ذبیح حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق؟

برہان الدین ربانی

پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے پر تاثیر قلم سے وقتاً فوقتاً علمی وفکری تحریرات صفحہ قرطاس پر منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح کی ایک تحریر ’’قرآنی علمیات اور مسلم رویہ‘‘کے عنوان سے الشریعہ، جنوری ۲۰۰۶ء ؁میں پڑھنے کو ملی جس میں ذبیح کون کی بحث کے حوالے سے پروفیسر صاحب نے مسلم اہل علم پر تنقید کی ہے۔ پروفیسر صاحب کا موقف یہ ہے کہ اگر ذبیح کو قرآن نے مشّخص نہیں کیا تو ہم کیوں ایک اضافی چیز کو کھینچ تان کر یقین کے زمرے میں لانا چاہتے اور اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح کے طور پر متعین کرنا چاہتے ہیں۔ 

گویا بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ہمیں ’ذبیح کون‘ کی بحث میں پڑنا چاہیے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ’ذبیح کون‘ کی بحث سے مقصود حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کے مقابلے میں برتر ثابت کرنا نہیں اور نہ ہی کوئی مسلمان اس بات کا تصور کرسکتاہے، بلکہ اس بحث سے مقصود حقائق کو واضح کرنا ہے۔ متعلقہ قرآنی آیات کے منشا کو درست طور پر سمجھنے کے لیے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل ہیں یا حضرت اسحاق علیہما السلام۔ 

اب جب ہم قرآن مجید پر غور کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ قرآن نے ذبیح کانام نہیں لیا لیکن جو اسلوب اختیار کیاہے، اس سے حضرت اسماعیل ہی ذبیح قرار پاتے ہیں۔ قرآن مجید کی متعلقہ آیات حسب ذیل ہیں:

رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ فَبَشَّرْنَاہُ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ ۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّیْ أَرَی فِیْ الْمَنَامِ أَنِّیْ أَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَی قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِن شَاء اللَّہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ ۔ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ ۔ وَنَادَیْْنَاہُ أَنْ یَا إِبْرَاہِیْمُ ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْبَلَاء الْمُبِیْنُ ۔ وَفَدَیْْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْْہِ فِیْ الْآخِرِیْنَ ۔ سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ ۔ کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ وَبَشَّرْنَاہُ بِإِسْحَاقَ نَبِیّاً مِّنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ وَبَارَکْنَا عَلَیْْہِ وَعَلَی إِسْحَاقَ وَمِن ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِہِ مُبِیْنٌ (صافات آیات ۱۰۰ تا ۱۱۳)
’’اے پروردگار بخش دے مجھے نیکوں میں سے (کوئی بیٹا)۔ پس ہم نے بشارت دی اس کو ایک لڑکے کی جو نہایت بردبار تھا۔ پس جب پہنچا اس کے ساتھ تگ ودو کی عمر کو تو اس نے کہا اے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، پس تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا، اے ابا جان آپ کرڈالیں جس چیز کا آپ کو حکم دیاگیاہے۔ آپ مجھے پائیں گے، اگر اللہ نے چاہا، صبر کرنے والوں میں سے۔ پس جب وہ دونوں مطیع ہوگئے (اللہ کے حکم کے) اور گرادیا اس کو پیشانی کے بل ا ور ہم نے اس کو آواز دی، اے ابراہیم، تحقیق تو نے سچ کر دکھایا خواب۔ بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو۔ بے شک یہ بات البتہ صریح آزمائش ہے۔ اور ہم نے اس کو ذبح عظیم عطا کیا۔ اور ہم نے چھوڑا اس پر پچھلوں میں۔ سلامتی ہوابراہیم پر۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو۔ بے شک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے ہے۔ او ر ہم نے بشارت دی اس کو اسحاق کی جو کہ اللہ کا نبی اور نیکوں میں سے ہوگا اور برکت نازل کی ہم نے اس پر اور اسحاق پر۔ اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکی کرنے والے ہیں اور کچھ ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر صریح طورپر ۔‘‘

پروفیسر صاحب نے آیت ۱۰۵ تک لکھ کر یہ کہاہے کہ متاخرین کے ہاں وہ انتہا پسندی نظر آتی ہے جو یہودیوں کے نسلی رویے کے متوازی چلتے ہوئے قرآنی علمیاتی نہج کو تہس نہس کردیتی ہے۔ اگر پروفیسر صاحب آیت ۱۰۷ سے ۱۱۳ تک کا بھی مطالعہ کرتے تو انھیں مفسرین پر تنقید کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی کیونکہ ان آیات میں قرآن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مختصر سوانح پیش کررہاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم کو بت پرستی سے روکا اور انہیں وحدانیت کی تبلیغ کی، پھر آپ نے اپنی بت پرست قوم کو چھوڑ کر ترک وطن کا راستہ اختیار کیا۔ اس سارے واقعے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ’رب ھب لی من الصالحین‘ کے الفاظ سے دعا کی جس کے بدلے میں پروردگار نے ’غلٰم حلیم‘ کی خوشخبری سنائی۔ پھر جب بچہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آزمائش آئی اور انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس آزمایش میں کامیابی پر ذات خداوندی نے ذبح عظیم عطا فرمایا۔ بیٹے کی قربانی کی آزمایش اور اس پر انعام واکرام کے ذکر کے متصل بعد دوسری بشارت کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے کہ ’وبشرنہ باسحق نبیا من الصالحین‘۔ گویا ان آیات میں دو بیٹوں کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ پہلی خوشخبری ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے بعد بیٹے کا نام لیے بغیر دی گئی۔ اس کے بعد واقعہ قربانی کا ذکر کیاگیا جو کہ اسی غلامِ حلیم کے ساتھ پیش آیا۔ اس واقعے کے متصل بعد دوسری بشارت اسحاق علیہ السلام کے متعلق دی گئی ۔ یعنی قرآن نے بشارت اول کو ذبیح کے ساتھ منسلک کیا ہے جبکہ بشارت ثانی کا ذکر قربانی کے واقعے کے بعد کیا، جس سے واضح ہے کہ قربانی کا واقعہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ پیش نہیں آیا۔ 

مزید قابل غور امر یہ ہے کہ پہلی بشارت ’غلٰم حلیم ‘ کے جبکہ دوسری بشارت ’نبیا من الصالحین‘ کے الفاظ سے دی گئی۔ سورۃ ہود میں یہ دوسری بشارت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

وَامْرَأَتُہُ قَآءِمَۃٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنَاہَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاء إِسْحَاقَ یَعْقُوبَ (ہود، ۷۱) 
یعنی غلام حلیم کے ساتھ کسی قسم کا وعدہ نہیں، نہ نبی صالح ہونے کا اور نہ آگے نسل چلنے کا، جبکہ بشار ت ثانی (اسحاق ) کے ساتھ نبی صالح ہونے اور اگلی نسل، دونوں کا وعدہ کیاگیا۔ 

علاوہ ازیں پہلی بشارت حضرت ابراہیم کی دعاکے نتیجے میں دی گئی جبکہ دوسری بشارت دعا کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اس پر ابراہیم علیہ السلام نے ان الفاظ میں تعجب ظاہر کیا:

أَبَشَّرْتُمُونِیْ عَلٰی أَن مَّسَّنِیَ الْکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ (الحجر، ۵۴) 

اس طرح حضرت سارہ کے الفاظ تھے :

یَا وَیْْلَتٰی أَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَہَذَا بَعْلِیْ شَیْْخاً إِنَّ ہَذَا لَشَیْْءٌ عَجِیْبٌ (ہود ۷۲)

اب اگر ان بشارتوں کو خدائی قانون ’لا تبدیل لکلمٰت اللہ‘ کے تحت سمجھا جائے تو ’ذبیح کون‘ کی بحث بڑی عمدگی سے حل ہوسکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر ذبیح حضرت اسحاق کو مانا جائے تو یہ خدائی قانو ن کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ رب العزت اس سے پہلے ان کی نسل آگے چلنے اور نبی صالح ہونے کا وعدہ فرما چکے ہیں، پس اسحاق علیہ السلام کو نبوت دینے اور نسل کے جاری کرنے سے پہلے ہی قربان کر دینے کا حکم دینا اس سے پہلے کیے گئے دونوں وعدہ کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کرنے کا حکم حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی سے متعلق تھا۔

پروفیسر صاحب سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اسرائیلیات کو انہی حدود میں استعمال کیاگیاہے جو قرآن وسنت نے مقرر کی ہیں؟ تو گزارش ہے کہ واقعی اس معاملے میں مفسرین نے احتیاط برتی ہے اور اسرائیلیات کو انہی حدود میں استعمال کیاہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’حدثو عن بنی اسرائیل ولا حرج‘ میں مقررفرمائی ہیں، یعنی ایسی روایات جو قرآن وسنت کی تائید کرتی ہیں اور عقل سلیم کے منافی بھی نہیں، ان کو مفسرین تائید کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح قرار دینے میں بھی قرآنی اسلوب کو ہی مد نظر رکھا گیاہے، جبکہ اسرائیلیات کو صرف تائید کے طورپر استعمال کیاگیاہے۔

پروفیسر صاحب کا یہ اعتراض بھی ہے کہ اگر قربانی کے واقعے میں اسماعیل علیہ السلام کا نام شامل ہوتا تو معترضین کو پھبتیاں کسنے کا موقع ملتا کہ اسلام دعویٰ تو عالمگیریت کا کرتاہے لیکن اصلاً اسماعیلی ہے۔ اسی طرح اگر اسحاق علیہ السلام کا نام ہوتا تو یہودیوں کی نسل پرستی کو مزید شہ ملتی۔ لیکن اگر غور کریں تو قرآن نے حضرت اسماعیل کی بشارت صرف ’غلام حلیم ‘ کے الفاظ سے دی ہے جبکہ حضرت اسحاق کی بشارت ’نبیا من الصالحین ‘ کے الفاظ سے دی ہے۔ یعنی حضرت اسماعیل پہلے پیدا ہوئے اور نبوت کی بشارت بعد میں ملی، جبکہ اسحق علیہ السلام پیدا بعدمیں ہوئے اور نبوت کی بشارت پہلے ملی۔ ان میں سے ہر دو حضرات کی اپنی اپنی خصوصیت ہے۔ ذبیح ہونا حضرت اسماعیل کی خصوصیت ہے، جبکہ پیدائش سے پہلے نبوت کی بشارت مل جانا اسحاق علیہ السلام کی خصوصیت ہے۔ قرآن نے معترضین کو پھبتی کسنے کا موقع ہی نہیں دیا کیونکہ نبوت کی بشارت کا مل جانازیادہ اونچا مقام ہے، نہ کہ نبوت کے بغیر محض ذبیح ہونا۔ اس کے بعد بھی اگر معترضین پھبتیاں کسیں تو ہمیں ان کی پروا نہیں کرنی چاہیے کیونکہ پھبتیاں کسنے والوں نے تو انبیاے کرام کو بھی نہیں چھوڑا۔ 

الشریعہ، جولائی ۲۰۰۶ء میں پروفیسر صاحب نے لکھاہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے کا قول منقول ہے اور اکثر علما کا یہی قول ہے، اور کچھ لوگ اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح ہونے کے قائل ہیں۔ گزارش ہے کہ ہم وہ روایتیں لینے کے مکلف نہیں جن میں اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے کا ذکر ہے کیونکہ یہ بات قرآنی منشا سے متصادم ہے۔ حضرت ابن عباسؓ اور ان لوگوں کی اکثریت جن سے اسحاق علیہ السلام کے ذبیح ہونے کی روایتیں مروی ہیں، ان سے اسماعیل کے ذبیح ہونے کی روایتیں بھی موجود ہیں، اور قرآنی منشا بھی یہی ہے اور اسی پر متقدمین ومتاخرین کا ایک جم غفیر متفق ہے۔


سیرت و تاریخ