نطشے کا نظریہ تکرارِ ابدی اور اقبال

ڈاکٹر محمد آصف اعوان

جدید مغربی مفکرین میں نطشے ایک بہت بڑا نام ہے۔ اقبال نے اپنے کلام اور خطبات میں نطشے کے افکار وتصورات کا کئی جگہ ذکر کیاہے۔خاص طور پر نطشے کا نظریہ بقائے دوام یعنی تکرارِ ابدی Eternal Recurrence)) اقبال کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اقبال کے خیال میں اس نظریے کے ابتدائی خط وخال ہربرٹ اسپنسر (Spencer, Herbert 1820-1903) کے ہاں ملتے ہیں(۱)۔ ہر برٹ اسپنسر مادی نظریہ ارتقا کے بانیوں میں شامل ہے۔ یہی وہ مفکر ارتقا ہے جس کی فراہم کی ہوئی فکری بنیادوں پر چارلس ڈارون (1809-1882) نے اپنے نظریہ ارتقا کی بنیاد رکھی۔ ڈارون کا نظریہ ارتقا مادیت پسندجدید مغربی ذہن کا محبوب تصور ہے۔ اقبال جب نطشے کے تصورِ تکرار ابدی کو ہربرٹ اسپنسر کی ابتدائی فکر کی ترقی یافتہ صورت قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نطشے کا تصور مغربی مادی فکری روایت کی ہی ترقی یافتہ صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نطشے جدید مغربی ذہن کا حقیقی نمائندہ بن کر سامنے آتاہے۔ چنانچہ اقبال نطشے کے تصور بقائے دوام یعنی تکرار ابدی کا جائزہ لینا ضروری سمجھتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نطشے کا نظریہ تکرار ابدی کیاہے؟ نطشے کے نظریہ تکرار ابدی کے اہم ترین نکات کو مختصراً یوں بیان کیا جاسکتاہے:

۱۔ کائنات میں توانائی کی مقدار محدود ہے اور توانائی کے مراکز بھی محدود ہیں۔

۲۔ مکان کا تصور محض ذہنی اختراع ہے، چنانچہ کائنات کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی خلائے محض میں واقع ہے۔

۳۔ زمانے کا وجود خارجی اور حقیقی ہونے کے ساتھ ساتھ زمانی عمل لامتناہی بھی ہے، چنانچہ کائنات میں توانائی کی محدود مقدار کے ہوتے ہوئے لامحدود زمانی عمل کامطلب یہی ہے کہ کائنات میں ہمیشہ یا ابدی طورپر واقعات وحوادث کی تکرار ہوتی رہتی ہے اور ایک جیسے واقعات اپنے آپ کو دہراتے رہتے ہیں۔ گویا کائنات کے اندر ایک میکانکی عمل کارفرما ہے۔ نطشے کا نظریہ تکرار ابدی اسی میکانکی عمل کا فلسفیانہ اظہار ہے۔ فریڈرک کوپلسٹن (Frederick Copleston) نظریہ تکرار ابدی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتا ہے:

"The theory is presented as an empirical hypothesis, and not merely as a disciplinary thought or test of inner strength. Thus, we read that the principle of conservation of energy demands the eternal recurrence. If the world can be looked at as a determinate quantum of force of energy and as a determinate number of centres of force, it follows that the world process will take the form of successive combinations of there centres, the number of these combinations being in principle determinate, that it, finite. And in an infinite time every possible combination would have realized at some point. Further, it would be realized an infinite number of time." (2)

فریڈرک کو پلسٹن کی رائے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نطشے کی نظر موجودہ کائنات سے ماورا واقعا ت پر نہیں بلکہ اسی کائنات میں حوادث وواقعات کے میکانکی عمل پر مبنی تکرار ابدی پر ہے۔

خطبات میں اقبال کی نطشے کے نظریہ تکرار ابدی پر زیادہ تر تنقید ٹسناف (R.A. Tsanoff) کی کتاب (The Problem of Immortality) کے پانچویں باب’’تکرار ابدی کا نظریہ ‘‘( The Doctrine of Eternal Recurrence)کے حوالے سے ملتی ہے۔ علامہ اقبال کی نجی لائبریری میں اس کتاب کا ایک نسخہ موجود تھا۔ اس نسخہ کو دیکھنے سے پتہ چلتاہے کہ اقبال نے اس کتاب کے مذکورہ پانچویں باب کے آخر میں نطشے کے نظریہ تکرار ابدی کے متعلق چند تنقیدی اشارات ثبت کیے ہیں۔

۱۔ توانائی کا غلط تصور (Wrong view of energy)

۲۔ زمان کا غلط تصور ۔دوری یا مستقیم (Wrong view of time__circular or straight)

۳۔ لامتناہیت کا غلط تصور ۔لامتناہیت کو دوری ہونا چاہیے۔(Wrong view of infinity__ Infinite process must be periodic)

۴۔ نطشے کا تضاد۔ آرزوئے دوام اور تکرار دوام کا تضاد (Nietzsche inconsistent__ Eternal aspiration and Eternal Recurrence inconsistent)

۵۔ بدترین قسم کا تقدیر پرستی (Involves Fatalism of the wrost type) (۳)

اقبال کے ان تنقیدی اشارات کی وضاحت ان کے خطبات اور خصوصاً چوتھے خطبے میں ملتی ہے۔

سائنسی اصطلاح میں توانائی سے مراد قوتِ کار ہے۔ فلسفیانہ زبان میں اقبال کے نزدیک توانائی خدا کی تخلیقی فعالیت کا نام ہے۔ چونکہ خدا کی تخلیقی فعالیت مسلسل اور لامتناہی ہے، اس لیے کائنات میں توانائی کی مقدار کو متناہی اور محدود قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اقبال کے نزدیک سینہ کائنات سے صداے دما دم کن فیکون بلند ہورہی ہے اور ہر لحظہ حوادث وواقعات جدت وندرت کے نئے پیراہن کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ نطشے مقام کبریا سے آشنا نہ تھا، اس لیے وہ زمانے کے ظاہری اور خارجی لامتناہی تسلسل میں تکرار ابدی کے نظریہ کو ہی پیش کرسکتاتھا کیونکہ بقول فریڈرک کو پلسٹن:

"According to Nietzsche, if we say that the universe never repeats itself but is constantly creating new forms, this statement betrays a hankering after the idea of God. For the universe itself is assimilated to the concept of a creative deity. And this assimilation is excluded by the theory of the eternal recurrence." (4)

اقبال کہتے ہیں کہ نطشے کی نگاہ، کائنات میں زمان کے خارجی پہلوتک ہی محدود رہی اور زمان کی اس باطنی حالت تک رسائی حاصل نہ کرسکی جس میں زمان کی ساخت دوری ( Periodic) نہیں بلکہ ایک ایسے خطہ کی سی ہے جو مسلسل کھینچا جارہاہے۔چنانچہ ایک ایسی کائنات جس میں مقدار توانائی محدود اور زمانی حوادث وواقعات کا تسلسل لامحدود ہو، تکرار حوادث ناگزیرعمل بن جاتاہے کیونکہ محدود توانائی آخر کب تک جدت وندرت کو قائم رکھتے ہوئے تخلیقی عمل کو نباہ سکتی ہے۔ اقبال رقمطراز ہیں :

"In his view of time, however, Nietzsche parts company with Kant and Schopenhaver. Time is not a subjective form, it is a real and infinite process which can only be conceived as 'peridic'. Thus, it is clear that there can be no dissipation of energy in an infinite empty space. The centres of this energy are limited in number and their combination perfectly calculated. There is no beginning or end of his ever active energy, no equilibrium, no first or last change. Since time is infinite, there fore, all possible combinations of energy centres have already been exhausted. There is no new happening in the universe; whatever happens now has happened before an infinite number of times and will continue to happen an infinite number of times in the future." (5)

نطشے کے نظریہ تکرار ابدی پراقبال کی تنقید کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نطشے کے ہاں ایک تسلسل کے مسلسل آگے بڑھنے اور نئے سے نئے مراحل میں قدم رکھنے کے تصور کے بجائے ایک جیسے واقعات کے تکرار کا تصور کار فرما ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جیسے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد بعینہ اسی قسم کے دوسرے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں اور مابعد پھر اسی قسم کے واقعات اپنے آپ کو دہراتے ہیں۔ یہی حال شخصیات کا ہے۔ ایک شخصیت اپنا عرصہ حیات ختم کرکے ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتی ہے، پھر اسی قسم کی دوسری شخصیت جنم لیتی ہے اور یوں تکرار کا یہ عمل کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی سطح پر چلتارہتاہے۔اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ:

"Eternal Recurrence is not eternal creation, it is eternal repetition."(6)

اقبال کے ہاں بقائے دوام کے تصور کا مطلب ایک جیسے واقعات کا تکرار نہیں بلکہ شخصی حیات اور تاریخی تسلسل کا نئے سے نئے مراحل اور ایک سطح سے دوسری بلند ترسطح میں قدم رکھناہے۔ خودی کا سفر ہمیشہ بلندیوں کی طرف جاری رہتا ہے۔ موت خودی کے ارتقائی مراحل میں محض ایک مرحلہ ہے۔ موت کے بعد بھی خودی نہ صرف اپنا تشخص برقرار رکھے گی بلکہ اس کا ارتقائی سفر بھی جاری رہے گا۔ یوں اقبال تاریخ کے ارتقائے دوام اور شخصی بقائے دوام کا ایسا تصور پیش کرتاہے جس کا تسلسل موت کے ظاہر ی حادثے سے بھی نہیں ٹوٹتا۔

یا جہانے تازۂ یا امتحانے تازۂ 
می کنی تاچند با ما آنچہ کردی پیش ازیں
بجانم رزم مرگ وزندگانی است
نگاہم بر حیاتِ جاودانی است 
ضمیر زندگانی جاودانی است
بچشمِ ظاہری بینی، زمانی است
بپایاں نارسیدن زندگانی است 
سفر مارا حیاتِ جاودانی است
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی 
ہے یہ شام زندگی، صبح دوامِ زندگی
موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے
خوگر پرواز کو پرواز میں ڈرکچھ نہیں
موت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیں
جوہرِ انساں عدم سے آشنا ہوتانہیں
آنکھ سے غائب تو ہوتاہے فنا ہوتانہیں 

اقبال کے تصور ارتقاکی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کے مادی اور سطحی اندازِ نظر کو مابعد الطبیعیاتی نقطہ نظر میں بدل کر اس کے دل سے موت کا خوف زائل کر دیتاہے اور اس کی روح کو حیات جاوید کی تڑپ سے یوں آشنا کردیتاہے کہ اس کے بدن کی مشت خاک مانع پرواز نہیں بنتی۔ اقبال خطبات میں رقمطراز ہیں:

"Philosophically speaking, therefore, we can not go further than this that in view of the past history of man, it is highly improbable that his career should come to an end with the dissolution of his body." (7)

چونکہ نطشے کی نظر صرف مادی دنیا تک محدود ہے، اس لیے حیات بعد الموت کے حوالے سے مابعد الطبیعیاتی تصور کی اس کے ہاں گنجائش نہیں۔اس کی نظر صرف حیات ارضی پر ہے۔ کولیئرز انسائیکلوپیڈیا(Collier's Encyclopedia)میں درج ہے :

"In fact, Nietzsche urges man to remain faithful to the earth, not to entertain other worldly hopes which constitute a slander of this earth." (8)

پروفیسر سید وحید الدین اپنی کتاب ’’اقبال اورمغربی فکر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’نٹشے کی ارضیت کسی قسم کی مصالحت کو قبول نہیں کرتی۔ وہ تو غیب کا سرے سے انکار کرتی ہے۔‘‘ (۹)

یہی وجہ ہے کہ اقبال اور نطشے کاتصورِ بقائے دوام ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ اقبال روحانی ارتقا (Spiritual Evolution) پر یقین رکھتاہے جب کہ نطشے ایسے حیاتیاتی ارتقا (Biological Evolution)کی بات کرتاہے جسے انسان کے معنوی فروغ او رشخصی بقا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ فریڈرک کو پلسٹن ،نطشے کے نظریہ تکرار ابدی کے متعلق لکھتاہے:

"The theory also excludes, of course, the idea of personal immortality in a beyond." (10)

اقبال ،ڈاکٹر نکلسن کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’نٹشے بقائے شخصی کا منکر ہے۔ جو لوگ حصول بقاکے آرزو مند ہیں، وہ ان سے کہتاہے ،کیا تم ہمیشہ کے لیے زمانے کی پشت کا بوجھ بنے رہنا چاہتے ہو۔ اس کے قلم سے یہ الفاظ اس لیے نکلے کہ زمانے کے متعلق اس کا تصور غلط تھا ۔‘‘ (۱۱)

نٹشے کا المیہ یہ ہے کہ اس کی نظر اس دنیا کے پیچ وخم میں الجھ کر رہ گئی اور مابعد الطبیعیاتی حقائق تک رسائی حاصل نہ کر سکی۔ اس کی نگاہ میں یہ دنیا سمندر حیات کے لیے آخری کنارہ ہے، چنانچہ اس کے نزدیک بقائے دوام کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ کائنات میں واقعات وحوادث کا ایک دوری (Periodic)تسلسل کار فرما ہے اور فوق البشر (Superman) بھی اس تکرار مسلسل کی زد میں ہے۔ وہ مٹتا، پیدا ہوتا، پھر جنم لیتا، فنا ہوتا اور بار بار ایک ہی رنگ وروپ میں جلوہ نما ہوتادکھائی دیتاہے ۔

اقبال کے نزدیک یہ ارتقا اور بقائے دوام کا درست تصور نہیں، کیونکہ اگر خودی اپنے بے مثل نقش (یعنی اپنے تشخص) کو قائم رکھ کر آگے نہ بڑھ سکے تو ایک ابدی چکر میں اس کے باربار ظہور سے کیافائدہ؟

ہو نقش اگر باطل ،تکرار سے کیاحاصل 
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی

ایک ایسا فوق البشر جس کا ظہور باربار ہوچکاہو اور جس کی آئندہ بھی باربار پیدائش یقینی ہو،اس کی خودی یقیناًاس لذت یکتائی سے محروم رہتی ہے جو علامہ اقبال کے نزدیک مرکزی نکتہ ہے آرزوئے بقائے دوام کا۔ (۱۲)

اقبال خطبات میں لکھتے ہیں:

"Such is Nietzsche's eternal recurrence. It is only a more rigid kind of mechanism." (13)

مختصر یہ کہ اقبال کے نزدیک بقائے دوام ایسے ابدی چکر کا نام نہیں جو گردش مدام کے ناقابل برداشت اور سوزِ آرزو سے بیگانہ میکانکی عمل کو ظاہر کرے بلکہ بقائے دوام سے مراد خودی کی وہ ارتقائی لگن ہے جس کے باعث وہ اپنی ہستی کی وحدت، انفرادیت اور یکتائی کی صفات اور خوبیوں سمیت ہر لحظہ مستقبل کے لامحدود امکانات کی طرف اپنی اندرونی بہجت عمل کی بدولت قدم آگے بڑھاتی اور حیات کے بلند تر مدارج طے کرتی ہوئی نعرہ مستانہ کی زندہ تصویر بنی نظر آتی ہے:

ایں یک دو آنے، آںیک دوآنے
من جاو دانے، من جاو دانے 


حوالہ جات

1- Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", Sh. Muhammad Ashraf, Lahore: 1962, p:113
2- Copleston, S.T. Frederick, "A History of Philosophy" (vol:11) Image Book, Doubleday, New York: April 1985, p. 415.

3۔ مظفر حسین، مضمون ’’اقبال کا تصور بقائے دوام‘‘مشمولہ ’’متعلقات خطبات اقبال‘‘ :سید عبداللہ ،اقبال اکادمی پاکستان، لاہور:۱۹۷۷ ص۲۱۷۔

4- Copleston, S.T. Frederick, "A History of Philosophy", p:416
5- Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", p:114,115.
6- As Alione, p:142
7- As Alione, p:122,123.
8- Bernard Johnston (Ed),"Collier's Encyclopedia", Macmillan Educational Company, New York: 1991, p:532.

9۔وحید الدین ،پروفیسر سید:’’اقبال اور مغربی مفکرین‘‘ اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی ،سرینگر :سن ندارد،ص:۳۳۔

10- Copleston, S.T. Frederick, "A History of Philosophy" vol:11, p:416

11۔محمد اقبال ’’اقبال نامہ (حصہ اول) ‘‘مرتبہ:شیخ عطاء اللہ، شیخ محمد اشرف ،لاہور:سن ندارد ،ص:۳۶۵۔

12۔مظفر حسین ،مضمون ’’اقبال کا تصور بقائے دوام‘‘مشمولہ’’متعلقات خطبات اقبال‘‘ مرتبہ :سید عبداللہ ،ص:۲۰۳۔

13- Muhammad Iqbal, "The Reconstruction of Religious Thought in Islam", p:115.


شخصیات

نومبر ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۱۱

اقبالؒ کا تصور اجتہاد: چند ضروری گزارشات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

علامہ اقبال کے تصورات تاریخ
پروفیسر شیخ عبد الرشید

نطشے کا نظریہ تکرارِ ابدی اور اقبال
ڈاکٹر محمد آصف اعوان

اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اقبال کا خطبہ اجتہاد: ایک تنقیدی جائزہ
الطاف احمد اعظمی

مکاتیب
ادارہ