مکاتیب

ادارہ

(۱)

برادرم جناب مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

والد ماجد مفسرِ قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کے بارے میں ’’تکفیرِ شیعہ‘‘ کے حوالے سے کافی گرما گرم بحث ومباحثہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے گزشتہ کئی ماہ کے شماروں میں نظر سے گزرا۔ مناسب معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں ہم بھی کچھ گزارشات قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ 

تکفیرِ شیعہ کے حوالے سے والد ماجدؒ کا اصولی موقف وہی ہے جس کے بارے میں آپ نے سید مشتاق علی شاہ صاحب کے مضمون (جنوری ۲۰۱۰ء) میں حاشیہ لگا کر صحیح ترجمانی کر دی ہے۔ اس ضمن میں جن احباب نے آپ کی وضاحت سے اختلاف کیا ہے، انہیں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔ ذیل میں صرف تین باتیں پیش خدمت ہیں:

۱۔ جب ہزار علماء کا فتویٰ جاری ہوا تھا جس میں اثنا عشریہ کو علی الاطلاق کافر قرار دیا گیا تھا تو اس فتوے سے جن محققین علماء کرام اور مفتیان عظام نے اختلاف کیا تھا، ان میں والد ماجدؒ بھی تھے اور اس فتوے پر انہوں نے دستخط نہیں فرمائے تھے۔ 

۲۔ امام اہل السنۃ حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ نے اس فتوے پر نہ صرف دستخط فرمائے تھے بلکہ ’’ ارشاد الشیعہ‘‘ نامی مستقل کتاب بھی تصنیف فرمائی تھی اور اس کتاب کو والد ماجدؒ نے ادارہ نشرو اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم سے طبع فرمایا تھا۔ ایک موقع پر امام اہل سنت ؒ نے مفسر قرآن ؒ کوایک طویل خط بھی لکھا جو احقر کے پا س محفوظ ہے۔ اس خط میں انہوں نے اپنے موقف کے ساتھ اس مذکورہ فتوے میں انہیں شامل ہونے کی بھرپور دعوت دی، لیکن انہوں نے جواباً فرمایا کہ ’’ مجھے اس پر شرح صدر نہیں ہے‘‘۔

۳۔ مفسر قرآن ؒ کی حیات طیبہ میں ایک پمفلٹ شائع ہوا تھا جس کا عنوان تھا: ’’رافضی (شیعہ) کیا ہیں؟‘‘ اس میں مرتب نے والد ماجدؒ کے افادات کے عنوان سے ان کے دروس، خطبات اور تحریرات سے کچھ عبارات نقل کر کے ان کے موقف کی بظاہر ترجمانی کی بلکہ بعض مقامات پر فہمائش کی کوشش بھی کی تھی، چنانچہ والد ماجدؒ نے تحریری طور پر اس پمفلٹ سے بیزاری کا اظہار فرما دیا تھا اور احقر کے ذریعے ایک تحریر لکھوائی تھی جس پر انہوں نے دستخط ثبت فرمائے تھے۔ وہ تحریر احقر کے پاس محفوظ ہے۔ چنانچہ مرتب نے اس پمفلٹ کو اسی وقت مکمل ضائع کرا دیا تھا۔ اس لیے جن احباب نے اس پمفلٹ کا سہارا لے کر والد ماجدؒ کے موقف کی ترجمانی کی کوشش کی ہے، وہ نہ صرف غلط ہے بلکہ اگر دانستہ طورپر ایسا کیا ہے تو یہ بددیانتی بھی ہے۔ 

میرا مقصد اس بحث کو دلائل کے ساتھ طول دینا نہیں ہے، بلکہ جو احباب مفسر قرآن کے موقف سے ناواقف ہیں، صرف ان کے علم میں لانا ہے، چونکہ اس باب میں اکابر علماے دیوبند کے دونوں طرف فتاویٰ موجود ہیں اور ہم دونوں پہلوؤں کادل وجان سے احترام کرتے ہیں اور ایک پہلو کو راجح اور دوسرے کو مرجوح گردانتے ہیں۔ خود ہمارے شیخین کریمین ؒ نے ہر دو فتاویٰ پر الگ الگ عمل کرتے ہوئے زندگی بھر ایک دوسرے کوبرداشت کیا اور احترام کی نظر سے دیکھا ہے جو ہمارے لیے ایک مستقل راہنما اصول ہے۔ 

آخر میں عصر حاضر کے نامور فقیہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی زیدمجدہ کا ایک فتویٰ جو دارالعلوم کراچی کے دارالافتاء سے جاری ہوا تھا، اس کی نقل حاضر خدمت ہے جو قارئین کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ اس فتوے کی اشاعت سے قارئین کے سامنے صرف یہ بات لانا مقصود ہے کہ موجودہ دور کے محقق مفتیان مسلک دیوبند بھی مفسر قرآنؒ جیسا موقف رکھتے ہیں اور ایسے موقف والوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے۔ اللہ رب العزت سب کاحامی و ناصر ہو۔

احقر محمد فیاض خان سواتی 

مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ 

تکفیر شیعہ کے بارے میں مولانا محمد تقی عثمانی کا فتویٰ

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

محترمی و مکرمی!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

جو شیعہ کفریہ عقائد رکھتے ہوں، مثلاً قرآن کریم میں تحریف کے قائل ہوں یا یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت جبریل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہوئی یا حضرت عائشہؓ پر تہمت لگاتے ہوں، ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں لیکن یہ بات کہ تمام شیعہ یہ یا اس قسم کے کافرانہ عقائد رکھتے ہوں، تحقیق سے ثابت نہیں ہوئی، کیوں کہ بہت سے شیعہ صراحتاً ان عقائد کاانکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ الکافی یا اصول الکافی وغیرہ میں جتنی باتیں لکھی ہیں، ہم ان سب کو درست نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف کسی کو کافر قرار دینا چونکہ نہایت سنگین معاملہ ہے، اس میں احتیاط ضروری ہے۔ اگر بالفرض کوئی تقیہ بھی کرے تو وہ اپنے باطنی عقائد کی وجہ سے عنداللہ کافر ہو گا، لیکن فتوی اس کے ظاہری اقوال پر ہی دیا جائے گا۔ اسی لیے چودہ سو سال میں علمائے اہل سنت کی اکثریت تمام شیعوں کو علی الاطلاق کافر کہنے کے بجائے یہ کہتی آئی ہے کہ جو شیعہ ایسے کافرانہ عقائدرکھے، وہ کافر ہے اور یہی طریقہ بیشتر اکابر علماء دیوبند کا رہا ہے اور چونکہ جمہور علماء کے اس طریقے میں کوئی تبدیلی لانے کے لیے کافی دلائل محقق نہیں ہوئے، اس لیے دارالعلوم کراچی حضرت مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ کے وقت سے اکابر کے اسی طریقے کے مطابق فتویٰ دیتا آیا ہے کہ جو شیعہ ان کافرانہ عقائد کا قائل ہو، وہ کافر ہے مگرعلی الاطلاق ہر شیعہ کو، خواہ اس کے عقائد کیسے بھی ہوں، کافر قرار دینے سے جمہور علماء امت کے مسلک کے مطابق احتیاط کی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیعوں کی گمراہی میں کوئی شبہ ہے۔ جن شیعوں کو کافر قرار دینے سے احتیاط کی گئی ہے، بلاشبہ وہ بھی سخت ضلالت اور گمراہی میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان گمراہیوں سے ہر مسلمان کی حفاظت فرمائیں۔ آمین۔ 

احقر محمد تقی عثمانی

دارالافتاء ، دارالعلوم کراچی۱۴ 

۱۴ ۔ ۱ ۔ ۱۴۱۲ھ

(۲)

مولانا حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب دام مجدکم 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

بندہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا ریسرچ سکالر ہے۔ چند ہی دن ہوئے کہ آپ کے موقر جریدہ ’’الشریعہ‘‘ کے مطالعہ کاموقع ملا۔ خاص کر مکاتیب کے زیر عنوان دل چسپ علمی مباحث پڑھ کر فرط نشاط اپنے رگ وپے میں محسوس ہوئی۔ اتحاد بین المسلمین کے روح رواں ڈاکٹر محمد شہباز منج نے اپنے مکتوب گرامی کے ذریعے عصری تقاضوں کے پیش نظر اتحاد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کی احسن انداز میں مذمت بیان کی ہے، البتہ چندایک مکاتیب میں دینی شدت پسندی کا پہلو نمایاں دکھائی دیا، مثلاً محترم محمد یونس قاسمی صاحب کامکتوب جس میں انھوں نے شیعوں کے غیر محقق نظریہ کو جزوِعقیدہ و اساسِ مذہب قرار دیا۔ بندہ حقیر تقابل ادیان سے خصوصی دلچسپی رکھتا ہے اور خاص طورپر تمام اسلامی مکاتب فکر کے بنیادی معتقدات و نظریات سے بھی قدرے آشنا ہے۔ یہاں اہلِ تشیع کے نزدیک نظریہ تحریف قرآن کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔قاسمی صاحب سے توقع ہے کہ ان پر ضرور فراخ دلی سے غور فرمائیں گے۔ 

یہ کہناکہ ’’شیعہ اثنا عشریہ کا عقیدہ یہ ہے کہ موجودہ قرآن محرف ہے‘‘ اصل حقیقت کے سراسر منافی ہے، کیوں کہ زمینی حقائق اس کے خلاف ہیں۔ قرآن مجید کی عظمت، منزل من اللہ ہونے اور عدم تحریف پر تمام اسلامی مکاتبِ فکر کااتفاق ہے۔ البتہ اسلامی مکاتبِ فکر کی کتب میں ایسی روایات پائی جاتی ہیں جو موہمِ تحریف ہیں، مگر ہر مکتبِ فکر ایسی روایات کو مخالف قرآن سمجھ کر یکسر مسترد کرتا ہے، لہٰذا کسی مکتب فکر کے ہاں اس قرآن مجید کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن نظر نہیں آتا اور نہ پریس سے چھپ کر منظر عام پر آیا ہے۔ اگر چند ایک افراد قائل بھی ہوں تو پورے مکتب فکر پر اس نظریہ کو تھوپا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کی وجہ سے اس مکتب فکر کو مطعون کیا جا سکتا ہے۔ تمام مکاتبِ فکر کی تفاسیر کو دیکھا جائے کہ وہ اس قرآن مجید کے علاوہ کسی دوسرے قرآن کی تفسیر ہیں تو جواب نفی میں ملے گا۔ ماننا پڑے گا کہ ہر مکتبِ فکر یقیناًاسی قرآن مجید پر ایمان رکھتا ہے اور اسے حرزِجان سمجھتا ہے۔ اسلام ظواہر پر حکم لگاتا ہے۔ اگر روایات کے بل بوتے پر کسی کو قائلِ تحریف ٹھہرایا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی الزام سے نہ بچ پائے گا۔ 

بدقسمتی سے امت اسلامیہ کے بعض نافہم افراد محض فرقہ وارانہ تعصب کے باعث اس پروپیگنڈے کو ہوا دے رہے ہیں کہ شیعہ قرآن مجید کی تحریف کے قائل ہیں۔ ایسے نادان دوست یہ نہیں سوچتے کہ اس الزام کالازمی نتیجہ یہ ہے کہ کتاب اللہ ہی مشکوک اور متنازع حیثیت اختیار کر لے گی۔ اس طرح اغیار کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اسلام کے بنیاد ی مآخذ کے بارے میں کہہ سکیں کہ خود مسلمان ہی اس قرآن پر متفق نہیں ہیں۔ جب مستشرقین کی جانب سے یہ اعتراض اٹھا کہ مسلمانوں کا ایک فرقہ (شیعہ) تحریفِ قرآن کا قائل ہے تو اس وقت کے معروف عالم و محقق مولانا رحمت اللہ کیرانوی عثمانیؒ بانی مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ نے اس کا بھرپور دفاع کیا کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی فرقہ تحریف قرآن کاقائل نہیں ہے، یعنی شیعہ تحریفِ قرآن کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔ا س ضمن میں انہوں نے شیعوں کے مشہور محققین علما کے نظریات لکھے۔ اس سلسلہ میں ان کی معرکۃ الآراء کتاب ’’اظہا رالحق‘‘ کا، جو مسلمانوں کی جانب سے رد عیسائیت اور ابطالِ تثلیث میں لکھی جانے والی کتب میں ایک امتیازی حیثیت کی حامل ہے، مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ حضرت مولانا مفتی شیخ اکبر سہارنپوری استاذ الحدیث دارالعلوم کراچی کے ترجمہ اور حضرت مولانا جسٹس (ر) محمد تقی عثمانی مدظلہ کے حواشی وشرح اور تحقیق کے ساتھ ’’اظہار الحق ‘‘ کا اردو ترجمہ بنام’’ بائبل سے قرآن تک ‘‘ مکتبہ دارالعلوم کراچی سے شائع ہو چکا ہے۔ اصل کتاب کی جلد دوم صفحہ ۹۰، ۹۱، ’’الفصل الرابع فی دفع شبہات القسّیسین الواردۃ علی الاحادیث النبویۃ‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی بات دیگر اکابر علما نے کہی ہے جن میں سابق شیخ التفسیر دارالعلوم دیوبند وشیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ ڈابھیل حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ ، حضرت مولانا عبدالحق حقانی دہلوی صاحب تفسیرِ حقانی، حضرت مولانا مظہرالدین بلگرامی فاضل مظاہرالعلوم سہارنپور و استاد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، حضرت مولانا حکیم نجم الغنی خان رام پوری، علامہ شیخ محمد مدنی الازہر یونیورسٹی، علامہ شیخ محمد غزالی، حضرت علامہ خیر الدین ابوالبرکات نعمان آفندی ابن سید محمود آلوسیؒ ، استاد محمد سالم النبہانی اخوان المسلمین، علامہ محمد شبلی نعمانی، مولانا وحیدالدین خان، ڈاکٹر حامد حفنی داؤداستاد ادب عربی قاہرہ، حضرت مولانا شیخ اکبر سہارنپوری استاذ حدیث درالعلوم کراچی، خواجہ حسن نظامی ، پروفیسر محمد اسلم جیراج پوری اور ڈاکٹر اسرار احمد وغیرہ شامل ہیں۔ 

رہا قاسمی صاحب کا یہ کہنا کہ ’’ مختلف زمانوں میں شیعہ کے اکابر و اعاظم علماء و مجتہدین نے قرآن مجید کے محرف ہونے کے موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کتاب شیعوں کے ایک بڑے مجتہد علامہ حسین محمد تقی نوری طبرسی کی کتاب ہے جس کانام ’’ فصل الخطاب فی اثباتِ تحریفِ کتابِ ربِ الارباب ‘‘ہے‘‘ تو اس کے متعلق گزارش یہ ہے کہ اس کتاب کے علاوہ کوئی اور کتاب شیعوں کی طر ف سے منظر عام پر نہیں آئی جس میں تحریفِ قرآن کا اثبات کیا گیا ہو۔ قاسمی صاحب کایہ دعوی بلادلیل ہے۔ ’’فصل الخطاب ‘‘ کے رد میں اس وقت کے شیعہ علماء نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں ایک کتاب ’’کشف الارتیاب فی عدمِ تحریف الکتاب‘‘ مولفہ شیخ محمود بن ابو القاسم طہرانی ‘‘ ہے اور اس وقت سے آج تک شیعہ علماء نے اس کتاب کو ردکیا اوراسے کتب ضالہ میں شمار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ کتاب شیعوں کے مراکز سے شائع نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر شیعوں کے آیۃ اللہ العظمیٰ محمد آصف المحسنی ایک بحث کے ضمن میں نوری کے کلام پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’لا یجوز لطلاب الحق وارباب الاستنباط ان یغتروا بتوثیقاتہ وان یعتمدوا علی آراۂ فان ذلک یبعدہم عن الحق بعداً‘‘ (بحوث فی علم الرجال ص۳۷، مطبوعہ ایران) 

قاسمی صاحب نے شیعوں کے سید نعمت اللہ جزائری کی عبارت نقل کی ہے جو یہ ہے: ’’والظاہر ان ہذا القول صدر منہم لاجل مصالح کثیرۃ ..... کیف وھولآء رووا فی مولفاتہم اخباراً کثیرۃ ....‘‘ (الانوار النعمانیہ) بہتر ہوتا کہ قاسمی صاحب فراخ دلی سے کتاب کے اسی صفحہ پر شیعوں کے علامہ محمد علی القاضی طباطبائی کا مبسوط حاشیہ بھی ملاحظہ کر لیتے جو صفحہ ۳۵۷ سے ۳۶۴ تک پھیلا ہوا ہے اور ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:

’’ہذا الکلام من السید المصنف عجیب ومبنی علی مسلک اصحاب الحدیث وجری علی طریقہ الاخباریین التی لایعبا بہا والعجب من قولہ : ان اصحابنا قد اطبقوا علی صحۃ تلک الروایات والتصدیق بھا الخ۔ لیت شعری متی اطبق اصحابنا علی صحۃ تلک الروایات واین صدقوھا ولا ادری من ہم المراد من قولہ (اصحابنا) ہل المراد منہم جمع من اہل الجمود من الاخباریین او المراد منہم اصحابنا اہل النظروالتحقیق وکبراء الدین من الفقہاء والمجتہدین؟ وحاشاہم ان ما قولوا بمقالۃ .... ما اجاد فی تالیفہ ولا وافق الصواب فی جمعہ ..... الخ

قاسمی صاحب نے شیعوں کی تفسیر صافی کی پہلی جلد مقدمہ نمبر ۶ کی عبارت نقل کی ہے جس میں شیعوں کے محقق کلینی کے قائل تحریف ہونے کی دلیل دی گئی ہے، مگر درمیان سے عبارت حذف کردی جو یہ ہے: ’’لانہ روی روایات فی ہذا المعنی فی کتابہ ولم یتعرض لقدح فیہا مع انہ ذکر فی اول الکتاب انہ یثق بما رواہ فیہ۔‘‘ (تفسیر صافی، المقدمہ السادسۃ ص۱۳) اس عبارت میں کلینی کے معتقد تحریف ہونے کی یہ علت بیان کی گئی ہے کہ اس نے تحریف والی روایات پر تنقید نہیں کی اور اول کتاب میں اپنی روایات کی توثیق کی ہے۔ تاہم ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر شیعوں کی کتاب ’’اصول کافی‘‘ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ کلینی نے کسی روایت کی نہ تو ثیق کی ہے اور نہ ہی تنقید۔ وہ صرف ناقل ہے بلکہ کلینی نے مقدمہ میںیہ بات کہی ہے کہ ’’جو روایت موافق قرآن ہو، اسے لے لو اور جو مخالف قرآن ہو، اسے رد کر دو‘‘ اور اسی کے متصل لکھاہے کہ ’’خذوا بالمجمع علیہ فان المجمع علیہ لاریب فیہ‘‘ (اصول کافی ص۶، طبع لکھنو) 

بنا بریں کلینی نے صرف روایت نقل کی ہے، کسی روایت پر حکم نہیں لگایا۔ چونکہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ ’’مجرد نقل الحدیث لا ینم عن عقیدۃ ناقلہ ما لم یتعہد صحۃ ما یرویہ والتزامہ بہ‘‘ یعنی صرف حدیث کانقل کرنا ناقل کے عقیدے کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ جب تک وہ مروی عنہ کی صحت اور اس کے التزام کاعہد نہ کرے،اس وقت تک اس پر کسی طرح کاحکم نہیں لگایا جا سکتا۔ متکلمین کا اصول ہے کہ ’’ان التزام الکفرکفر لا لزومہ‘‘ التزام کفر کفر ہے، لزومِ کفر کفر نہیں ہے۔ (النبراس شرح شرح عقائد للعلامہ عبدالعزیز پرہاروی، ص۱۹۹) جب کہ شیعوں کی تفسیرصافی کی محولہ بالاعبارت کے ذیل میں یہ صراحت موجود ہے کہ ’’والصحیح من مذہب اصحابنا خلافہ‘‘ اور صحیح یہ ہے کہ ہمارے فقہا کا مذہب اس کے خلاف ہے یعنی وہ عدم تحریف کے قائل ہیں۔ نیز محولہ بالاعبارت کے ماقبل ومابعد عدم تحریف پر دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ شیعوں کی کتب کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے چند اخباریوں کے سوا باقی سب عدم تحریف کے قائل ہیں۔ لہٰذا بقول ڈاکٹر اسرار احمد صاحبؒ کے ہمیں شیعوں کے اس موقف کو قبول کر لینا چاہیے۔ 

رہا یہ کہنا کہ ’’اہل سنت کی عقائد کی کتابوں میں شیعوں کو اسلامی فرقہ شمار نہیں کیا گیا۔ اگر کیا گیا ہے کہ توہم اسے محدث عظیم حضرت انور شاہ کشمیری کی کتاب فیض الباری میں منقول عبارت من لم یکفرہم لم یدر عقائدہم پر محمول کرتے ہیں‘‘ تو اس سلسلے میں مزید کتب کی طرف توجہ دلانے کی ضرور ت نہیں ہے، صرف کتاب ’’المصباح فی رسم المفتی ومناہج الافتاء بشرح اصول الافتاء لسماحۃ الشیخ المفتی محمد تقی عثمانی‘‘ تالیف مفتی محمد کمال الدین احمد راشدی کی یہ عبارت ملاحظہ فرما لی جائے:

’’الشیعۃ: فرقۃ من الفرق الاسلامیۃ سمیت بذلک لاعلانہا مشایعۃ علی واودلادہ رضی اللہ عنہم بالذہاب الی انہم ہم الاحق بالخلافۃ بعد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘ (ص۱۵۴، طبع ماریہ اکیڈمی، کراچی)

اس پیرا گراف میں خاتم المحدثین حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کی فیض الباری کے حوالے سے قاسمی صاحب نے ادھوری عبارت نقل کی ہے۔ فیض الباری کی اصل عبارت یوں ہے: ’’اختلفوا فی اکفار الروافض ولم یکفرہم ابن عابدین واکفرہم الشاہ عبدالعزیز وقال ان من لم یکفرہم لم یدر عقائدہم‘‘ یعنی روافض کی تکفیر میں اختلاف کیا گیا ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی ؒ ان کی تکفیر نہیں کرتے اور شاہ عبدالعزیز ؒ نے ان کی تکفیر کی ہے اور کہا ہے کہ جوان کی تکفیر نہیں کرتا، وہ ان کے عقائد سے آگاہ نہیں ہے۔ (فیض الباری ۱؍ ۱۲۰، طبع قاہرہ) فیض الباری کے فاضل جامع و محشی حضرت مولانا بدرعالم میرٹھی ؒ اسی صفحہ کے حاشیے پر اپنے استاد محترم حضرت انور شاہ کشمیری کے درس کا اقتباس نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : قال (الاستاذ): والشاہ عبدالعزیز معاصر لابن عابدین الشامی ولکنہ افقہ منہ عندی۔ شاہ عبدالعزیز ابن عابدین شامی کے ہم عصر تھے، لیکن میرے نزدیک وہ شاہ عبدالعزیز سے بہت بڑے فقیہ تھے۔ کیا افقہ الفقہاء علامہ شامی اور ان کے علاوہ دیگر محققین علماء نے شیعوں کی عقائد پر مشتمل کتب کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا؟

اسلام دشمن طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کوشدید نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ مسلمانوں میں اختلافات کا بیج بویا جائے، ان کو آپس میں لڑایا جائے اور ان کی آئینی و اساسی کتاب قرآن مجید‘کو متنازع بنا کر اسلامی عقائد و اعمال کی پوری عمارت کو زمین بوس کر دیا جائے، لہٰذا ہم قرآن کریم کی عظمت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے اختلافات فراموش کر دیں اور بے بنیاد روایات ونظریات کی بنیادپر ایک دوسرے کو مطعون کرنے سے اجتناب کیا جائے کہ اسی میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی اور بہتری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو باہمی الفت و محبت کی فضا قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دشمنان اسلام یہود ونصاریٰ کے گھناؤنے عزائم کو خاک میں ملا دے اور ہم سب کو صراط مستقیم پر گامزن رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔ 

محمد عامر شہباز 

ڈی اے وی، کالج روڈ، راولپنڈی 

(۳)

گرامی قدر جناب برادرم مولانا عمار خان ناصر صاحب مدظلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ۔ مزاج گرامی بخیر

آنجناب کا مؤقر جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ انتہائی اہم خصوصیات کا حامل ایک خوبصورت علمی جریدہ ہے۔ جولائی تا اکتوبر ۲۰۰۹ء کی مشترکہ خصوصی اشاعت پر، جو امام اہل سنت حضرت مولانا شیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر مشتمل ہے، ’’الشریعہ اکیڈمی ‘‘اور ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے تمام احباب مبارک باد کے مستحق ہیں ۔اللہ رب العزت میرے مخدوم ومشفق حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم اور آپ کو بمع احباب سلامت رکھے اور یوں ہی ہم سب سے دین کی خدمت لیتا رہے۔

اس خصوصی شمارہ کے صفحہ نمبر ۳۸۰پر آپ کے مضمون میں ایک پیرا پڑھ کر دکھ ہوا کہ آپ نے اتنے بڑے کا م کا سہرا اور کریڈٹ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہؓ کے کھاتے میں ڈال دیا ہے جبکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔ شیعہ اثنا عشریہ کے متعلق علماء کرام، محققین کا فتویٰ اور شیعہ کے خلاف تکفیری مہم سپاہ صحابہؓ نے نہیں چلائی۔ سپاہ صحابہؓ کی پیدائش تو۱۴۰۵ھ کی ہے جبکہ شیعہ کے خلاف تکفیری مہم کم ازکم اس صدی میں شروع نہیں ہوئی۔ ویسے تو اس مرتد گروہ کے متعلق کفر کا فتویٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال زریں اور تابعین، تبع تابعین، مجتہدین، فقہائے کرام اور اولیاء کرام کی کتب میں موجود ہے مگر اس طرح متفقہ فیصلہ یا اس فیصلہ کے متعلق باقاعدہ تحریکی صورت اور مہم جوئی کا شرف متقدمین دارالعلوم دیوبندرحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃ کو حاصل ہے جس پر شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنیؒ ، خاتم المحدثین حضرت مولاناسید محمد انور شاہ کشمیریؒ ، مفتی اعظم ہند حضرت مولانامفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، حضرت مولانامسعوداحمدؒ ، حضرت مولانامفتی مہدی حسن شاہجہان پوریؒ جیسے اکابرین، محققین، مفتیان کے دستخط موجود ہیں۔ ان متبرک اکابرین اور دارالعلوم دیوبند کی ان برگزیدہ شخصیات سے یہ شرف فضیلت چھین کر شاگردی میں ان حضرات کے پوتوں پڑپوتوں کے حوالے کردینا، عقل وانصاف اس بات کوجائز قرار نہیں دیتا۔

سپاہ صحابہؓ کی قیادت وکارکنان نے شیعہ کی تکفیری مہم کا آغاز نہیں کیا بلکہ اس تکفیری مہم کے نتیجہ میں آنے والے علمائے کرام، محققین اہل سنت کے اس متفقہ فیصلہ کو فروغ بخشنے، اسے عام کرنے اور شیعہ کے کفریات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی محنت کی ہے اور اخلاص وللہیت سے شروع کی گئی اس محنت میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔

امید کرتا ہوں کہ آپ ریکارڈ کی درستگی کے لیے میری اس گزارش پر غور فرمائیں گے۔

محمد یونس قاسمی

ایڈیٹر:نظام خلافت راشدہ فیصل آباد

myqasmi786@yahoo.com

(۴)

محترمی و مکرمی جناب مولانا زاہدالراشدی صاحب حفظکم اللہ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

مارچ کے الشریعہ پر کہیں نظر ڈالنے کاموقع مل گیا۔ آپ کی ادارتی تحریر نے اپنی طرف کھینچ لیا اور جلدی میں خاصا حصہ دیکھ لیا۔ آپ کا اخلاص اور دردمندی متاثر کیے بغیر نہ رہ سکا۔ فرقہ واریت اور کل حزب بما لدیہم فرحون اور اعجاب کل ذی رای برایہ کے اس کشیدہ ماحول میں ایسی کاوشیں ہوا کا تازہ جھونکا محسوس ہوتی ہیں۔ مذہبی حلقوں کو راہ اعتدال اور علم و تحقیق کی شاہراہ پر لانے اور ان کے اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی ضرورت کاشدت سے احساس ہوتا ہے۔ 

آپ کی تحریر اس وقت سامنے نہیں، ایک عمومی تاثر ذہن میں ہے۔ باقی فرقوں سے قطع نظر، فی الحال جماعت اسلامی کے حوالے سے آنجناب کے نقطہ نظر کے سلسلے میں گزارشات کی جسارت کر رہا ہوں۔ جماعت سے اختلاف کی بنیاد کو جناب نے (یا ان مولانا صاحب نے) غالباً دستور جماعت کی ایک شق تک سمیٹ لیا۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے۔ اگر یہی بات ہے تو راقم کے ناقص فہم کے مطابق اس کا بھی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے اور ’’معیار حق‘‘ کے مسئلہ کوکتاب و سنت اور ائمہ سلف کی آرا کی روشنی میں طے کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے اہل علم کی تحریروں کو بھی سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ سردست میں آنجناب کی خدمت میں ایک وضاحتی تحریر کی کاپی ارسال کر رہا ہوں جو مولانا مودودیؒ کے قریبی رفیق جسٹس ملک غلام علی مرحوم کے قلم سے ہے جس میں صحابہ کرامؓ کے معیارحق ہونے نہ ہونے کے حوالے سے علمی وتحقیقی انداز سے بحث کی گئی ہے۔ آپ اپنے معروف وسیع المشربی اور وسعت نظری والے انداز سے اس مسئلہ پر بھی بے لاگ انداز سے قلم اٹھائیں اور نتائج تحقیق سے ہم جیسے عامی قارئین الشریعہ کو مستفیض فرمائیں تو یہ چیز افادیت سے خالی نہ ہو گی۔ 

ایک عرصہ ہوا بندہ نے ایک اور تحریر بھی کہیں دیکھی تھی جس میں دستور جماعت اسلامی کی اس شق کے حوالہ سے مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کی رائے نقل کی گئی تھی۔ کسی صاحب نے ان سے اس حوالے سے استفسار کیا تھا تو مولانا آزادؒ نے جواب میں کہاتھا کہ مجھے اس میں کوئی چیز از روئے شریعت قابل اعتراض نظر نہیں آتی۔ اس کے علاوہ حلقہ دیوبند کے ممتاز محقق عالم اور دارالعلوم دیوبند کے تحقیقی ادار ے ندوۃ المصنفین کے رفیق مولانا بدرعالم مدنیؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’ ترجمان السنۃ‘‘ ۳؍۴۲۶ میں بھی وہی کچھ فرمایاہے جو اس شق میں مذکور ہے۔ فرماتے ہیں:

’’ رسول کے فیصلے کے سوا کسی کے فیصلے کو الٰہی فیصلہ اور قضائے الٰہی نہیں کہا جا سکتا اور نہ رسول کے علاوہ کسی اور بشر کا فیصلہ نکتہ چینی سے بالاتر ہو سکتا ہے اور اس لیے رسول کے علاوہ ہرانسان کے فیصلہ پر دل وجان سے راضی ہونا لازم قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘

اب دستور کے متعلقہ شق کو دیکھیں اور دونوں میں خود ہی موازنہ فرمائیں:

’’ رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کوتنقید سے بالاتر نہ سمجھے، ہر ایک کو خدا کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے، اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو، اس کو اسی درجہ میں رکھے۔‘‘

انصاف فرمائیں! کیا ان دونوں عبارتوں میں سرمو کوئی جوہری فرق ہے؟ 

جماعت کے بزرگ کہتے ہیں کہ اس میںیہ بات سرے سے مذکور ہی نہیں کہ صحابہ کرامؓ معیار حق ہیں یا نہیں، بلکہ اس میں صرف یہ کہا گیاہے کہ اصل معیار حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ معترضین اس عبارت کایہ فقرہ صاف نظر انداز کر جاتے ہیں کہ ’’جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو، اس کو اسی درجے میں رکھے‘‘۔ یہ فقرہ ان کے اعتراضات کی پوری بنیاد ہی کو منہدم کر دیتا ہے۔ 

’’معیار حق‘‘ اور ’’تنقید‘‘ کی تشریح مولانا مودودیؒ نے بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے یوں کی ہے:

’’ ہمارے نزدیک معیارحق سے مرادوہ چیز ہے جس سے مطابقت رکھنا حق ہو اورجس کے خلاف ہونا باطل ہو۔ اس لحاظ سے معیار حق صرف خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ صحابہ کرامؓ معیار حق نہیں ہیں، بلکہ کتاب و سنت کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔ کتاب وسنت کے معیار پرجانچ کر ہم اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ یہ گروہ برحق ہے۔ ان کے اجماع کو ہم اسی بنا پر حجت مانتے ہیں کہ ان کا کتاب و سنت کی ادنیٰ سی خلاف ورزی پر بھی متفق ہو جانا ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے‘‘۔ ( ترجمان القرآن، جلد ۵۶، عدد ۵) 
’’ تنقید کے معنی عیب چینی ایک جاہل آدمی تو سمجھ سکتا ہے مگر کسی صاحب علم سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس لفظ کا یہ مفہوم سمجھے گا۔ تنقید کے معنی جانچنے اور پرکھنے کے ہیں اور خود دستور کی مذکورہ بالاعبارت میں اس معنی کی تصریح بھی کر دی گئی ہے۔‘‘ (رسالہ ’’کیا جماعت اسلامی حق پر ہے؟‘‘) 

ان تشریحات اور حقائق کی روشنی میں جناب سے بے لاگ عدل و انصاف پر مبنی محاکمہ کی درخواست ہے۔ عجلت میں لکھی گئی اس بے ربط تحریر کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ 

ڈاکٹر عبدالحی ابڑو 

اسلام آباد 

(۵)

ہفت روزہ وزارت لاہور کی مورخہ ۸؍ جولائی ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا زاہدالراشدی مدظلہ کا مضمون بعنوان ’’اکابر علماء دیوبند کی خدمت میں ایک خصوصی عرض داشت‘‘ شائع ہوا ہے جس میں حضرت نے اس وقت ملکی صورت حال کے اسباب پر اکابر علماء دیوبند کو توجہ دلائی ہے۔ ملکی حالات اس وقت واقعتا انتہائی پریشان کن اور خطرناک ہونے کی بنا پر جید اکابر علما سے خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ حضرت نے اپنی تحریر میں بنیادی طور پر دو باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے:

۱۔ افغان جہاد سے واپسی پر مجاہدین کو مصروف رکھنے میں سستی کا مظاہرہ اور اس کے نتیجے میں موجودہ مسلح یورشیں۔ 

۲۔ بہاولپور میں دیوبند سے تعلق رکھنے والی جہادی تحریک کی طرف سے بریلوی مکتب فکر کو ہونے والی شکایت۔

حضرت شیخ الحدیث کے بیان کردہ اسباب سے اختلاف کرتے ہوئے بوجوہ ڈر بھی لگتا ہے کہ ایک طالب علم کی معلومات اور تجزیے کی ان کے افکار کے سامنے کیا حیثیت ہے، لیکن حضرت کے مزاج وسوچ (کہ خلوص نیت پر مبنی اختلافات ایک زندہ معاشرہ کی پہچان ہے) سے جرات پا کر چند سطور حوالہ قلم کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ 

حضرت اقدس کا یہ فرمانا کہ افغان جہاد میں شرکت کر کے واپس آنے والے ہزاروں مجاہدین کو مصروف نہیں رکھا گیا اور اس حوالے سے دینی رہنماؤں نے اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا، یہ بات قبائل میں موجود بعض لوگوں کے حوالے سے حضرت کی معلومات کے مطابق شاید درست ہو، لیکن بالکلیہ تمام مجاہدین کے بارے میں یہ سطور محل نظر ہیں، اس لیے کہ افغان جہاد سے واپسی پر ان نظموں کے ذمہ داران نے اپنے کارکنوں کو ذہنی و فکری تربیت کی طرف متوجہ رکھا ہے اور ان نظموں کے مجلات، رسائل، دروس، کانفرنسیں اس پر شاہد ہیں اور معاشرے میں موجود لوگوں کو عملی جہاد تربیت ان کا ہدف رہا ہے۔ دیگر مفید اصلاحی سلسلے ان کی مہمات کاحصہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عصری و دینی علوم کے ادارے قائم کرنے میں ان میں باقاعدہ مسابقت کا ماحول رہا ہے۔ معاملات کا بگاڑ تب آیا جب حکومت نے راتوں رات بیرونی اشاروں پر بلکہ بیرونی حکم پر ان محب وطن ہزاروں مجاہدین کومشکوک بلکہ دہشت گرد اور وطن دشمن قرار دے دیا اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے سابقہ وابستگیوں کو بنیاد بنا کر گرفتاری و نظربندی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ 

اس موقع پر ان نظموں کے ذمہ داران کی طرف سے حکومت کو اچھی اور مثبت پیش کش بھی ہوئی کہ آپ ان تنظیموں پر مکمل پابندی نہ لگائیں بلکہ ان کو سوشل ورک اورمفادعا مہ کے کاموں میں شریک رہنے کی اجازت دیں، ورنہ یہ ہزاروں تربیت یافتہ افراد (جو اس وقت اپنے نظموں میں ڈسپلن اور قواعد وضوابط کی پابندی کے ساتھ مصروف تھے) مرکزی چھتری سے محروم ہونے کی بنا پر حکومت کے لیے مسائل پیدا کریں گے۔ اس بات کی تفصیل کے لیے روزنامہ اسلام کے غالباً ۲۰۰۲ء کے مضامین ’’کالی آندھی اوراس سے بچنے کا طریقہ‘‘ درویش کے قلم سے ہے، اس کو ضرور ملاحظہ فرمائیے گا۔ لیکن اس مثبت اور معقول پیش کش کے جواب میں وہ کچھ ہوا جو ہمارے ہاں کی روایت ہے کہ طاقت کا نشہ اور اقتدار کی مدہوشی معاملات کے سمجھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ چنانچہ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا کہ حکومت نے ان نظموں کی قیادت کو گرفتار اور نظر بند کر دیا اورکسی کو مخصوص طریقے سے بدنام کرنے کی کوششیں کی گئی جس کے نتیجے میں ان نظموں سے وابستہ افراد نے مرکزی قیادت (جنہوں نے حقیقتاً ان نوجوانوں کو شریعت کی حدود اور قانون کی دائرے میں پابند کیا ہو اتھا) سے کٹ آف ہو کر اپنی اپنی سوچ اور ترجیحات کے مطابق شریعت اور قانون کی حدود کی پروا کیے بغیر اقدامات شروع کر دیے جسے انہوں نے جہاد کا نام دیا۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان نظموں کی قیادت کی سنجیدہ اور مثبت پیش کش کو مان کر درمیانی راہ نکال لی جاتی، لیکن حکومت نے کریک ڈاؤن، سرچ آپریشن وغیرہ کے خطرناک اور غیر ضروری راستے اپنائے۔ اس کے علاوہ مختلف اقدامات مثلاً متعدد مدارس پر چھاپے اور لال مسجد آپریشن وغیرہ نے ایسے افراد کو تقویت پہنچائی جو حکومت کو امریکی پٹھو قرار دے کر مسلح ہوئے تھے۔ عرض کرنے کامقصد یہ ہے کہ حالیہ یورش کا سبب حکومت کے غلط اقدامات اور بالخصوص ان قانون کی پابندی کرنے والے نظموں پر پابندی عائد کرنا ہے۔ 

دوسری بات جس کی طرف حضرت مدظلہ نے ماہنامہ ضیائے حرم کے مضمون (شائع شدہ جون ۲۰۰۹ء) کے حوالہ سے توجہ دلائی ہے، یہ ہے کہ بہاولپور میں دیوبندی مکتبہ فکر کی جہادی تنظیم کی طرف سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس سے بریلوی مکتبہ فکر کو شکایات ہیں کہ بہاولپور کے پورے علاقے کوایک کالعدم تنظیم نے دہشت زدہ کر رکھا ہے، اس نے اپنے ہیڈکوارٹر کے سامنے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے اور قبضہ کرنے کے لیے یا قبضہ چھڑانے کے لیے ان کے کرائے کے بدمعاش ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ 

حضرت کے اس مضمون پرتوجہ دلانے کے متعلق عرض ہے کہ یہ ایک فریق کی طرف سے الزامات ہیں۔ واقعتا اکابر علماء دیوبند کو ایک وفد کی شکل میں سرکاری و سیاسی ذمہ داروں اور صحافیوں کو ساتھ لے کر بہاولپور شہر کا دورہ کرنا چاہیے۔ اگر اس کالعدم تنظیم پر لگائے گئے الزامات واقعی درست ہوں تو مدمقابل فریق کو اس کے جائز حقوق نہ صرف لے کر دیے جائیں بلکہ اپنے مسلک سے متعلق اس تنظیم کے ارکان کی فہمائش و اصلاح کا راستہ بھی نکالنا چاہیے۔ اور اگر یہ الزامات بھی دیگر الزامات کی طرح عالمی پروپیگنڈے کا حصہ ہو ں اور مقصد تنظیم کے نام پر جہاد کو کمزور کرنا ہو تو پھر اکابر علما کو اس تنظیم کے (جس نے اپنے اراکین اور ذمہ داران بلکہ سرپرستوں تک کے جنازے اٹھا کر بھی کبھی وطن عزیز میں احتجاج کے نام پر اپنوں پر چند گھنٹوں کے لیے تنگی کو بھی برداشت نہ کیا ہو اور وطن عزیزمیں شریعت کی حدود کو پامال کر کے مسلح جدوجہد سے انکار کا صلہ جس کو اپنوں کی بے وفائی، جماعت کی تقسیم، کراچی سے پشاور تک بدنام کرنے کی سپیشل مہمات وغیرہ کی صورت میں ملا ہو اور پھر بھی وہ تمام تر عسکری وزن کفار کے مقابلے میں ڈالے ہوئے ہوں تو پھر ان) نوجوانوں کو شاباش دینا اور ان کی معاونت و سرپرستی پہلے سے بڑھ کر کر ناچاہیے تاکہ شریعت و قانون کی حدود کی پابندی کرنے والے نظموں کے افراد کی حوصلہ افزائی ہو۔ 

عبدالمالک طاہر 

جامعہ فاروقیہ ، شیخوپورہ 

(۶)

’الشریعہ‘ کے ا پریل کے شما رے میں ڈاکٹر غطریف ندوی صا حب نے ایک مضمون بنام ’’سیدابوالحسن علی ندوی: فکری امتیازات وخصا ئص‘‘ لکھا ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر صا حب نے کچھ نئے ا نکشا فات کیے ہیں جو انتہائی تعصب اورغیرذمہ داری پرمبنی ہیں۔ 

محترم ڈاکٹر صا حب نے اپنے مضمون میں حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ کاسیداحمدشہیدؒ اور شاہ اسمعٰیل شہیدؒ کی تحریک سے متا ثر ہونا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ اور کہا جا سکتا ہے کہ صحا بہ ر ضوان اﷲعلیہم اجمعین کے بعدوہ اسی تحریک کو مثالی اور آئیڈ یل تصور کرتے تھے‘‘۔ مولانا علی میاںؒ نے اپنی کتاب ’’تاریخِ دعوت وعزیمت‘‘ میں جس طرح علما وبزرگانِ سلف کا تذ کرہ کیا ہے، اْس سے یہ غلو دَر غلو ثا بت نہیں ہوتا جوڈاکٹر صا حب تحریر کررہے ہیں کہ مولانا علی میاںؒ صحا بہؓ کے بعد تحریک شہیدین کو آئیڈ یل تصور کرتے تھے۔ شہیدین سے پہلے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ، حافظ ا بن قیمؒ ، مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ جیسی عظیم عبقری شخصیات کا تذ کرہ بھی مولانا علی میاں نے شاندار الفاظ میں تحریر کیا ہے۔

ڈاکٹر صا حب نے بستی نظام الدین سے اْٹھنے والی ’’تحریکِ ایمان‘‘کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’بستی نظام الدین کے مرکزتبلیغ کی طرف اْن کے قدم تبلیغی تحریک کے وسیع تناظرکو دیکھتے ہوئے ہی اْٹھے تھے جوافسوس کہ بانی تبلیغ، مصلح اْمت مولانامحمدالیاس کا ندھلویؒ کے ذہن میں ہی رہا اوراْن کی وفات پراْن کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا‘‘۔

ڈاکٹر صاحب نے اس انکشاف کی کوئی دلیل نہیں دی۔ جن لوگوں نے حضرت مولانامحمدالیاس صا حبؒ کی زندگی میں اْن کی ز یارت کی اور اْن کے ساتھ دعوت کی محنت میں حصّہ لیا، اْنہوں نے تو کبھی اْس ’’وسیع تناظر‘‘ کے بارے میں ایسا انکشاف نہیں کیا جو ڈاکٹر صا حب کر رہے ہیں۔ سب سے بڑی مثال خود حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ کی ہے جنہیں حضرت مولانامحمدالیاس صا حبؒ کوقریب سے دیکھنے اوراْن کاترجمان بننے کا موقع ملااور اْن کی وفات سے اپنی وفات تک اِس تحریک کی مسلسل سرپرستی کرتے رہے۔ اگر حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ کی زندگی پرغورکیا جائے تویہ بات کْھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ مولانا علی میاںؒ کی تبلیغی تحریک کے ساتھ زیادہ وابستگی حضرت مولانامحمدیوسف کا ندھلویؒ کے زمانے میں رہی ہے۔ مولانامحمدیوسف کا ندھلویؒ نے مولانا علی میاںؒ کی عربی ادب میں مہارت کو تبلیغی کام کے لیے خصوصًا حجاز میں متعارف کروانے کاذر یعہ بنایاتھا۔ مولانا علی میاںؒ نے حجاز میں تبلیغی کام متعارف کروانے کاحق اداکیا تھا۔کون نہیں جانتاکہ بھوپال کے سالانہ اجتماع میں مولانا علی میاںؒ کا خصوصی خطاب ہوتارہاہے اور تبلیغی تحریک کے اکابرین ہمیشہ مولانا علی میاںؒ سے مشورے کرتے رہے اور مولانا علی میاںؒ نے کْھل کرسر پرستی کی تھی۔ شایدڈاکٹر صا حب نے مولانا علی میاںؒ کی لکھی ہو ئی کتاب ’’مولانا محمد الیاس ؒ اور اْن کی دینی دعوت‘‘ کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔ کیا ڈاکٹر صا حب اْس کتاب میں کوئی ایسی عبارت یا دلیل بتا سکتے ہیں جس میں اْنہوں نے کو ئی ایسی بات تحریر کی ہو؟

ڈاکٹر صا حب نے مولانا علی میاںؒ کو داعی ومفکر، روحانی قائداور مر شدِاْمت لکھاہے اور بعض لوگوں کی بے اعتدالیوں پر مولانا علی میاںؒ کی زودار گرفت کاتذکرہ کیا ہے۔ جب مولانا علی میاںؒ دین کے معا ملے میں اْن لوگوں کی گرفت کرتے رہے جن کے ساتھ اْن کی وابستگی رہی توسوال یہ ہے کہ ۱۹۴۴ء میں مولاناالیاس صاحبؒ کی وفات کے بعد تحریک کی ’’بے اعتدالیوں پر ’’مرشدِ اْمت‘‘ کیوں خاموش رہے اور جس ’’وسیع تناظر‘‘ کا انکشاف ڈاکٹر صا حب کررہے ہیں، اْس کے بارے میں اْمت کو کیوں نہیں بتایا؟

ڈاکٹر صا حب مولانا علی میاںؒ کے بارے میں تحریرکرتے ہیں کہ ’’اْنھوں نے تصوف کو بدعات وخرافات اورعجمی اثرات سے پاک کر نے کی دعوت دی اورکتاب و سنت پر مبنی تصوف (احسان) کو روحِ دین سے کبھی متصادم نہیں سمجھا، بلکہ اگردیکھا جائے تو صحیح معنی میں اْنھوں نے ہی بر صغیرمیں پہلی بار علم تزکیہ (تصوف) کی تجد ید کی اور بد عات و شر کیہ ا عما ل سے اس کی تطہیرکی بنارکھی‘‘۔

جو اہلِ علم، اہل تصوف کی تاریخ کے بارے میں جانتے ہیں، اْن پر یہ بات کھلی ہوئی ہے کہ مولانا علی میاںؒ تصوف کی تطہیر کرنے والے پہلے شخص نہیں ہیں بلکہ اْن سے پہلے ہرزمانے میں ہزاروں لوگوں کو اللہ ربّ العزت اْٹھاتا رہا ہے جن کی زبردست دینی واصلاحی خدمات ہیں۔ خود ڈاکٹر صا حب نے مولانا علی میاںؒ کی کتاب ’’تاریخِ دعوت وعزیمت ‘ ‘ کاحوالہ دیا ہے۔ کیا جن عظیم شخصیات کا تذکرہ مولانا علی میاںؒ نے اپنی اِس کتاب میں کیا ہے،اْ نہوں نے تصوف سے بدعات وخرافات کی تطہیر نہیں کی؟

ٓٓخود ڈاکٹر صا حب اپنے مضمون کے حاشیہ نمبر۴ میں لکھتے ہیں کہ،’’بلاشبہ محْقق صوفیا اِن غالی خیالات کی تردید کرتے رہے‘‘۔ 

ڈاکٹر صا حب نے اہل تصوف کے طبقات و سلاسل کے با رے میں اپنے مضمون کے حاشیہ نمبر۴ میں تحر یر کیا ہے کہ ’’وحدت الوجود کے فلسفہ نے توحید وشرک کے مابین سارے فاصلے ہی ختم کر دیے‘‘۔ کاش ڈاکٹر صا حب نے ’’تاریخِ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد نمبر۲ کا مقدمہ ہی بغور مطالعہ کیا ہوتا تو شرک کا یہ فتوی اِن کے قلم سے صادر نہ ہوتا۔ مولانا علی میاںؒ ، ’’تاریخِ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد نمبر۲ کے مقدمہ میں تحر یر فرماتے ہیں: ’’اِس دوسری جلد کی ا شاعت کے مو قع پر اس حسرت اور دلی قلق ہے کہ فا ضِل گرامی مولاناسید مناظر گیلانیؒ اور مولانا حلیم عطاموجود نہیں ہیں جو اِس سلسلہ کے سب سے بڑے قدرداں اور مویدتھے۔ پہلی جلد شائع ہوئی تو سب سے زیادہ مسرت کا اظہار مولانا گیلانی نے فرمایا، کتاب کالفظ لفظ ذوق و شوق سے پڑھا اور بڑے جو ش وتاثر کا خط لکھا۔ مرحوم اگرچہ (ہمارے علم میں) شیخ اکبر کے علوم کے ہند ستان میں بہت بڑے عارف وعامل تھے‘‘۔

ڈاکٹر صا حب یقیناًجانتے ہوں گے کہ محی الد ین ابنِ عر بیؒ اْ ن بڑے لو گوں میں سے ہیں جو وحدت الوجود کانظر یہ رکھتے تھے۔ اِس کے علا وہ جنید بغدادیؒ ، علامہ شبلیؒ ، شیخ عبد القادر جیلانیؒ ، شیخ ابو سعید مخزومیؒ ، جلال الد ین رومیؒ ، ملا جا میؒ ، شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ ، شاہ ولی اللہؒ ، شاہ عبد العزیزؒ، سیداحمدشہیدؒ اور شاہ اسمعٰیل شہیدؒ ، یہ تمام اکابر ین وحدت الوجود کانظر یہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر صا حب کے فتواے شرک کی زد میں یہ سارے بز رگ آ رہے ہیں۔ کیا ڈاکٹر صا حب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اِن تمام بزرگوں نے توحید وشرک کے مابین سارے فاصلے ہی ختم کر د یے تھے؟ کیا ڈاکٹر صا حب اِن تمام بزرگوں سے زیادہ بڑے مو حد ہیں؟

ڈاکٹر صا حب نے اپنے مضمون کے حاشیہ نمبر۴میں تحر یر کیا ہے کہ ’’ دورِ جد ید میں تصوف کے زیرِاثرحلقوں میں ایک اور فلسفہ نمودار ہوا جس کی تر جما نی بر صغیر میں تبلیغی جما عت کا پیٹرن کر تا ہے‘‘۔

اِنتہا ئی حیرت ہے کہ ڈاکٹر صا حب تبلیغی تحریک کی Nature)) کو ہی نہیں سمجھے۔ یہ بات انتہا ئی غلطی پر مبنی ہے کہ تبلیغی تحریک تصوف سے (Derive) ہو نے والی کو ئی محنت ہے۔ شاید ڈاکٹر صا حب کو یہ غلط فہمی اِس وجہ سے ہو ئی کہ حضرت مولانامحمدالیاس صا حبؒ َ حضرت مولانارشید احمد گنگوہیؒ کے خادم رہے ہیں اور انھوں نے ان سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کیا اور بعد میں صاحبِ بذل المجہود حضرت مولاناخلیل احمد سہا رنپوری ؒ کے سا تھ بھی اپنا اصلاحی تعلق قائم رکھا۔ تبلیغی محنت میں دوسروں کے پاس چل کر جانا پڑ تا ہے اور لوگوں کے تمسخر، گالیوں اور مارپیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تصوف کی محنت کہتی ہے کہ لوگ اپنی اصلاح کے لیے ہما رے پاس چل کرآئیں۔ تبلیغی محنت گئے ہوئے دین کی طلب پیدا کرنے کے لیے ہے اور تصوف کی محنت اْن لوگوں کے لیے ہے جن کے اندر دین کی طلب پیدا ہو چکی ہو۔

ڈاکٹر صاحب نے مزید لکھا ہے کہ ’’یہ صحیح ہے کہ مسلما ن عوام پر اصلاح وتبلیغ کے اِس فکر کے گہرے اثرات پڑے ہیں، تا ہم اِس کا یہ پہلو بہت کھٹکتا ہے کہ اِس میں نہی عن المنکر کے پہلو کو مکمل طور پرخاموش کر کے امربا لمعروف اوربشارت کے پہلو پر صرف کیاجاتا ہے اور احادیثِ فضا ئل سے خاص طور پرمددلی جاتی ہے‘‘۔

اللہ ربّ العزت نے فرمایا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰو ۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآ ءِ وَ الْمُنْکَرِ (سور ۃ العنکبو ت اّیت نمبر۴۵) ’’بے شک نمازروکتی ہے بے حیائی سے اورناشا ئستہ حر کتوں سے‘‘۔ جب ایک شخص میں د ین پر چلنے کی استعداد نہ ہو تو اگرکوئی اس کونماز کے فضا ئل سْنا کر نماز پرکھڑا کر دے تو یہ بات یقینی ہے کہ نماز اپنے اندر ایسی استعداد رکھتی ہے کہ وہ بْرائیوں سے بچائے گی۔ الحمد للہ لوگوں کی قربانیوں اوررونے دھونے سے اللہ ربّ العزت نے ایکٹرز، کرکٹرز، اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے والوں کی زندگیوں میں تبد یلی پیدا کی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر صا حب کو منکرات سے لوگوں کو بچانے کا یہ مثبت پہلو نظر نہیں آرہا۔ مجھے ڈاکٹر صا حب کی اِس بات سے ایک لطیفہ یاد آگیا جو ایک مرتبہ رائے ونڈکے اجتماع میں حضرت مولانامحمد احمد انصاری صاحب نے سْنایاتھا۔ لطیفہ اِس طرح ہے کہ ایک مرتبہ ایک کمرے میں پنکھے اور ٹیوب لائٹس جل رہی تھیں کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ باہر سے ایک شخص ڈانڈالے کر کمرے میں داخل ہوا اور زورسے کہا کہ میں اِن پنکھوں اور ٹیوب لائٹس کو چلاؤں گا۔ کسی بھائی نے اْس کوسمجھایا کہ دیکھو پنکھوں اور ٹیوب لائٹس کا رابطہ Power House سے ٹوٹ گیاہے اور کرنٹ نہیں آ رہا، اس لیے یہ نہیں چلیں گے۔ اْس شخص نے کہا ان کی اِیسی کی تیسی، میں اِن کو چلاؤں گا۔ اْس شخص نے کسی کی ایک نہ سْنی اور ڈانڈا لے کر زور زور سے پنکھوں اور ٹیوب لائٹس پر مارنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پنکھوں اور ٹیوب لائٹس کا بیڑہ غرق ہوگیااور ہاتھ کچھ نہ آ یا۔

دعوت وتبلیغ کی محنت میں یہ کہا جا رہاہے کہ اْ مت کا رابطہ اللہ سے ٹوٹا ہواہے، دعوت الی اللہ اور ایمان کی محنت سے اْ مت کا رابطہ اللہ سے جوڑ دیاجا ئے گا تو اْمت خودہی دین پر چلے گی۔

آخر میں ڈاکٹر صا حب سے درخواست کروں گاکہ اگر آپ کو تبلیغ کی محنت کے بارے میں اِشکا لات ہیں تو دہلی میں بستی نظام الدین جاکر بزرگوں کے سامنے پیش کریں اور اِس محنت کے بارے میں لوگوں کو متنفر کرنے کاذریعہ مت بنیں۔ 

عاطف مقبول خان (طالبِ فن،ایم فل اکنا مکس)

بین الا قوامی اِسلامی یونیورسٹی،اِسلام آ باد۔ atifdai313@gmail.com

مکاتیب

(مئی ۲۰۱۰ء)

Flag Counter