مئی ۲۰۱۰ء

موجودہ صورتحال میں علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک مدت کے بعد دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے سرکردہ علماے کرام کا ایک نمائندہ اجتماع جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۵؍ اپریل جمعرات کو منعقد ہوا جس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے فرمائی اور ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ علماے کرام نے شرکت کی۔ اس سے قبل پندرہ بیس کے لگ بھگ سرکردہ اہل علم نے جامعہ اشرفیہ میں ہی مسلسل مشاورت کی جو دو روز تک جاری رہی۔ اس میں ملک کی موجودہ صورت حال اور خاص طور پر علماے دیوبند کو مختلف جہات سے درپیش مسائل اور چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور...

ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا انتقال

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کے دوران ملک کے معروف مذہبی دانش ور محترم ڈاکٹر اسراراحمد صاحب کا رات انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات سے پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد ،جس کا میں خود بھی ایک کارکن ہوں، ایک باشعور اور حوصلہ مند رہنما سے محروم ہوگئی۔ میری ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اس جدوجہد کے حوالے سے طویل رفاقت رہی ہے اور بہت سی تحریکات میں اکٹھے کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز جمعیت طلبہ سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے قافلے کا حصہ بنے، مگر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بعض افکار اور طریق کار سے اختلاف کے باعث الگ ہو گئے۔...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۲)

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

خالد سیف اللہ صاحب خواہ مخواہ کی قانونی موشگافیوں میں الجھنے کے بجائے اسلامی تعلیمات اور صدرِ اسلام کے واقعات سے استدلال کرکے چھوٹے چھوٹے نتایجِ فکر ، قارئینِ کے سامنے رکھتے جاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی نظامِ حیات کا کوئی ایسا واحد بڑا سچ نہیں ہوتا جس کے بل بوتے پر مقصود سماج کی تشکیل کی جا سکتی ہو ، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے سچ اکھٹے ہوکر ایک بڑی سچائی کے ظہور کا سبب بنتے ہیں ۔ اس لیے ہمارے ممدوح کا طرزِ استدلال عملی مثالی اور قابلِ تحسین ہے ۔ اس سلسلے کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے: ’’جب مدینہ میں ۸۰؍اشخاص نے اسلام قبول کیا تو آپ...

ایک تربیتی ورک شاپ کی روداد (۲)

― محمد عمار خان ناصر

فرقہ وارانہ کشیدگی اور شدت پسندی کے ضمن میں ایک اہم سوال یہ بھی زیر بحث آیا کہ جب سبھی مذہبی مکاتب فکر کے اکابر اور سنجیدہ علما اس کو پسند نہیں کرتے تو پھر وہ اپنے اپنے حلقہ فکر میں شدت پسندانہ رجحانات کو روکنے کے لیے کوئی کردار کیوں ادا نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو وہ موثر کیوں نہیں ہو پاتا؟ جناب ثاقب اکبر کی فرمائش تھی کہ اس سوال کے جواب میں، میں کچھ گزارشات پیش کروں۔ میں نے عرض کیا کہ دراصل عوامی سطح پر حلقہ ہاے فکر کے مزاج کی تشکیل کے لیے مسلسل محنت، لوگوں کے ساتھ مستقل رابطہ اور روز مرہ معاملات میں ان کو عملاً ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہوتی...

بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۱)

― مولانا مفتی محمد زاہد

غیر سودی بینکاری آج کی معیشت خصوصا فائنانس کی دنیا کا نیا مظہر phenomenon ہے جس کی کل عمر تقریباً تین عشرے ہے۔ اس مدت کا تقابل اگر روایتی بنکاری کی صدیوں پر محیط عمر کے ساتھ کیا جائے تو اسے اب بھی بلا تردد دورِ طفولت کہا جا سکتاہے۔ دورِ طفولت میں ہونے کے ناطے اسے نشو ونما کے لیے غذا کی ضرورت ہے۔ کسی بھی نئے تجربے کے لیے اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہوسکتی کہ اسے جاری کرنے کے بعد اس کی کارکردگی اور خوبیوں اور خامیوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا مسلسل جائزہ لیا جاتارہے۔ جو لوگ غیر سودی بینکاری کے اس نئے نظام کے حامی نہیں ہیں، ان کے مطابق تو تنقید کی اہمیت...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) برادرم جناب مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ والد ماجد مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کے بارے میں ’’تکفیرِ شیعہ‘‘ کے حوالے سے کافی گرما گرم بحث ومباحثہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ کئی ماہ کے شماروں میں نظر سے گزرا۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں ہم بھی کچھ گزارشات قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ تکفیرِ شیعہ کے حوالے سے والد ماجدؒ کا اصولی موقف وہی ہے جس کے بارے میں آپ نے سید مشتاق علی شاہ صاحب کے مضمون (جنوری ۲۰۱۰ء) میں حاشیہ لگا کر صحیح ترجمانی...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’سیرت سیدنا عمرؓ ‘‘ / ’’سیرت سیدنا ابو ہریرہؓ ‘‘۔ مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی ہمارے دور کے ان فاضل علماء کرام میں سے ہیں جو دینی وعلمی محاذ پر ہر وقت متحرک و چوکنا رہتے ہیں اور دینی و مسلکی حوالہ سے جہاں بھی کوئی خطرہ یا خدشہ محسوس کرتے ہیں، ان کا قلم حرکت میں آ جاتا ہے۔ ان کے والد محترم مولانا ابراہیم یوسف باوا ؒ برطانیہ میں دعوت و تبلیغ اور اصلاح و ارشاد کی محنت کرنے والے سرکردہ حضرات میں سے تھے اور ان کے بھائی مولانا بلال احمد مظاہری شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کے خلیفہ مجاز اور دارالعلوم بری کے استاذِحدیث ہیں۔...

مئی ۲۰۱۰ء

جلد ۲۱ ۔ شمارہ ۵