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


(۱)

مکرمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کے اٹھائے ہوئے سوالات کے حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں:

۱۔ آپ کے پہلے نکتے کا حاصل میرے فہم کے مطابق یہ ہے کہ عہد رسالت میں مختلف افراد کو توہین رسالت کی جو سزا دی گئی، اس کی علت محض توہین نہیں بلکہ قبول حق سے انکار بھی تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا براہ راست مخاطب ہونے کی وجہ سے، پہلے ہی سزاے موت کے مستحق تھے جبکہ ان کی طرف سے توہین وتنقیص کے رویے نے ان کے اس انجام کو مزید موکد کر دیا تھا۔ مجھے اس احتمال میں زیادہ وزن دکھائی نہیں دیتا۔ پیغمبر کے زمانے میں خود پیغمبر کے سامنے سرکشی اور عناد کا رویہ اختیار کرنا یقیناًمعاملے کو زیادہ سنگین بنا دیتا ہے، لیکن اصل جرم جس پر سزاے موت دی گئی، وہ ’محاربہ‘ اور ’فساد فی الارض‘ تھا اور اس کے لیے بیان کیا جانے والا ضابطہ تعزیرات پیغمبر کے ساتھ خاص نہیں بلکہ شریعت کا ایک عام قانون ہے۔ مسلمانوں کی ریاست میں اگر کوئی غیر مسلم ان کے پیغمبر یا مذہب کے بارے میں سرکشی کے انداز میں علانیہ توہین وتنقیص کا رویہ اختیار کرتا اور اس پر مصر رہتا ہے تو وہ یقینی طور پر محاربہ اور فساد فی الارض کا مرتکب ہے جس پر اسے نشان عبرت بنا دینا واضح طور پر آیت محاربہ کا تقاضا ہے۔

۲۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس جرم پر سزا دینے کے لیے عدل وانصاف کے سارے تقاضے پورے ہونے چاہییں اور باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بغیر کوئی اقدام نہیں کیا جانا چاہیے تو یہ بات بالکل درست ہے اور میں اس پر الگ سے ایک تحریر لکھ رہا ہوں جو امید ہے کہ ان شاء اللہ جلد مکمل ہو جائے گی۔ اسی طرح سزاے موت کو لازم قرار دینے کے بجائے قانون میں متبادل سزاؤں کی گنجائش رکھے جانے پر بھی میں اپنا نقطہ نظر ’’حدود وتعزیرات‘‘ میں واضح کر چکا ہوں۔ میں اس باب میں احناف کے نقطہ نظر کو درست سمجھتا ہوں جو عام حالات میں اس جرم کو مستوجب قتل نہیں سمجھتے۔ واللہ اعلم


(۲)

برادرم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے مزاج بخیر ہوں گے اور آپ دلچسپی سے تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے۔ 

توہین رسالت اور اس پر مواخذہ سے متعلق آپ نے جو سوالات لکھے ہیں، اپنے ناقص فہم کے مطابق ان کا جواب تحریر کر رہا ہوں۔

پہلے سوال سے متعلق عرض ہے کہ کسی قول یا عمل کا فی نفسہ خدا یا اس کے کسی پیغمبر یا کسی بھی برگزیدہ ہستی کی توہین وتنقیص پر مبنی یا اس کو مستلزم ہونا ایک بات ہے اور باقاعدہ توہین کی نیت سے اور خدا یا اس کے رسول یا کسی بھی معتبر شخصیت کے معتقدین کے جذبات کو مجروح کرنے کے ارادے سے ایسا کوئی فعل انجام دینا دوسری بات۔ دنیا میں مذہبی عقیدوں کا اختلاف بھی موجود ہے اور مذہبی شخصیات سے متعلق مختلف آرا رکھنے والے گروہ بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کے خیالات دوسرے گروہ کے عقیدے کے مطابق توہین وتنقیص کو بھی یقیناًمستلزم ہیں، چنانچہ سیدنا مسیح کو الوہیت کے منصب پر فائز کرنا مسلمانوں کے نزدیک خدا کی شان کے منافی اور اس کی تنقیص کو مستلزم ہے جبکہ سیدنا مسیح سے الوہی صفات کی نفی کر کے انھیں ایک عام انسان تصور کرنا مسیحیوں کے نزدیک سیدنا مسیح کی تنقیص شان کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تصریح فرمائی ہے کہ وہ اس دنیا میں اس نوعیت کے مذہبی اختلافات کو ختم نہیں کرنا چاہتا اور اسی لیے اس نے شرک تک کے وجود کو گوارا فرمایا ہے۔ ہر گروہ کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ جس عقیدے کو درست سمجھتا ہے، اس کو بیان کرے اور جس عقیدے کو غلط سمجھتا ہے، اس کی تردید کرے اور ہر گروہ دوسرے گروہ کے حق کا احترام کرتے ہوئے اپنے ا س حق کو استعمال کرے، چنانچہ خود مسلمان معاشروں میں یہودی اور مسیحی علما اسلام، قرآن اور پیغمبر خدا پر ایسے اعتراضات کرتے رہے ہیں جس سے ان کے خیال میں ہمارے دین کا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ علماے اسلام نے ایسے اعتراضات کو مذہبی آزادئ رائے کے تناظر میں دیکھتے ہوئے کبھی اس پر قدغن لگانے کی کوشش نہیں کی بلکہ استدلال کا جواب استدلال ہی کے میدان میں دیا ہے۔

جس چیز کو شریعت میں دنیوی قانون کے اعتبار سے قابل مواخذہ کہا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اپنے عقیدے کی وضاحت اور مخالف عقیدے کی تردید کے لیے ناگزیر اسلوب بیان سے تجاوز کر کے ایسا طرز بیان اختیار کرے جس کا مقصد اصلاً تبلیغ نہیں بلکہ توہین وتنقیص ہو اور اس میں مخالف گروہ کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے کے بجائے محض اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا مقصود ہو۔ شیعہ حضرات اگر خلفاے ثلاثہ کی خلافت کو مبنی برحق نہیں سمجھتے تو وہ اپنے اعتراضات علمی دلائل کے ساتھ بیان کر سکتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہے ہیں اور علماے اہل سنت نے بھی ان کا یہ حق تبلیغ تسلیم کرتے ہوئے دلائل کا جواب دلائل ہی سے دیا ہے۔ اس کے برعکس ان کے واعظین اور ذاکرین جس لب ولہجے اور جس اسلوب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، وہ تبلیغ کے دائرے میں نہیں بلکہ توہین کے دائرے میں آتا ہے اور قانونی طور پر سزا کا محل یہی دائرہ ہے۔ عہد صحابہ میں بھی جن غیر مسلم گروہوں سے مسلمانوں نے معاہدہ کیا، ان کے ساتھ یہی شرط طے کی گئی کہ وہ ’’مسلمانوں کے سامنے‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نامناسب انداز میں نہیں کریں گے۔ حاصل یہ کہ کسی ایک گروہ کے عقیدے کا دوسرے گروہ کے عقیدے کی رو سے توہین وتنقیص پر مبنی ہونا الگ مسئلہ ہے اور باقاعدہ توہین وتنقیص کی نیت اور ارادے سے ایسا طرز بیان اختیار کرنا جس سے دوسرے گروہ کے جذبات مجروح ہوں، ایک الگ بات ہے۔ ان دونوں باتوں میں فرق ملحوظ رکھا جائے تو میرے خیال میں وہ اشکال پیدا نہیں ہوتا جو آپ نے ذکر کیا ہے۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح عبد اللہ بن ابی پر بھی توہین رسالت کی سزا نافذ نہیں کی تو اس کی وجہ، جیسا کہ میں نے اپنی کتاب میں بھی واضح کیا ہے، یہ ہے کہ یہ سزا دراصل ایک تعزیری سزا ہے جس میں جرم کی نوعیت، اس کے اثرات، مجرم کی حیثیت اور اسے سزا دینے سے رونما ہونے والے ممکنہ سیاسی وسماجی اثرات، ان سب چیزوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی چیز کو ملحوظ رکھتے ہوئے بہت سے مجرموں کو نظر انداز کرنے یا ان سے درگزر کرنے کا طریقہ اختیار فرمایا جبکہ بہت سے لوگوں پر سزا نافذ کرنے کو قرین مصلحت دیکھتے ہوئے سزا نافذ فرما دی۔ یہ حکمت آج بھی ملحوظ رکھنی چاہیے۔ مجھے ان لوگوں کی رائے سے اتفاق نہیں ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی توہین رسالت کے ہر واقعے سے ایک ہی لگے بندھے قانونی طریقے سے نمٹنے کا پابند ہے اور یہ کہ اس معاملے میں اسلام اور مسلمانوں کی وسیع تر سیاسی اور دعوتی مصلحتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ میرے نزدیک اس معاملے میں فقہاے احناف کا موقف ہی ان بہت سی الجھنوں کا قابل عمل حل پیش کرتا ہے جو آج امت مسلمہ کو درپیش ہیں۔ ہمارے ہاں بھی جنرل ضیاء الحق صاحب کے دور میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے قانون میں اس جرم پر متبادل سزا کی گنجائش موجود تھی جسے بعد میں ختم کر کے متعین طور پر موت ہی کی سزا کو لازم کر دیا گیا۔ یہ ایک بڑی قانونی غلطی تھی اور جلد یا بدیر ہمیں نہ صرف قانون کی سطح پر احناف کے موقف کو وزن دینا ہوگا بلکہ عام سماجی سطح پر بھی لوگوں کو اس کی حکمت سے روشناس کرانا ہوگا۔ 

امید ہے کہ یہ گزارشات زیر بحث سوالات کے حوالے سے میرا مدعا واضح کرنے میں مدد دیں گی۔ بصورت دیگر آپ کی طرف سے مزید تنقیحی سوالات کو خوش آمدید کہوں گا۔ بے حد شکریہ!


(۳)

برادرم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ نے لکھا ہے کہ کسی شخصیت یا عقیدے کی توہین اور اس پر علمی وعقلی تنقید میں فرق کرنا بعض صورتوں میں عملی اعتبار سے پیچیدہ بن جاتا ہے۔ آپ کی بات درست ہے۔ اپنے عقیدے کی تبلیغ، مخالف عقیدے پر تنقید اور اس کی توہین، ان تینوں میں کچھ چیزیں یقیناًمشترک ہیں، لیکن اصولی طور پر یہ بات قابل فہم ہے کہ کچھ چیزیں ان کے مابین فارق بھی ہیں۔ چنانچہ کسی مخصوص فعل کے بارے میں یہ طے کرنے کے ضمن میں اختلاف کی گنجائش یقیناًرہے گی کہ وہ تنقید کے زمرے میں آتا ہے یا توہین کے۔ کسی بھی اخلاقی یا قانونی اصول کے عملی اطلاق میں ایسے اختلاف سے کسی طرح بچا نہیں جا سکتا۔ اسی وجہ سے فصل نزاع کے لیے ہر مہذب معاشرہ ایسے معاملات میں فریقین میں سے کسی کو ازخود قضیہ نمٹانے کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ قانون اور عدالت کی صور ت میں (مفروضہ طور پر) ایک غیر جانب دار ثالث کی طرف رجوع کرنے کا پابند بناتا ہے۔ ضروری نہیں کہ عدالت کا فیصلہ بھی حقیقی طور پر انصاف پر مبنی ہو، تاہم اس دنیا میں اس سے ہٹ کر کوئی تدبیر اختیار کرنا ممکن نہیں اور شریعت یا کوئی بھی قانون دراصل انسانی عقل وتدبیر کی اس نارسائی کو پہلے دن سے مان کر آگے چلتا ہے۔

اسی طرح آپ کی یہ بات بھی درست ہے کہ بعض صورتوں میں ایک گروہ اپنے عقیدے کے لحاظ سے کسی ایسے اقدام کو بالکل جائز تصور کرتا ہے جو دوسرے گروہ کے نزدیک اس کے مذہب کی توہین شمار ہوتا ہو۔ اس ضمن میں محمود غزنوی کے بجائے زیادہ واضح مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اقدامات کی ہے جو آپ نے کعبہ میں موجود بتوں کو توڑ دینے اور جزیرۂ عرب میں ہر جگہ مشرکین کی عبادت گاہوں، بت خانوں اور استھانوں کو منہدم کرنے کے سلسلے میں فرمائے۔ اس صورت میں دراصل دو اخلاقی اصول باہم مزاحم ہوتے ہیں: ایک دوسرے مذہبی گروہوں کی آزادئ رائے کا احترام اور دوسرا حکم الٰہی کی تعمیل اور منشاے خداوندی کی تکمیل۔ کوئی بھی مذہبی گروہ جب کسی اخلاقی اصول کی پابندی قبول کرتا ہے تو محض دوسرے مذہبی گروہوں کے جذبات کی رعایت کی خاطر نہیں بلکہ بنیادی طور پر خود اپنی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں قبول کرتا ہے، چنانچہ جہاں اس کی مذہبی تعلیمات اسے رواداری کا درس دیتی ہیں، وہاں وہ رواداری اختیار کرتا ہے اور جہاں وہ اس سے اس کے برعکس کوئی تقاضا کرتی ہیں، وہاں وہ اس تقاضے کو بجا لاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی بھی بے گناہ انسان کی جان لینا خود شریعت کے حکم کی رو سے حرام ہے، لیکن اگر اللہ کا حکم ہو تو ابراہیم علیہ السلام اپنے معصوم بیٹے کی اور خضر علیہ السلام راہ چلتے ایک بے گناہ لڑکے کی جان لینے کے پابند ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مذہب کے دائرے میں تمام اخلاقی اصولوں میں برتر اصول (overriding principle) کی حیثیت صرف اطاعت کو حاصل ہے۔ ایسی صورت میں جو گروہ receiving end پر ہو، اسے اپنے عقیدے سے دیانت دارانہ وابستگی کا ثبوت دینے کے لیے اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ دنیا اللہ نے آزمائش کے لیے بنائی ہے اور اپنی حکمت کے تحت اس میں اس نوعیت کے بہت سے تضادات رکھے ہیں۔ ہمارے لیے اسے اسی طرح قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

آپ نے لکھا ہے کہ اگر توہین رسالت پر سزا حرابہ اور فساد فی الارض کے اصول کے تحت آتی ہے تو پھر اس میں معافی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اس صورت میں یہ ’حد‘ ہوگی اور اس میں معافی نہیں ہو سکتی۔ میری رائے میں اول تو یہی بات درست نہیں کہ ’حد‘ میں تخفیف یا معافی نہیں ہو سکتی۔ میں اپنی کتاب ’’حدود وتعزیرات‘‘ کے ایک مستقل باب میں تفصیل سے واضح کر چکا ہوں کہ اگر کوئی معقول شرعی حکمت تخفیف یا معافی کا تقاضا کرتی ہو تو ایسا کیا جا سکتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ ہدایت فرمائی کہ اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر جنگ کے لیے نکلا ہو اور لشکر میں شامل کوئی آدمی چوری کر لے تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ فقہا نے اس کی وجہ ’مفسدہ‘ پیدا ہونے کا اندیشہ بیان کی ہے۔ ابن ابی کا مواخذہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے نہیں کیا کہ ایک تو انصار کے ایک گروہ میں، جن کا وہ سردار تھا، اس سے منفی جذبات پیدا ہوں گے اور دوسرے، لوگوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی آیت محاربہ کا اسلوب یہ بتاتا ہے کہ شارع یہاں سزا کے لیے حالات کے لحاظ سے مختلف صورتوں کے انتخاب کو قاضی یا حاکم کی صواب دید پر چھوڑنا چاہتا ہے۔ میرے نزدیک اسی اسلوب سے یہ گنجائش پیدا ہوتی ہے کہ ریاست کے خلاف سیاسی نوعیت کے جرائم کا مواخذہ کرتے ہوئے سیاسی ومعاشرتی مصلحتوں اور مواخذہ یا درگزر، دونوں کے نتائج واثرات کے تناسب کو ملحوظ رکھا جائے۔


(۴)

(بعض اہل دانش نے یہ نکتہ اٹھایا کہ بعض روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعے میں توہین رسالت کے ایک عادی مجرم کو قتل کر دینے پر قاتل کو بری کر دیا، حالانکہ وہاں اپنے دفاع کے لیے نہ مقتول موجود تھا اور نہ الزام کی صحت پر کوئی گواہ، جبکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کی جا سکتی۔ اس کے جواب میں یہ مختصر خط لکھا گیا۔)

مکرمی! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

آپ کے تبصرے کی بابت عرض ہے کہ:

۱۔ کسی روایت پر اگر بنیادی استدلال کا مدار ہو تو اس کو یقیناًفنی صحت کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن تائیدی طور پر پیش کی جانے والی روایات کے لیے یہ ضروری نہیں۔

۲۔ یہ اشکال مذکورہ واقعے کی پوری تفصیلات کے روایت میں بیان نہ ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں عقلی وقیاسی طور پر یہ فرض کرنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لازماً انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ روایت کے مجمل ہونے کی صورت میں اس کے خلا کو علمی وعقلی اصولوں کی روشنی میں بھرنا چاہیے، نہ کہ اسے بالکل ناقابل استدلال قرار دے دینا چاہیے۔

مکاتیب