حالات و واقعات

ادارہ

مولانا زاہد الراشدی کا دورۂ برطانیہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانازاہدالراشدی نے برطانیہ جاتے ہوئے ۲۹؍اپریل کو ایک روز کراچی میں قیام کیا اور انتہا کی مصروف دن گزارا۔ 

نماز فجر کے بعد جامعہ انوارالقرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں درجہ تخصص فی الفقہ کے طلبہ کو ’’اجتہاد اور اس کے ضروری تقاضے‘‘ کے عنوا ن پر لیکچر دیا۔

گیارہ بجے جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل ٹاؤن میں درجہ تخصص فی الادب العربی کے طلبہ سے ’’ادب وانشا کی اہمیت اور ضرورت‘‘ پر گفتگوکی۔

نماز ظہر کے بعد دارالعلوم کورنگی کراچی کے درجہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے طلبہ کو ’’دورحاضر میں دعوت اسلام کا عمومی تناظر اور اس کی ضروریات‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔

نما ز مغرب کے بعد دارالعلوم کورنگی کراچی کی اسی کلاس کو ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔

نماز عشا کے بعد دارالعلوم کورنگی کراچی کے دورۂ حدیث کے طلبہ کی فرمایش پر دارالحدیث میں ان سے حدیث وسنت کی اہمیت پر گفتگو کی اور اپنی سند کے ساتھ ایک حدیث سنائی۔

اس کے بعد دارالعلوم کے صدرمہتمم حضرت مولانامفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم اور نائب صدر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور دیگر اساتذہ کے ساتھ رات کے کھانے میں شرکت کی اور مختلف امور پر باہمی تبادلہ خیالات کیا۔ 

۳۰ ؍اپریل کو صبح د س بجے مولانازاہدالراشدی پی آئی اے کے ذریعے کراچی سے لندن روانہ ہوگئے اور ۱۵مئی ۲۰۰۸ تک برطانیہ میں قیام کیا اور مختلف شہروں میں احباب سے ملاقات کے علاوہ ورلڈاسلامک فورم کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت کی ۔ 

مولانا راشدی نے ۱۳ مئی کو ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل لندن میں ورلڈاسلامک فورم کے زیراہتمام ایک فکری نشست میں جبکہ اسی روز لندن ایسٹ لندن کی مرکزی جامع مسجد میں بنگلہ دیش کی دینی جماعتوں کے مشترکہ فورم ’’بنگلہ دیشی مسلمز‘‘ کی ایک نشست میں عورتوں کے بارے میں امتیازی قوانین کے خلاف عالمی مہم کے پس منظر پر گفتگو کی۔ بنگلہ دیش میں ان دنوں عبوری حکومت کی طرف پیش کردہ ایک مسودہ قانون پربحث جاری ہے جس میں وراثت میں لڑکے اور لڑکی کے حصے کو برابرقرار دے دیاگیا ہے اور بنگلہ دیش کے دینی حلقے اسے قرآن کریم کے حکم کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی مہم میں مصروف ہیں۔ لندن میں بنگلہ دیشی مسلمز کی یہ نشست اسی پس منظر میں تھی۔

اس کے علاوہ مولانا راشدی نے جامع مسجد اپٹن لین لندن، جامع مسجد صدام حسین برمنگھم، مرکزی جامع مسجد گلاسکو، جامع مسجد الفرقان گلاسکو، مدرسہ عربیہ اسلامیہ گلاسکو، جامع مسجد ابوبکروالسال، جامع مسجد فاروق اعظم فرملی، مدنی مسجد نوٹنگھم، مدنی مسجد بریڈ فورڈ، جامع مسجد پلیشٹ گرو لندن، جامع مسجد ابوبکر ساؤتھال، جامع مسجد امدادیہ مانچسٹر اور جامع الہدیٰ شیفیلیڈ میں مختلف دینی اجتماعات میں گفتگو کی جبکہ جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم میں طالبات اوراساتذہ کی نشست میں ’’توہین رسالت اور آزادئ رائے‘‘ کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا۔

مولانا راشدی نے ختم نبوت ایجوکیشن سنٹر برمنگھم میں حضرت مولاناصوفی عبدالحمید سواتی، حضرت مولانا سید نفیس الحسینی اور حضر ت مولانا سیدانظرشاہ کاشمیری کی وفات پر منعقدہونے والی تعزیتی کانفرنس میں ان بزرگان دین کو خراج عقیدت پیش کیا اور دو ہفتے کی ان مصروفیات کے بعد ۱۶؍ مئی کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے۔

ورلڈاسلامک فورم کاسالانہ اجلاس

ورلڈاسلامک فورم کی ورکنگ کونسل کا سالانہ اجلاس ۱۳؍ مئی ۲۰۰۸ء کو ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل لندن میں فورم کے چیئرمین مولانامحمد عیسیٰ منصوری کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں پاکستان سے ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست مولانا زاہدالراشدی اور ڈھاکہ سے نائب صدر مولانا سلمان ندوی نے بھی شرکت کی جبکہ دوسرے شرکا میں سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ، مولانامحمد اکرم ندوی، جناب مسرور احمد، رفعت لودھی، مفتی عبدالمنتقم سلہٹی، مفتی صدر الدین، مولانا محمد عمران خان جہانگیری، مولانا محمد حسن، مولانا شمس الضحیٰ، مولانا مشفق الدین، مولانا بلال احمد، جناب کامران احمد، مولانا عادل فاروقی، مفتی محمد عمیر، جناب محمد اصغر، جناب غلام قادر خان اور جناب الطاف احمد شامل ہیں۔

اجلاس میں گزشتہ سال کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایاگیا کہ :

۱۔ فورم کے تعارف اور کارکردگی پر مشتمل تفصیلی کتابچہ شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔

۲۔ ماہانہ فکری نشست تسلسل کے ساتھ جاری ہے جو ہر ماہ کے آخری ہفتہ کے روز شام چھ بجے ابراہیم کمیونٹی کالج میں ہوتی ہے اور اب تک (۱) شریعت کے بارے میں آرچ بشپ آف کنٹر بری کے بیان اور اس پر مختلف حلقوں کا رد عمل (۲) وڈیوچینل کی ضرورت اوراس کے تقاضے (۳) بین الاقوامی قانون اور اسلامی قوانین کا تقابلی جائزہ کے عنوانات پرفکری نشستیں ہو چکی ہیں جبکہ ایک نشست حضرت مولاناسید نفیس الحسینی شاہ اور حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی کی تعزیت کے سلسلہ میں منعقد ہوئی جس میں دونوں بزرگوں کی خدمات پر خرا ج عقیدت پیش کیا گیا۔

۳۔ مولاناعیسیٰ منصوری نے بھارت کی تیرہ ریاستوں کا دورہ کیا اور بیسیوں اجتماعات سے ورلڈاسلامک فورم کے پروگرام اور اہداف کے حوالے سے خطاب کیا۔ مولانا زاہدالراشدی نے اگست ۲۰۰۷ ؁ء کے دوران داراالہدیٰ اسپرنگ فیلڈ واشنگٹن امریکہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ حجۃ الوداع اور انسانی حقوق پر پانچ تفصیلی لیکچر دیے جبکہ مولانا مفتی برکت اللہ نے پاکستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں فکری نشست سے خطاب کیا۔

۴۔ ورلڈ اسلامک فورم کی ویب سائٹ قائم کی گئی جو جناب محمد جعفر کی نگرانی میں www.wifuk.org کے عنوان سے کام کر رہی ہے۔

۵۔ برطانیہ، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ورلڈاسلامک فورم کے باقاعدہ حلقے قائم ہو چکے ہیں جو فورم کے عنوان سے کام کر رہے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ میں فورم کا حلقہ قائم کرنے کے لیے فورم کے نائب صدر مولانا سلمان ندوی اگلے ماہ وہاں جا رہے ہیں۔

۶۔ عالم اسلام کو درپیش مسائل اور حالات حاضرہ کے اہم عنوانات پر مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مولانا زاہدالراشدی کے مضامین روزنامہ جنگ لندن، روزنامہ پاکستان لاہور، روزنامہ اسلا م کراچی، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ اور دیگر جرائد میں اہتمام کے ساتھ شائع ہوتے رہے اور اس سال کے دوران مختلف موضوعات پر دونوں راہ نماؤں کے ایک سو سے زیادہ مضامین شائع ہوئے۔

اجلاس میں اگلے سال کے لیے ورلڈاسلامک فورم کی سرگرمیوں کا مندرجہ ذیل پروگرام طے کیا گیا:

۱۔ فورم کی سرگرمیوں اور حالات حاضرہ پر راہنمائی کے حوالہ سے ماہوار نیوز لیٹر جاری کیا جائے گا جو ویب سائٹ پر نشر کیے جانے کے علاوہ اہم حضرات کو بذریعہ ڈاک بھی بھجوایا جائے گا۔

۲۔ مولانا محمد عیسیٰ منصوری ہر ہفتہ کو شام چھ بجے ابراہیم کمیونٹی کالج میں علماے کرام کو تاریخ اسلامی کے اہم ادوار کے حوالے سے لیکچر دیں گے جب کہ آخری ہفتہ کوحسب معمول ماہانہ فکری نشست ہوا کرے گی۔

۳۔ جنوری ۲۰۰۹ ء کے دوران ڈھاکہ میں ’’ساؤتھ ایشیا میں نئی نسل کی د ینی وفکری راہنمائی کے تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار ہوگا جس سے مولانا سید سلمان الحسنی الندوی (لکھنو) مولانا محمد عیسیٰ منصوری (لند ن) اور مولانا زاہدالراشدی (گوجرانوالہ) خطاب کریں گے۔

۴۔ وڈیوچینل کی ضروریات اور امکانات کا جائزہ لینے کے لیے جناب کامران رعد اور جناب عادل فاروقی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جس کی رپورٹ پر آئندہ پروگرام طے کیا جائے گا۔

۵۔ فورم کی دیگر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ان شاء اللہ تعالیٰ 

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے مسلمانوں کے لیے شرعی احکام کے حوالے سے آرچ بشپ آف کنٹربری کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت برطانیہ پر زور دیا گیا کہ وہ اس پر منفی ردعمل کا اظہار کرنے کی بجائے مسلمانوں کے جداگانہ تہذیبی شخص اور اقوام عالم کے مسلمہ حقوق کے حوالہ سے اس کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے۔ ایک قرارداد میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا ہے حضرات انبیاے کرام علیہم السلام کی عزت وناموس کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانون طے کیا جائے اور شرپسند عناصر کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی مذموم حرکات سے روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔ ایک قرارداد میں اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لیے آزادانہ اور باوقار موقف اور حیثیت اختیار کرے اور فلسطین، عراق، افغانستان اور کشمیر جیسے مسائل کوحل کرانے کے لیے جرات مندانہ کردار ادا کرے، نیز اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کے حصول اور انسانی حقوق کے چارٹر پر نظرثانی کے لیے عالم اسلام کے مفاد اور معروضی حقائق کی بنیاد پر موثر پیش رفت کا اہتمام کرے۔

تین وقت نماز کی اجازت دینے کا فتویٰ

مشرق وسطیٰ میں گزشتہ تین ماہ سے علما کے مابین اس پر بحث جاری ہے کہ آیا ترکی سے جاری ہونے والا ایک حالیہ فتویٰ اسلامی قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں۔ اس فتوے کے مطابق ۲۰۰۸ کے آغاز سے ترکی کے مسلمانوں کو اجازت ہوگی کہ وہ معمول کے پانچ اوقات کے بجائے صرف تین وقت نماز ادا کریں اور ایسا کرنے سے وہ گنہگار نہیں ہوں گے۔ استنبول یونیورسٹی کی سائنٹفک کونسل کے رکن محمد نور دوغان نے یہ متنازعہ فتویٰ جاری کر کے نماز کے فریضے کو پانچ سے کم کر کے تین اوقات تک محدود کر دیا ہے۔ اس فتوے نے وسیع پیمانے پر ایک بحث کو جنم دیا ہے اور قدامت پسند علما نے اس کی مخالفت کی ہے۔ 

اسلامی قانون کی رو سے لازم ہے کہ ایک مسلمان دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرے، البتہ اس بات کی اجازت ہے کہ بیماری یا سفر کی حالت میں دن میں تین اوقات میں نماز ادا کر لی جائے۔ تاہم حالیہ فتوے نے اس اختیار کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اجازت دی ہے کہ مسلمان تین وقت نماز ادا کر سکتے ہیں، بالخصوص جب وہ (دفتری) کام یا کسی ذاتی مصروفیت میں بے حد مصروف ہوں۔

ترکی میں جاری بحث سے ملتی جلتی بحث مصر میں بھی چل رہی ہے جہاں اس فتوے کی کچھ حمایت سامنے آئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کے بھائی جمال البنا نے ترکی سے جاری ہونے والے فتوے کی تائید کی ہے۔ انھوں نے ایک عرب نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا دور جدید کی ایک ضرورت بن چکا ہے۔ جدید طرز زندگی کے دباؤ کی وجہ سے لوگ زیادہ تر صورتوں میں پانچ نمازیں ان کے مقررہ اوقات میں ادا نہیں کر پا رہے۔‘‘ جمال البنا پر عام طور پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ اسلامی قوانین کی جدت پسندانہ تعبیر کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پیروکاروں کو یہ اختیار دیا ہے اور اسے اس صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب نمازیں اپنے مقررہ اوقات میں ادا نہ کی جا سکیں۔ تاہم بعض لوگوں کی جانب سے فتوے کی تائید کے باوجود دوسرے لوگ دن بدن اس سے اختلاف کے اظہار میں بلند آہنگ ہو رہے ہیں۔ مصر کی سپریم کونسل فار اسلامک افیئرز کے رکن شیخ یوسف البدری نے ٹیلی فون پر اسلامک ٹائمز کو بتایا کہ وہ ترکی عالم کے استدلال کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ سفر، بیماری، بارش یا حج کے علاوہ کسی اور وجہ سے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا درست نہیں۔ یہ بحث ابھی چل رہی ہے۔

(www.islamictimes.co.uk)

الشریعہ اکادمی میں ہفتہ وار نشست سے مولانا اللہ وسایا کا خطاب

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہ نما مولانا اللہ وسایا نے کہا ہے کہ دستور پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی دفعہ اور دیگر اسلامی دفعات کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور نفاذ اسلام سے متعلقہ دستوری دفعات کو ختم کرنے یا غیر موثر بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف عوامی تحریک چلائی جائے گی۔ وہ ۲؍اپریل ۲۰۰۸ کو الشریعہ اکادمی ہاشمی کالونی گوجرانوالہ کی ہفتہ وار فکری نشست سے خطاب کر رہے تھے جس کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی اور اس میں علماے کرام، وکلا اور پروفیسر حضرات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 

مولانا اللہ وسایا نے جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور اقتدار میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے اجماعی فیصلے اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور شدہ دستوری ترمیم کو ماننے سے واضح انکار کے باوجود اس دوران قادیانی گروہ پاکستان میں پوری طرح متحرک رہا اور جنرل پرویز مشرف کی انتظامیہ ان کی پشت پناہی کرتی رہی۔ انھوں نے کہا کہ قادیانی گروہ اندرون ملک اور بیرون ملک اس بات کے لیے مسلسل متحرک ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے بارے میں دستوری فیصلے کو ختم کرایا جائے اور قادیانیوں کو اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنے والے قوانین کو غیر موثر بنایا جائے لیکن یہ دستوری اور قانونی فیصلے ملک کے عوام کی پرجوش تحریک اور ہزاروں افراد کی قربانیوں کے نتیجے میں ہوئے ہیں اور ملت اسلامیہ کے متفقہ عقائد کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے انھیں ختم کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی نے ایسی کوشش کی تو اسے شدید عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مولانا زاہد الراشدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیکولر لابیاں دستور پاکستان کی ترامیم پر نظر ثانی کے نام پر قرارداد مقاصد، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور وفاقی شرعی عدالت کے بارے میں دستوری دفعات کو ختم کرانا چاہتی ہیں اور اس کے لیے ہوم ورک کیا جا رہا ہے، اس لیے دینی قوتوں کو بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور تمام مذہبی جماعتوں اور مکاتب فکر کو تحریک ختم نبوت کے ایک نئے راؤنڈ کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔

اخبار و آثار