مکاتیب

ادارہ

(۱)


Prof. Mian Ina'am ur Rahman,
Assalam o alaikum wa Rahmatullah
I am wirting these lines to express my appreciation of your paper in al-Shariah, August 2006. Even though some of the concepts are not quite clear to me, e.g. Quran majeed ka wahdati rujhan (p.19), I broadly agree with your stand. You have a good point in the last para on page 19. It deserves further elaboration. What attracts me most is not the conceptual but the prescriptive implications of this paper, the operational implications.
I wish to have some feedback on what I have been writing in FIKR O NAZAR, Islamabad, under the general title of Maqasid al-Shariah. 3 papers appeared in June 2004, December 2005 and June 2006 respectively. Three more are in the pipeline.

With warm regards
Muhammad Nejatullah Siddiqi
mnsiddiqi@hotmail.com

(۲)

محترم جناب مدیر ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

’الشریعہ‘ ماشاء اللہ علمی بحث ومکالمہ کے لیے ایک بہترین فورم ہے جس میں اہل علم حضرات مختلف جدید وقدیم موضوعات پر بحث ومباحثہ میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گراں قدر علمی وفکری مقالات بھی پیش فرماتے ہیں۔ ان میں حضرت رئیس التحریر مدظلہ، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور پروفیسر محمد اکرم ورک کی نگارشات قابل ذکر ہیں۔ لیکن بسا اوقات اس علمی فورم میں علمی وقار ومتانت سے بے خبر ایسے ’’اہل علم‘‘ شرکت کرتے نظر آتے ہیں جن کے انداز تحریر سے ایسا لگتا ہے کہ وہ مکالمہ اور مجادلہ میں فرق سے ناواقف ہیں۔ ہماری گزارش ہے کہ اس مکالمہ گاہ کو روایتی مناظرہ بازی اور جدال ونزاع سے محفوظ رکھا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ادارہ پر اعتماد میں اضافہ کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مضمون کی تحریر من وعن شائع کی جائے، البتہ زبان وبیان کے حوالے سے نوک پلک کی درستی میں ادارہ حق بجانب ہے، تاہم خیال رہے کہ دونوں فریقوں کی زبان کو شایستہ بنایا جائے۔

گزشتہ شماروں میں بعض حضرات نے مجھے ’’مولوی، حضرت مولانا ‘‘اور ’’مدرس دار العلوم کراچی‘‘ کے القاب سے یاد کیا ہے۔ واضح رہے کہ میں جامعہ میں پڑھنے والا ایک طالب علم ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ’الشریعہ‘ کو مادی وروحانی وسائل کی فراوانی کے ساتھ مزید دینی وعلمی خدمات کی توفیق سے نوازے۔ آمین

محمود خارانی

جامعہ دار العلوم کراچی ۱۴

(۳)

بخدمت جناب محترم مدیر الشریعہ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے بعد عرض ہے کہ آپ کا ماہنامہ ہمارے مدرسے میں آ رہا ہے جس کوپڑھنے کا خادم مدرسہ کو بھی موقع ملا، مگر آپ حضرات کے بارے میں اس لیے فکر ہے کہ آپ کے ماہنامے میں کوئی اور تبلیغ سے اختلاف کرے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے لوگوں نے اظہار خیال کیا ہے، مگر اگست کے شمارے میں مولانا محمد یوسف صاحب نے ’الشریعہ‘ کے سرپرست کے حوالے سے جو مضمون لکھا ہے، اسے پڑھ کر بڑی ہی حیرت ہوئی۔ اور آخر میں حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے اظہار خیال نے تو کمال ہی کر دیا۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ مصروف عوام الناس آپ کی ایسی باتوں سے فکرمند تو ہوتے ہوں گے۔ جن لوگوں نے اس کو پڑھ کر تبلیغ سے دوری اختیار کی ہوگی، ان لوگوں کی دنیا وآخرت کا معاملہ آپ ہی کی وجہ سے خراب ہوگا۔ اس کی قیامت میں اللہ پاک کے ہاں آپ کی پیشی ہو سکتی ہے۔ آپ حضرات احساس ذمہ داری کے ساتھ تبلیغ اسلام میں وقت لگا لیتے تو کبھی ایسی باتیں اپنے رسالے میں شائع نہ کرتے۔ ہماری تو سب حضرات کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کی محنت کو سیکھنے کے لیے ہم سب کی جان، مال اور وقت کو قبول فرمائیں۔ الحمد للہ ۳ ستمبر سے رائے ونڈ مرکز میں علماے کرام کا جوڑ ہو رہا ہے، آپ بھی اس میں شامل ہو کر شفقت فرماویں۔ 

آپ نے بڑی بڑی کتابیں پڑھی ہیں، مگر ’’فضائل اعمال‘‘ کو پڑھ کر تنہائی میں بیٹھ کر غور وفکر تو کریں۔ اب تو ’’فضائل اعمال‘‘ کا بے شمار زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ آپ حضرات دعوت وتبلیغ کے کام میں معاون بننے کی بجائے اس کی مخالفت کے لیے اپنے رسالے کو استعمال کر رہے ہیں۔ کیا آپ کی یہی تبلیغ ہے؟ 

دعوت وتبلیغ کی برکت سے الحمد للہ بہت سے لوگوں کی زندگی میں اسلامی انقلاب آ رہا ہے جس کی وجہ سے اچھے خاندانوں کے لوگ اپنی اولاد کو مدرسوں میں داخل کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آپ حضرات کے مدرسے آباد ہو رہے ہیں، ورنہ پہلے تو مدرسوں میں غریب لوگوں کے بچے یا جسمانی طور پر معذور بچے ہی داخل ہوتے تھے۔ آپ کبھی طالب علموں سے پوچھ کر دیکھیں۔ الحمد للہ تبلیغ والے ہی مدرسوں میں داخل کرانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

آپ حضرات ہی بتائیں، جتنی نافرمانیاں سرعام ہو رہی ہیں، سڑکوں پر عورتوں کی تصویریں عام نظر آ رہی ہیں، عورتیں بے پردہ ہو کر بازاروں اور فیکٹریوں میں آ جا رہی ہیں، کیا ان لوگوں کو سمجھانے کے لیے مدرسے کی جماعت بنا کر تبلیغ کے لیے جانا آپ کی سمجھ میں نہیں آتا؟ اس وقت ۶؍ ارب انسان ہیں جس میں ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں۔ ان سب مسلمانوں کے ذمے، جن میں سب لوگ شامل ہیں، غیر مسلموں کو تبلیغ کر کے مسلمان بنانا فرض عین ہے۔ اگر ہماری تبلیغ کے بعد غیر مسلم، مسلمان نہیں ہوتے تو قیامت میں ان کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا، ورنہ ہم سب سے تبلیغ نہ کرنے کی بازپرس ہوگی۔ سب انبیاے کرام نے اپنے گھروں سے نکل کر ہی تبلیغ کی ہے، بلکہ اس تبلیغ میں تکلیفیں بھی آئی ہیں۔ 

یہ ساری باتیں اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لیے آپ حضرات کی خدمت میں عرض کی ہیں۔ جب تک آپ حضرات تبلیغ میں وقت نہیں لگائیں گے، ایسے ہی مخالفت کرتے رہیں گے جو آپ کی دنیا وآخرت خراب ہو جانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس وقت کاغذ ختم ہونے کو ہے، ورنہ اور بھی باتیں ہوتیں۔ باقی باتیں قرآن وحدیث سے پڑھ کر فکر فرماویں۔ آپ حضرات کے لیے اللہ پاک سے ہم لوگ دعا بھی کرتے رہیں گے اور آپ کو بتاتے بھی رہیں گے۔

خادم مدرسہ مشتاق احمد

مدرسۃ الحسنین للبنات 122/B

گلستان کالونی فیصل آباد

(۴)

محترم جناب مدیر اعلیٰ صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ مزاج شریف؟

الحمد للہ ماہنامہ ’الشریعہ‘ پاکستان کے دیگر دینی وعلمی رسائل وجرائد میں منفرد صفات وخصوصیات کاحامل جریدہ ہے جس میں متنوع قسم کے علمی وفکری مضامین ومقالات علمی ذوق کے حامل قارئین کی پیاس بجھاتے ہیں۔ خاص طور پر مولانا زاہد الراشدی صاحب کا ’’کلمہ حق‘‘ اور دیگر مقالات ومضامین تو حرز جاں بنانے کے قابل ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے متجددین کی فکری غلطیوں کی نشان دہی کے لیے ’الشریعہ‘ کا کارنامہ لائق صد تحسین ہے، خاص طور پر غامدی صاحب محترم کے نظریات کا رد تو ’الشریعہ‘ کا جرات مندانہ اقدام ہے جس کے ذریعے سے میرے جیسے بہت سے قارئین کو غامدی صاحب کے نظریات وافکار سے آگاہی حاصل ہوئی۔

البتہ بعض اوقات ’الشریعہ‘ میں ایسے مضامین بھی شائع ہو جاتے ہیں جو ’’وحدت امت کے داعی‘‘ کے بجائے مزید فکری انتشار کا باعث بنتے ہیں اور بعض تو تضییع اوقات کا بھی سبب بنتے ہیں۔ ایسے مضامین اول تو شائع نہ کیے جائیں، اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو ادارے کی طرف سے ایک نوٹ لکھا جائے تاکہ عام قارئین کو اصل حقیقت حال معلوم ہو جائے اور ادارہ کی رائے بھی۔

اللہ تعالیٰ مزید ترقیات سے نوازے۔ آمین

محمد اصغر غفرلہ

جامعہ اسلامیہ امدادیہ۔ فیصل آباد


مکاتیب