حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیریؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۲۷ اپریل کو ہم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی یاد میں تعزیتی جلسہ کی تیاریوں میں تھے کہ یہ اطلاع ملی کہ دار العلوم دیوبند (وقف) کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد انظر شاہؒ کا دہلی میں انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 

حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ کے ساتھ ملاقاتوں اور نیاز مندی کا سلسلہ پرانا تھا اور مختلف مجالس او رپروگراموں میں ان کے ساتھ رفاقت کا شرف حاصل رہا ہے۔ گوجرانوالہ میں مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامعہ قاسمیہ میں متعدد بار تشریف لائے، جامعہ خیر المدارس ملتان اور کراچی کے بعض اجتماعات میں بھی ان سے ملاقات ہوئی اور چند سال قبل ڈھاکہ (بنگلہ دیش) کے نواحی علاقہ مادھوپور میں حضرت مولانا عبد الحمید صاحب کے دینی مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں بھی ان کے ساتھ رفاقت رہی۔ 

حضرت علامہ سید محمد انور شاہ صاحبؒ اور ان کے خاندان کے ساتھ عقیدت ومحبت کا تعلق اس حوالے سے شروع سے تھا کہ میں بحمد اللہ تعالیٰ ایک شعوری دیوبندی ہوں اور دیوبند کے جن اکابر کے ساتھ نسبت وعقیدت سے ’’دیوبندیت‘‘ تشکیل پاتی ہے، ان میں ایک بڑا نام حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری قدس اللہ سرہ العزیز کا بھی ہے۔ اس تناظر میں حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی تو میں اس سے حظ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرتا، مگر گزشتہ چند ماہ سے حضرت شاہ صاحب کے ساتھ فون کا تعلق مسلسل رہا۔ میری بدقسمتی کہ وعدہ کے باوجود میں ایک بار بھی خود انھیں فون نہ کر سکا، مگر انھوں نے کئی بار فون کیا، بلکہ ان کے فرزند سید احمد خضر صاحب نے بتایا کہ حضرت شاہ صاحب اپنی وفات سے دو روز قبل بھی فون پر راقم الحروف سے رابطہ کی کوشش کرتے رہے، مگر بات نہ ہو سکی تو انھوں نے احمد خضر صاحب کو تاکید کی کہ وہ فون پر رابطہ کر کے ان کی طرف سے حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی خدمت میں سلام مسنون اور دعا کے لیے بطور خاص عرض کریں۔ ایک بار دریافت کیا کہ میں روحانی سلسلہ میں کس سے مجاز ہوں؟ میں نے عرض کیا کہ اگرچہ اپنے ذوق کے حوالے سے اس میدان کا آدمی نہیں ہوں مگر میرا بیعت کا تعلق سلسلہ قادریہ میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور ان کے بعد حضرت مولانا سید ابو الحسن ندویؒ سے رہا ہے اور والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر نے سلسلہ نقشبندیہ میں اپنے خلفاے مجازین میں میرا نام لکھ رکھا ہے۔ حضرت مولانا سید محمد انظر شاہؒ نے فرمایا کہ میں بھی آپ کو اپنے مجازین میں شامل کرتا ہوں اور اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت بھی دیتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ حضرت شاہ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین درجات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اخبار و آثار