مکاتیب

ادارہ

(۱)

بخدمت جناب مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب سلمہ اللہ وحفظہ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

ماہنامہ الشریعہ کے اپریل کے شمارے میں جنا ب کا مضمون ’’زنا کی سز ا‘‘ (۲) پڑھا۔ پورے مضمون کاتفصیلی جواب دینے کی ہمت نہیں، البتہ جواب کا جو جوہر ہو سکتا ہے، وہ پیش خدمت ہے۔ اللہ کرے کہ اس سے آ پ کے ذکر کردہ تمام اشکالات کاحل نکل آئے۔ یہ اقتباس احقرکی کتاب ’’تحفہ اصلاحی ‘‘سے ہے۔ یہ جواب الشریعہ میں چھپوانے کے ارادہ سے نہیں لکھا، صرف آپ کے مطالعہ اور غوروفکر کے لیے لکھا ہے۔ ویسے اگر آپ اس کو شائع بھی کر دیں تو مجھے اعتراض نہیں۔

مزید ایک بات پر غورکرنے کے لیے عرض کروں گا کہ علم کس کوکہتے ہیں؟ کیا جو اہل سنت کا اجماعی مسئلہ ہو، وہ علم نہیں؟ اگر وہ علم ہے توپھر اگر کچھ اشکا ل ہے تو ہماری کم علمی اور کم فہمی کی وجہ سے ہے، اور اگر وہ بھی علم نہیں توپھر ہماری اور آپ کی عقلوں اور سمجھوں کا بھی کیا اعتبار ہے ،اوروہ کیا معیاریت رکھتی ہیں؟ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔ وما علینا الا البلاغ۔

(مولانا مفتی) عبدالواحد غفرلہ 

دارالافتاء، جامعہ مدنیہ لاہور 

’’تحفہ اصلاحی‘‘ سے اقتباس:

امین اصلاحی صاحب نے رجم کے حد ہونے کے خلاف نسخ القرآن بالسنۃ کے عدم جواز کو اپنے لیے بڑی حتمی دلیل سمجھا تھا، ورنہ جہاں تک اصل مسئلہ کاتعلق ہے، احکام کی جو ترتیب واقع میں ہمیں ملتی ہے، اس میں نسخ القرآن بالسنۃ کا قول کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ قرآن پاک میں زنا کی سزا کے متعلق پہلے پہل یہ آیتیں نازل ہوئیں:

وَاللاَّتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِن نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُواْ عَلَیْْہِنَّ أَرْبَعۃً مِّنکُمْ فَإِن شَہِدُواْ فَأَمْسِکُوہُنَّ فِیْ الْبُیُوتِ حَتَّیَ یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً (النساء،۱۵)
’’اور جو عورتیں بے حیائی کا کام کریں تمہاری بیویوں میں سے، تم لوگ ان عورتوں پر چار آدمی اپنوں میں سے گواہ کرلو۔ پھر اگر وہ آدمی گواہی دے دیں توتم ان کوگھروں کے اندر بند رکھو، یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کر دے یااللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راہ تجویز فرمادیں۔‘‘
وَاللَّذَانِ یَأْتِیَانِہَا مِنکُمْ فَآذُوہُمَا فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُواْ عَنْہُمَا إِنَّ اللّہَ کَانَ تَوَّاباً رَّحِیْماً (النساء ،۱۶)
’’اور وہ مرد وعورت جو تم میں سے یہ برائی کریں، انہیں ایذا پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کر لیں توان سے درگزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والاہے۔‘‘

ان دوآیتوں سے دوحکم ملے:

۱۔ اگر شوہر بیویوں پر زنا کا الزام رکھیں اور ان کے جرم پر چارگواہ بھی لے آئیں تو آئندہ حکم آنے تک ان کو گھروں میں محبوس رکھا جائے۔

۲۔ اجنبی مرد وعورت زنا کریں، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ہوں، ان کو حسب حال تعزیر کی جائے۔

زنا کی مرتکب بیویاں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جن سے صحبت ہو چکی ہو یعنی وہ ثیب ہوں یا ان سے صحبت نہ ہوئی ہو یعنی وہ باکرہ ہوں۔ اسی طرح زنا کے مرتکب مردوں میں بعض ایسے ہیں جو نکاح کے بعد صحبت کر چکے ہوں اور کچھ وہ ہیں جو ابھی تک صحبت نہ کر پائے ہوں اور کچھ وہ ہیں جن کا نکاح ہی نہ ہو ا ہو۔ جب یہ کہا گیا کہ ’’آئندہ حکم آنے تک زناکی مرتکب بیویوں کو گھروں میں محبوس رکھو‘‘ تو انتظار صرف ان بیویوں کے حکم کا نہیں بلکہ ان سے زناکرنے والوں کے حکم کا بھی یہی ہے کیونکہ اول یہ انہیں سے ملوث ہوئے ہیں اور دوسرے ان کے بارے میں بھی کوئی متعین حکم نہیں دیا۔

مذکورہ بالاحکم کے بعد دوسرا حکم سنت وحدیث میں بیان ہوا۔ صحیح مسلم میں حضرت عبادہ بن صامتؓ سے نقل ہے :

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللہ لھن سبیلا، البکر بالبکر جلد ماءۃ ونفی سنۃ والثیب بالثیب جلد ماءۃ والرجم۔
’’رسول اللہ نے فرمایا: مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان زناکار بیویوں کے لیے (اور ان سے ملوث مردوں کے لیے) ضابطہ مقرر فرما دیا ہے۔ غیر شادی شدہ مرد کی غیر شادی شدہ عورت سے بدکاری میں سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔ (یہی حکم ان مردوں اور عورتوں کا ہے جن کا نکاح ہو چکاہو، لیکن صحبت نہ ہوئی ہو) اور شادی شدہ مرد کی شادی شدہ عورت (جو صحبت بھی کر چکے ہوں۔ ان) کی بدکاری کی سزا سو کوڑے اور رجم ہے۔‘‘

اس حدیث وسنت سے اس بیوی کا حکم بھی معلوم ہوا ہے جس سے صحبت ہو چکی ہو، پھر اس نے زنا کیا ہو اور شوہر نے اس پر چار گواہ قائم کر دیے ہوں کہ اس کی سزا رجم ہے۔

تیسرے درجہ میں سورۃ نور کی آیات نازل ہوئیں۔ ان کے ساتھ ہی رجم سے متعلق آیت بھی نازل ہوئی۔ ان آیات میں مندرجہ ذیل احکام ملے:

۱۔ شوہر بیوی پر زناکاالزام رکھے لیکن چارگواہ پیش نہ کرسکے تولعان ہوگا۔

۲۔ الزانیۃ والزانی کے الفاظ سے غیر شادی شدہ کاحکم بتایا کہ اس کی سزا صرف سوکوڑے ہے اورایک سالہ جلاوطنی کومنسوخ کر دیا گیا۔

۳۔ رجم کی آیت بھی نازل ہوئی جس سے رجم کی سزا کو برقرار رکھا گیا اور سو کوڑوں کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا۔ بعد میں اس آیت کے الفاظ منسوخ کردیے گئے۔



(۲)

بخدمت جناب عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔ مزاج بخیر !

بعض ذرائع سے چند ماہ قبل ماہنامہ’’الشریعہ ‘‘کے چند شمارے پڑھنے کا موقع ملا۔ یقیناًیہ رسالہ خالص علمی نوعیت کا ہے اور اس کے مضا مین علمی مباحث پر مشتمل ہیں، مگر معاشرہ میں ان مضامین کو سمجھنے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ بعض مضامین سے طے شدہ مسائل میں شک اور تذبذ ب پیدا ہوتا ہے اور تحقیق کے عنوان سے تشکیک کا دروازہ کھلتا ہے۔ امت میں بھی پہلے ہی اختلاف در اختلاف ہے۔ جس چیز کو بنیاد بنا کر یہ مضامین تحریر کیے جا رہے ہیں، وہ بنیا دقوم میں اب سرے سے موجود نہیں، نہ اس قسم کے مضامین کی ننانوے فی صد عوام کو ضرورت ہے۔ دین کاوہ حصہ جوقطعی دلائل سے ثابت ہے اور متفق علیہ ہے، اگرامت میں وہ احکام ز ندہ ہو جائیں تو یہ بھی غنیمت ہے۔ اس قسم کے مضامین سے جس قسم کا ذہن تیار ہوگا، وہ کام مختلف ٹی وی پروگرام اور عالم آن لائن سے زیادہ موثرانداز میں ہو رہا ہے۔ قوم دین کی بنیادی باتوں سے بھی ناواقف ہے۔ اس کا تجزیہ آپ اپنے اردگرد کے ماحول میں لوگوں سے گھل مل کر بھی کر سکتے ہیں۔ اگر دین کا علم رکھنے والے اپنی صلاحیتوں کو اس طرح استعمال کریں کہ مختلف مساجد میں یومیہ درس قرآن اور درس حدیث عام فہم انداز میں دیں، عوام کے سامنے بنیادی عقائد اور فرائض کی ادائیگی، انسانیت کی ہمدردی، معاملات کی صفائی، معاشرت کی پاکیزگی، صلہ رحمی، عفو ودرگزر، تحمل وبرداشت اور دین کابنیادی علم حاصل کرنے کا جذبہ، مغربی تہذیب کی بے حیائی سے بچنا، رشوت وسود کی نفرت جیسے عنوانات بیان کیے جائیں، وکلا کو تیار کیا جائے کہ جھوٹاکیس نہ لیں، تجارکی ایک جماعت ملک میں تیار کی جائے جو کم منافع پر عوام کو ضروریات مہیا کرے، ڈاکٹروں کو آمادہ کیا جائے کہ وہ مناسب فیس لے کر انسانیت کی خدمت کو شعار بنائیں اور اسی قسم کے مضامین کی اشاعت ہو تو قوم کوا س سے زیادہ فائدہ ہوگا۔

اگر آپ کے کسی مضمون سے تحقیق کے عنوان پر کوئی ایسا حکم جو دور صحا بہ سے امت میں نقل ہوتا آ رہا ہے اور اس کو محدثین اور فقہا اسی طرح نقل کرتے آرہے ہیں اور آپ نے اپنے مضامین سے اپنے قاری کو شک میں مبتلا کر دیا تو اللہ کو اس کا کیا جواب دیں گے؟ اگرآپ کے مضامین کے تسلسل سے ایک جماعت ایسی تیار ہوگی جوامت کے متفق علیہ مسائل میں شک کرے اور اس کا ذہن یہ بنا کہ چودہ سوسال میں کسی مفسر، فقیہ، محدث کی نگاہ اس پہلو پر نہیں گئی تو پھر یہ سلسلہ صرف رجم اور اس جیسے پر مسائل پر موقوف نہ ہوگا بلکہ مشترقین کا خوشہ چین بن کر نہ معلوم کس کس مسئلہ کوتختہ مشق بنائے۔ 

امت بہت ضعیف ہوچکی، خدارا اس پر رحم کریں اور تحقیق کا رخ ان مسائل کی طرف کریں جو امت کے حقیقی مسائل اور ضروریات ہیں۔ کیا سود سے قوم کو نکالنے کے لیے تمام وسائل مہیاکر دیے گئے ہیں اور اس کا بہتر متبادل دے کر اہل علم اپنا فریضہ ادا کر چکے ہیں؟ انشورنس کا متبادل قوم کو مل چکا ہے؟ مظلوموں کو واضح ظلم سے نکالنے کے لیے ہر شہر میں وکلا کی جماعت تیار ہو چکی؟ نہایت خستہ حال لاکھوں انسانوں کوایسے تاجر میسر آچکے ہیں جوجائز منافع لے کر ضروریات زندگی مہیا کر دیں؟ ہے کوئی زمیندار اور ملوں کا مالک جو بہاولپور کے صحرا میں بسنے والوں کو اس شدت کی گرمی میں صرف پینے کا پانی مہیا کر دے؟ ذرا شہر سے پانچ کلومیٹر نکل کرجائزہ لیں، ہزاروں مردوعورت ایسے ملیں گے جو واضح حلال وحرام، جائز وناجائز کا کوئی تصور بھی نہیں رکھتے۔

ایک طرف یہ حالت، دوسری طرف آپ کے رسالہ میں چھپنے والے مضامین اس سطح کے کہ شاید کسی پی ایچ ڈی کرنے والے کو بھی زندگی میں ا س کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ اس جذبہ کو لے کر عوام میں آئیں توآپ کا حلقہ ا حباب، آپ کے شانہ بشانہ چلنے والے ایک سال میں اتنے ہوں گے کہ موجودہ طرز کے مضامین سے بیس سال میں بھی ایسے افراد مہیا نہ ہوں گے جن میں انسانیت کی تڑپ ہو۔ انسانیت کے لیے آنسو بہانے والے، مسلمان کو تکلیف میں دیکھ کر بے چین ہونے والے ایسے مضامین سے پیدا نہ ہوں گے۔ 

تمہاری ایک بہن 

(۳)

محترم المقام جناب حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب زیدمجدکم 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ امیدہے ایمان وصحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔

تسلیمات کے بعد ! ۵؍ اپریل کوالشریعہ کاتازہ شمارہ ملا اور ۷؍ اپریل کے تمام قومی اخبارات میںآپ کے پیارے چجا ولی کامل اور عہد حاضرکی عظیم صوفی وروحانی شخصیت حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی کی وفات کی خبرشائع ہوئی۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ پہلی ہی فرصت میں خط لکھنے کاارادہ تھا مگربخار کے شدید حملے کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ اب تھوڑا سا افاقہ ہوا ہے تو یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ ہمارے دارالعلوم مصباح الاسلام میں حضرت اقدس ؒ کی وفات کے دوسری دن برادر مکرم مولانا سید عنایت اللہ شاہ ہاشمی صاحب کے حکم پر حضرت اقدس ؒ کے ایصال ثوا ب کے لیے قرآنی خوانی کااہتمام کیا گیا،اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ 

مرحوم یقیناًاس صدی کی عظیم روحانی شخصیت تھے۔ وہ اخلاص ومحبت، زہد وتقویٰ، سادگی ودرویشی کا مجسمہ اور بلاشبہ اکابر کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ایسے فرشتہ صفت لوگ عطیہ خداوندی ہوتے ہیں جو اپنے اعلیٰ اخلاق وکردار، پاکیزہ سوچ، عالی نظری، حق وصداقت کا علمبردار اور روحانی طبیب ہونے کی بدولت لاکھوں مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت، تزکیہ نفس اور جنت کی طرف رہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ قحط الرجال کے اس پرفتن دورمیں مرحوم ومغفور کا وجود مسعود بہت بڑی نعمت تھی اور ان کادنیاسے چلے جانا امت مسلمہ کے لیے ایک بڑے سانحہ سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم ومغفور کواپنے جوار رحمت میں جگہ دیں اور پس ماندگان کو صبرجمیل واجر جزیل سے نوازیں، آمین ثم آمین۔

الشریعہ کے اپریل ۲۰۰۸ ہی کے شمارہ میں آپ کے نام جناب محترم سیف الحق کا خط شائع ہوا ہے جس میں آپ کے ’’علمی وفکری مکالمہ‘‘ نامی کتاب پر طویل بحث کی گئی ہے اور آپ کے بعض افکار سے اتفاق اور بعض سے اختلاف کیا گیا ہے۔ آپ کے افکار سے اختلاف یا اتفاق کے بارے میں محترم سیف الحق صاحب کے رائے کے بارے میں مجھے کچھ کہنے کا حق نہیں، البتہ خط کے مندرجات میں موجود جس بات نے مجھے سخت دکھ سے دوچار کیا، وہ یہ ہے کہ ’’اس وقت سب سے زیادہ خطرناک اور امن عالم کے لیے نہایت ہی نقصان دہ تنظیم القاعدہ کی تنظیم ہے۔‘‘

پرائیویٹ عسکری تنظیموں کی جذباتیت سے رونما ہونے والے اثرات کے بارے میں، میں خود بھی سیف الحق صاحب کے خیالات وافکار سے کسی حد تک اتفاق کرتاہوں، لیکن دنیا میں جاری جنگ وجدل اور بدامنی کا الزام القاعدہ پر لگانا حقائق سے چشم پوشی ہے اور یہ بات عالم اسلام کی اجتماعی سوچ وفکر سے ہٹ کرہے۔ میرے خیال میں ایسے بے سروپا الزامات لگانے سے امریکہ کی سوچ وفکر کو تقویت ملتی ہے اور یہ دہشت گردی کے نام سے عالم اسلام کے خلاف جاری امریکی جدوجہد کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ امن عالم کے لیے اس وقت سب سے خطرناک اور نقصان دہ امریکہ ہے جب کہ القاعدہ اس کے خلاف بطور رد عمل رونما ہونے والے سوچ وفکر کی عکاسی کر رہی ہے۔ زمینی حقائق اور مشاہدات کی روشنی میں یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ اس وقت کون امن عالم کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دنیابھر میں امریکہ کے شدت پسندانہ رویہ کے خلاف سب سے پہلے ۱۹۸۰ء میں استاد عبداللہ عزام نے ’’مکتب الخدمت‘‘ کے نام سے ایک عسکری تنظیم کی بنیادرکھی جبکہ عبداللہ عزام کی شہادت کے بعد اس تنظیم کی تمام ذمہ داری اسامہ بن لادن پرآئی جس نے اس تنظیم کا تبدیل کرکے ’’القاعدہ‘‘ رکھا۔ سوال یہ ہے کہ عرب کی سرزمین سے چند نوجوانوں کے امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے اسبا ب کیا تھے؟ ان عوامل کا اگر سراغ لگایا جائے تو بات امریکہ کی بدمعاشی اور دہشت گردی پر آکر رک جاتی ہے اور دائروں کے اس سفرکے اختتام پر امریکہ کی خونخواری مسلمانوں کے سامنے منہ کھولے ہوئے نظرآتی ہے۔

جنگ عظیم دوم کے بعدامریکہ کی توسیع پسندانہ پالیسی اور انسانی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے نام پر دنیا کے کمزور ملکوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے کے دل سوز واقعات کو سامنے رکھا جائے تو ان جارحانہ اقدامات کے تناظر میں اس بات کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں کہ دنیا میں جاری بدامنی اور دہشت گردی ’’القاعدہ‘‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کی بدمعاشی اور شدت پسندانہ اقدامات کی وجہ سے ہے۔ القاعدہ اور دیگر عرب مجاہدین کے خلاف امریکی زبان بولنے والے محترم سیف الحق کو اگر امریکی جارحیت کے سیکڑوں سے زائد دل سوز واقعات کاعلم نہیں توتاریخ کے دریچے کھلے ہیں، ذرا ان میں جھانک کر تو دیکھیں تاکہ فرعونیت کی راہ اختیار کرنے والی امریکی تاریخ کا انھیں پتہ چل سکے۔

نائن الیون کے واقعہ کاالزام القاعدہ پرلگاتے ہوئے محترم سیف الحق اپنے خط میں یوں رقم طراز ہیں کہ ’’اس کے بعد نائن الیون کا عظیم حادثہ پیش آیا جس کے منطقی نتیجے کے طور پر طالبان کی شرعی حکومت ختم ہوئی اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے اس حادثہ میں جو انیس پائیلٹ کریش ہوئے، وہ سب کے سب القاعدہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے جنہوں نے امریکہ میںآزادی کی وجہ سے امریکی فلائنگ کلب سے تربیت حاصل کی تھی‘‘۔ 

یہ ایک ایساالزام ہے جس کو ابھی تک مسلم تجزیہ نگارماننے سے انکاری ہیں۔ واشنگٹن اور نیویارک میں اس تباہ کن ڈرامے کاذمہ دار کسی مسلم گروپ کو ٹھہرانا یہودیوں کی پشت پناہی ہے۔ نائن الیون کا ڈرامہ کس نے رچایا؟ یہ سوال ا ب ایسا نہیں ہے جس کا جواب نہ ڈھونڈا جا سکے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے یک طرفہ پراپیگنڈا کے باوجود ایسے ٹھوس شواہدسامنے آئے ہیں جنھوں نے اسرائیل کے خون آلود ہاتھوں سے دستانے اتار دیے ہیں۔ ایک خلیجی اخبار ’’الوطن‘‘ کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پنٹاگون کی تباہی اور بربادی میں امن پسند عالم اسلام نہیں بلکہ یہودی لا بی ملوث ہے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں چارہزار سے زائدیہودی کام کرتے تھے۔ یہ کیساحسن اتفاق ہے کہ گیارہ ستمبر کوان چارہزار یہودیوں میں سے ایک بھی یہودی ڈیوٹی پر حاضر نہ ہوا! نائن الیون کاواقعہ رونماہونے کے چند منٹ بعدہی اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک ایک پہلے سے تیار شدہ انٹرویو دینے کے لیے بی بی سی پر کیسے آگئے؟ علاوہ ازیں امریکی انٹیلی جنس کے ایک افسرنے حادثے سے چار ہفتے قبل جاری ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیاہے جو اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ یہ حملے اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کی کارروائی ہیں۔ مذکورہ افسر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پراس میمو کا حوالہ دیا تھا جس میں بتایاگیا تھاکہ موساد امریکی سرزمین پر امریکہ کے خلاف کوئی خفیہ آپریشن کرے گی تاکہ دنیامیں مسلمان بد نام ہو جائیں۔ واشنگٹن ،ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ پینٹاگون سے ٹکرانے والے ہوائی جہاز کا پائلٹ جارج برینگھم امریکی محکمہ دفاع کاسابق افسرتھا جس کو برخاست کیا گیا تھا۔ یہ پائلٹ جو کہ کٹڑ یہودی تھا، امریکی وزارت دفاع کے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں کام کرتا تھا۔ اسی طرح تمام امریکی ایجنسیوں اور اداروں میں موساد کے کارکن موجود ہیں۔ ہر اسرائیلی کے پاس امریکی شہر یت بھی ہے اور ہر امریکی یہودی اسرائیلی شہریت کا حامل ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ چارطیارے دیر تک اپنی پروازوں کی اصل سمت سے ہٹ کر خطرناک سمتوں میں پرواز کر رہے ہوں اور امریکی ملٹری اور سول ایوی ایشن کے ریڈار اور کنٹرول ٹاوروں کا سٹاف چپ بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہوں۔ 

ایک فوجی ماہرکے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں جس وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سنٹر کے ٹاوروں میں، جن سے یہ طیارے ٹکرائے، پہلے سے آتش گیر اور دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا اور یہ کام وسیع مہارت اور وسائل رکھنے اور امریکہ کے اندررہنے والا کوئی گروپ ہی کر سکتاتھا جو اسرائیل کے بغیر دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا۔ ایک اطلاع کے مطابق اسرائیل نے اپنی جاسوسی تنظیم موساد کے ذریعے یہ حملہ کرایا۔ اس کا کوڈ 233ny تھا۔ اس کوڈ کو اگر wing ding کے fonts میں تبدیل کیاجائے توجو الفاظ اور اشارات سامنے آتے ہیں، ان کامفہوم یہ ہے : ’’طیارے کو دو عمارتوں سے ٹکراؤ تاکہ لوگ مریں اور فتح یہود کی ہو‘‘۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نیتن پاہو کا جب اپنے دورحکمرانی میں انتخابات کے معاملے میں صدر کلنٹن سے الجھاؤ پیدا ہوا تھا تواس نے برملا دھمکی دی تھی کہ اسرائیل چاہے تو واشنگٹن کوآن واحد میں بھسم کر سکتا ہے۔

محترم سیف الحق صاحب ان تمام ترشواہد کے باوجود جو تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں، وہی ز بان استعمال کر رہے ہیں جو نائن الیون کے بعد امریکیوں اور یہودیوں کا ورد بن چکی ہے۔ اسرائیل کی خفیہ جاسوسی تنظیم موساد نے اپنے فرائض مستعدی کے ساتھ کیوں پورے کیے اور اس عظیم سانحہ کو برپاکرنے کا مقصد کیا تھا؟ صرف یہی کہ دنیاکی ا کثریت کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا جائے اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم سے دنیاکی نظر یں ہٹا دی جائیں۔ آج گردنیا میں موجود کش مکش کے تناظر میں دیکھا جائے تو اسرائیل اپنے مقصدمیں کامیاب نظر آرہا ہے۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے کسی بھی معمولی واقعہ کو مسلمانوں ہی کے سر تھوپا جا رہا ہے جبکہ ہمارے مسلمانوں کایہ حال ہے کہ حالات وواقعات سے اتنے بے خبر ہیں کہ ان تمام واقعات کا ذمہ دار خود اپنے مسلمان بھائیوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔

ان گزارشات سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ محترم سیف الحق صاحب کے سامنے یہ باتیں ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کروں کہ دنیا میں موجود دہشت گردی کا ذمہ دار القاعدہ نہیں بلکہ خودامریکہ ہے اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے واقعہ میں کسی مسلمان گروپ کا ہاتھ نہیں بلکہ اسرائیل ملوث ہے۔ میں امید کرتاہوں کہ میری یہ معروضات الشریعہ کی وساطت سے محترم سیف الحق صاحب تک پہنچائی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارا، آپ کا اور تمام امت مسلمہ کا حامی وناصرہو۔

سید عرفان اللہ شاہ ہاشمی 

ایڈیٹر مجلہ مصباح الاسلام 

مٹہ مغل خیل، شب قدر، ضلع چارسدہ

(۴)

محترم جنا ب مولانا زاہدالراشدی صاحب دامت برکاتہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج بعافیت ہوں گے۔

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ تقریباً مطالعہ میں رہتا ہے، لیکن مستقل خریدار نہ ہونے کی وجہ سے کچھ شمارے محرومیت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ ماہنامہ الشریعہ کو میں ایک ایسی دعوت فکر سمجھتا ہوں جس کی آج کے مذہبی طبقہ کو اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہم آج اس فکر وسوچ سے اتنے تہی دامن ہو چکے ہیں کہ بسا اوقات بلکہ آج کل اکثر اوقات سرپیٹ لینے کوجی چاہتا ہے۔ میری سوچ ناقص ہو سکتی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج کے دورمیں بے دینوں کی اصلاح سے کہیں بڑھ کر دین داروں اور مذہب پسند طبقہ کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہم نماز روزہ کے مسائل تومسجد کے عام مولوی صاحب سے پوچھنا بھی لازمی سمجھتے ہیں، لیکن جہاد کے بارے میں ہمارے اپنے جذبات اور فیصلے اور خلوص بھری نادانی حتمی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ فکرعام کرنے کے لیے ہمت، وسائل اور قبول عام بخشے۔ آمین 

محمد آفتاب عاصم 

مدرس ومعاون مفتی 

جامعہ اسلامیہ، صدر راولپنڈی

مکاتیب

(جون ۲۰۰۸ء)

Flag Counter