اکتوبر ۲۰۰۶ء

حدود آرڈیننس اور تحفظ حقوق نسواں بل

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حدود شرعیہ کا نفاذ ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور مسلم معاشرہ میں جرائم کا تعین اور روک تھام انھی حدود کے حوالے سے ہوتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے دینی حلقوں کا یہ مطالبہ چلا آ رہا تھا کہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں اسلامی قوانین واحکام کے نفاذ کے ساتھ ساتھ معاشرتی جرائم کی روک تھام کے لیے ان شرعی حدود کا نفاذ بھی عمل میں لایا جائے جو قرآن وسنت میں بعض سنگین جرائم کے لیے متعین صورت میں بیان کی گئی ہیں، مگر اس کی نوبت اس وقت آئی جب ۱۹۷۷ کی تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں عوام کی بے پناہ قربانیوں کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق...

پاکستان کے سیاسی بحرانوں میں نظریہ ضرورت کا استعمال

― پروفیسر محمد شریف چوہدری

طب کی اصطلاح میں ’’بحران‘‘ مرض کی شدت اور بیماری کے زور کو کہتے ہیں۔ (۱) گویا نازک حالت، تعطل اور "Crisis"کو بحران کہتے ہیں۔ بحران مختلف النوع ہوتے ہیں، جیسے انتظامی، عدالتی، معاشی اور سیاسی بحران وغیرہ۔ اگر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو، ادارے آئین کے مطابق کام نہ کر رہے ہوں، ملک میں ابتری، انتشار، بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت ہو، معاشرے میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوجائیں اور ملکی سا لمیت خطرے میں پڑ جائے تو ایسے بحران کو سیاسی بحران کہا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی ایسی مقتدر قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو پھر سے ملک کو آئین کے مطابق چلاسکے۔ آزادی...

غلامی کے مسئلہ پر ایک نظر

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ جولائی ۲۰۰۶ کے شمارے میں شائع شدہ روزنامہ جناح اسلام آباد کے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ کے مضمون میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان میں ایک سوال غلامی کے بارے میں بھی ہے جس میں انھوں نے انتہائی استہزا اور تمسخر کے انداز میں اسے موضوع بحث بنایا ہے، تاہم چونکہ یہ بھی ایک اہم سوال ہے جو جدید تعلیم یافتہ ذہنوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے، اس لیے ا س کے بارے میں کچھ ضروری گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ غلامی کا رواج قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ بعض انسانوں کو اس طور پر غلام بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مالکوں کی خدمت پر مامور ہوتے تھے،...

سی پی ایس انٹرنیشنل ۔ کسی نئے فتنے کی تمہید؟

― محمد عمار خان ناصر

مولانا وحید الدین خان کا شمار بلاشبہ اس وقت عالم اسلام کی چند بڑی شخصیات میں ہوتا ہے۔ مولانا محترم نے دین کے صحیح تصور، اس کے اجزا اور عناصر کے باہمی تعلق، دین کی حقیقی روح اور اس کے مطالبات کے صحیح رخ کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ امت میں پیدا ہونے والے فکری وعملی رویوں اور بالخصوص معاصر دنیا میں مسلمانوں کے فکری اور ذہنی مزاج کے تجزیے کی خدمت جس خوبی ، گہرائی او ربصیرت کے ساتھ انجام دی ہے، اس میں کسی کو ان کا ثانی قرار دینا مشکل ہے۔ ان کی فکری اور دعوتی جدوجہد لگ بھگ نصف صدی کے عرصے کو محیط ہے، اور اپنے موقف اور استدلال پر استقامت اور اس کے فروغ...

تحفظ حقوق نسواں بل ۲۰۰۶ء ۔ ایک تنقیدی جائزہ

― محمد مشتاق احمد

حدود قوانین میں ترامیم کے لئے حکومت کی جانب سے ’’تحفظ قانون نسواں بل ‘‘ کے نام سے جو بل قومی اسمبلی میں ۲۱ اگست ۲۰۰۶ ء کو پیش کیا گیااس کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے ممبران قومی اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ حکومتی ارکان نے ان کے اس اقدام کو قرآن و سنت اور آئین کی توہین قرار دیا ، جبکہ متحدہ مجلس عمل کے اراکین اس بل کو حدود اللہ میں تبدیلی قرار دے کر اپنے تئیں ایمانی غیرت کا مظاہرہ کررہے تھے ۔بات اصل میں وہی ہے جو اس کتابچے کے پیش لفظ میں کہی گئی ہے کہ فریقین معاملے کا غیر جذباتی انداز میں جائزہ نہیں لے رہے ۔ ہم کسی کی نیت...

مصارف زکوٰۃ میں ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی مد

― ڈاکٹر عبد الحئی ابڑو

ماہنامہ ’’حکمت قرآن‘‘ لاہور نے اپنی اشاعت خاص (جولائی ۲۰۰۶ء) میں ’’مصارف میں ’’فی سبیل اللہ ‘‘کی مد اور مسئلہ تملیک‘‘ حصہ دوم میں مصارف زکوٰۃ کے حوالے سے ایک استفتا کے جواب میں فتویٰ کے دو اہم مراکز کے جوابات شائع کیے ہیں جو حصہ اول میں دیے گئے مضامین کے بالکل برعکس ہیں۔ اس لیے گھوم پھر کر مسئلہ پھر وہیں آجاتاہے جہاں سے شروع ہوتاہے۔ اس سے یہ احساس خود بخود ابھرتاہے کہ ہمارے برصغیر کے مفتیان کرام اپنے تمام تر اخلاص اور دینی دررمندی کے باوجود دینی تقاضوں کو پیش نظر رکھنے اور ان کی اہمیت کا احساس کرکے اس کا حل ڈھونڈ نکالنے کے بجائے (بصد...

جہاد کے بارے میں پوپ بینی ڈکٹ کے ریمارکس

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کیتھولک مسیحیوں کے عالمی راہ نما پوپ بینی ڈکٹ شانزدہم نے ۱۲؍ ستمبر کو جرمنی کے دورہ کے موقع پر یونیورسٹی آف ریجنز برگ میں کم وبیش ڈیڑھ ہزار طلبہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار ے میں جو ریمارکس دیے، ان پر دنیاے اسلام میں ایک بار پھر احتجاج واضطراب کی لہر اٹھی ہے اور ان ریمارکس کو توہین آمیز قرار دے کر پاپاے روم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان گستاخانہ ریمارکس پر معافی مانگیں۔ پاپاے روم کے ا س خطاب کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ مغرب نے مختلف سائنسی اور سماجی علوم کو بنیاد بنا کر خدا کی راہ نمائی...

مکاتیب

― ادارہ

محترم جناب مدیر ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ’الشریعہ‘ ماشاء اللہ علمی بحث ومکالمہ کے لیے ایک بہترین فورم ہے جس میں اہل علم حضرات مختلف جدید وقدیم موضوعات پر بحث ومباحثہ میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گراں قدر علمی وفکری مقالات بھی پیش فرماتے ہیں۔ ان میں حضرت رئیس التحریر مدظلہ، پروفیسر میاں انعام الرحمن اور پروفیسر محمد اکرم ورک کی نگارشات قابل ذکر ہیں۔ لیکن بسا اوقات اس علمی فورم میں علمی وقار ومتانت سے بے خبر ایسے ’’اہل علم‘‘ شرکت کرتے نظر آتے ہیں جن کے انداز تحریر سے ایسا لگتا ہے کہ وہ مکالمہ اور مجادلہ...

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ رپورٹ

― ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت وتبلیغ، اسلام مخالف لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ ومشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری وعلمی تربیت وراہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے۔ سال رواں (شعبان المعظم ۱۴۲۶ھ تا رجب ۱۴۲۷ھ ۔ ستمبر ۲۰۰۵ء تا اگست ۲۰۰۶) میں اکادمی کی سرگرمیوں کی ایک مختصر رپورٹ حسب ذیل ہے: اکادمی کے زیر اہتمام دینی مراکز o ۱۹۹۹ سے جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں ہاشمی کالونی...