چند بزرگ اہل علم کا سانحہ وفات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۰ ستمبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقدہ تعزیتی نشست میں ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کی گفتگو۔)


نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد!

حدیث مبارک میں ہے کہ اذکروا موتاکم بالخیر، جانے والوں کا اچھے انداز میں تذکرہ کیا کرو۔ قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ بزرگوں، انبیاے کرام اور نیک لوگوں کے تذ کرہ پر مشتمل ہے ۔اس تذکرہ سے مقصود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ دلانا، تسلی دینا اور شاہراہ حیات میں رہنمائی کرنا ہے۔ گویا نیک لوگوں کا تذکرہ کرنے سے انسان کو تسکین، حوصلہ اور رہنمائی ملتی ہے، اسی لیے ہم اپنے بزرگوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں تھوڑے تھوڑے وقفہ سے ہمارے تین بزرگ اور جید علماے کرام دار فانی سے دار بقا کی طرف رخصت ہو گئے۔ ان میں سے ایک پلندری (کشمیر) کے بزرگ حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ ، دوسرے حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ آف کلاچی اور تیسرے وانا کی بزرگ شخصیت حضرت مولانا نور محمدؒ ہیں۔ آج کی نشست میں ان بزرگوں کا مختصر تعارف، ان سے اپنے تعلق کی نوعیت اور ان کی دینی و سیاسی خدمات کا مختصر تذکرہ مقصود ہے۔ 

حضرت مولانا محمد یوسف خان آف پلندری

مولانا محمد یوسف خان ؒ کی ولادت ۲۰۔۱۹۱۹کی ہے۔ کشمیر کے علاقہ’’ منگ‘‘ کے ایک اچھے بااثر خاندان سے تعلق تھا۔ انھوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور ۴۱۔۱۹۴۰ میں دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کیا۔ حضرت والد صاحب ؒ نے بھی اسی زمانے میں دورۂ حدیث کیا تھا۔ آپ مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ اس زمانے میں کشمیر پر ڈوگرہ حکمران تھے۔ مولانا کو اللہ تعالیٰ نے حق گوئی و بے باکی عطا فرمائی تھی۔ جب آپ دورہ حدیث سے فراغت کے بعد واپس اپنے علاقے میں پہنچے تو اس وقت اہل کشمیر پر بڑی آزمائش کا دور تھا،ڈوگرہ فوج نے لوگوں پر مظالم کی انتہا کر دی تھی۔ مولانا کا جوان خون تھا، نیا نیا علم تھا، اپنے استاد سید حسین احمد مدنی ؒ کو تحریکیں چلاتے اور ان کی قیادت کرتے دیکھا تھا۔ اس وقت لوگوں میں دارالعلوم دیو بند سے فارغ التحصیل علماء کا بڑ ا احترام تھا، اس لیے آپ سے عید کی نماز پڑھا نے کے لیے کہا گیا۔ آپ نے کھل کر ڈوگرہ فوج کے مظالم کی مخالفت کی جس کی پاداش میں اگلے ہی دن گرفتار ہو کر پونچھ جیل میں پہنچ گئے۔ یہ ان کی عملی زندگی کی ابتدا تھی۔ 

مولانا کا شمار ان علما میں ہوتا ہے جنھوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے سب سے پہلے جہاد کا فتویٰ دیا اور تحریک اور جہاد کشمیر میں عملاً شریک ہوئے،جنگ لڑی اور آزاد کشمیر حاصل کیا۔

مولانا علم میں بھی بہت پختہ تھے اور ان کا شمار پاکستان ہی نہیں، برصغیر کے بڑ ے محدثین میں ہوتا تھا۔ علم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بصیرت بھی عطا کی تھی، بڑے صاحب فراست آدمی تھے اور اظہار خیال کا سلیقہ بھی خوب ملا تھا۔ چوٹی کے مدرس تھے۔ دارالعلوم تعلیم القرآن جو کشمیر کے مدارس میں سب سے قدیم درس گاہ ہے، وہاں انھوں نے ۶۰ سال تک تدریس کی۔ 

میرے نزدیک ان کا سب سے بڑا کارنامہ ریاست کے نظام میں اسلامی روایات کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کامیاب اقدامات کرنا ہے۔ جب ریاست کا قیام عمل میں آیا تو اس کے نظام کی تشکیل میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آج بھی آزاد کشمیر کی عدالتوں میں بہت سے فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے ہیں اور یہ حضرت مولانا محمد یوسف ؒ اور ان کے رفقا کی طویل جدوجہد کا ثمرہ ہے۔ جب آزاد جموں و کشمیر کی عدالتوں میں شرعی قوانین کے نفاذ کا فیصلہ ہو رہا تھا تو انتظامیہ اور عدلیہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس صراف نے اس حوالے سے اپنے اشکالات اور اعتراضات دو گھنٹے کے خطاب میں تفصیل کے ساتھ پیش کیے۔ حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ نے اس کے جواب میں تین گھنٹے تقریر کی اور ان کے اشکالات کے اس قدر مدلل جوابات دیے کہ خود جسٹس موصوف نے اسی محفل میں برملا اعتراف کیا کہ مولانا یوسف خانؒ کے مفصل خطاب نے نہ صرف ان کے بہت سے اشکالات دور کر دیے ہیں، بلکہ ان کے ذہن کا رخ بھی بدل ڈالا ہے۔

میرا ان کے ساتھ چار عشروں کا تعلق تھا جو چچا اور بھتیجے کا تعلق بھی تھا، استاد اور شاگرد کا بھی، راہ نما اور کارکن کا بھی اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں علمی و فکری استفادے کا بھی۔ میری دلچسپی کا میدان مغربی تہذیب و فلسفہ ہے۔ اس میدان میں کئی ایسے موڑ بھی آئے کہ خود میرا ذہن بھی الجھن کا شکار ہو جاتا تھا۔ ایسے موقع پر دو آدمی ایسے تھے جو میری اس الجھن کو حل فرما دیا کرتے تھے۔ ایک حضرت مولانا مفتی محمود ؒ اور دوسرے حضرت مولانا محمد یوسف خان۔ میں ان کے پاس جاتا، الجھن پیش کرتا۔ وہ کوئی بات، کوئی جملہ ارشاد فرماتے اور ذہن بالکل مطمئن ہو جاتا۔

انھوں نے اپنے آپ کو کشمیر تک محدود کر رکھا تھا۔ اکثر میں انھیں کشمیر سے باہر نکلنے کا کہتا اور بسا اوقات جھنجھلا کر میں انھیں کہتا کہ آپ کشمیری کیوں ہیں؟ تو وہ مسکرا کر جواب دیتے کہ تم کشمیری کیوں نہیں ہو؟ جس پر مجھے خاموشی اختیار کرنی پڑتی۔ وہ تھے تو کشمیری، لیکن انھوں نے وہاں بیٹھ کر کتنا کام کیا، اس کا اندازہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کے ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ مولانا محمد یوسف خان صرف آزاد کشمیر کے اور پاکستان کے نہیں، بلکہ عالم اسلام کی شخصیت تھے۔ سردار صاحب نے ان کے بارے میں ایک مغربی دانش ور کا یہ قول بیان کیا کہ کسی چھوٹے آدمی کا بڑی جگہ پر بیٹھ کر کام کرنا بڑی بات نہیں ہے، بلکہ بڑے آدمی کا چھوٹی جگہ پر بیٹھ کر اپنے کمالات کا اظہار کرنا اور انہیں منوانا اصل کمال کی بات ہے اور یہ مقولہ مولانا محمد یوسف خان کی جدوجہد پر صادق آتا ہے۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار محمد انور خان نے کہا کہ مولانا محمد یوسف خان کی خدمات کو صرف دینی دائرے میں محدود کرنا درست نہیں ہے، وہ تحریک آزادی اور نفاذ اسلام کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی محاذ پر بھی ہمارے راہ نما تھے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کو موت بھی عجیب عطا فرمائی۔ ۹۰ سال سے زیادہ ان کی عمر تھی، انھوں نے رمضان کے پورے روزے رکھے، تراویح کی نماز مسجد میں اہتمام کے ساتھ باجماعت ادا کی، وفات کے دن بھی مغرب کی نماز گھر میں باجماعت پڑھی، نماز کے بعد معمول کے مطابق وظائف میں مصروف تھے اور تسبیح ہاتھ میں لیے ذکر کر رہے تھے کہ اچانک سینے میں تکلیف محسوس ہوئی اور تسبیح ہاتھ سے گر گئی اور حضرت، جناب باری تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی علمی و دینی خدمات کو اپنی بارگاہ عالیہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰ مین ۔

حضرت مولاناقاضی عبداللطیف آف کلاچی

حضرت مولانا قاضی عبداللطیف ؒ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ کلاچی میں ان کا مدرسہ نجم المدارس کے نام سے قرآن و سنت کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ حضرت قاضی صاحب ؒ کلاچی کے عوام کا مرجع تھے۔ لوگ دور دور سے راہ نمائی اور اپنے معاملات کے فیصلے کروانے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ 

وہ ہمیشہ جمعیت علماء اسلام میں سر گرم رہے۔ جب میں گوجرانوالہ میں جمعیت کا سیکرٹری جنرل تھا، اس وقت وہ کلاچی میں جمعیت کے سیکرٹری جنرل تھے۔ علما میں ایسے افراد بہت کم ہیں جو آج کے قانون اور بیوروکریسی کی اصطلاحات اور زبان کو سمجھ سکیں۔ قاضی صاحب ؒ کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ آج کے قانون، بیوروکریسی اور سرکاری ڈرافٹس وغیرہ کی زبان سمجھنے میں بہت مہارت رکھتے تھے۔ ۸۵ء میں جب شریعت بل اسمبلی میں پیش ہوا تو اس کو منظور کروانے میں جن لوگوں نے علمی جنگ لڑی، ان میں قاضی عبداللطیفؒ اور جسٹس افضل چیمہ سرفہرست ہیں۔ ایک موقع پر جسٹس وسیم سجاد نے کہا کہ قرآن کریم قانون کی نہیں، اخلاقیات کی کتاب ہے۔ قاضی صاحب نے اس کے ساتھ تین گھنٹے مذاکرات کیے اور اس کو لاجواب کر دیا۔ 

۷۵ء اور ۸۰ء کے درمیان حضرت مولانا مفتی محمود صاحب ؒ کے چار نائبین سمجھے جاتے تھے: مولانا محمد اجمل خاںؒ ، مولانا غلام ربانیؒ ، قاضی عبداللطیف ؒ اور چوتھا فقیر میں تھا۔ حضرت قاضی صاحب ؒ نے آج سے چار سال پہلے کسی ملاقات میں فرمایا تھا کہ ان قبائل کو سنبھالو۔ گویا آج قبائل اور بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا انھوں نے کافی عرصہ پہلے ادراک کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی مساعی کو اپنی جناب میں قبول فرمائے۔ آمین

حضرت مولانا نور محمد آف وانا 

حضرت مولانا نور محمد صاحب ؒ سے عام طور پر بہت کم لوگ واقف ہیں۔ میں نے ان کو پہلی مرتبہ ۶۷ء میں دیکھا جب میں ایک طالب علم تھا۔ اس وقت اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا۔ مفتی محمود صاحب ؒ نے ایک جلسے میں فرمایا کہ اگر حکومت ہمیں اجازت دے تو ہم اپنے خرچے پر وہاں جہاد کے لیے جائیں گے۔ مفتی صاحب ؒ کے بعد ایک نوجوان کھڑا ہوا اور بڑے جوشیلے انداز میں اس نے اس با ت کا اعلان کیا کہ اگر حکومت اجازت دیتی ہے تو میں قبائل کی طرف سے دس ہزار کا لشکر فراہم کروں گا۔ میں نے بڑے تعجب سے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ بعد میں میں نے مفتی صاحب ؒ سے پوچھا کہ حضرت یہ نوجوان کون ہیں اور اتنا بڑا دعویٰ کیسے کر رہے ہیں؟مفتی صاحب ؒ نے فرمایا: یہ دے دے گا، یہ وزیروں کا لیڈر ہے۔

مولانا نور محمد ؒ نے وانا میں جمعیت کی بنیاد رکھی۔ قبائل کا علاقہ دینی علاقہ ہے۔ بھٹو صاحب مرحوم نے اپنے دور اقتدار میں ایک مرتبہ قبائل کا دورہ کیا۔ وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹ نے مولانا سے ملاقات کی کہ بھٹو صاحب ؒ کا استقبال کیسے کیا جائے۔ انھوں نے فرمایا کہ میں بے مثال استقبال کروں گا، لیکن کروں گا جمعیت کے پلیٹ فارم سے، جبکہ وہ لوگ چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے تلے استقبال ہو۔ جب بھٹو صاحب ائیر پورٹ پر اترے تو ہر طرف جمعیت کے ہزاروں پرچم لہرا رہے تھے۔ اس کی مولانا کو پھر سزا بھی دی گئی، انھیں ایک مقدمے میں الجھایا گیا، وانا بازار کو بلڈوز کر دیا گیا اور مولانا سات آٹھ سال تک جیل میں رہے۔

مولانا نے جہاد افغانستان میں بہت سرگرم کردار ادا کیا اور سب سے پہلے جو کتاب جہاد افغانستان کی شرعی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے لکھی گئی، وہ مولانا نے ہی لکھی تھی۔ میں بھی اس وقت ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کر رہا تھا ۔ ہمارا جب بھی ان علاقوں کا سفر ہوتا تو ہم مولانا کے پاس ٹھہرتے اور ان سے استفادہ کرتے۔ ایک مرتبہ میں افغانستان جا رہا تھا تو راستے میں مولانا کے پاس ٹھہرا۔ انھوں نے فرمایا کہ میں نے جہاد افغانستان پر ایک کتاب لکھی ہے جو چھپنے کے قریب ہے۔ انھوں نے اس کا مسودہ مجھے بھی دکھایا۔ کتاب میں نے اسی رات ساری دیکھی اور صبح ان سے عرض کی کہ میں نے ساری کتاب دیکھ لی ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کتاب صرف پٹھانوں کے لیے لکھی ہے یا سب کے لیے؟ انھوں نے کہا کہ سب کے لیے۔ میں نے کہا کہ اس کی زبان تو صرف پٹھانوں والی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ فرماتی ہے وغیرہ۔ اس کی زبان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ فرمانے لگے کہ نظر ثانی کون کرے گا؟ میں نے کہا کہ میں کروں گا۔ میں وہ کتاب ساتھ لے آیا اور اس کی زبان کی اصلاح کی اور پھر وہ کتاب چھپی۔ اس طرح ان کی برکت سے مجھے یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ جہاد افغانستان پر لکھی جانے والی سب سے پہلی کتاب پر نظر ثانی کا موقع ملا۔ اس کتاب پر مقدمہ بھی میں نے ہی لکھا ہے۔

مولانا کے پاس علم بھی تھا، وجاہت بھی تھی اور مقام و مرتبہ بھی تھا۔ آپ قبائل کے لیڈر تھے، اگر کسی ایک شخصیت کا نام پوچھا جائے کہ جس پر تمام وزیر قبائل کو اکٹھا کیا جا سکتا تھا تو وہ نام مولانا نور محمد ؒ ہی کا تھا۔ گزشتہ دنوں وہ ایک خود کش حملے میں شہید کر دیے گئے۔ وہ نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر تشریف لائے تو ایک نوجوان ان سے آ کر گلے ملا اور گلے ملتے ہی اس نے اپنے آپ کو بم سے اڑا دیا اور مولانا سمیت ۳۲؍ افراد شہید ہو گئے۔ ان کی موت سے دیگر نقصانات تو ایک طرف،ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اب شاید کوئی ایسی شخصیت نہ ملے جس پر سب قبائل کو جمع کیا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ علیین میں ارفع و اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اٰمین۔ 

اخبار و آثار

(اکتوبر ۲۰۱۰ء)

Flag Counter