مکاتیب

ادارہ

(۱)

(زیر نظر مکتوب کی اشاعت سے مقصود زیر بحث مسئلے پر کسی کلامی مناقشے کی دعوت دینا نہیں، بلکہ محض علمی مسائل میں اختلافی تعبیرات کے حوالے سے وسعت نظرکے پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔ مدیر)


مکرمی ومحترمی حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب دامت مکارمہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عذاب قبر کے متعلق آنجناب کا محققانہ مضمون عرصہ سے آیا ہوا ہے، مگر مطالعہ کا موقع نہ مل رہا تھا۔ حال میں اس کا حرفاً حرفاً مطالعہ کیا۔ ماشاء اللہ بہت مفید مضمون ہے۔ احقر کو بہت فائدہ ہوا، البتہ اس کے مطالعہ سے احقر اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب عذاب قبر کے علی الاطلاق منکر نہیں بلکہ برزخ میں روح کے عذاب وثواب کے قائل ہیں۔ جسد عنصری کے ساتھ روح کے عذاب وثواب کے قائل نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ عالم برزخ کا عذاب اجسام مثالیہ کی وساطت سے روح پر وارد ہوتا ہے۔ یہ بات اگرچہ جمہور اہل سنت کے مسلک کے خلاف ہے، لیکن کسی نص صریح کے بھی خلاف ہے؟ یہ بات اس مضمون سے ثابت نہیں ہوتی۔

پھر مولانا موصوف کا یہ قول بھی آنجناب نے نقل فرمایا ہے کہ عالم برزخ میں تعلق روح بابدان عنصریہ کے بارے میں سکوت سب سے احوط مسلک ہے، کیونکہ قرون مشہود لہا بالخیر میں تعلق کا کوئی ذکر اذکار نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جسد عنصری کے ساتھ روح پر عذاب کی نفی پر بھی ان کو اصرار نہیں، ہاں اثبات کے دلائل سے بھی وہ مطمئن نہیں۔ 

خلاصہ کلام یہ کہ اس مضمون کے پڑھنے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کا مسلک اتنا غلط اور بے بنیاد نہیں جتنا کہ یہ سننے سے سمجھا تھا کہ ’’وہ عذاب قبر کے منکر ہیں۔‘‘ بہرحال ان کا مسلک علماء دیوبند اور جمہور سے مختلف ضرور ہے۔ اگر قرآن کریم یا سنت کی کوئی نص صریح صحیح ان کے مسلک کے ابطال پر آنجناب کے علم میں آئی ہو تو ضرور مطلع فرمائیں۔

یہ سطور بہت عجلت میں حوالہ قلم کی ہیں۔ فرو گذاشت درگزر فرما کر ممنون فرمائیں۔ دعا کی درخواست ہے۔

(مولانا مفتی) محمد رفیع عثمانی

(بشکریہ مجلہ ’’الحقانیہ‘‘ ساہیوال، ستمبر ۲۰۱۰ء)

(۲)

محترم ومکرم حضرت مولانا ابو عمار زاہد الراشدی صاحب مدظلہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں اور دینی خدمات صدق واخلاص کے ساتھ ترقی پذیر ہوں۔ آمین

یہ عریضہ ایک ضروری امر کی طرف توجہ مبذول کرانے کی خاطر آنجناب کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ یہ کہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے جولائی ۲۰۱۰ء کے شمارے میں حکیم ظل الرحمن صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’فتاویٰ کے اجراء میں احتیاط کی ضرورت‘‘ شائع ہوا ہے جس میں موصوف نے حضرت والد ماجد مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ایک موقعہ پر طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں اہل حدیث کے مسلک پر تحریری فتویٰ دینا منسوب کیا ہے۔ بندے کے علم میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات تحقیق کے بغیر لکھی گئی ہے۔ ان سے پوچھنا بھی چاہیے ان کی اس حکایت کا ماخذ کیا ہے؟ نیز مسئلے کی حساس نوعیت کے پیش نظر آنجناب سے موصوف کو اس پر متنبہ فرمانے کی درخواست ہے کہ ایسے حساس مسائل پر بلا تحقیق قلم اٹھانے سے گریز فرمائیں۔ نیز چونکہ اس قسم کے مسائل پر تبصرہ یا گفتگو جب عوام تک پہنچتی ہے تووہ اکثر الجھن کا شکار ہوتے ہیں اور بات کو اس کے سیاق سے ہٹ کر سمجھنے لگتے ہیں۔ اس لیے بندے کا نہایت ادب کے ساتھ مخلصانہ مشورہ ہے کہ آیندہ ایسے مضامین کو ’’الشریعہ‘‘ میں شامل نہ کیا جائے، نیز اگلے شمارے میں ذکر کردہ واقعہ کے بارے میں وضاحت شائع فرمانے کی بھی درخواست ہے۔

امید ہے کہ ان مودبانہ گزارشات پر جناب والا ضرور توجہ فرمائیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آنجناب کی دینی خدمات میں ترقی عطا فرمائیں۔ آمین۔ بندے کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد فرمانے کی درخواست ہے۔

بندہ محمد تقی عثمانی

جامعہ دار العلوم کراچی

(۳)

محترم عمار خان ناصر صاحب 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الشریعہ اگست ۲۰۱۰ء میں آپ کا دلچسپ اورمعلومات افزا سفرنامہ لبنان ’’حزب اللہ کے دیس میں‘‘ نظر سے گزرا جس میں آپ نے اہل تشیع کے حوالے سے عمدہ معلومات فراہم کی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو تو اپنے بیان کو مزید مفصل فرمائیں جس سے بہتوں کا بھلا ہوگا۔

اس میں آپ نے ایک جگہ مولانا مودودیؒ سے یہ بات منسوب کی ہے کہ ’’غالباً مولانا مودودی نے کسی مغربی ملک کے سفر سے واپسی پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ وہاں کی ہر چیز پھیکی ہے، یہاں تک کہ عورتیں بھی۔‘‘ دست بستہ عرض ہے کہ مولانا سے اس کا انتساب درست نہیں۔ خود آپ نے یہ بات ’’غالباً‘‘ سے شروع کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس بات کا یقین نہیں کہ بات مولانا نے کہی ہے۔ اسی ’’غالباً‘‘ سے یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ یہ بات سنی سنائی ہے۔ ویسے بھی یہ بات بے معنی ہے۔ مغرب کی ہر چیز پھیکی نہیں ہے او رعورتوں کا پھیکا ہونا ان سے لطف اندوز ہونے والا ہی بیان کر سکا ہے جبکہ مولانا دو دفعہ بیماری کی حالت میں وہاں گئے اور وہ وہاں پاکستانی کھانا ہی کھاتے رہے۔ میرا خیال ہے کہ جس بات کا یقین نہ ہو تو اس کو مجہول کر دینا زیادہ مناسب ہے تاکہ اللہ کی پکڑ سے بچا جا سکے، جیسے کہ ایک عالم نے یا اہل علم نے یا اہل دین نے یہ فرمایا۔

شمس الرحمن 

نزد اسلامیہ کالج، کراچی

مکاتیب