پاکستان کے سیاسی بحرانوں میں نظریہ ضرورت کا استعمال

پروفیسر محمد شریف چوہدری

طب کی اصطلاح میں ’’بحران‘‘ مرض کی شدت اور بیماری کے زور کو کہتے ہیں۔ (۱) گویا نازک حالت، تعطل اور "Crisis"کو بحران کہتے ہیں۔ بحران مختلف النوع ہوتے ہیں، جیسے انتظامی، عدالتی، معاشی اور سیاسی بحران وغیرہ۔ اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو، ادارے آئین کے مطابق کام نہ کر رہے ہوں، ملک میں ابتری، انتشار، بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت ہو، معاشرے میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوجائیں اور ملکی سا لمیت خطرے میں پڑ جائے تو ایسے بحران کو سیاسی بحران کہا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی ایسی مقتدر قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو پھر سے ملک کو آئین کے مطابق چلاسکے۔

آزادی کے بعد اس ملک میں متعدد سیاسی بحران آئے اور کسی نہ کسی طریقے سے ان تمام بحرانوں کو آئینی خلاؤں سے پر کرنے کی کوشش کی گئی۔

۱۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا جب گورنر جنرل غلام محمد نے ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۵۴ کو آئین ساز اسمبلی کو معطل کردیا۔ آئین ساز اسمبلی نے ۲۰ ستمبر ۱۹۵۴ کو پروڈا *((PRODA کو منسوخ کردیا تھا۔ منسوخ شدہ ایکٹ کے تحت حکومت کو بدعنوان وزرا اور سیاست دانوں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل تھا۔ اس کے ایک روز بعد اسمبلی نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵کی دفعات۹، ۱۰، ۱۰۔اے، اور ۱۰۔بی کو منسوخ کردیا۔ ان دفعات کے تحت گورنر جنرل کابینہ توڑ سکتا تھا۔ اسمبلی کے ان اقدامات کا مقصد گورنر جنرل کے اختیارات کو محدود کرنا تھا تاکہ وہ ماضی کی طرح کابینہ نہ توڑ سکے اور خواجہ ناظم الدین والی داستان نہ دہرائی جائے۔ یہ سب کچھ گورنر جنرل کے علم میں لائے بغیر ایسے وقت میں کیا گیا جب وہ دارالحکومت سے باہر تھے۔ مذکورہ آئینی ترمیم کو اسمبلی میں منظور کروانے کے لیے غیر معمولی عجلت سے کام لیا گیا اور ایک دن کے اندر اندر منظور ہو نے والی یہ ترمیم اسی روزگزٹ میں بھی شائع کردی گئی۔ یہ اقدام انتقامی کارروائی کے مترادف تھا۔ گورنر جنرل فوری طورپر کراچی واپس پہنچے اور انہوں نے بیزار وبدگمان رائے عامہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی کے خلاف اقدام کرنے کافیصلہ کرلیا۔ چنانچہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۵۴کو ایک حکم نامے کے ذریعے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرکے اسمبلی توڑنے کا اعلان کردیا گیا۔ (۲)

ڈیڑھ برس کے مختصر عرصے میں غلام محمد کی طرف سے کیا جانے والا یہ دوسرا اقدام تھا۔ (اس سے پیشتر وہ خواجہ ناظم الدین کی کا بینہ توڑ چکے تھے)۔ غلام محمد کے ان دونوں اقدامات نے ملک میں جمہوری اداروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ (۳) 

تحلیل کی جانے والی دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیزالدین نے گورنر جنرل کے اس اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ انہوں اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ آزادی ہند ایکٹ مجریہ ۱۹۴۷کی دفعہ ۶ کی ذیلی دفعہ ۳ کی روسے قانون سازی کے لیے گورنر جنرل کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ مولوی تمیزالدین نے برطانیہ کے ایک وکیل مسڑ ڈی این پرٹ * کو بھی اپنی معاونت کے لیے بلایا۔ چیف کورٹ آف سندھ کے فل بنچ نے مقدمے کی سماعت کی اور متفقہ طور پر گورنر جنرل کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ فل بنچ نے لکھا:

’’آئین ساز اسمبلی ایک خود مختارادارہ ہے۔ اور یہ کہ اسے اس وقت تک نہیں توڑا جاسکتا جب تک کہ وہ مقصد، جس کے لیے اسمبلی وجودمیں آئی تھی، حاصل نہ کرلیا جائے۔‘‘ (۴)

چیف کورٹ آف سندھ کے فل بنچ کے فیصلے کے خلاف وفاقِ پاکستان نے فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کردی جس نے طویل سماعت کے بعد گورنر جنرل کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت میں فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس نے قرار دیا:

’’وہ واحد بنیاد جس پر غیر قانونی امور کو قانونی قرار دیاجا سکتا ہے، وہ ضرورتِ حالات ہے۔ .... گورنر جنرل نے ایک فوری تباہی کو روکنے کے لیے، ریاست اور معاشرے کو سقوط سے بچانے کے لیے یہ عمل کیا۔ ‘‘ (۵)

جسٹس منیر نے قرار دیا:

’’یہ امر واضح ہے کہ آزادی ایکٹ ۱۹۴۷ اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی روسے پاکستان کو جو عبوری آئین ملا، دستور ساز اسمبلی کو ایک قانون کے ذریعے اسے عبوری آ ئین میں تبدیل کرنے کا فریضہ سونپا گیا تھا۔ لہٰذایہ استدلال بے معنی ہے کہ دستور ساز اسمبلی کو غیر معینہ مدت تک فرائض انجام دینے کا اختیار مل گیاہے۔ اس ادارے کو مستقل حیثیت حاصل نہیں اور وہ قابل تحلیل ہے۔ آزادی ایکٹ کے سیکشن ۸کے سب سیکشن (i) کے تحت دستور ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایکٹ کی رو سے عائد ہونے والے فرائض انجام دے۔ اس ایکٹ میں اسمبلی کو دائمی حیثیت نہیں دی گئی ۔ گورنر جنرل کو جب یہ باور ہو گیا کہ دستور ساز اسمبلی ملک کو آئین دینے میں ناکام ہوگئی ہے تو اسمبلی توڑنے کا اختیار ، جو اس سے پہلے التوا میں رکھا گیا تھا، دوبارہ مؤثر ہو گیا۔ آزادی ایکٹ کا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ دستور ساز اسمبلی، آئین کی تیاری کی آڑ میں ریاست کی مقننہ کے طور پر غیر معینہ عرصے کے لیے فرائض انجام دیتی رہے، یہاں تک کہ اسے انقلاب کے ذریعے ہٹانا ضروری ہو جائے۔‘‘ (۶)

۲۔ پاکستان کے وزیر اعظم چودھری محمد علی ملک کے لیے ایسا دستور تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ۲۳مارچ ۱۹۵۶ کونافذ ہو گیا، مگراس وقت کے سیاستدانوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ملک میں ایسے حالات پیدا کر دیے جن کی وجہ سے اس وقت کے آرمی چیف محمد ایوب خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔

ملک میں عوامی لیگ اور ری پبلکن کی مخلوط حکومت قائم ہوئی، مگر یہ حکومت ایک سال سے زیادہ عرصہ برسراقتدار نہ رہ سکی۔ اس کے بعد ملکی سیاست میں جوڑ توڑ اور عدم استحکام کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ فلور کراسنگ* کا معاملہ اتنا عام تھاکہ ہر نئی وزارت کچھ عرصے بعدہی عدم استحکام کا شکار ہو کر دم توڑ جاتی۔ ایک طرف خان عبدالقیوم خان (مسلم لیگ کے نو منتخب صدر) نے زورو شور سے صدر سکندر مرزا کی مخالفت شروع کر دی اور دوسری طرف ون یونٹ کے خلاف اور علاقائی خود مختاری کی حمایت میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ زور پکڑ گیا۔ سیاست کی اس غیر یقینی کیفیت نے ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امنِ عامہ کی صورتِ حال کو بھی متاثر کیا۔ چنانچہ ملک کی اس بحرانی کیفیت میں ۸؍اکتوبر ۱۹۵۸ کو سکندر مرزا کی صدارت میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا اورایوب خان چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ اس اعلان سے وزارتیں اور اسمبلیاں ختم ہو گئیں۔ جنرل محمد ایوب خان نے۱۰؍ اکتوبر ۱۹۵۸کو کہا:

’’انجام کار یہ ذمہ داری ہمیشہ فوج پر ہی عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کے حقوق کی حفاظت کرے۔‘‘ (۷)

۲۷؍ اکتوبر ۱۹۵۸کو جنرل محمد ایوب خان نے ملک کی زمام اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لی اور سکندر مرزا کو ہٹاکر خود صدر بن گئے۔ ۳۰؍ اکتوبر کو جنرل ایوب خان نے بیان دیا:

’’ لوگ اس بات پر مضطرب تھے کہ اگر تمام اختیارات دو افراد کے پاس رہے تو پالیسی میں ابہام کاامکان پیدا ہوتا رہے گا۔‘‘ (۸)

ایوب خان کے اس مارشل لا کو دو سو ((Dosso کیس میں چیلنج کر دیا گیا۔ مقدمے کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ جب ملک میں کوئی بدامنی نہیں تھی تو مارشل لا کا کوئی جوازنہ تھا، لیکن مسڑمحمد منیر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ نے جنرل ایوب خان کے اس اقدام کو قانونِ ضرورت Law of Necessity)) کے تحت قانونی حیثیت دے دی ۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا :

’’ ایک جیتا ہوا انقلاب یا کامیاب تختہ الٹنا بین الاقوامی طور پر آئین تبدیل کرنے کا تسلیم شدہ قانونی طریقہ ہے۔ قانون کی اس شاخ کی تعریف سول یا ریاستی ضرورت ہے۔ ..... ایک کامیاب فوجی انقلاب از خود ایک نیا نظام قانون ہوتا ہے۔ جج اور عدالتیں اس نئے قانون کی پابند ہوتی ہیں، لہٰذا اس کے خلاف عدالت کسی رٹ کی سماعت نہیں کرسکتی۔‘‘ (۹)

۳۔ ۲۵مارچ ۱۹۶۹ کو صدر ایوب خان نے صدارت سے استعفا دے کر ملک کا نظام چلانے کے لیے اقتدارجنرل یحییٰ خان کو سونپ دیا جنہوں نے آتے ہی ملک میں ایک بار پھر مارشل لا نافذ کردیا اور مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں اور وزارتیں توڑدیں۔ آرمی چیف جنرل عبد الحمید خان ،وائس ایڈمرل ایس ایم احسن اور ایئر مارشل نور خان نے اپنے عہدوں کے علاوہ نائب ناظمین اعلیٰ مارشل لا کے عہدے سنبھال لیے ۔ مغربی پاکستان میں جنرل عتیق الرحمن اور مشرقی پاکستان میں جنرل مظفر الدین کو گورنر مقرر کردیا گیا۔ (۱۰)

۲۶ مارچ کو چیف مارشل لا ایڈمسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے کہا کہ آئینی حکومت کی بحالی کے لیے وہ ساز گار ماحول مہیا کریں گے۔ مغربی پاکستان کو ۷ زونوں میں تقسیم کردیا گیا۔ پورے ملک میں صدر ایوب خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوگئی۔ (۱۱)

۳۱مارچ کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے ۲۵ مارچ سے صدر مملکت کا عہدہ سنبھا ل لیا۔ (۱۲)

مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے حکم کے تحت ملک غلام جیلانی ، ممبر قومی اسمبلی اور مسڑ الطاف گوہر، ایڈیٹر انچیف روزنامہ ’’ڈان‘‘ کراچی کو ۲۲دسمبر ۱۹۷۱ کو گرفتار کرلیا گیا اور ۵ فروری ۱۹۷۲ کو انہیں نظر بند کردیا گیا۔ اس پر مس عاصمہ جیلانی دختر ملک غلام جیلانی اور زرینہ گوہر زوجہ الطاف گوہر نے ان کی نظر بندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کردیا۔ مذکورہ خواتین اپنا مقدمہ سپریم کورٹ میں لے گئیں اور ایک ہی طرح کی دو رٹ پیٹشنز میں عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب و دیگر میں سپریم کورٹ نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کو ناجائز قرار دے دیا۔چیف جسٹس حمود الرحمن نے دوسو کیس میں پیش کردہ کیلسن کے نظر یے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا:

’’ میں فاضل چیف جسٹس (محمد منیر ) کا مکمل احترام ملحوظ رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انہوں نے کیس کے نظریہ کی تاویل میں اور اپنے سامنے پیش آمدہ حالات و واقعات پر اس کے انطباق میں غلطی کی۔ انہوں نے جس اصول کو پیش کیا، اسے بالکل حق بجانب قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ....مارشل لا کے نفاذ کا تقاضایہ نہیں کہ غیر فوجی عدالتیں بند ہو جائیں اور غیر فوجی (سیاسی) حکومت کا اختیار ختم ہو جائے۔ .... یہ کہنا درست نہیں کہ مارشل لاکے اعلان کے ساتھ ہی از خود لازماً مسلح افواج کے کمانڈرکو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ اس دستور کو منسوخ کر دے جس کا تحفظ اس کا فرض تھا۔‘‘ (۱۳)

۴۔ ۱۹۷۳ کا آئین پاکستان کے تمام صوبو ں کا متفقہ آئین تھا اور اسے قومی اسمبلی میں موجود ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیا تھا۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے۔بعد میں ان کی حکومت کی کارکردگی اور بعض پالیسیاں بڑی حد تک آئین سے متصادم رہیں جس کی وجہ سے ملک کی سیاسی وجمہوری فضا مکدر ہو گئی۔ ۱۹۷۳کے آئین کے تحت پہلے عام انتخابات مارچ ۱۹۷۷ میں منعقد ہوئے۔ حکمران جماعت (پاکستان پیپلز پارٹی) پر انتخابات کے نتائج کااعلان کرنے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا گیا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں زبردست احتجاجی تحریک چلی جس کی وجہ سے ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ کئی ماہ پر محیط عوامی احتجاج اور حکمرانوں کے سخت رویے نے ملک کو ایک سنگین سیاسی بحران سے دوچار کردیا تو اس وقت کے بری فوج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے ۱۹۷۳کے آئین کو معطل کرکے ۵ جولائی ۱۹۷۷ کو اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ (۱۴)

آئین کی رو سے فوجی حکمران پر آئین توڑنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا سکتا تھا، اس لیے فوجی حکمران نے انقلاب کے آغاز میں یقین دلایا کہ آئین کو منسوخ نہیں بلکہ اسے وقتی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اس میں ضروری ترمیم کی جائے گی - (۱۵)

بیگم نصرت بھٹو نے آئین کی خلا ف ورزی پر فوجی حکمران کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا۔

سپریم کورٹ نے ۱۰ نومبر ۱۹۷۷ء کو اپنے فیصلے میں بیگم نصرت بھٹو کی طرف سے دائرکردہ حبس بے جا کی درخواست متفقہ طور پر مسترد کردی۔ اس طرح ۵ جولائی ۱۹۷۷ کو نافذ ہونے والے مارشل لا کو آئینی ضرورت قرار دیتے ہوئے ایک ’’مؤ ثر العمل ‘‘ حکومت قرار دیا۔ اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد انوار الحق نے اپنے فیصلے کے آخر میں لکھا:

’’عدالت واشگاف الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ وہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرکے اقدام کو جائز قرار دیتی ہے۔ اور یہ صرف اس وجہ سے نہیں کہ اس نے گھمبیرماورائے آئین قسم کے قومی اور آئینی بحران کے موقع پر ملک کو بچایا بلکہ اس کی طرف سے ایک سنجیدہ وعدہ بھی کیا گیا کہ آئینی تعطل کو جتنا جلد ممکن ہو سکا، ختم کردیا جائے گا۔‘‘(۱۶)

۵۔ ۱۹۸۸ء میں جنرل محمدضیاء الحق نے اپنے نامزد وزیر اعظم محمد خان جونیجوکو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی توڑدی۔

۲۹ مئی ۱۹۸۸ کو جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کرکے قوم کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا کہ جونیجو حکومت کو ختم کیا جارہا ہے اور قومی اسمبلی کو آئین کی دفعہ ۵۸۔۲ (بی) کے تحت تحلیل کیا جا رہا ہے۔ صدر کا موقف یہ تھا کہ قومی اسمبلی اپنی تفویض کردہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نفاذ اسلام کی کوششوں میں پیش رفت نہیں ہوسکی اور پاکستان کے عوام کے جان ومال کا تحفظ بھی نہیں کیا جاسکا۔ (۱۷)

جنرل محمد ضیاء الحق نے ۳۰ مئی ۱۹۸۸ کو ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مکمل طور پر سیا سی دباؤ کا شکار ہو چکے تھے جس سے کرپشن، اقربا پروری اور بدنظمی عام ہوئی اور ملک میں امن و امان کی صورت حال بگڑگئی۔ (۱۸)

جب تک صدر ضیاء الحق بقید حیات رہے، کسی نے بھی حکومت کو برطرف کرنے اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اقدام کو عدالت میں چیلنج نہ کیا۔

۱۷؍اگست ۱۹۸۸ء کو صدر ضیاء الحق ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تو یہ معاملہ عدالتوں میں اُٹھایا گیا ۔چنانچہ حاجی سیف اﷲکیس میں عدالت عالیہ لاہورنے ۲۷ ستمبر ۱۹۸۸کو اپنے فیصلے میں لکھا کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی جو وجوہات بیان کی گی تھیں‘ وہ اتنی غیر واضح‘ سطحی اور ناپید تھیں کہ قانون کی نظرمیں ان احکامات کی کوئی حیثیت نہیں بنتی۔ (۱۹) 

لاہور ہائی کو رٹ نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا ۔تا ہم حالات و واقعات کے تناظر میں تحلیل شدہ اسمبلیوں کو بحال نہ کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ اب جمہوری عمل کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔لہٰذ ا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پروگرام کے مطابق ۱۶نومبر ۱۹۸۸ء کو ہوں گے اورمنتخب نمائندوں کو آئین کے مطابق اقتدار منتقل ہوگا۔ (۲۰)

۱۵؍اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ملک کی عدالت عظمیٰ نے حکومت اور حاجی سیف اللہ کی طرف سے دائر کردہ ایک ہی طرح کی متعدد اپیلوں کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو بحال رکھا اور قراردیا کہ آئین اور قانون کے مطابق قومی امور کا فیصلہ کرتے وقت عدالتیں ہمیشہ ملک کے مفاد کو مقدم رکھتی ہیں، کیونکہ نجی مفادات اور انفرادی حقوق پر قومی مفادات کو ترجیح دینا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ اب جبکہ انتخابات قریب ہیں تو عوام کو آئین میں دیے گئے حقوق کے مطابق جماعتی بنیادوں پر قومی اسمبلی کے لیے اپنے نمائندگان منتخب کرنے کی اجازت دینا بہت ضرروی ہے۔ (۲۱)

۶۔ نومبر ۱۹۸۸ میں ملک میں جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات ہوئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں ا کثریت حاصل کر لی۔ اس طرح ا کثریتی سیاسی جماعت کی سربراہ ہونے کی حیثیت سے انھوں نے ۲دسمبر ۱۹۸۸ء کوبحیثیت وزیر اعظم پاکستان حلف اٹھایا ۔ بے نظیر بھٹو کو مرکز میں ایک مضبوط حزبِ مخالف کا سامنا تھا۔ ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں بھی حزب مخالف کی حکومت تھی۔ وفاق اور صوبہ پنجاب کی حکومت کے مابین جلد ہی اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ حزب مخالف نے حکومت کی اس شدت سے مخالفت کی کہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اسمبلی کے ارکان کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بدعنوانی کا سلسلہ شروع کردیا۔ حزب مخا لف نے بھی ایسے ہی کیا۔ اسے ’’ ہارس ٹریڈنگ ‘‘ کا نام دیا گیا۔ عوام الناس نے اس کام کی مذمت کی اور بیرونِ ملک یہ عمل تضحیک کا باعث بنا۔ اس طرح دنیابھر میں ملکی وقار کو سخت دھچکا لگا۔ (۲۲)

حکومت کی برطرفی اور اسمبلیوں کی تحلیل کے خلاف خواجہ احمد طارق رحیم نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کردی۔ بحث کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ جن الزامات کے تحت اسمبلی توڑی گئی ہے، ان کا آئین کی دفعہ ۵۸۔۲ (بی) کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ مقدمہ کی سماعت کے بعد ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۹۰ء کوسپریم کورٹ نے حکومت بحال کرنے کی یہ درخواست مسترد کردی اور یہ فیصلہ دیا کہ حکومت کی برطرفی دفعہ ۵۸۔۲ (بی)کے مطابق ہو ئی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلہ میں حکو متی برطرفی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت آئین کے مطابق کام نہیں کررہی تھی، وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کے اندرونی معاملات میں غیر آئینی مداخلت کی، سینٹ اور اعلیٰ عدالتوں جیسے باوقار اور اہم اداروں کا عوام میں تمسخر اڑا یا گیا، سیکرٹ سروس فنڈز کے کروڑوں روپے قومی اسمبلی کے ارکان پر خرچ کردئے گئے اور تحریک عدم اعتماد کے موقع پر PAFاور PIA کے جہازوں کا غیر قانونی استعمال کیا گیا اور سول سروس میں میرٹ کے بغیر بھرتیاں کی گئیں اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ عدالت نے تحریر کیا:

’’محولہ بالا حقائق کی روشنی میں صدرِ پاکستان حق بجانب تھے کہ دستور کی دفعہ ۵۸۔۲ (بی) کا براہ راست استعمال کرتے۔‘‘ (۲۳)

۷۔ ۱۹۹۳ میں قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے ضمن میں جو واقعات رونما ہوئے، وہ ذیل میں بالا ختصار بیان کئے جاتے ہیں۔وزیراعظم دائیں بازو کے اتحاد کے سربراہ تھے جو ۱۹۹۲ء کے آخر تک کمزور ہو چکا تھا۔ اتحاد کے کئی ارکان نے قومی اسمبلی کے سپیکر کے نام استعفے لکھ کر انہیں صدر پاکستان تک پہنچا دیا۔ اخبارات میں ان استعفوں کی خوب تشہیر ہوئی۔ اس سے وزیر اعظم شدید اعصابی تناؤ کا شکار ہو گئے۔ ان حالات میں ۱۷؍ اپریل ۱۹۹۳ کو انہوں نے قوم سے خطاب کیا اور ملک کے سیاسی حالات میں بگاڑ کا ذمہ دار صدر کو ٹھہرایا اور اعلان کیا کہ وہ استعفا نہیں دیں گے، اسمبلیاں نہیں توڑیں گے، اور ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔

اس تقرر پر صدر نے بڑے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اگلے ہی روز یعنی ۱۸؍ اپریل کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ صدر نے بلخ شیر مزاری کو نگران وزیر اعظم مقرر کر دیا۔

اس طرح پاکستان کے عوام نے محسوس کر لیا کہ صدر کو حاصل اختیارات کی موجودگی میں صدر اور پارلیمانی نظامِ جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اس سوچ کی وجہ سے لوگوں کی ہمدردیاں معزول وزیر اعظم کے ساتھ ہوگئیں

معزول وزیر اعظم نے آئین کے آرٹیکل ۱۸۴ (۳) کے تحت صدر کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

صدرِ پاکستان نے نواز شریف حکومت پر جو بڑے بڑے الزامات عائد کئے تھے ان میں پیداواری وسائل پر چند من پسند افراد کی اجارہ داری، اندھا دھند اقربا پروری مشترکہ مفادات کی کونسل کا عضو معطل بن کر رہ جانا، قومی مالیاتی کمیشن کی ناقص کارکردگی اور ناکام خارجہ پالیسی شامل تھے۔ (۲۴) تاہم عدالت نے قرار دیا کہ صدر پاکستان نے ۲۲ دسمبر ۱۹۹۲ کے اپنے خطاب میں حکومتی معاملات کی تعریف کی جبکہ ۱۸؍اپریل ۱۹۹۳ ء کو حکومتی معاملات کی تنقیص کی ۔ اس طرح صدر کے خطابات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ (۲۵) یوں عدالت نے نواز شریف حکومت کو بحال کر دیا۔

۸۔ ۵ نومبر ۱۹۹۶ء کو صدر مملکت فاروق احمد لغاری نے دستور کی دفعہ ۵۸۔۲ (بی) کا استعمال کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو حکومت کو ختم کردیا۔ قومی اسمبلی توڑدی اور ملک معراج خالد کی سربراہی میں نگران حکومت قائم کردی۔بے نظیر بھٹو کی حکومت دوسری مرتبہ تحلیل کیے جانے کی وجوہات میں سے عدلیہ کے ساتھ چپقلش اور خصوصاً چیف جسٹس آف پاکستان کی ناراضی ، صدر مملکت کے ساتھ بے نظیر بھٹو اور اس کے خاوند آصف زرداری کااہا نت آمیز سلوک ، حکمران جوڑے کے خلاف بدعنوانی کے الزامات اور بدعنوان عناصر کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی زیادہ اہم تھیں۔

علاوہ ازیں ملک بھر میں لاقانونیت کا اس قدر دور دورہ ہو گیا کہ وزیر اعظم کے حقیقی بھائی پر مرتضٰی بھٹو کو پولیس نے ان کے آٹھ ساتھیوں سمیت اس وقت گولیاں مارکر ہلاک کردیا جب وہ اپنے گھرسے چند میڑ کے فاصلے پرتھے۔ وزیراعظم کی طرف سے اس خون ریزی کی پشت پناہی کا الزام صدر اور دیگر اہم اداروں پر لگا یا گیا۔

اس کے علاوہ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتظامیہ اور عدلیہ کے بعض افسران کو ان کے عہدوں سے مقررہ مدت کے اندر تبدیل نہ کیاگیا،عدلیہ کے بعض ججوں، اعلی فوجی اور سول افسران کی ٹیلی فون کا لز غیر آئینی طور پر ٹیپ کی گئیں، رشوت ستانی اس حد تک بڑھ گئی کہ ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ (۲۶)

۵ نومبر ۱۹۹۶ ء کے صدر پاکستان کے اقدام کو برطرف وزیراعظم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سات ججوں پر مشتمل عدالت کے فل بنچ نے صدر فاروق احمد لغاری کی طرف سے سابقہ وزیر اعظم پرلگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا۔صد ر نے اپنے الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کیے۔ عدالت نے بے نظیر بھٹو کے وکیل مسٹراعتزاز احسن کے اس موقف کو قبول نہیں کیا کہ قومی اسمبلی توڑنے کے لئے آرٹیکل ۵۸۔۲ (بی) صرف اسی ضرورت میں استعمال ہوسکتاہے جب حالات اس قدر خراب ہو جائیں کہ ملک میں مارشل لاء لگنے کا امکان پیدا ہوجائے۔ مختلف جج صاحبان کے تقرر کے سلسلے میں آئین کے آرٹیکل ۱۹۰ اور ۲۔اے سے صرف نظر کرنے کے بارے میں خاصا مواد پیش کیا گیا۔ پھر جج صاحبان کے بارے میں بھی صدر نے وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر میں تضحیک آمیز رویے کے بارے میں خاصا مواد مہیا کیا، تاکہ جج صاحبان کے لیے خوف وہراس پیدا کیاجائے۔ پھر پارلیمنٹ میں پندرہویں ترمیم کابل پیش کیا ،تاکہ جج صاحبان سے جوابدہی کی جاسکے اور انہیں جبری رخصت پر فارغ کیا جاسکے ، بشرطیکہ بل پندرہ فیصد ارکان کی طرف سے پیش کیا جائے۔عدلیہ کو انتظامیہ سے مکمل طور علیحدہ کرنے کے اقدام کو بھی جان بوجھ کر مؤخر کیا گیا اور انتظامیہ کے مجسڑیٹوں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ ملزموں کو تین سال تک قید کی سزا دے سکیں گے جو انصاف کے منافی تھا۔ 

عدالت نے کہا کہ اس بات کا کافی ثبوت عدالت موجود ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان، سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں ، ملٹری اور سول سروس کے اعلیٰ عہدیداروں کی ٹیلی فون کالز ریکارڈ کیں اور اس مواد کا مسودہ برائے مطالعہ مدعیہ کوبھی مہیا کیا گیا۔

مدعیہ کے خلاف بدعنوانی، اقراباپروری اور قوانین کی خلاف ورزیوں پر مشتمل کافی مواد مہیا کیا گیا۔ ۲۹ جنوری ۱۹۹۷ کو عدالت نے قرار دیا کہ درج بالا وجوہات کی بنا پر ۵ نومبر کے صدر کے قومی اسمبلی کے تحلیل کرنے کے اقدام کو جائز قرار دیا جاتا ہے اور اس اقدام کے خلاف مدعیہ کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے۔ (۲۷)

۹۔ ۱۹۹۷ء کے عام ا نتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کر لی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کے سربر اہ میاں نو از شریف ملک کے وزیر اعظم بن گئے ۔میاں نواز شریف نے حصول اقتد ار کے ساتھ ہی جمہوریت کے خول میں مطلق العنان حکمرانی کے لیے اقدامات شروع کر دیے اور کئی ایسے اقدامات کیے جن سے قومی معیشت تباہی کی طرف رواں دواں ہو گئی۔ ملک میں کر پشن عام ہوگئی اور حکمران جماعت کے ارکان کی اکثریت اس برائی میں پیش پیش تھی۔تھوڑے ہی عرصے میں عوام خود کوبے اطمینانی اور انتشار کے ماحول میں محسوس کر نے لگے ۔

میاں نواز شریف نے اپنی ذات میں اختیارات کے ارتکاز کے عمل کو جاری رکھااور اسی تسلسل میں انہوں نے آرمی چیف جنرل پر ویزمشرف کو برطرف کردیا (جو اس وقت سری لنکا کے دورے پر تھے) اور سینیارٹی کے اصول کو ملحوظ رکھے بغیر جنرل ضیاء الدین کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔بری فوج کے سینئرجنرلز نے وزیر اعظم کے اس اقدام کو سخت نا پسند کیااور نئے آرمی چیف کے تقررکو مسترد کر دیا۔ اسی اثنا میں ہنگامی طور پر جنرل مشرف سری لنکا کے دورے سے واپس آگئے اور انہوں نے ردِعمل کے طور پر ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کو دیگر آرمی آفیسرز کے تعاون سے نواز شریف حکومت کوختم کر دیا۔ وزیراعظم ،ان کے مقرر کردہ آرمی چیف جنرل ضیاء الدین، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور ان کے کئی دیگر معتمدساتھیوں کو اپنی حراست میں لے لیا گیا۔ ۱۴؍اکتوبر کو فوج کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا:

’’نواز شریف طویل عرصے سے فوج کے خلاف منظم سازشوں میں مصروف تھے۔جنرل مشرف کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور سازش کے تحت جنرل ضیاء الدین کو آرمی چیف قرار دیا گیا۔‘‘ (۲۸) 

و ز یر ا عظم نو ا ز شر یف کی حکو مت کے خاتمے پر ا ن کے نما ئند ے ظفر علی شا ہ نے مسلح افو ا ج کے اقدام کے خلا ف سپریم کو رٹ میں رٹ دائر کر دی ۔ اس وقت ملک میں ہنگامی حالت نافذ تھی ۔اعلیٰ عدالتوں اور عدلتِ عظمیٰ کے منصفیں (Judges) کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ ۱۹۹۹ کے نئے PCO No.1*کے تحت نئے سرے سے حلف اٹھائیں کیونکہ ۱۹۷۳ کے آئین کے بعض حصے معطل کر دیے گئے تھے جس کے تحت وہ اس سے قبل کام کر رہے تھے ۔ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی افادیت کی وضاحت یوں کی گئی کہ ملک میں بدامنی تھی اور عوام میں بہت زیادہ بے چینی پائی جاتی تھی اور مسلح افواج کے سربراہ کے بقول ملکی حالات سدھارنے کے لیے ۱۹۷۳ کا آئین ناکام ہوچکا تھا ۔ اس لیے درج بالا نئے ضابطے کی ضرورت پیش آئی ۔ اس ضابطے میں بعض انسانی حقوق سلب کر لیے گئے جو ۱۹۷۳کے آئین میں عوام کو حاصل تھے۔ سابق وزیر اعظم کی طرف سے سپریم کورٹ میں جو رٹ دائر کی گئی وہ منظو ر تو کر لی گئی مگر منصفین حضرات PCO No.1,1999کے تحت آزاد انہ فیصلے کرنے سے عاجز تھے ۔ 

PCONo.1,1999کے نفاذ کے بعد عدلیہ کے سامنے تین راستے تھے : 

۱۔ تمام منصفین حضرات اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں اور ہر پاکستانی شہری کو جو انصاف کسی بھی ذریعے سے ملتا ہے ، اس کا راستہ بند کر دیا جائے ۔ 

۲۔ نئی حکومت کے احکامات کو مانتے ہوئے، وزیر اعظم کے عہد ے کی بحالی کے لیے دائر کر دہ رٹ یا اسی طرح کی کسی دوسری رٹ کو مسترد کردیاجائے ۔ 

۳۔ معروضی حالات میں رٹ منظو ر کر لی جائے اور باقی ماندہ عدالتی ادا رتی اقدام کو بچا لیا جائے۔(۲۹) 

ان پیش آمدہ حالات میں ملکی مفادات اور عوام کے باقی ماندہ حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے اکثر منصفین حضرات نے طے کیا کہ1999 ء PCO NO.1کے حکم کے تحت نئے سرے سے حلف اٹھایا جائے تاکہ مستقبل میں جہاں تک ممکن ہو سکے جمہوری اداروں کی بحالی کے لئے کوشش جاری رکھی جائے ۔ اس سطرح نئے حلف کے تحت منصفین حضرات فوجی حکمران کے احکامات ماننے پر مجبور تھے ۔اس طرح نظرےۂ ضروریات کے تحت عدالت عظمیٰ کے منصفین حضرات نے یہ قرار دیا کہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ ء کو جو صو رت حال پیش آئی، ۱۹۷۳ کا آئین اس کا کوئی حل پیش نہیں کر سکا تھا، ا س لیے مسلح افواج نے ماورائے آئین ملکی سیاسی امور میں جو مداخلت کی ،وہ ناگزیرتھی۔ عدالت نے کہا کہ ۱۹۷۳ کا آئین بڑے قانون کی صورت میں اب بھی موجود ہے تاہم اس کے بعض اجزا ملکی ضرورت کے لیے منسوخ ہیں اور یہ کہ ملک کی اعلٰیٰ عدالتیں آئین کے تحت کام کر تی رہیں گی ۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ سپر یم کورٹ کے جج صاحبان نے ۲۰۰۰ کے حکم نمبر ۱کے تحت حلف اٹھایا ہوا ہے جس کی وجہ سے جج صاحبان اس حکم سے انحراف کرتے ہوتے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ۔اگر چہ عدالتیں بنیادی طورپر ۱۹۷۳ کے آئین کے تحت ہی قائم کی گئی تھیں، تاہم گاہے گاہے چیف ایگزیکٹو دیگر عدالتی وقانونی احکامات بھی صادر کر تے رہتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ جنرل پر ویز مشرف، جوکہ چیف آف آرمی سٹاف اور جائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چےئرمین ہیں، آئینی عہدے کے حامل ہیں ،ان کی واضح اور آمر انہ طور پر بر طرفی جو سینیارٹی کے حوالے سے بے قاعدہ تھی، غیر قانونی ہو گئی ہے۔ عدالت نے مذکورہ معالات کو پیش نظر رکھتے ہو ئے چیف ایگز یگٹو کو فوج کی مداخلت کے دن یعنی ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ سے لے کر تین سال کا عرصہ دیا تاکہ وہ اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کر لیں ۔

عدالت نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو کو ایک تاریخ مقرر کرنا ہو گی جو اوپر بیان کردہ تین سال کی مدت کے بعد ۹۰ دن سے زیادہ کی تاخیرسے نہ ہو، تاکہ اس تاریخ کو قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے عام انتخابات کرائے جائیں ۔ (۳۰)


حوالہ جات

(۱) لویئس معلوف ، المنجد، ص ۲۵

(۲) (PLD 1955, Vol VII, Page 142, 143 (Sind و صفدر محمود ، ’’پاکستان۔ تاریخ و سیاست‘‘،ص 53،54

(۳) صفدر محمود ، ’’پاکستان۔ تاریخ و سیاست‘‘،ص 54

(۴) PLD 1955 V. II, 106 Sind

(۵) Ibid

(۶) PLD 1955 FC 435 Vol. 1 

(۷) سید نور احمد ’’،مارشل لا سے مارشل لا تک‘‘،ص۵۱۹

(۸) ایضاً، ص ۵۲۲

(۹) PLD 1958 SC 533 Vol 1

(۱۰، ۱۱، ۱۲) رضی الدین رضی، ’’پاکستان، ۵۳ سال‘‘، ص ۴۴۹، ۴۵۰

(۱۳) PLD 1972, SC 130, 183, 187, 190

(۱۴) Dr. Tanzeel-ur-Rahman, "Islamization of Pakistan Law", P.4

(۱۵) اداریہ روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۷ جولائی ۱۹۷۷

(۱۶) PLD 1977, vol. xxlx SC 725

(۱۷) The Daily Dawn, Karachi, 30 May 1988

(۱۸) Ibid, 31 May 1988

(۱۹) PLD 1988 Lahore 725

(۲۰) Ibid

(۲۱) PLD 1989 SC 166

(۲۲) عابد تہامی، ’’انتخابات ۱۹۹۰ کا وائٹ پیپر‘‘ ص ۲۳

(۲۳) PLD 1990 Lahore 507

(۲۴) PLD 1993 SC 753

(۲۵) PLD 1993 SC 894

(۲۶) زاہد حسین انجم، ’’الیکشن ۱۹۷۷‘‘، ص ۲۹ تا ۳۷

(۲۷) PLD 1998 SC 471

(۲۸) روزنامہ جنگ لاہور، ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۹، روزنامہ نوائے وقت لاہور، ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۹

(۲۹) PLD 2000 Part II SC 1215

(۳۰) PLD 2000 Part II SC 1213, 1214


حواشی

* PRODA: Public and Representative Offices Disqualification Act, 1949


مشاہدات و تاثرات

(اکتوبر ۲۰۰۶ء)

Flag Counter