مکاتیب

ادارہ

(۱)

محترم جناب محمد عمار صاحب، مدیر الشریعہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے جو جواب مجھے تحریر کیا تھا، محض اس وجہ سے اس پر کچھ لکھنے کا ارادہ نہیں ہوا کہ جناب کے جواب سے مایوسی ہوئی تھی، لیکن اب جبکہ آپ نے اسے جنوری کے الشریعہ میں شائع کر دیا ہے تو مجبوراً چند سطریں لکھتا ہوں۔ 

میرے مضمون کا حاصل دو امور ہیں:

۱۔ یہ دکھانا کہ آپ نے اجماعی تعامل اور علمی مسلمات کے دائرے سے جابجا تجاوز کیا ہے اور خطرناک اصولی غلطیاں کی ہیں۔

۲۔ علمی مسلمات کے دائرے میں رہ کر بھی ذکر کردہ اشکالات کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے جس کی کچھ مثالیں بھی میں نے پیش کی ہیں۔

کوئی بھی فکر صرف اسی وقت صحیح ہو سکتی ہے جب اصولوں کی مکمل پاس داری کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے کہ ’’نکرہ تعظیمی سے یہ استدلال آخر عربیت کے کس اصول کے تحت درست ہے؟‘‘ لیکن اپنی فکر کو پیش کرتے ہوئے آپ نے بہت سے اصول توڑے جن کی نشان دہی کرنے کو آپ نے پھبتیاں کسنے سے تعبیر کیا ہے۔ پھر آپ نے اس اہم نکتہ سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ لکھا کہ زیر بحث نکتہ کچھ اور ہے۔ زیر بحث نکتہ کیا ہے، اس سے تو میں نے اختلاف نہیں کیا تھا۔ میں نے تو یہ بتایا تھا کہ آپ کے نکتہ سے بہت سے اصول ٹوٹ رہے ہیں اور علمی مسلمات پامال ہو رہے ہیں، لیکن آپنے اپنے پورے جواب میں ان کو نظر انداز کرنے کی روش کو اختیار کیا۔ 

آپ چاہیں تو کسی با اعتماد مستند عالم سے محاکمہ کرا لیجیے۔

رہی یہ بات کہ میں بھی اصولوں اور علمی مسلمات کونظر انداز کرکے آپ کے ذکر کردہ نکتوں میں آپ سے یا آپ کے موافقین سے بحث میں الجھ جاؤں تو اس کے لیے میں تیار نہیں ہوں۔

دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو گمراہیوں سے بچائیں اور ہدایت کی راہ پر لگائیں۔ آمین

(مولانا مفتی) عبد الواحد غفر لہ

۱۴؍محرم الحرام ۱۴۳۰ھ

(۲)

مکرم ومحترم مولانا مفتی عبد الواحد زید مجدہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ بے حد شکریہ!

آپ نے میری آرا میں جن ’بے اصولیوں‘ کی طرف توجہ دلائی ہے، ان سب کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ کسی آیت یا حدیث کی تشریح میں یا کسی علمی وفقہی مسئلے سے متعلق سلف سے منقول آرا سے ہٹ کر کوئی رائے قائم کرنا یا کوئی نئی تعبیر پیش کرنا ایک امر ممنوع ہے اور جو شخص ایسا کرتا ہے، وہ علمی بے اصولی کا مرتکب ہوتا ہے۔ میرے نزدیک چونکہ یہ بات ہی سرے سے درست نہیں، ا س لیے میں اسے کوئی بے اصولی بھی نہیں سمجھتا اور اپنے اس موقف کو کتاب کی تمہید میں، میں نے پوری تفصیل سے واضح کیا ہے۔ اس نکتے کی توضیح وتفصیل کے لیے میں چند مزید گزارشات قلم بند کر رہا ہوں جو امید ہے کہ ’الشریعہ‘ کے آئندہ شمارے میں شائع ہو سکیں گی۔ 

اس کے ساتھ ایک عاجزانہ شکوہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں کسی بھی راے پر تنقید کرتے ہوئے اہل علم کا منصب بس یہ ہے کہ وہ علمی طریقے سے کسی نقطہ نظر کی غلطی کو واضح کر دیں، اور اپنے مخاطب کو یہ حق دیں کہ وہ اپنے اطمینان ہی کے مطابق اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ یہ توقع کرنا کہ اس تنقید سے ضرور اتفاق بھی کیا جائے گا اور ایسا نہ ہونے پر ’مایوسی‘ کا اظہار کرنا یا علمی بحثوں کی سنسنی خیز انداز میں تشہیر کر کے اس بات کی کوشش کرنا کہ عوامی یا خاندانی دباؤ کا ہتھیار استعمال کر کے کسی شخص کو اپنے ضمیر کے مطابق راے قائم کرنے اور اسے بیان کرنے سے ’’روکا‘‘ جائے، میرے خیال میں علم اور اہل علم کے منصب کے شایان شان نہیں۔ 

امید ہے کہ آپ اپنی نیک دعاؤں میں مسلسل یاد رکھیں گے۔ 

محمد عمار خان ناصر

۱۵؍ جنوری ۲۰۰۹

(۳)

عزیز القدر حافظ عمار خان ناصر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

رسالہ ’الشریعہ‘ مل گیا ہے۔ کرم فرمائی کا شکریہ۔ کبھی کبھار رسالہ یکھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ نہایت ہی وقیع رسالہ ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اپنے حلقے میں اس قسم کا وقیع رسالہ شائع ہوتا ہے۔

عزیزم! آپ کے رشحات قلم ’’اشراق‘‘ میں پڑھتا رہا ہوں۔ ماشاء اللہ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور اطمینان ہے کہ آپ ان صلاحیتوں کو صحیح مصرف میں صرف کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل میں مزید ترقی دے۔ آمین۔

(پروفیسر حافظ) خالد محمود

چک لالہ۔ راول پنڈی

(۴)

محترم المقام استاذی مولانا زاہد الراشدی صاحب ومحترم مولانا عمار صاحب

السلام علیکم!

جنوری کے شمارے میں ’’روایت ودرایت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا ہے جو اپنے اندر کسی بھی قسم کا علمی مواد نہیں رکھتا۔ اسے ’الشریعہ‘ میں شائع کرنے کے دو مقصد سمجھ میں آتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں الشریعہ اور مدیر الشریعہ کی تعریف کی گئی ہے اور دوسرے یہ کہ راجہ انور صاحب کی کم علمی یا لا علمی اور ان کے تعصب کو ظاہر کرنا مقصود تھا۔ درسی ملا اور ساڑھے تین سو سال پرانے نصاب نے معاشرے کو جو کچھ دیا ہے، راجہ صاحب کو پچھلے زمانے میں علامہ شبلی نعمانی اور آج کے دور میں مولانا عمار صاحب ہی ایسے نظر آئے ہیں جو معاشرے کی ضرورتوں کو صحیح معنی میں سمجھ پائے ہیں۔ ان کے بقول اس نصاب نے شبلی وحالی جیسا پرتو بھی پیدا نہیں کیا، لیکن ان کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ یہ شبلی وحالی اور عمار صاحب بھی تو اسی نصاب کے فیض یافتہ ہیں۔ پھر انھیں مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حسین احمد مدنی اور سید سلمان ندوی جیسے اکابر کے نام ہی نظر نہیں آئے جنھوں نے اسلام کی خاطر انقلابی کام کیے۔

اس میں راجہ صاحب کا قصور بھی نہیں ہے۔ آج کا دور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے اور میڈیا کہتا ہے کہ آج کا ملا کسی کام میں ترقی نہیں کر رہا۔ راجہ صاحب کو عالم بھی وہ لوگ نظر آتے ہیں جنھیں میڈیا عالم فاضل بنا کر پیش کر رہا ہے اور جن کی ظاہری ہیئت ایسی ہے کہ مسلم وغیر مسلم میں فرق بھی محسوس نہیں ہوتا۔ راجہ صاحب کو نظر آئے تو جاوید غامدی صاحب جن کا عربی میں مبلغ علم جاننے کے لیے ’ضرب مومن‘ میں شائع شدہ ان کے خط کا عکس دیکھ لینا ہی کافی ہے۔

راجہ صاحب اور ان جیسے لوگوں سے عرض ہے کہ دیکھنے اور سمجھنے کے لیے صرف بصارت کافی نہیں، بلکہ بصیرت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ اپنی بصیرت کو وسعت دیں، ان شاء اللہ آپ کو درسی ملا کے اوصاف اورصدیوں پرانے نصاب کے کمالات بھی نظر آ جائیں گے۔

محمد حسنین اعجاز

بلاک N۔ مکان ۴۸۔ ڈیرہ غازی خان


مکاتیب