ستمبر ۲۰۰۸ء

امریکہ میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

میں ۲ اگست کو نیو یارک پہنچا تھا۔ ۹؍ اگست تک کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درس گاہ دار العلوم نیو یارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم وتدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے مدارس بھی ہیں۔ درس نظامی سے میری مراد یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس وتعلیم اور امامت وخطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں اور قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے ساتھ ان علوم وفنون...

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ۔ ولادت سے تکمیل تعلیم تک

― مولانا محمد یوسف

قرآن مجید میں قصاص کے احکام ۔ چند غور طلب پہلو (۱)

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،لکھا گیاہے اوپر تمہارے برابری کرنامارے گیوں کے بیچ ، آزاد بدلے آزاد کے اور غلام بدلے غلام کے اور عورت بدلے عورت کے ، تو جس کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی ہو، تو پیروی کرنا ہے ساتھ اچھی طرح کے ، اور ادا کرنا ہے طرف اس کے ساتھ نیکی کے ، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت ، اس کے بعد جو زیادتی کرے ، تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اور قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے اے اہلِ عقل تاکہ تم(قتل و خون ریزی سے، یعنی اللہ کے غضب سے کہ قتل و خون ریزی غضب کی ایک صورت ہے ) بچو‘‘۔ سورۃ البقرۃ کی آیت۱۷۸...

اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز؟ (۲)

― محمد زاہد صدیق مغل

اسلامی معاشیات پر اس عمومی تبصرے کے بعد اب ہم مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب کی طرف چلتے ہیں۔ (۲) مولانا تقی عثمانی اور اسلامی معاشیات۔ مولانا کی کتاب ’’اسلام اور جدید معیشت و تجارت‘‘ کھلے عام لبرل سرمایہ داری کا اسلامی جواز پیش کرتی ہے۔ مولانا معاشیات کو غیر اقداری علم سمجھ کر معاشی مسئلے کے بارے میں یہ تصور قائم کرتے ہیں: ’’انسانی وسائل محدود ہیں اور اسکے مقابلے میں ضروریات اور خواہشات بہت زیادہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لامحدود ضروریات اور خواہشات کو محدود وسائل کے ذریعے کس طرح پورا کیا جائے؟ اقتصاد اور اکنامکس کے یہی معنی...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی! ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ سے مسلسل فیض یاب ہو رہا ہوں۔ اللہ کریم آپ کی توانائیوں اور دینی وعلمی خدمات میں مزید برکت مرحمت فرمائے۔ آمین۔ دینی حلقوں میں پائے جانے والے فکری جمود کوتوڑنے کا عزم لائق تحسین ہے۔ اس سلسلے میں مختلف الخیال دینی وعلمی حلقوں کے افکار کی ’’الشریعہ‘‘ میں اشاعت قابل قدر ہے۔ اللہ کرے کہ یہ اقدام ’’تلذذ بالمسائل‘‘ کے بجائے قارئین ومعاونین میں دوسروں کی رائے صبر وتحمل کے ساتھ سننے اور معقول آرا پر غور وفکر کا ذریعہ بن جائے۔ عصر حاضر میں دینی...

تعارف و تبصرہ

― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

’’مولانا مودودیؒ کی تحریک اسلامی‘‘ چند تاثرات واحساسات۔ نام کتاب: مولانا مودودی کی تحریک اسلامی مع جماعت اسلامی اور اسلامی دستور۔ مصنف: پروفیسر محمد سرور۔ ناشر: دار الکتاب، کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور۔ سال اشاعت: جولائی ۲۰۰۴ء۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔ سید مودودیؒ کا دور (۱۹۰۳ تا ۱۹۷۹) برصغیر ہند و پاک کی تاریخ میں بڑا اہم دور تھا۔ مسلمانوں میں رہنماؤں کے قحط کا رونا پرانا رونا ہے، مگر اس دور میں مسلمانوں ہی میں بڑے سر برآوردہ رہنما سامنے آئے۔ سرسید، عبیداللہ سندھی، جمال الدین افغانی، محمد علی جوہر، علامہ اقبال، ابو الکلام آزاد،...

ستمبر ۲۰۰۸ء

جلد ۱۹ ۔ شمارہ ۹