زنا بالجبر کی سزا

محمد عمار خان ناصر

(مصنف کی زیر طبع کتاب ’’حدود وتعزیرات: چند اہم مباحث‘‘ کا ایک باب۔)


قرآن مجید میں زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے زانی اور زانیہ، دونوں کو سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے جس سے واضح ہے کہ قرآن کے پیش نظر اصلاً زنا بالرضا کی سزا بیان کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سزا کا اطلاق زنا بالجبر بھی ہوگا، لیکن چونکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ زنا بالرضا سے زیادہ سنگین جرم ہے، اس لیے زنا کی عام سزا کے ساتھ کسی تعزیری سزا کا اضافہ، جو جرم کی نوعیت کے لحاظ سے موت بھی ہو سکتی ہے، ہر لحاظ سے قانون وشریعت کا منشا تصور کیا جائے گا۔ اس ضمن میں کوئی متعین سزا تو قرآن وسنت کے نصوص میں بیان نہیں ہوئی، البتہ روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض فیصلے ضرور نقل ہوئے ہیں:

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نماز کے لیے مسجد جاتی ہوئی ایک خاتون کو راستے میں تنہا پا کر اسے پکڑ لیا اور زبردستی اس کے ساتھ بدکاری کر کے بھاگ گیا، لیکن جب اس کے شبہے میں ایک دوسرے شخص کو پکڑ لیا گیا اور اس پر سزا نافذ کی جانے لگی تو اصل مجرم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا۔ ۱؂ 

اس واقعے سے متعلق روایات میں اس شخص کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی تحقیق کیے جانے کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر یہ شخص کنوارا تھا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ازدواجی حیثیت کی تحقیق کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی تو پھر اس سے یہ بآسانی اخذ کی جا سکتی ہے کہ زنا بالجبر کی سزا رضامندی کے سزا کے مقابلے میں زیادہ سخت ہونی چاہیے۔

ایک دوسرے مقدمے میں، جس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس میں لونڈی کی رضامندی شامل نہیں تھی تو پھر وہ آزاد ہے اور شوہر کے ذمے لازم ہے کہ وہ اس جیسی کوئی دوسری لونڈی اپنی بیوی کے حوالے کرے۔ ۲؂ 

یہاں زنا کے مرتکب کے لیے کسی سزا کا ذکر نہیں ہوا۔ ممکن ہے اس شخص کو کوئی سزا دی گئی ہو، لیکن روایت میں اس کا ذکر نہ ہوا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ وطی کی ہو اور اس طرح حرمت محل میں شبہے کی بنیاد پر اسے سزا سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہو۔ 

صحابہ اور تابعین سے زنا بالجبر کے بعض واقعات میں زنا کی عام سزا دینا منقول ہے۔ ۳؂ ان واقعات میں زنا بالجبر کا شکار ہونے والی زیادہ تر لونڈیاں تھیں۔ عرب معاشرت میں غلام اور لونڈیاں نہ صرف اخلاقی تربیت سے محروم ہوتے تھے بلکہ ان میں زنا اور چوری جیسی اخلاقی برائیوں کا پایا جانا ایک عام بات تھی، چنانچہ لونڈیوں کے ہاں عفت وعصمت کا تصور ایسا پختہ نہیں تھا کہ اس کے چھن جانے پر وہ محرومی یا ہتک عزت کے کسی شدید احساس کا شکار ہو جائیں۔ اس تناظر میں لونڈیوں کے ساتھ بالجبر زنا پر اگر کوئی سخت تر سزا نہیں دی گئی تو یہ بات قابل فہم ہے۔

سیدنا ابوبکر نے ایک مقدمے میں زنا بالجبرکے مجرم کو پابند کیا کہ وہ اس خاتون کے ساتھ نکاح کر لے ۴؂ جبکہ عمر بن عبدالعزیز اور حسن بصری نے زنا بالجبر کی سزا یہ تجویز کی کہ مجرم پر حد جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے غلام بنا کر اسی عورت کی ملکیت میں دے دیا جس کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی۔ ۵؂ 

تابعی مفسر سدی کی رائے یہ تھی کہ اگر خاتون کا باقاعدہ پیچھا کر کے اس کے ساتھ بالجبر زنا کیا جائے تو مجرم کو لازماً قتل کیا جائے گا۔ سدی نے اس کے لیے سورۂ احزاب میں منافقین کے حوالے سے بیان ہونے والے حکم: ’اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلا‘ سے استدلال کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

ہذا حکم فی القران لیس یعمل بہ لو ان رجلا وما فوقہ اقتصوا اثر امراۃ فغلبوہا علی نفسہا ففجروا بہا کان الحکم فیہا غیر الجلد والرجم وہو ان یؤخذوا فتضرب اعناقہم (روح المعانی، ۲۲/۹۲)
’’قرآن مجید میں ایک ایسا حکم ہے جس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی شخص یا کچھ افراد کسی عورت کا پیچھا کریں اور اس کو زبردستی پکڑ کر اس کے ساتھ بدکاری کریں تو ان کی سزا سو کوڑے لگانا یا رجم کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انھیں پکڑ کر ان کی گردنیں اڑا دی جائیں۔‘‘

امام باقر اور امام جعفر صادق بھی زنا بالجبر کے مجرم کو قتل کر دینے کے قائل ہیں۔ ۶؂ 

جہاں تک باقی فقہی مکاتب فکر کا تعلق ہے تو فقہا اس کو زنا بالرضا کے مقابلے میں سنگین تر جنایت تسلیم کرنے کے باوجود بالعموم اس کے مرتکب کے لیے زنا کی عام سزا ہی تجویز کرتے یا زیادہ سے زیادہ زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کو اس کے مہر کے برابر رقم کا حق دار قرار دیتے ہیں، جبکہ احناف اس کو اس رقم کا مستحق بھی نہیں سمجھتے۔ ۷؂ امام مالک سے منقول ہے کہ اس صورت میں عورت کو مہر کے علاوہ عزت وناموس اور حیثیت عرفی کے مجروح ہونے کا تاوان بھی دلوایا جائے گا۔ ۸؂ 

ہماری رائے میں یہ بات بعض صورتوں میں تو شاید نامناسب نہ ہو، لیکن اسے علی الاطلاق درست تسلیم کرنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زنا بالجبر محض زنا کی دو صورتوں میں سے ایک صورت نہیں، بلکہ ایک بالکل مختلف نوعیت کا جرم ہے۔ رضامندی کا زنا اصلاً ایک گناہ ہے جس میں ’حق اللہ‘ پامال ہوتا ہے، جبکہ زنا بالجبر میں حق اللہ کے ساتھ ساتھ حق العبد پر بھی تعدی کی جاتی اور ایک خاتون سے اس کی سب سے قیمتی متاع چھین لی جاتی ہے۔ فقہا نے اس بات کو محسوس نہیں کیا کہ ایک پاک دامن عورت کے لیے، جو اپنی عفت اور اپنی عزت نفس کو عزیز رکھتی ہے، عصمت کا لوٹا جانا کوئی مالی نقصان نہیں کہ اس کے بدلے میں اسے کچھ رقم دے کر نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کا شکار ہونے والی خاتون کے زاویہ نظر سے دیکھیے تو نفسیاتی لحاظ سے یہ غالباً قتل سے بھی بڑا جرم ہے اور ابن تیمیہؒ نے بجا طور پر اسے ’مثلہ‘ (Mutilation) یعنی انسانی جسم کی بے حرمتی کے مشابہ قرار دیا ہے۔ ۹؂ بروکلین لا اسکول میں قانون کی استاد پروفیسر سوزن این ہرمن (Susan N. Herman) نے اس ضمن میں نفسیاتی تحقیقات کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے:

Women who are raped suffer a sense of violation that goes beyond physical injury. They may become distrustful of men and experience feelings of shame, humiliation, and loss of privacy. Victims who suffer rape trauma syndrome experience physical symptoms such as headaches, sleep disturbances, and fatigue. They may also develop psychological disturbances related to the circumstances of the rape, such as intense fears. Fear of being raped has social as well as personal consequences. For example, it may prevent women from socializing or traveling as they wish. (Microsoft Encarta Reference Library 2003, CD edition, "Rape")
’’زنا بالجبر کا شکار ہونے والی خواتین پامالی کے ایک احساس کا شکار ہو جاتی ہیں جو جسمانی اذیت سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ اس کا امکان ہے کہ وہ مردوں پر اعتبار کھو بیٹھیں اور انھیں شرمندگی، تذلیل اور پرائیویسی سے محروم ہو جانے کے احساسات کا تجربہ ہوتا رہے۔ اس کا شکار ہونے والی جو خواتین Rape trauma syndrome (زیادتی کے نفسیاتی دھچکے سے پیدا ہونے والی علامات) کا شکار ہو جاتی ہیں، ان میں سر درد، نیند میں خلل اور تھکن کی جسمانی علامات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ ان میں زیادتی کے حالات سے تعلق رکھنے والے نفسیاتی عدم توازن مثلاً شدید خوف کا پیدا ہو جانا بھی بعید نہیں۔ زیادتی کا شکار ہونے کا خوف سماجی اور ذاتی نتائج مرتب کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ خواتین کے سماجی میل جول یا اپنی مرضی سے سفر کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔‘‘

مزید یہ کہ زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کے ’نقصان‘ کو پورا کرنا اور چیز ہے اور جرم کی سنگینی کے تناظر میں مجرم کی جسمانی سزا میں اضافہ ایک بالکل دوسری چیز، اور عورت کو عصمت دری کا معاوضہ دلانے کے باوجود اگر مجرم کو کوئی اضافی جسمانی سزا نہیں دی جاتی تو اس سے عدل وانصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

بعض اہل علم نے زنا بالجبر کو مطلقاً ’حرابہ‘ کی ایک صورت قرار دیا ہے۔ ہماری رائے میں زنا بالجبر کی ہر شکل کو ’حرابہ‘ قرار دینا تو غالباً قرین انصاف نہیں ہے او ر اس کی کم یا زیادہ سنگین صورتوں میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا۔ مثال کے طور پر کسی موقع پر وقتی جذبات سے مغلوب ہو کر کسی خاتون کی عزت لوٹ لینے اور باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اس جرم کا ارتکاب کرنے کوایک ہی درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ دوسری صورت، بالخصوص جب اس کے ساتھ اغوا کا جرم بھی شامل ہو، ’حرابہ‘ کے تحت آتی ہے، جبکہ پہلی صورت نسبتاً کم سنگین ہے اور اس پرزنا کی سادہ سزا کے ساتھ جبر اور ہتک عزت کی پاداش میں کسی مناسب تعزیری سزا اور جرمانے کا اضافہ کر دینا زیادہ موزوں ہوگا۔ البتہ جہاں تک اجتماعی آبرو ریزی یا خواتین کو برہنہ کر کے سربازار رسوا کرنے یا عصمت و آبرو کے خلاف تعدی کی دیگر سنگین صورتوں کا تعلق ہے جن میں قانون کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے اور معاشرے میں جان ومال اور آبرو کے تحفظ کے احساس کو مجروح کرنے کا عنصر پایا جاتا ہے تو وہ صریحاً حرابہ اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہیں اور ایسے مجرموں کو عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے، سولی دینے یا ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے جیسی سزاؤں کا مستوجب ٹھہرانا ہر لحاظ سے شریعت کا منشا ہوگا۔ ۱۰؂

زنا بالجبر کے اثبات کے لیے چار گواہوں کی شرط

قرآن مجید میں زنا کا الزام ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی گواہی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد زنا کے جرم پر پردہ ڈالنا اور مجرم کو رسوائی سے بچاتے ہوئے توبہ واصلاح کاموقع دینا نیز پاک دامن مسلمانوں کو زنا کے جھوٹے الزام سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ چنانچہ شارع کا منشا یہ ہے کہ زنا کا جرم اثبات جرم کے عام معیارات کے مطابق ثابت ہونے کے باوجود شرعاً ثابت نہ مانا جائے اور جب تک چار گواہ پیش نہ کر دیے جائیں، مجرم کو سزا نہ دی جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے زنا کے اثبات کے لیے چار گواہ مقرر کرنے کی حکمت یہ منقول ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ انسانوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں، ورنہ اگر وہ چاہتے تو ایک ہی گواہ کی گواہی پر، چاہے وہ جھوٹا ہو یا سچا، سزا دینے کا حکم دے دیتے۔ ۱۱؂ گویا زنا کے معاملے میں چار گواہوں کی گواہی اس لیے ضروری قرار نہیں دی گئی کہ اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے عقلاً جرم ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے دی گئی ہے کہ شارع کو حتی الامکان مجرم کی پردہ پوشی منظور ہے۔ 

چار گواہوں کی کڑی شرط عائد کرنے کا یہ پس منظر ہی واضح کر دیتا ہے کہ اس شرط کا تعلق زنا کی اس صورت سے ہے جس میں شریعت کو اصلاً گناہ کی پردہ پوشی منظور ہے۔ ظاہر ہے کہ جرم کی پردہ پوشی کا یہ اصول اسی وقت تک قائم رہے گا جب تک جرم کی نوعیت اس اصول سے مستثنیٰ قرار دیے جانے کا تقاضا نہ کرے، جبکہ جرم کی ایسی صورتیں جن میں شارع کو مجرم کی پردہ پوشی اور ستر نہیں، بلکہ اسے سزا دینا مطلوب ہو، اس پابندی کے دائرۂ اطلاق میں نہیں آئیں گی بلکہ ان میں کسی بھی طریقے سے جرم کے ثابت ہو جانے کو سزا کے نفاذ کے لیے کافی سمجھا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے بالجبر کسی خاتون کی عصمت لوٹی ہو اور وہ داد رسی کے لیے عدالت سے رجوع کرے تو اس سے چار گواہ طلب کرنا عقل اور شریعت، دونوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ 

قانون وانصاف کے زاویۂ نگاہ سے یہ ایک بالکل بدیہی نکتہ ہے اور اگرچہ فقہی لٹریچر میں اسے تسلیم نہیں کیا گیا، ۱۲؂ تاہم روایات وآثار سے ہمارے اس نقطہ نظر کی تائید ہوتی ہے۔ 

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک خاتون اندھیرے کے وقت میں مسجد میں نماز ادا کرنے کی غرض سے گھر سے نکلی تو راستے میں ایک شخص نے اس کو پکڑ کر زبردستی اس کی عزت لوٹ لی اور بھاگ گیا۔ خاتون کی چیخ پکار پر لوگ بھی اس کے پیچھے بھاگے لیکن غلط فہمی میں اصل مجرم کے بجائے ایک دوسرے شخص کو پکڑ لائے۔ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو جس شخص کو پکڑا گیا تھا، اس نے اپنے مجرم ہونے کا انکار کیا، تاہم خاتون نے اصرار کیا کہ یہی شخص مجرم ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ اس پر اصل مجرم آگے بڑھا اور اس نے اعتراف کر لیا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب دراصل اس نے کیا ہے۔ ۱۳؂ 

اس روایت کے حوالے سے ’’سنن ابی داؤد‘‘ کے شارح شمس الحق عظیم آبادیؒ نے تو اس بات کو باعث اشکال قرار دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ملزم کے اقرار یا گواہوں کی گواہی کے بغیر محض متاثرہ عورت کے بیان پر ملزم کو رجم کرنے کا حکم کیونکر دے دیا، جبکہ اس صورت میں خود عورت پر حد قذف جاری کی جانی چاہیے تھی ۱۴؂ لیکن ابن قیمؒ نے واضح کیا ہے کہ اگر قرائنی شہادت مدعی کے بیان کی تائید کر رہی ہو تو ایسی صورت حال میں اس کی بنیاد پر ملزم کو سزا دینا کسی طرح قضا کے اصولوں کے منافی نہیں ہے۔ ۱۵؂ ابن قیم کی یہ رائے بے حد وزنی ہے، اس لیے کہ کسی بھی جرم میں متاثرہ فریق عدالت میں استغاثہ کرے تو قرائن وشواہد کی موافقت کی شرط کے ساتھ اس کے اپنے بیان کی اہمیت محض دعوے سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ 

سیدنا عمر کے دور میں ایک شخص نے ایک عورت کو تنہا پا کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے ایک پتھر اٹھا کر اس کو دے مارا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔ سیدنا عمر کے سامنے مقدمہ پیش ہوا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کو اللہ نے قتل کیا ہے، اس لیے اس کی کوئی دیت نہیں۔ ۱۶؂ سیدنا عمرؓ ہی کے دور خلافت میں ایک شخص کو قتل کر کے اس کی لاش کو راستے میں پھینک دیا گیا۔ کافی عرصہ تک تحقیق وتفتیش کے بعد سیدنا عمر آخرکار اس خاتون تک پہنچ گئے جس نے اس کو قتل کیا تھا۔ خاتون نے قتل کا اعتراف کر لیا، تاہم یہ عذر پیش کیا کہ مقتول نے اس کو سوتا ہوا پا کر اس کے ساتھ بدکاری کی تھی جس پر اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے اسے قتل کر کے لاش کو راستے میں پھینک دیا۔ سیدنا عمر اس کے پیش کردہ عذر پر مطمئن ہو گئے اور اسے کوئی سزا نہیں دی۔ ۱۷؂ ان میں سے پہلے مقدمے میں زنا بالجبر کی کوشش کو جبکہ دوسرے میں اس کے وقوع کو قتل کی وجہ قرار دیا گیا ہے اور سیدنا عمر نے قرائنی شہادت کی روشنی میں متاثرہ خاتون کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے جرم کو ثابت مان کر اسے قصاص یا دیت سے بری کر دیا ہے۔ زنا بالجبر کے ایک واقعے میں، جس میں متاثرہ خاتون نے مجرم کو قتل کر دیا تھا، خاتون کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے قصاص سے بری قرار دینے کا فیصلہ امام جعفر صادق سے بھی مروی ہے۔ ۱۸؂ 

بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر زنا بالجبر کا شکار ہونے والی عورت کسی وجہ سے خود استغاثہ نہ کرے، لیکن یہ بات کسی اور ذریعے سے عدالت کے نوٹس میں آ جائے تو اس صورت میں بھی چار گواہوں کے نصاب پر اصرار نہیں کیا جائے گا، بلکہ عدالت کسی بھی طریقے سے جرم کے ثبوت پر مطمئن ہو جائے تو مجرم کو سزا دے دی جائے گی۔ ابو صالح روایت کرتے ہیں کہ ایک مسلمان خاتون نے کسی یہودی یا نصرانی کے ساتھ اجرت پر کوئی کام طے کیا اور اس کو ساتھ لے کر چل پڑی۔ راستے میں جب وہ ایک ٹیلے کے قریب سے گزرے تو اس آدمی نے زبردستی اس خاتون کو ٹیلے کی اوٹ میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔ ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی بری طرح پٹائی کی اور اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ اسے ادھ موا نہ کر دیا۔ وہ آدمی مقدمہ لے کر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میری شکایت کی۔ ابو ہریرہ کے طلب کرنے پر میں بھی حاضر ہوا اور صورت حال ان کے سامنے عرض کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے بھی میری بات کی تصدیق کی۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس یہودی یا نصرانی سے کہا کہ ہم نے اس بات پر تم سے معاہدہ نہیں کیا (کہ تم ہماری خواتین کی عزتوں پر حملہ کرو)، چنانچہ ان کے حکم پر اس شخص کو قتل کر دیا گیا۔ ۱۹؂ 

فقہا نے اس نوعیت کے واقعات سے اخذ ہونے والے قانونی ضابطے کو غیر مسلموں کی حد تک تسلیم کیا ہے، اور ان میں سے بعض کی رائے میں اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان خاتون کے ساتھ بدکاری کا مرتکب ہو اور یہ بات لوگوں میں مشہور ہو جائے تو چاہے گواہ موجود نہ ہوں، زنا کے مرتکب کو قتل کر دیا جائے گا۔ ۲۰؂ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہا کے نزدیک غیر مسلم کا یہ جرم عقد ذمہ کے منافی ہے جس کی رو سے وہ مسلمانوں کے زیردست اور ان کا محکوم بن کر رہنے کا پابند ہے۔ گویا جرم کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے مجرم سے درگزر کا طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے نزدیک یہی اصول بالجبر زنا کا ارتکاب کرنے والے مسلمان کے لیے بھی بالکل درست ہے اور اسے سزا دینے کے لیے چار گواہوں کی شرط عائد کرنا زنا بالجبر کو عملاً سزاکے دائرۂ اطلاق سے خارج قرار دینا ہے، جبکہ یہ بات کسی طرح بھی شارع کا مقصد اور منشا قرار نہیں دی جا سکتی۔ 


حواشی


۱؂ ابوداؤد، قم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴۔

۲؂ نسائی، رقم ۳۳۱۰۔ ابو داؤد، رقم ۳۸۶۸۔

۳؂ موطا امام مالک، رقم ۱۳۰۰، ۱۳۰۲۔ ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۴۲۱ تا ۲۸۴۲۷۔

۴؂ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۲۷۹۶۔

۵؂ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۴۲۳، ۲۸۴۲۶۔

۶؂ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۰/۱۷، ۱۸۔

۷؂ الموطا،رقم ۲۲۹۴۔ الشافعی، الام ۳/۲۷۲۔ سرخسی، المبسوط ۹/۶۱، ۶۲۔

۸؂ المدونۃ الکبریٰ، ۱۶/۲۵۴۔

۹؂ مجموع الفتاویٰ، ۲۰/۵۶۶۔

۱۰؂ اس بات کو تقلیدی جمود ہی کا کرشمہ سمجھنا چاہیے کہ۱۹۹۷ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے اجتماعی آبرو ریزی (Gang Rape) پر سزاے موت کا قانون منظور کیا تو بعض مذہبی حلقوں نے اس قانون کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ تاہم جناب ابو عمار زاہد الراشدی نے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا: ’’ایک ہی جرم مختلف مواقع اور حالات کے حوالے سے الگ الگ نوعیت اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی مختلف نوعیتوں کا یہ فرق علمائے احناف کے ہاں تو بطور خاص تسلیم کیا جاتا ہے۔ .... اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو ’’گینگ ریپ‘‘ زنا کی عام تعریف سے ہٹ کر ایک الگ بلکہ اس سے زیادہ سنگین جرم قرار پاتا ہے، اس لیے کہ اجتماعی بدکاری کی صورت میں زنا کے ساتھ دو مزید جرم بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ بدکاری عملاً دوسرے لوگوں کے سامنے کی جاتی ہے جس میں تذلیل اور تشہیر کا پہلو پایا جاتا ہے اور انتقام کے لیے خود ساختہ صورت اختیار کرنا بجائے خود جرم ہے۔ پھر اس موقع پر اگر ہتھیار کی موجودگی اور نمائش بھی کی گئی ہو تو تخویف اور جبر کا ایک تیسرا جرم بھی اس کے ساتھ بڑھ جاتا ہے اور ان تمام جرائم کا مجموعہ ’’گینگ ریپ‘‘ ہے جس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے اگر ’’حدود شرعیہ‘‘ سے ہٹ کر بطور تعزیر الگ سزا مقرر کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے تو اسے شرعی اصولوں سے تجاوز قرار دینا کوئی مناسب طرز عمل نہیں ہو گا۔ ... ہمارا خیال ہے کہ ’’گینگ ریپ‘‘ کی انسانیت سوز وارداتوں میں جس طرح مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس پر قابو پانے کے لیے موت کی سزا کا یہ قانون ایک مناسب، بلکہ ضروری قانون ہے اور شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘‘ (ابو عمار زاہد الراشدی، عصر حاضر میں اجتہاد، ص ۱۸۴-۱۸۶)

۱۱؂ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۷۳۸۱۔

۱۲؂ امام مالک کا فتویٰ یہ نقل ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص گواہوں کی موجودگی میں کسی خاتون کو زبردستی اٹھا کر کسی مکان کے اندر لے جائے اور پھر عورت باہر آکر یہ کہے کہ اس شخص نے میرے ساتھ بالجبر زنا کیا ہے جبکہ وہ آدمی اس کا انکار کرے تو اس شخص پر (جنسی استمتاع کے عوض میں) اس عورت کو مہر کے برابر رقم ادا کرنا تو لازم ہوگا لیکن اس پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ (المدونۃ، ۵/۳۲۲) ابن عبد البر لکھتے ہیں کہ اگر زنا بالجبر چار گواہوں یا مجرم کے اقرار سے ثابت ہو جائے تو اس پر حد جاری کی جائے گی، بصورت دیگر تعزیری سزا دی جائے گی۔ (الاستذکار، ۷/۱۴۶) مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی زنا بالجبر پر محض تعزیری سزا کا امکان اس صورت میں تسلیم کیا ہے جب قاضی قرائن کی روشنی میں الزام کے درست ہونے پر کسی قدر مطمئن ہو جائے۔ (امداد الاحکام، ۴/۱۲۸)

۱۳؂ ابو داؤد، رقم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴۔ نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۳۱۱۔

۱۴؂ عون المعبود ۱۲/۲۸۔ بعض فقہا بھی اس بات کے قائل ہیں۔ چنانچہ مالکیہ کے نزدیک اگر کوئی عورت کسی شخص پر الزام لگائے کہ اس نے اسے زنا بالجبر کا نشانہ بنایا ہے اور وہ شخص نیک شہرت کا حامل ہو تو عورت پر حد قذف جاری کی جائے گی، البتہ اگر وہ شخص فاسق ہو تو عورت حد قذف سے بچ جائے گی۔ اسی طرح اگر ملزم نیک شہرت کا حامل ہو، لیکن عورت زنا بالجبر کاشکار ہونے کے فوراً بعد اس حالت میں عدالت میں پیش ہو جائے کہ اس نے ملزم کو اپنے ساتھ پکڑ رکھا ہو اور اس کی ظاہری حالت بھی اس کے دعوے کی تائید کر رہی ہو تو قرائنی شہادت کی موافقت کی وجہ سے عورت پر حد قذف جاری نہیں کی جا ئے گی۔ (محمد علیش، منح الجلیل ۷/۱۴۲) 

۱۵؂ ابن قیم، الطرق الحکمیہ ۷۱۔ اعلام الموقعین ۶۰۴۔

۱۶؂ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۷۷۹۳، ۲۷۷۹۴۔

۱۷؂ ابن قیم، الطرق الحکمیہ ۳۴، ۳۵۔

۱۸؂ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۰/۲۰۸، ۲۰۹۔

۱۹؂ مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۰۱۶۸، ۱۰۱۷۰۔

۲۰؂ محمد بن مفلح المقدسی، الفروع وتصحیح الفروع، ۶/۲۵۷۔ منصور بن یونس، کشاف القناع، ۳/۱۴۳۔ 

یہ رائے حنبلی فقہا کی ہے۔ مالکیہ کے ہاں ایک رائے یہ ہے کہ ذمی اگر کسی مسلمان خاتون کے ساتھ بالجبر زنا کرے تو دو گواہوں کی گواہی اثبات جرم کے لیے کافی ہوگی، جبکہ دوسری رائے کے مطابق یہاں بھی چار گواہ ہی درکار ہوں گے۔ (محمد علیش، منح الجلیل، ۳/۲۲۵)


اسلامی شریعت