کیا اب اسلام جیت نہیں سکتا؟

مولانا مفتی محمد زاہد

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بات کا آغاز دو جلیل القدر علما کے واقعات سے کیا جائے۔ پہلا واقعہ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ کا ہے۔ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ اپنے وقت کے جلیل القدر علما اور باکمال اولیا میں سے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس کے خاندان کے معروف بزرگوں میں سے ہیں۔ تقویٰ وپرہیزگاری اور تواضع وغیرہ میں ان کے عجیب وغریب واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ ان کے زمانے میں کاندھلہ کے ایک قطعۂ زمین کے بارے میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ یہ جگہ ہماری ہے اور وہ شاید وہاں مسجد بنانا چاہتے تھے اور ہندودعوے دار تھے کہ یہ جگہ ہماری ہے، وہ وہاں مندر بنانا چاہتے تھے۔ ایسے موقع پر جھگڑا محض زمین کا نہیں رہتا بلکہ ایمان وکفر کا مسئلہ بن جایا کرتاہے۔ انگریزوں کا زمانہ تھا ، مقدمہ عدالت میں چلا گیا۔ انگریز جج نے کہا کہ بہتر ہے کہ تم لوگ باہمی رضامندی سے مصالحت کی کوئی شکل نکال لو۔ اس پر ہندوؤں نے کہا کہ ہم عدالت کو مسلمانوں کے ایک عالمِ دین کا نام پیش کردیں گے، عدالت ان کی گواہی سن لے، اس کے جو مطابق جو فیصلہ ہوگا ہمیں منظور ہے۔ چونکہ بات مسلمانوں ہی کے ایک عالم پر آکر ختم ہورہی تھی، اس لیے مسلمانوں نے بھی اس پیش کش کو بخوشی قبول کرلیا، بلکہ ان کا خیال ہوگا کہ سمجھو، اب ہمارے حق میں فیصلہ ہوگیا۔ ہندوؤں نے جج کو مفتی الٰہی بخش کاندھلویؒ کا نام پیش کردیا ۔ بظاہر یہ بات مسلمانوں کے لیے اطمینان کاباعث تھی کہ اتنے بڑے عالم اور اتنے نیک شخص مسلمانوں اور کفار یا مسجد اور مندر کے اس طرح کے مسئلے میں ’’اسلامی حمیت‘‘ کے خلاف بات کیسے کرسکتے ہیں۔ 

مفتی الٰہی بخش ؒ کو عدالت میں طلب کیا گیا۔ مفتی صاحب اپنی انتہائی سادہ وضع کے ساتھ انگریز حاکم کے سامنے کھڑے ہیں۔ ابتدائی تکنیکی اور تعارفی نوعیت کے سوالات کے بعد جج نے پوچھا کہ فلاں جگہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں کہ وہ کس کی ہے۔ مسلمانوں، کئی ہندؤوں اور جج کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب مفتی صاحب کے منہ سے بلاتکلف یہ الفاظ نکل رہے تھے کہ میرے علم کے مطابق یہ جگہ ہندؤوں کی ہے، وہ اس پر جو چاہیں بناسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ طے شدہ معاملے کے مطابق جج کو ہندؤوں ہی کے حق میں فیصلہ کرنا پڑا۔ مسلمان بھی چونکہ مفتی صاحب کی گواہی پر اتفاق کرچکے تھے، اس لیے ان کے سامنے بھی فیصلہ ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ نے اس واقعہ پر یہ دلچسپ تبصرہ بھی نقل کیا ہے کہ اس مقدمے میں مسلمان اگرچہ ہار گئے، لیکن اسلام جیت گیااور اس کے نتیجے میں کئی ہندو مسلمان ہوگئے۔یہ ٹھیک ہے کہ اس فیصلہ کی رو سے مسلمان وہ جگہ حاصل نہ کرسکے، لیکن اسلام کی یہ جیت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ مسلمان اگرچہ زمین پر وہ جگہ حاصل نہ کرسکے، لیکن نہ معلوم کتنے دلوں میں اسلام کے لیے جگہ حاصل کرلی جس کی قدر وقیمت قطعۂ زمین سے کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہے۔ اگر اس واقعے میں محض مسلمانوں کی جیت ہوتی تو اس معاملے کا تاریخ میں ہمیں کوئی تذکرہ ہی نہ ملتاکیونکہ اس نوعیت کے تنازعات میں ایک فریق کی جیت اور دوسرے کی ہار تو معمول کا واقعہ ہوتاہے۔ مسلمانوں کی بجائے اسلام ہی کی جیت نے اس واقعے کو زندہ جاوید بنادیا۔ یہ واقعہ میں نے متعدد جگہوں پر پڑھا بھی ہے اور متعدد بزرگوں سے سنا بھی ہے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ نے بھی اپنی معروف عربی کتاب ’’ما ذاخسر العالم بانحطاط المسلمین‘‘ میں ص ۲۱۹ پر اس کا ذکر کیا ہے۔ مفتی الٰہی بخش ؒ کوئی ماڈرن قسم کے مولوی نہیں تھے، بلکہ مولانا علی میاں نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ انہیں انگریز سے اتنی نفرت تھی کہ ان کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے مذکورہ گواہی بھی جج کی طرف پیٹھ کرکے دی تاکہ انگریز کا چہرہ نہ دیکھنا پڑے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ اس سے بھی قریب زمانے کاہے۔ یہ واقعہ قیامِ پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے کاہے۔ پانی پت میں ایک بڑے عالم تھے مولانا قاری محی الاسلام عثمانیؒ ۔ قرآنِ کریم کی تعلیم میں مشہور پانی پتی سلسلہ جس کا فیض اب پوری دنیا میں پھیل چکاہے، بھی انہی قاری محی الاسلام ؒ کے اجل تلامذہ کا مرہونِ منت ہے۔ انگریز ہی کے دور میں ایک دفعہ پانی پت میں کسی غیر مسلم فرقے نے سورج غروب ہوتے ہی اپنی عبادت گاہوں میں گھنٹیاں بجانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ چونکہ اسی وقت مسلمان مغرب کی نماز ادا کررہے ہوتے ہیں، اس لیے اس پر مسلمانوں میں اچھا خاصا اشتعال پیدا ہوگیا۔ خطرہ تھا کہ حالات کی کشیدگی کسی بڑے جھگڑے کا سبب بن جاتی۔ حکام کی مداخلت سے طے یہ ہواکہ جتنی دیر مسلمانوں کو مغرب کی نماز کی ادائیگی میں لگتی ہے، سورج غروب ہونے کے اتنا وقت بعد تک غیر مسلم اپنے عبادت خانوں میں کوئی گھنٹیاں نہیں بجائیں گے، اس کے بعد وہ آزاد ہوں گے ۔ اب یہ فیصلہ کیسے ہو کہ نمازِ مغرب کی ادائیگی میں مسلمانوں کو کتنا وقت لگتاہے، اس کے لیے طے یہ ہواکہ حاکمِ شہر خود مغرب کی نماز کے وقت کسی مسجد میں اپنی ٹیم لے کر جائے گا اور دیکھے گا کہ نماز کی ادائیگی میں کتنا وقت لگتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسی مسجد کا انتخاب ہوا جس میں قاری محی الاسلامؒ صاحب امامت فرماتے تھے ۔ مسلمانوں کے کرتا دھرتا لوگ قاری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مسئلہ مسلمانوں اور کفار کا ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ کفار کو زیادہ دیر کے لیے گھنٹیاں بجانے سے منع کیا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن حکام مغرب کے وقت مسجد میں مشاہدے کے لیے آئیں، اس دن آپ مغرب کی نماز خلافِ معمول طویل فرما دیجیے۔ اس طرح سے ہما را یہ مقصد حاصل ہوجائے گا۔ قاری صاحب نے جواب میں جو کچھ فرمایا، اس کا حاصل یہ تھا کہ اس دن میری نماز صرف نماز نہیں ہوگی بلکہ ایک شہادت بھی ہوگی اور شہادت اپنوں کے بارے میں ہو یا پرایوں کے،اس میں غلط بیانی یا ڈنڈی مارنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا، اس لیے قاری صاحب نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ معمول کے مطابق مغرب کی نماز میں جتنی مسنون تلاوت میں کیا کرتاہوں، اتنی ہی کروں گا، اس سے زیادہ نہیں ۔ چنانچہ قاری صاحب نے عملاً ایسا ہی کیا، اس پر کئی مسلمانوں نے قاری صاحب کو برا بھلا بھی کہا، اس لیے کہ ان کے مطابق ’’اسلامی حمیت‘‘ کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے اس جھگڑے میں غیر مسلموں کے خلاف اگر غلط بیانی اور جھوٹی گواہی کا ارتکاب بھی کرنا پڑے تواس سے بھی گریز نہ کیا جائے۔

ویسے تو مسلمانوں کی تاریخ اس طرح کے سنہری واقعات سے بھری ہوئی ہے، قرونِ اولیٰ کے ایسے واقعات پر پورا مقالہ لکھا جاسکتاہے جن سے پتا چلتا ہے کہ اس زمانے میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی آواز کسی جدت پسند طبقے کی بجائے مسلمان علما اٹھایاکرتے تھے، لیکن ان دو واقعات کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ واقعے قرونِ اولیٰ کے نہیں ، بلکہ نسبتاً کافی قریب کے زمانے کے اور اس دور کے ہیں جو ہر اعتبار سے مسلمانوں کے انحطاط کا دور کہلاتاہے۔ ان دونوں جلیل القدر بزرگانِ دین نے جو کچھ کیا، وہ اسلامی تعلیمات کا عین تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 

’’اے ایمان والو! تم اللہ کے لیے انصاف کی بات کی گواہی کے ساتھ کمربستہ ہوجاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بے انصافی کرنے لگو۔ انصاف کرو، یہی خوفِ خداوندی کے زیادہ قریب ہے ، اور اللہ سے ڈرتے رہو ، یقیناًاللہ تعالیٰ تمہارے تمام کاموں سے با خبر ہے ‘‘ ( المائدۃ: ۸ ) 

اسی سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 

’’اور کسی قوم کے ساتھ تمہاری یہ دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام میں آنے سے روکا تھا، تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرنے لگو اور تم نیکی اور تقوے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو‘‘ ( المائدہ:۲) 

یہ بات یہاں خاص توجہ کی مستحق ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے اندر ارشاد فرمائی ہے جس کا باقی حصہ شعائر اللہ کی تعظیم سے متعلق ہے جو کہ اسلامی حمیت کا اہم تقاضا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ایک کے لیے عدل کی بات کا اسلامی حمیت کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مشہور مفسر ابنِ کثیر ؒ نے ایک جملہ لکھاہے: ’’ انصاف ہر ایک پر لازم ہے، ہرایک کے لیے ہے اور ہرحالت میں ضروری ہے‘‘۔ اوپر ذکر کردہ دونوں آیتوں میں دو دو مرتبہ تقوے کا ذکرہے۔ قرآن وحدیث میں بے شمار جگہوں پر مسلمان کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے، لیکن دو مواقع ایسے ہیں جو اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ایک تو یہی عدل وانصاف کا موقع ہے۔ کسی مسلمان کی حمایت میں یا کسی بھی اور عنوان سے کسی غیر مسلم کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی کرنا کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے۔ دوسرا موقع عہد کی پاس داری کاہے۔ قرآنِ کریم کی سورۂ انفال جس کا بنیادی موضوع ہی جہاد ہے، اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ اگر (ہجرت نہ کرنے والے مسلمان) دین کی وجہ سے تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنالازم ہے، سوائے اس صورت کے کہ یہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کا تمہارے ساتھ کوئی عہد ہوا ہے۔‘‘ اسلامی حمیت، تقویٰ اور جہاد کے سیاق میں قرآن کریم اپنے ماننے والوں کو عدل اور اعلیٰ اخلاقی معیار کا پابند بنا رہا ہے۔ اگر اسلامی حمیت، شعائر اللہ، تقویٰ وپر ہیز گاری اور جہاد جیسے عنوانات ہی ان قرآنی تعلیمات کی خلاف ورزی کا ذریعہ بن جائیں تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہی ہوسکتا ہے۔

آج کل وکلا، ڈاکٹرز، میڈیا والوں سمیت ہر شعبۂ زندگی میں ’’پیٹی بھائیوں‘‘ کی ہر قیمت پر اور ہر حالت میں حمایت کرنے کی جس طرح کی وبا چلی ہوئی ہے، مذکورہ آیات اور واقعات ہمیں اس پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتے ہیں۔ آج ہمارے ماحول میں صورتِ حال کچھ ایسی بن چکی ہے کہ کسی شعبۂ زندگی میں سانس لینے اور ’اِن ‘ رہنے کے لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اگر اس شعبے کے حوالے سے مسئلہ بنے تو آپ ہر قیمت پر اس شعبے کے لوگوں کی ہی حمایت کریں، خواہ آپ اپنی دیانت دارانہ رائے کے مطابق اسے غلطی پر ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔ آج ایک وکیل‘ وکیلوں میں، ایک ڈاکٹر‘ ڈاکٹروں میں، ایک میڈیا پرسن‘ میڈیا والوں میں اور ایک سیاست دان اپنی سیاسی پارٹی میں تب تک سرخ رو نہیں ہو سکتا جب تک نہ صرف یہ کہ وہ ہر جائز ناجائز بات میں اپنے طبقے کی حمایت نہ کرے بلکہ یہ ثابت نہ کرے کہ اس معاملے میں وہ ’’مجاہد اعظم‘‘ ہے۔ اس طرزِ عمل کو ہوسکتاہے کئی لوگ خوبی سمجھتے ہوں لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں اسے ’’ عصبیت‘‘ قرار دیا گیاہے جو کہ احادیث کی روشنی میں انتہائی بد بودار چیز ہے۔

اس صورتِ حال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ مرض بہت حد تک ہمارے دینی حلقوں میں بھی عام ہوگیا ہے۔ ہمارے ہاں اقلیتوں کے بعض لوگ ایسے مطالبات شروع کردیتے ہیں جن کا کوئی بھی جواز نہیں بن رہا ہوتا، پھر اس اقلیت کے باقی لیڈروں کو بھی ’’پیٹی بھائی‘‘ ہونے کے ناطے اس کی حمایت کرنا پڑتی ہے، لیکن یہاں بات غیر مسلموں کی نہیں ہورہی، ان کی ہورہی ہے جو اللہ و رسول کو مانتے اور ان کے نام لیوا ہیں۔اگر کسی معاملے میں کوئی مسلمان کسی غیر مسلم پر زیادتی کررہاہو تو اسلام اس بات کی قطعاَ اجازت نہیں دیتا کہ محض مسلمان ہونے کی وجہ سے زیادتی کرنے والے شخص کی حمایت کی جائے۔ ہمارے ہاں مسلم غیر مسلم کی بات تو بہت دور کی ہے، خود مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور گروہوں کے بارے میں یہ سوال سنجیدہ توجہ کا مستحق ہے کہ کیا ہمارے مذہبی رجحانات اور رویوں میں مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ اور قاری محی الاسلام عثمانی ؒ کی جھلک نظر آتی ہے؟ کیا ہمارے ہاں ایسا ممکن ہے کہ کسی عالمِ دین کو اگر یہ شرحِ صدر ہو جائے کہ فلاں معاملے میں میرے فرقے کے لوگوں کی طرف سے زیادتی ہورہی ہے تو وہ اپنی اس رائے کا اظہار کھل کر کر سکے؟ اب تک کی عمومی صورتِ حال کے مطابق تو اس کا جواب نفی میں ہوگا ۔ اگر کہیں ہمیں ’’مسلکی حمیت‘‘ سے ہٹ کر کوئی بات کہنی پڑ بھی جائے اور حقائق وحالات اس پر مجبور کر دیں تو اس کے ساتھ چونکہ ، چنانچہ اور لیکن وغیرہ کے اتنے سابقے اور لاحقے لگے ہوتے ہیں کہ اصل بات انہی کے اندر کہیں چھپ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’’پیٹی بھائی‘‘ کی حمایت اور عصبیت پر مبنی عام بھیڑ چال کی رَو میں دینی مقتدا بھی بہہ گئے ہیں۔ آج بھی اگرہر مکتبِ فکر میں ایک مناسب تعداد مفتی الٰہی بخش ؒ اور قاری محی الاسلام ؒ جیسے حضرات کی پیدا ہوجائے تو ہم اسلام کو جیتتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ کیا دینی غیرت وحمیت سے سرشار ہمارے دینی حلقے اسلام کی جیت کو حاصل کرنے کے اس راستے پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے؟

میں نے اپنے ہاں ایک خطاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیثِ مبارک کا ذکر کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے کسی عہد والے غیر مسلم (جس میں غیر مسلم اقلیتوں کے سارے لوگ شامل ہیں) پر کوئی زیادتی کی، اس پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ ڈالا، اس کا حق دینے میں کوئی کمی کوتاہی کی یا اس کی دلی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لے لی تو قیامت کے دن اس غیر مسلم کی طرف سے مقدمہ میں خود لڑوں گا۔ (ابو داود) اندازہ لگائیے، جس شخص کے مقابلے میں مقدمہ لڑنے کے لیے اللہ کی بارگاہ میں اللہ کے نبی کھڑے ہوں گے، اس کا کیا بنے گا۔ اقلیتوں کے حق کو زیادہ اہمیت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے دی ہے کہ وہ خودکو بعض اوقات مجبور اور بے بس محسوس کرسکتے ہیں۔ یہ میرے نبی کی عظمت ہی کا ایک پہلو ہے کہ وہ قیامت کے دن بھی مجبوروں اور مظلوموں کے ساتھ ہوں گے ۔ میری بات سے حوصلہ پاکر یہی حدیث ایک نوجوان عالم نے اپنے ہاں جمعے کے بیان میں ذکرکی۔ ممکن ہے بعض لوگوں کو ایسی حدیثوں کا ذکر کرنا اسلامی حمیت کے معیار سے کم تر معلوم ہوا ہو، لیکن اِن نوجوان عالم نے بتایا کہ جمعے کے بعد ایک ماڈرن قسم کا نوجوان کہنے لگا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اسلام اتنا عظیم مذہب ہے۔ ان نوجوان عالم نے تو یہ بات خوشی خوشی سنائی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں یہ بات سن کر افسردہ سا ہو گیا۔ اس ماڈرن نوجوان کی یہ بات کہ ’’مجھے نہیں اندازہ تھا کہ اسلام اتنا عظیم مذہب ہے‘‘ اس چیز کی غماز ہے کہ ہماری نئی نسل میں نہ معلوم کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو پیدائشی طور پر تو مسلمان ہیں، لیکن شعوری طور پر اتنے مسلمان نہیں جتنا انہیں ہونا چاہیے۔ ہم بات تو اسلام کے غلبے کی کر رہے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے کے اندر سے اسلام ہار رہاہے یعنی ناواقفیت کی وجہ سے اس کے ساتھ لگاؤ کم ہو رہا ہے، اس لیے کہ اسلام تو کاندھلے اور پانی پت جیسے واقعات سے جیتتا ہے۔ اوپرعہد والے غیر مسلموں کے بارے میں مذکورہ حدیث بھی اسی رخ کی نشان دہی کررہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی قرآنی تعلیمات اور حدیثیں نہ سناکر ہم اسلام کو ہرا رہے ہیں یا جتوارہے ہیں!

ہوسکتا ہے کہ بعض قارئین کو یہ خیال ہوکہ یہ باتیں تو علما سے کہنے کی ہیں، عام آدمی کا اس چیز سے کیا تعلق ؟ ایک حد تک یہ بات درست ہونے کے باوجود ہم پیشہ ورانہ، لسانی ، علاقائی اور سیاسی عصبیتوں کے شانہ بشانہ فرقہ وارانہ عصبیت کا جو ماحول دیکھ رہے ہیں، اس کا ذمہ دار صرف مولوی نہیں ہے اور نہ ہی اکیلے مولوی کے بس میں یہ بات رہی ہے کہ وہ اس صورتِ حال کو تبدیل کرسکے۔ مثال کے طور پر مساجد میں علماءِ کرام جمعہ سے پہلے عام لوگوں سے اردو یا کسی مقامی زبان میں خطاب فرماتے ہیں۔ یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ علما کیا کہتے ہیں، لیکن اس پہلو کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم لوگ کیا سننا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے کانوں کا ذائقہ بہت حد تک بدل چکاہے۔ آج ملک بھر کی تمام مساجد کا سروے کرلیا جائے کہ محتاط، نپی تلی اور معتدل بات کرنے والے علما خود کو زیادہ مشکل میں محسوس کرتے ہیں یا شعلہ بار خطابت کرنے والے ۔ ایک دفعہ دعوہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک وفد میرے پاس آیا۔ تربیتِ ائمہ کے سلسلے میں بات ہوئی۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ جہاں ائمہ وخطبا کی تربیت کے آپ پروگرام کرتے ہیں، وہیں مساجد کے منتظمین کی تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ اس طرح کی شکایات بکثرت موصول ہوتی رہتی ہیں کہ کوئی صاحب اپنے حلقے میں محض اس وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں یا زیرِ عتاب ہیں کہ انہوں نے کسی فرقے یا مسلک کے خلاف اس طرح کی ’’اسلامی حمیت‘‘ کا مظاہر ہ نہیں کیا جس کی بعض لوگ ان سے توقع رکھتے تھے۔ یہ المیہ صرف پاکستان میں نہیں ہے، ان دیارِ غیر میں بھی ہے جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد آبادہے۔ بالخصوص برطانیہ سے اس طرح کی اطلاعات سننے میں آتی رہتی ہیں۔ خود اس گنہ گار نے بعض نامی گرامی علما سے نجی طور پر کچھ اور سنا، لیکن عمومی خطاب میں انہوں نے بات وہی کی جو سامعین ان سے سننا چاہتے تھے، اگرچہ وہ بات ان کی ذاتی اور دیانت دارانہ رائے کے خلاف یا کم از کم اس سے ہٹ کر تھی، اس لیے کہ وہ ’’اسلامی حمیت‘‘ میں خود کو کسی سے کم تر دکھانے کے روا دار نہیں تھے۔ اس میں جہاں ان علما کی یہ کوتاہی ہے کہ ان میں اس جرأتِ اظہار کی کمی ہوتی ہے جو اصولی طور پر ایک عالمِ دین کا طرّۂ امتیاز ہونی چاہیے جس کے بغیر ایک عالم پیشوا کی بجائے اپنے سامعین یا قارئین کا پیروکار بن کر رہ جاتا ہے، وہیں ہمارا عمومی ماحول بھی اس کا ذمہ دار ہے۔ آج کوئی عالم اگر عام روِش سے ہٹ کر اپنے ضمیر کے مطابق کوئی بات کہہ دے تو اس کی جو درگت بنتی ہے، ہم سب یاتو اس کا حصہ ہوتے ہیں یا محض خاموش تماشائی۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ’’اوپر‘‘ تک رسائی بھی انہیں لوگوں کی ہوتی ہے جو ’’ماحول‘‘ دیکھ کر بات کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ معتدل، نپی تلی اور انصاف کے مطابق بات کرنے والے اور مفتی الٰہی بخش جیسا مزاج رکھنے والے حضرات چونکہ خود دار واقع ہوئے ہوتے ہیں، اس لیے یہ ’’اوپر‘‘ والوں کے کام کے بھی نہیں ہوتے۔ ایسے میں سارا الزام اکیلے مولوی پر رکھ کر ہم فارغ کیسے ہوسکتے ہیں؟ غرضیکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے ماحول میں جذباتی اور عصبیت پر مبنی باتوں کو زیادہ پذیرائی ملتی ہے یا کسی موضوع پر دیانت دارانہ تجزیے اور اس کے بے لاگ اظہار کو بھی گوارا کیا جاتاہے؟ یہ صحیح ہے کہ ایک شخص جس بات کو انصاف سمجھ کر کہہ رہا ہے، دوسرے شخص کی دیانت دارانہ رائے اس سے مختلف ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں ایسا ماحول موجود ہے جہاں کسی کو اپنی رائے کے بے تکلف اظہار اور دوسرے کو اس سے اختلاف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہو؟

بہرحال ! رہ رہ کر یہ خیال دل میں پیدا ہوتا ہے کہ آج مفتی الٰہی بخش ؒ اور قاری محی الاسلامؒ جیسے لوگ اتنے ناپید کیوں ہیں؟ آج مسلمان معاشروں کے رویّے اوپر ذکر کردہ سورۂ مائدہ کی آیتوں کے مطابق اور اس رنگ میں رنگے ہوئے کیوں نظر نہیں آتے؟ آج ہم ہر سطح پر کسی نہ کسی قسم کی عصبیت کا شکار کیوں ہیں؟ یقیناًیہ سوال میرے جیسے اور بھی کئی سیدھے سادے مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہوگا۔ اگر سوال ہم سب کا سانجھا ہے تو اس کا جواب بھی ہم سب کو مل جل کر تلاش کرنا چاہیے۔ ہم سب یہ کوشش بھی کرنی چاہیے اور دعا بھی کہ خدا کرے کاندھلے اور پانی پت جیسے واقعات ہمارے اندر عام ہوں اور اسلام کی جیت ہو۔ 

(بشکریہ ماہنامہ ’’الصیانہ‘‘ لاہور)

آراء و افکار