اکتوبر ۲۰۱۰ء

چند بزرگ اہل علم کا سانحہ وفات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۰ ستمبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقدہ تعزیتی نشست میں ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کی گفتگو)۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد! حدیث مبارک میں ہے کہ اذکروا موتاکم بالخیر، جانے والوں کا اچھے انداز میں تذکرہ کیا کرو۔ قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ بزرگوں، انبیاے کرام اور نیک لوگوں کے تذ کرہ پر مشتمل ہے ۔اس تذکرہ سے مقصود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ دلانا، تسلی دینا اور شاہراہ حیات میں رہنمائی کرنا ہے۔ گویا نیک لوگوں کا تذکرہ کرنے سے انسان کو تسکین، حوصلہ اور رہنمائی ملتی ہے، اسی لیے ہم اپنے بزرگوں کا تذکرہ...

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

― محمد عمار خان ناصر

۲۶ ستمبر کو میں ’الشریعہ‘ کے زیر نظر شمارے کی ترتیب کو آخری شکل دے رہا تھا کہ صبح نو بجے کے قریب جناب مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے فون پر یہ اطلاع دی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی انتقال کر گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبر اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ ایک لمحے کے لیے مجھے یقین نہیں آیا، لیکن مفتی صاحب نے بتایا کہ خبر مصدقہ ہے اور وہ ڈاکٹر محمد الغزالی سے بات کرنے کے بعد ہی مجھے اطلاع دے رہے ہیں۔ میں نے فوراً ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ گزشتہ رات بارہ بجے کے قریب ڈاکٹر صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا جس پر انھیں اسپتال...

کیا اب اسلام جیت نہیں سکتا؟

― مولانا مفتی محمد زاہد

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بات کا آغاز دو جلیل القدر علما کے واقعات سے کیا جائے۔ پہلا واقعہ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ کا ہے۔ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ اپنے وقت کے جلیل القدر علما اور باکمال اولیا میں سے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس کے خاندان کے معروف بزرگوں میں سے ہیں۔ تقویٰ وپرہیزگاری اور تواضع وغیرہ میں ان کے عجیب وغریب واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ ان کے زمانے میں کاندھلہ کے ایک قطعۂ زمین کے بارے میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ یہ جگہ ہماری ہے اور وہ شاید وہاں مسجد بنانا چاہتے تھے...

القاعدہ، طالبان اور موجودہ افغان جنگ ۔ ایک علمی و تجزیاتی مباحثہ

― محمد عمار خان ناصر

۲۰۰۱ء میں امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ نے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا تو ان سے ہمدردی اور خاص طور پر ان کے مخصوص اسلامی طرز حکومت سے جذباتی وابستگی رکھنے والے مذہبی حلقوں کے لیے یہ ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ فطری طور پر اس کا شدید رد عمل ہوا جس نے بہت جلد انتہاپسندی اور تشدد پسندی کی شکل اختیار کر لی، تاہم طالبان حکومت کے انتہائی بہی خواہ، ہمدرد اور سنجیدہ اہل علم ودانش نے اس صورت حال میں محض یک طرفہ رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے خود طالبان اور دیگر...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) (زیر نظر مکتوب کی اشاعت سے مقصود زیر بحث مسئلے پر کسی کلامی مناقشے کی دعوت دینا نہیں، بلکہ محض علمی مسائل میں اختلافی تعبیرات کے حوالے سے وسعت نظرکے پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔ مدیر)۔ مکرمی ومحترمی حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب دامت مکارمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عذاب قبر کے متعلق آنجناب کا محققانہ مضمون عرصہ سے آیا ہوا ہے، مگر مطالعہ کا موقع نہ مل رہا تھا۔ حال میں اس کا حرفاً حرفاً مطالعہ کیا۔ ماشاء اللہ بہت مفید مضمون ہے۔ احقر کو بہت فائدہ ہوا، البتہ اس کے مطالعہ سے احقر اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ حضرت مولانا غلام اللہ خان...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’نقد فراہی‘‘۔ مولانا حمید الدین فراہیؒ کا نام گرامی برصغیر کے علمی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ قرآن مجید کے فہم وتدبر کے باب میں مجتہدانہ انداز فکر کی بدولت مولانا علیہ الرحمۃ کی ایک امتیازی شان ہے اور اہل علم کا ایک مستقل حلقہ مولانا کے علمی وتحقیقی کام کے زیر اثر انھی کے منہج پر قرآنی علوم ومعارف کی خدمت کا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہے۔ مولانا فراہی کی بلند پایہ تحقیقات کو جہاں اہل علم کے ہاں غیر معمولی پذیرائی ملی، وہیں قدرتی طور پر ان کی بعض منفرد اور اچھوتی آرا نقد وجرح کا موضوع بھی بنیں، بلکہ ان میں سے بعض تو اہل علم کے مابین معرکہ...

گلے کے کینسر کا ایک اچھوتا نسخہ

― حکیم محمد عمران مغل

یہ طریق علاج جس کو ہم طب مشرق کہتے ہیں، ہزاروں سال پرانا ہے لیکن اس قدامت کے باوجود اس میں مکمل تازگی ہے۔ ایک طویل عرصہ تک اس کا زندہ رہنا اور دو سو سال تک مکمل غیر ملکی اقتدار کو سوتیلے سلوک کو برداشت کرنا اس کی جان پر دال ہے۔ اسپین، سسلی اور اٹلی کے ذریعے سے عربوں کے علوم سارے مغرب میں پھیلے۔ اس حقیقت کو خود مغرب کے مفکرین، محققین اور مصنفین بھی مانتے ہیں کہ عرب اطبا دنیا موجودہ طب اور سائنس کے پیش رو اور امام ہیں اور ہم مقتدی۔ خلیفہ مامون نے بغداد میں بیت الحکمت قائم کر کے دنیا بھر سے کتابیں منگوائیں اور ان کا عربی میں ترجمہ کروایا۔ ابن رشد،...

اکتوبر ۲۰۱۰ء

جلد ۲۱ ۔ شمارہ ۱۰

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter