تصویر کے بارے میں ہمارا موقف اور پالیسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ کے مارچ کے شمارے میں شائع شدہ مولانا سختی داد خوستی کے مکتوب اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں خصوصی اشاعت کی ٹائٹل پر ان کی تصویر کے حوالے سے بعض دوستوں نے تصویر کے بارے میں میرا ذاتی موقف دریافت کیا ہے۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ میرا ذاتی رجحان اس مسئلے میں حضرت امام محمدؒ کے اس قول کی طرف ہے جو انھوں نے ’’موطا امام محمد‘‘ میں ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے کہ:

عن عبد اللہ بن عتبۃ بن مسعود انہ دخل علی ابی طلحۃ الانصاری یعودہ فوجد عندہ سہل بن حنیف فدعا ابو طلحۃ انسانا ینزع نمطا تحتہ فقال سہل بن حنیف لم تنزعہ؟ قال لان فیہ تصاویر وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیہا ما قد علمت، قال سہل: اولم یقل: الا ما کان رقما فی ثوب؟ قال بلی ولکنہ اطیب لنفسی۔
قال محمد: وبہذا ناخذ، ماکان فیہ من تصاویر من بساط او فراش یفرش او وسادۃ فلا باس بذلک، انما یکرہ من ذلک فی الستر وما ینصب نصبا وہو قول ابی حنیفۃ وعامۃ فقہاء نا۔
’’حضرت عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ وہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر گئے تاکہ ان کی عیادت کر سکیں تو وہاں حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری نے ایک شخص کو بلایا تاکہ وہ ان کے نیچے سے بچھونے کو نکال دے۔ حضرت سہل نے پوچھا کہ یہ بچھونا کیوں اپنے نیچے سے نکلوا رہے ہیں؟ ابو طلحہ نے فرمایا، اس لیے کہ اس میں تصاویر ہیں اور ان تصاویر کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ تمھیں معلوم ہے۔ حضرت سہل نے فرمایا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’مگر وہ تصویر جو کپڑے پر نقش ہو‘‘؟ (یعنی ایسی تصویر حرمت مستثنیٰ ہے)۔ حضرت ابو طلحہ نے فرمایا کہ یہ بات درست ہے، مگر میں اپنے لیے اسی کو پسند کرتا ہوں۔

امام محمد فرماتے ہیں کہ ہم اسی حدیث پر عمل کرتے ہیں، اس لیے جو تصویر بستر پر ہو یا چٹائی پر ہو یا تکیہ پر ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ پردے پر یا سامنے کھڑی کی جانے والی تصویر مکروہ ہے اور حضرت امام ابوحنیفہؒ اور ہمارے جمہور فقہا کا موقف بھی یہی ہے۔‘‘

لیکن چونکہ پاکستان کے جمہور علماء احناف کا رجحان تصویر کے مطلقاً عدم جوازکی طرف ہے، اس لیے جمہور کے اس موقف کا احترام کرتے ہوئے ’الشریعہ‘ میں تصویر کی اشاعت کا سلسلہ ہم نے ترک کر رکھا ہے۔ ہماری اس عمومی پالیسی کے خلاف محترم ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی تصویر کی اشاعت جن قارئین کو ناگوار گزری ہے، ہم ان سے معذرت خواہ ہیں۔

آراء و افکار