مولانا محمد اعظمؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم تعلیمات مولانا محمد اعظمؒ کی اچانک وفات پر بے حد صدمہ ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے شہر کے بزرگ علماء کرام میں سے تھے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ معتدل اور متوازن مزاج کے بزرگ تھے اور انھیں شہر کے تمام مکاتب فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ میرا ان سے کم وبیش ربع صدی تک دینی تحریکات کے حوالے سے تعلق رہا۔ جب بھی انھیں کسی اجتماعی مسئلے کی طرف توجہ کی دعوت دی گئی، انھوں نے بھرپور توجہ سے نوازا، حوصلہ افزائی کی اور تعاون فرمایا۔ وہ بھی ہر اہم موقع پر یاد کرتے تھے اور ہماری حاضری اور شرکت پر خوش ہوتے تھے۔ ضلعی امن کمیٹی میں ان کے ساتھ رفاقت رہی۔ حق کے اظہار کے ساتھ ساتھ متنازعہ معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ الجھانے کا ذوق رکھتے تھے اور اس سلسلے میں مکمل تعاون کرتے تھے۔

بیسیوں پبلک اجتماعات میں ان کے ہمراہ شرکت کا موقع ملا۔ شعلہ نوا خطیب تھے اور ان کی گفتگو، جوش وجذبہ کے ساتھ دلائل سے مزین ہوتی تھی۔ ابھی چند روز قبل ۲۶؍ فروری کو ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام ڈویژنل سیرت کانفرنس میں ہم اکٹھے شریک ہوئے اور کافی دیر ہم ایک ساتھ بیٹھے رہے۔ اہل حدیث علماء کرام میں حضرت مولانا حکیم عبد الرحمن آزاد رحمہ اللہ تعالیٰ کے بعد دینی تحریکات کے بارے میں ہم زیادہ تر انھی سے رجوع کرتے تھے اور انھوں نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ 

میں ذاتی طو رپر ان کی وفات پر ایک بزرگ دوست اور گرم جوش ساتھی کی جدائی کا غم محسوس کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پس ماندگان، متوسلین، تلامذہ اور احباب کو صبر وحوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین


اخبار و آثار

(اپریل ۲۰۱۱ء)

Flag Counter