علامہ اقبال کے تصورات تاریخ

پروفیسر شیخ عبد الرشید

عصر حاضر کے عالم اسلام میں حکیم الامت علامہ اقبال اپنی بصیرت حکیمانہ، تبحر علمی، وسعتِ فکر، لطافت خیال اور فلسفیانہ ژرف نگاہی کی بنا پر ایک منفرد مقام اور مسند امتیاز وافتخار کے حامل ہیں۔ ملت اسلامی کی فکری وادبی تاریخ میں کوئی ایسا شاعر اور مفکر دکھائی نہیں دیتا جس کی فکر اقبال کی طرح جامع اور ہمہ گیر ہو۔ اپنے ہمہ جہت افکار کی وجہ سے ان کے بارے میں اتنا کچھ کہا اور لکھا گیاہے کہ وہ ایک پورے کتب خانے کا سرمایہ ہوسکتاہے۔ ان کا فلسفہ اور شاعری لاتعدار ارباب قلم کا موضوع نگارش بنا، لیکن تاحال ان کے تصور تاریخ پر کوئی جامع کام سامنے نہیں آیا۔ علامہ اقبال کا کلام انسانی تاریخ کا آئینہ دار ہے اور ان کی تالیفات بڑی حد تک انسان کے فکر وعمل کا درست تجزیہ ہیں۔ ’’فکر انسانی کی تشکیل نو‘‘ میں پروفیسر محمد عثمان رقمطراز ہیں کہ:

’’علامہ اقبال کی زندگی کے آخری سالوں میں جہاں علمی دنیا پر پروفیسر وائٹ ہیڈ اور آئن سٹائن کی تحریروں کے باعث زمان ومکان کی حقیقت وماہیت میں غیر معمولی دلچسپی لے رہی تھی وہاں کارل مارکس اور بعض نامور پورپی تاریخ دانوں کی بدولت نظریہ تاریخ کا موضوع بھی خاص اہمیت کرگیا تھا ۔۔۔چنانچہ علامہ کے تاریخ کے اسلامی تصور پر بھی گراں قدر خیالات کا اظہار کیا‘‘(۱)

اس مضمون میں ہم علامہ اقبال کے تصور تاریخ کو اختصار سے بیان کرنے کی ناچیز سعی کریں گے۔

سادہ الفاظ میں انسانی معاشرے میں پیش آنے والے واقعات اور حوادث ،اور انسان کے اعمال وافعال کے سلسلے کو انسانی تاریخ کہتے ہیں اور جب ہم لفظ تاریخ مجر د استعمال کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد انسانی تاریخ ہوتی ہے۔ تاریخ کا لغوی معنی تحریرکرنا، قلم بند کرنا، رجسٹر میں اندراج کرنا وغیرہ ہے، او ر اصطلاحی معنوں میں یہ عہد گزشتہ کی داستان ہے جس کا تعلق انسان سے ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی زیادہ تخصیص سے کہتاہے What we call histroy is the histroy of man in civilized society.(2) یعنی تاریخ کا نقطہ آغاز وہ دور ہے جب انسان نے ایک مہذب معاشرے کے فرد کی حیثیت اختیار کی۔ تاریخ منبع علوم ہے۔ عمرانی علوم کی ایسی کوئی شاخ نہیں جس کا سلسلہ نسب تاریخ سے نہ ملتاہو۔ یہ تاریخ ہی ہے جس نے انسانوں کے اجتماعی تجربات کو اپنے سینے میں محفوظ رکھا۔

ممتاز دانشور ومورخ البدر حسین الاہدل علم تاریخ کے حوالے سے کہتاہے کہ 

’’یہ بڑا مفید علم ہے۔ اس کے ذریعے سے خلف کو سلف کے حالات معلوم ہوتے ہیں اور راست باز لوگ ظالموں سے ممتاز ہوجاتے ہیں،مطالعہ کرنے والے کو یہ فائدہ ہوتاہے کہ وہ عبرت حاصل کرتاہے اور گزشتہ لوگوں کی عقل ودانش کی قدر پہچانتاہے اور بہت سے دلائل کا پتہ لگالیتاہے۔ اگر یہ علم نہ ہوتاتو تمام حالات، مختلف حکومتیں، حسب ونسب اور سبھی علل واسباب نامعلوم رہتے اور جاہلوں اور عقل مندوں کے مابین تمیز ہی باقی نہ رہتی۔‘‘ (۳) 

یہی نہیں کہ مطالعہ تاریخ اسلاف کے بارے میں معلومات فراہم کرتاہے بلکہ انسان کا مرقوم ماضی تحقیق ودانش کے لیے ایک چیلنج ہوتاہے۔ سیسرو نے کہا تھا کہ تاریخ زمانہ کی مشاہد، صداقت کی روشنی اور زندگی کی ملکہ ہے لہٰذا اس کا مطالعہ غوروفکر کا متقاضی ہے۔ جرمن مفکر ہیگل کا کہنا ہے کہ ’’فلسفہ تاریخ یہی ہے کہ تاریخ کا مطالعہ غوروفکر کے ساتھ کیا جائے۔‘‘ (۴) فلسفہ تاریخ کا بانی ابن خلدون بھی یہی بات زور دے کر کہتاہے۔

علم تاریخ کی اس اہمیت وافادیت کے پیش نظر قرآن مجید نے اس پر خاص زور دیاہے اور بار بار ہمیں دعوت دی ہے کہ ہم اپنے سے پہلی قوموں کے حالات اور ان کے عروج وزوال کے اسباب پر غور کریں اور ان سے سبق وعبرت حاصل کریں، کیونکہ ہمارا حال ہمار ے ماضی کا مجموعہ برائے عمل ہے اورہمارا ماضی سمجھنے کے لیے پھیلا ہواہے۔ اسی حوالے سے ابن خلدون لکھتاہے کہ ’فالماضی اشبہ بالاتی من الماء بالماء‘ (۵) یعنی عہد گزشتہ، عہد آئندہ سے اس قدر مشابہ ہے کہ پانی بھی اس قدر پانی سے مشابہ نہیں ہوتا ‘‘۔

قرآن مجید میں تاریخ کو ’عبرۃ لاولی الالباب‘ اور ’موعظۃ للمتقین‘ کے گراں پایہ اور موزون ترین خطابات سے سرفراز کیاگیاہے۔ ایک آفاقی الہامی کتاب ہونے کے ناتے قرآن مجید کا ایک اپنا نظریہ تاریخ ہے۔ قرآن کریم کا تصور تاریخ ہی تھا جس کے زیر اثر ابن اسحاق، طبری اورمسعودی جیسے شہرۂ آفاق مورخ پیداہوئے اور جس کی بدولت مسلمانوں نے اپنے آخری دور میں ابن خلدون جیسے فلسفی مورخ کو جنم دیا۔ علامہ اقبال کو بھی قرآن حکیم سے گہرا شغف تھا۔ ان کی فکر کا منبع ومرکز بھی قرآن حکیم ہی ہے۔ اس کتاب مقدس نے اپنے پیروکاروں کے خیالات وافکار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جیسا کہ فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں:

’’ڈاکٹر صاحب (علامہ اقبال) اپنی میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں قیام فرماتھے۔ اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب کی قیام گاہ پر ایک نئے ملاقائی آئے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ اتنے میں انہو ں نے ڈاکٹر صاحب سے ایک سوال کردیا۔ کہنے لگے: آپ نے مذہب، اقتصادیات، سیاسیات، تاریخ اور فلسفہ وغیرہ علوم پر جو کتابیں اب تک پڑھی ہیں، ان میں سب سے بلند پایہ اور حکیمانہ کتاب آپ کی نظر میں کون سی گزری ہے؟ ڈاکٹر صاحب اس سوال کے جواب میں کرسی میں سے اٹھے اور نووارد ملاقاتی کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا کہ تم ٹھہرو، میں ابھی آتاہوں۔ یہ کہہ کر وہ اندر چلے گئے۔ دو تین منٹ بعد واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ اس کتاب کو انہوں نے اس شخص کے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے فرمایا ’’ قرآن مجید‘‘۔ (۶) 

یہ بات بلا تامل لکھی جاسکتی ہے کہ فکر اقبال کا سب سے بڑا ماخذ قرآن حکیم ہی ہے۔ قرآن پاک سے بڑا صحیفہ دانش وفکر اور رہنمائے صراط مستقیم اور کوئی نہیں۔ اس کتا ب الٰہی کا ورق ورق الٹیے تو یہ ماضی کی گم کردہ راہ قوموں، جابر وقاہر بادشاہوں، فرعونوں، ہامانوں، عاد وثمود، آل شعیب، اہل مدین، قوم لوط، بنی اسرائیل اور ان کی گمراہیوں کے قصے بار بار دہراتی ہے اور اس لیے دہراتی ہے کہ محمد ﷺ کو ہادی ورہبر ماننے والی قوم گزشتہ قوموں کی غلطیوں سے عبرت پکڑے اور سیدھی راہ پر چلنے کا سلیقہ سیکھے۔ مسلم مفکرین قرآنی تصور تاریخ سے بہت متاثر ہوئے۔ علامہ اقبال ان مسلم مفکرین میں سے ہیں جو فلسفہ تاریخ کے بانی علامہ ابن خلدون کے تاریخی شعور کے حوالے سے اپنے خطبات میں یہ کہہ گئے کہ ’’بہ نگاہ حقیقت دیکھا جائے تو ابن خلدون کا مقدمہ سرتاسر اس روح سے معمور ہے جو قرآن کی بدولت اس میں پیدا ہوئی۔ وہ اقوام وامم کے عادات وخصائل پر حکم لگاتاہے تو اس میں بھی زیادہ تر قرآن کریم سے ہی استفادہ کرتاہے‘‘۔ اقبال کی اپنی فکر خود قرآن مجید ہی سے متاثر تھی، چنانچہ انہوں نے قومی زندگی کے لیے تاریخ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی صحت مند تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تعمیر کرنے والے اپنی تاریخ، اپنے ماضی سے پوری طرح باخبر نہ ہوں اور اس کی صحت مند روایات کو تعمیر نو کے ڈھانچے میں اچھی طرح محفوظ نہ کرلیں۔

اقبال کے تصور تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے یہ خیال رہے کہ وہ کوئی پروفیشنل مورخ یا فلسفئ تاریخ نہ تھے۔ بنگالی دانشور ڈی ایم اظرف اپنے ایک مضمون "Iqbal and the process of history" کی ابتدا میں لکھتے ہیں:

Iqbal is not a philosopher of history in the technical sense of the term. For he has not attempted an explanation of the process of history as had been done by Ibne khuldun, Kant, Herder, Hegel, Comte, Karl Marks and Spengler. Yet his writings in prose and poetry make it abundantly clear that he has a single principle which is the key to unlock the door of the mystery of historical process."(7)

بلا شبہ اقبال تکنیکی معنی میں فلاسفر آف ہسٹری نہیں تھے مگر ان کی تاریخ فہمی سے انکار ممکن نہیں۔ تصور تاریخ کے حوالے سے ان کا کوئی کام جامع صورت میں موجود نہیں، مگر اقبال کی نثرو نظم میں جابجا اس تصور کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ وہ کچھ عرصہ تاریخ پڑھاتے بھی رہے۔ ایم اے کرنے کے بعد علامہ اقبال بی او ایل کے سال اول اور سال دوم کی جماعتوں کو J .R. Seeleyکی کتاب Expantion of England  پڑھانے کے علاوہ ہندوستان اور انگلستان کی تاریخ کے متعلق نوٹس لکھواتے تھے اور انھوں نے Stults W.کی کتاب کا اردو ترجمہ کیا اور اس کا خلاصہ بھی لکھا۔ (۸) علامہ اقبال نہ صرف معلم تاریخ رہے بلکہ ممتحن تاریخ بھی رہے۔ خود لکھتے ہیں کہ ’’ایف اے کے امتحان کے پرچے مضمون تاریخ یونان وروم کے دیکھ رہاہوں۔ سامنے بنڈل رکھا ہواہے ‘‘(۹) علم تاریخ سے علامہ اقبال کی دلچسپی تاریخ کا معلم اور ممتحن ہونے کے علاوہ مورخ کی حیثیت سے بھی ظاہر ہوئی۔ فقیر وحید الدین لکھتے ہیں کہ علامہ نے اردو زبان میں تاریخ ہند لکھی تھی جو ۱۴؍۱۹۱۳ء میں مڈل کی جماعتوں کو پڑھائی جاتی تھی۔ اس کتاب کا خلاصہ امرتسر کے ایک پبلشرنے ۱۹۱۴ء میں شائع کیا تھا۔ رسمی صورت میں تاریخ پڑھانے سے ۱۹۰۵ء میں قطع تعلق ہوا، جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے، لیکن غیر رسمی صورت میں وہ تمام عمر تاریخ کے فلسفے، کسی قوم یا ملک کی تاریخ کے مختلف ادوار اور پہلوؤں سے متعلق اظہار خیال کرتے رہے۔ ماحول اور محرکات مختلف ہونے کی وجہ سے اظہار خیال کی صورتوں میں تبدیلی رونما ہوتی رہی اور اقبال اپنے کلام اور کام میں تاریخ کے معلم، مورخ اور فلسفی ہونے کی جھلکیاں دکھاتے رہے۔ فلسفہ تاریخ اور اس کے فنی تقاضوں کے حوالے سے علامہ کی وہ تحریر یں خاص طورپر قابل ذکر ہیں جو ان کی ذاتی ڈائری میں ملتی ہیں۔ علامہ نے اپنی ذاتی ڈائری ۱۹۱۰ء میں لکھی تھی او ر ’’شذرات فکر اقبال‘‘ کے نام سے اردو میں بھی چھپ چکی ہے ۔

علامہ نے اپنی ڈائری میں تاریخ کی تعریف ان خوبصورت الفاظ میں کی ہے کہ ’’تاریخ ایک طرح کا ضخیم گرامو فون ہے جس میں قوموں کی صدائیں محفوظ ہیں۔‘‘ (۱۰) اقبال کا خیال ہے کہ ماضی کے واقعات وحوادث کو محض تاریخ واردیکھنے یا ترتیب وار لکھنے کا نام تاریخ نہیں ہے بلکہ واقعات وحوادث کے اسباب وعلل کو سمجھنے اور ان کے ربط باہمی کو جاننے اور ان کی روشنی میں قوموں کے عروج وزوال کے اصول اخذ کرنے کا مفہوم بھی شامل ہے، اسی لیے وہ لکھتے ہیں: 

’’تاریخ محض انسانی محرکات کی توجیہ وتفسیر ہے، لیکن جب ہم اپنے معاصرین بلکہ روز مرہ زندگی میں گہرے دوستوں اور رفیقوں کے محرکات کی بھی غلط توجیہیں کر بیٹھتے ہیں تو جو لو گ ہم سے صدیوں پہلے گزرے ہیں، ان کے محرکات کی صحیح تعبیر وتوجیہ اس سے کہیں زیادہ دشوار ہے، لہٰذا تاریخ کی روداد کو بڑے احتیاط سے تسلیم کرنا چاہیے۔‘‘ (۱۱)

انفرادی نقطہ نظر سے تاریخ کی اہمیت زیادہ ترعلمی ونظری ہے، لیکن قومی زاویے سے تاریخ بقاکی ضامن اور استحکام وتسلسل کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ کے چوتھے لیکچر ’’اسلامی ثقافت کی روح‘‘ میں اقبال نے تاریخ کی اہمیت عیاں کرنے کے لیے اس حقیقت کا بڑے موثر انداز میں اظہار کیاہے کہ قرآن کریم نے جو علم کے تین ذرائع بتائے ہیں، ان میں سے ایک تاریخ ہے۔ قرآن مجید جب باربار یہ فرماتاہے کہ ’سیرو فی الارض ثم انظرو کیف کان عاقبۃ المکذبین‘ تو اس بات کا اعلان کررہا ہوتاہے کہ گزرے ہوئے واقعات اور بیتی ہوئی سرگزشتیں علم وبصیرت کا منبع ہیں۔ علامہ کے خیال میں تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں دیکھنے سے انسان اپنے آپ کو جانتا پہچانتاہے اور اس کے ربط سے اعلیٰ مقاصد ونصب العین حاصل کرتاہے اور ان تک پہنچنے کا راستہ پاسکتاہے۔ مورخ ابو بکر شبلی (متوفیٰ ۹۴۶ھ) کا قول تھا کہ ’’عام لوگ کہانی سن کر اپنا دل بہلاتے ہیں، اس کے برعکس خواص ان کہانیوں سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔‘‘ (۱۲) اسی پس منظر میں اقبال نے اپنے خطبات میں تاریخ کے اسلامی تصور پر گراں قدر خیالات کا اظہار کیا ہے۔قرآن حکیم نے تاریخ کو ’’ایام اللہ‘‘ سے تعبیر کیاہے۔ اس کی بنیادی تعلیم یہی ہے کہ اقوام کا محاسبہ انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے کیاجاتاہے۔ مزیدیہ کہ انہیں بداعمالیوں کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اور اس کے لیے قرآن بار بار تاریخ کا حوالہ دیتاہے۔ اقبال کہتے ہیں :

’’عالم اسلام میں تاریخ کی پرورش جس طرح ہوئی، وہ بجائے خود ایک بڑا دلچسپ موضوع ہے۔ یہ قرآن کا بار بار حقائق پر زور دینا اور اس کے ساتھ ساتھ پھر اس امر کی ضرورت کہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات صحت کے ساتھ متعین ہوں، علیٰ ہذا مسلمانوں کی آرزو کہ اس طرح ان کی آئندہ نسلوں کو اکتساب فیض کے دوامی سرچشمے مل جائیں، یہ عوامل تھے جن کے زیر اثر ابن اسحاق، طبری، مسعودی ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں‘‘(۱۳) 

یعنی نہ صرف یہ کہ قرآن تاریخی واقعات بیان کرتاہے بلکہ وہ ہمیں تاریخی انتقاد کے بنیادی اصول بھی عطا کرتاہے جن پر عمل پیرا ہوکر مسلمانوں نے نہ صرف تاریخ نویسی میں عظیم سرمایہ جمع کیا بلکہ اس سے کا م لے کر جمع حدیث اور اسماء الرجال کے وہ علوم پیدا کیے جو صدیوں سے ان کے لیے ہدایت اور فیضان کا سرچشمہ ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے ’’اے مسلمانو! جب کوئی جھوٹا شخص تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو تم اس کی خوب چھان بین کر لیا کرو‘‘۔ (۴۹:۶)

اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے علامہ اقبال کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ فہمی کے غیر جانبدار مطالعے سے دو تصورات نمایاں نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ تمام زندگی کا مبدا ومنبع ایک ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے: ’’ اور ہم نے تمھیں نفس واحد سے پیدا کیا ‘‘۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام سے قبل عیسائیت نے دنیا کو پیغام مساوات دیاتھا، لیکن اہل کلیسا وحدت انسانی کے تصور کو پوری طرح محسوس نہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ مساوات ان کے ہاں مجرد فکر کی شکل میں رہی۔ اس اصول کو اگر کسی ثقافت نے عملاً سچ کردکھایا تو وہ مسلمان ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس امر کا نہایت گہرا احساس کہ زمانہ ایک حقیقت ہے لہٰذا زندگی مسلسل اور مستقل حرکت سے عبارت ہے، زمانے کا یہی تصور ابن خلدون کے نظریہ تاریخ میں خصوصی دلچسپی کا سبب ہے۔ ابن خلدون کے نظریہ تاریخ میں مندرجہ بالااسلامی نظریات تاریخ پوری طرح جلوہ گرہیں۔ وہ بھی قرآنی تصور کے زیر اثر اقوام عالم کی اجتماعی زندگی کاجائزہ لیتے ہوئے واقعات نقل کرنے والوں کے شخصی خصائل وعادات کو نظر انداز نہیں کرتا۔ وہ بھی ملتوں کی حیات وممات کا قائل ہے۔ قرآن کی طرح ابن خلدون بھی کائنات کو متحرک، متغیر اور ارتقا پذیر سمجھتاہے۔ وہ افلاطون اور زینو کی طرح وقت کو بے حقیقت قرار نہیں دیتا اور نہ ہی وہ بعض یونانی فلاسفروں کی طرح یہ مانتاہے کہ وقت ایک ہی دائرے میں حرکت کرتارہتاہے۔ اس حوالے سے اقبال کہتے ہیں کہ یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہمیں ابن خلدون کی فکری اپج سے انکار ہے۔ اسلامی تہذیب وتمدن نے اپنے اظہار کے لیے جو راستہ اختیار کیا، اس پر نظر رکھیے تو یہ کسی مسلمان ہی کا کام ہوسکتاتھا کہ تاریخ کا تصور بطور ایک مسلسل اور مجموعی حرکت کے کرتا۔ گویا ہمیں ابن خلدون کے نظریہ تاریخ سے دلچسپی ہے تو اس کی وجہ بھی ابن خلدون کا وہ تصور ہے جو اس نے تغیر کے باب میں قائم کیاہے اور یہ تصور بڑا اہم ہے کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تاریخ چونکہ، زمانے کے اندر، ایک مسلسل حرکت ہے، لہٰذا یہ ماننا ضروری ہے کہ اس کی نوعیت فی الواقع تخلیقی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ وہ حرکت نہیں جس کا راستہ پہلے سے متعین ہو۔ اب اگر چہ ابن خلدون کو مابعد الطبیعیات سے چنداں دلچسپی نہ تھی بلکہ ایک طرح سے وہ اس کا مخالف تھا، بایں ہمہ اس نے زمانے کا تصور جس رنگ میں پیش کیا، اس کے پیش نظر ہم اس کا شمار برگساں کے پیشروؤں میں کریں گے۔ (۱۴) عزیز احمد رقمطراز ہیں:

’’تاریخ میں حرکت واقعتا آگے بڑھنے کی حرکت ہے۔ اقبال، نطشے کے نظریہ تواتر تاریخی کو باطل قراردیتے ہیں، اگرچہ وہ جرمن فلسفی کی فکر کے بعض عناصر سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ اقبال کے نزدیک تاریخ ترقی پذیر زندگی کے نمونے پر تیار ہوتی ہے اور زندگی میں تواتر کے عمل کے لیے نہ کوئی جگہ ہے او رنہ وہ کوئی معنی رکھتاہے۔‘‘ (۱۵) 

رموز بے خودی کے ایک باب میں اقبال نے اس کی بڑی وضاحت کی ہے اور اس کو ذہن نشین کرانے کے لیے ایک پرزور اورروشن تمثیل سے کام لیا ہے۔ فرماتے ہیں، جو مقام ایک فرد کی زندگی میں حافظے کا ہے، وہی قوم کی زندگی میں تاریخ کو حاصل ہے۔ اگر حافظے میں خلل واقع ہو جائے تو فرد اپنا دماغی توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ وہ پگلا اور دیوانہ کہلاتاہے۔ اسی طرح جو قوم اپنی تاریخ سے ناآشنا ہوتی ہے، جس نے ماضی سے اپنا رشتہ توڑ لیا، جو اپنی روایات سے بیگانہ ہوگئی، وہ بحیثیت قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی، اسے کبھی عظمت ورفعت نہیں حاصل ہوتی۔ عزیز احمد لکھتے ہیں کہ تاریخ بھی ایک قوم کی اجتماعی یادداشت ہوتی ہے جو اسے محفوظ وزندہ رکھتی ہے اور شناخت کرنے کی حس کا تسلسل برقرار رکھتی ہے۔ (۱۶) لیکن بقول برگساں ’’حافظہ محض ماضی بعید کی یادوں کو تازہ کرنے کا عمل نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حافظے سے مراد ماضی کا ہمارے ساتھ شامل ’’حال ‘‘ہونا اور ہمارے حال کو متاثر کرنا ہے۔ (۱۷) اقبال بھی یہی کہتے ہیں :

سرزند از ماضئِ تو حالِ تو
خیزد از حالِ تو استقبالِ تو 
مشکن از خواہی حیاتِ لازوال
رشتہءِ ماضی از استقبال وحال 

یعنی تیرا حال تیرے ماضی سے پھوٹتاہے اور حال سے استقبال سر نکالتاہے، اگر تو حیات لاوزال کا خواہاں ہے تو پھر اپنے ماضی کا رشتہ اپنے حال واستقبال سے قطع نہ کر۔ اس طرح تاریخ، اولاد آدم کا اجتماعی حافظہ بن جاتی ہے۔ یعقوبی نے نویں صدی عیسوی میں اپنی تاریخ کا منفرد نام رکھ کر تمام ہم عصروں پر سبقت لے لی۔ اس کی تاریخ کا نام تھا: ’’مشاقت الناس لزمانہم‘‘ یعنی انسان نے اپنے آپ کو زمانے کے سانچے میں کس طرح ڈھالا؟ تاریخ دراصل یہی بتاتی ہے کہ زمانہ کس طرح بدلتارہا۔ جو لوگ تقاضائے زمانہ کے مطابق اپنے آپ کو نہ بدل سکے، ان کوزمانے نے مٹادیا۔ علم تاریخ کی اس اہمیت کے پیش نظر امام شافعی ؒ نے کہاتھا کہ علم تاریخ ذہن انسانی کو جلا دیتاہے۔ (۱۸) ابن جوزی کے نزدیک تاریخ اور سوانح حیات دل ودماغ کے لیے مفرح اور روحانی غذا ہیں ۔ (۱۹) رموز بیخودی میں اقبال بتاتے ہیں کہ تاریخ کوئی فرضی داستان یا افسانہ نہیں ہے، یہ خود آگاہی اور کار کشائی کی ضمانت دیتی ہے۔ وہ یوں بیان کرتے ہیں:

چیست تاریخ اے از خود بیگانہ 
داستانے؟ قصہ؟ افسانہ؟
ایں ترا از خویشتن آگہ کند
آشنائے کارو مرد رہ شو 
ضبط کن تاریخ را پائندہ شو 
از نفسہائے رمیدہ زندہ شو 

یا پھر یوں فرماتے ہیں :

زندہ فرد از ارتباطِ جان وتن 
زندہ قوم از حفظِ ناموسِ کہن
مرگِ فرد از خشکئ رودِ حیات 
مرگِ قوم از ترکِ مقصودِ حیات 
قوم روشن از سوادِ سرگزشت
خود شناس آمد ز یادِ سرگزشت 
سرگزشتِ او گر از یارش دود 
باز اندر نیستی گم می شود

یعنی اقبال اپنے ذہن ووجدان کے ذریعے سے ماضی کو حاضر میں پیوست کردینا چاہتے تھے تاکہ زندگی کی وحدت میں قوت وتاثیر پیدا ہو اور اس کی جڑیں زیادہ گہری اور مضبوط ہوجائیں۔ اقبال اپنی کاوش کو کھوئے ہووؤں کی جستجو سے تعبیر کرتے ہیں، اس لیے کہ ہم ایک سے زیادہ زمانوں کی مخلوق ہیں، جن میں ماضی کی بیسیوں صدیاں سوئی ہوئی ہیں :

میں کہ میری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ 
میری تمام سرگزشت کھوئے ہووؤں کی جستجو

ڈاکٹر یوسف حسین کے خیال میں زندگی کے لق ود ق بیابان میں مسافر حیات جن منزلوں سے گزرچکاہے، ان کی یاد کبھی کبھی اس کے دل کو گدگداتی ہے او رغم منزل کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس طرح ماضی او ر مستقبل کا رشتہ ایک دوسرے سے جڑ جاتاہے :

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو 
کھٹک سی تھی جو سینے میں ،غم منزل نہ بن جائے

یوسف حسین کا کہناہے کہ ’’تاریخ عالم سب سے زیادہ محسوس شکل ہے جس میں زندگی کی حقیقت ہمارے شعور پر بے نقاب ہوتی ہے۔ یہ فطرت اور زمانے کا قطعی فیصلہ ہے۔ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ ہم قوموں کی زندگی کا تصور ان کی تاریخ سے الگ رہ کر صحیح طور پر کرسکیں۔‘‘ (۲۰)

نومبر ۱۹۲۹ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سپاس نامے کا جواب دیتے ہوئے اقبال نے اپنے تصورتاریخ کو یوں بھی بیان کیا کہ:

’’ایک دوسری بات جس پر میں زور دینا چاہتاہوں، ہمارا انکشاف ماضی ہے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو صرف اپنے ماضی سے محبت کرتے ہیں۔ میں تو اپنے مستقبل کا معتقد ہوں۔ ماضی کی ضرورت مجھے اس لیے ہے کہ میں حال میں ہوں۔ اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ سرچشمہ تہذیب وشائستگی کو سمجھا جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آج دنیائے اسلام میں کیا ہورہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں چاہتاہوں کہ آپ ماضی کو سمجھیں۔ چونکہ ہم جدید تہذیب وشائستگی کے اصولوں سے ناواقف ہیں، اس لیے ہم علوم جدیدہ کو حاصل کرنے میں دیگر اقوام سے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ میں چاہتاہوں کہ آپ ان گم گشتہ رشتوں پر نظر ڈالیں جن کے ذریعے ہم ماضی ومستقبل سے وابستہ ہیں۔‘‘ (۲۱)

علامہ اقبال کے مذکورہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر منور مرزا نے درست کہاہے کہ :

’’تاریخ کی حیثیت اہل نظر افراد کے لیے ایک لائحہ عمل،ایک جولانگاہ امکان، ایک تازیانہ عبرت اور ایک جرات آموز درس ہے تاکہ آدمی ہر لحظہ اپنے کردار اور اپنے رویے کا جائزہ لیتارہے،، دم بدم دیکھتارہے کہ وہ ترقی ہے ،ٹھہراؤ کا شکار ہے، یا زوال کے رخ رواں ہے۔ اگر اس طرح آدم خود آگاہ رہے تو یقیناًپھر وہ خو ب سے خوب تر کی خواہش سے محروم نہیں رہ سکتا۔ زندہ تمنا حرکت پر آمادہ کیے رکھتی ہے۔ اگر زمان کو ایک زندہ حقیقت کے طورپر تسلیم اور قبول نہ کیا جائے تو حضرت علامہ کا فلسفہ خودی سرتاسر بے مدار ہوکر رہ جاتاہے۔‘‘ (۲۲) 

یقیناًتکمیل خودی کسی بے نمو وبے حرکت آفاق میں بے معنی بات ہے۔ انسانی خودی اپنے وجود کو استقلال بخشنے کے لیے تاریخ کی کشمکش میں سے گزرتی ہے۔ انسانی خودی کا زمانے سے جو تعلق ہے، اس کا اظہار تاریخ میں ہوتاہے ۔علامہ اقبال نے اپنے فارسی کلام میں یہ ’’اسرار ورموز‘‘بڑی چابک دستی سے سمجھائے ہیں کہ تاریخ تجھے خود آگاہ کرتی ہے اور تیرے خنجر خودی کے لیے فساں کاکام دیتی ہے۔ وہ ایسی شمع ہے جو امتوں کے لیے ستارے کاکام دیتی ہے، ماضی کو سامنے لابٹھاتی ہے اور اس طرح ماضی کا رشتہ حال سے اور پھر حال کے واسطے سے استقبال سے جوڑ دیتی ہے۔

’’اسلام کا فلسفہ تاریخ‘‘ نامی کتاب کے مصنف عبدالحمید صدیقی نے جنوری ۱۹۴۹ء میں ایک رسالہ ’’سلسبیل ‘‘کی اشاعت خاص میں علامہ اقبال سے یہ تصور منسوب کیا کہ ’’تاریخ خود کو دہراتی ہے۔‘‘ یہ بیان درست نہیں کیونکہ علامہ اقبال کے نزدیک عمل تاریخ ایک خاص منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ ایک نقاد محمد عثمان رمز، اقبال کے فلسفہ تاریخ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ :

’’اقبال کے فلسفہ تاریخ کی صحیح روح یہ تعلیم دیتی ہے کہ تاریخ کسی قوم کے اجتماعی ذہن کا اظہار ہے۔ یہ ایک مسلسل تخلیقی قوت ہے جس کی مدد سے ہم زندگی، قوانین اور اقدار کی قدروقیمت کا تعین کرتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہ قوت جامد نہیں۔ عزیز احمد کے خیال میں اقبال کے فلسفہ تاریخ میں ’’تاریخ اپنے عمل حرکت میں، زندگی کی طرح، ایک ایسے مستقبل کی سمت بڑھنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے جس کی تعمیر میں وہ سخت جدوجہد کرتی ہے ۔.....اس عمل میں وہ ان اقدار کا تحفظ کرتی ہے جنہوں نے ثقافت کی بنیادی شکل متعین کی ہے ۔..... ثقافت کے سفر دراز میں ان اقدار کو تازہ اور زند رکھنا چاہیے‘‘۔(۲۳)

ڈاکٹر محمد شمس الدین صدیقی کا خیال ہے کہ گویا اقبال کے خیال میں تاریخ کی حرکت اس سمت میں ہے کہ صفات حسنہ سے متصف افراد سے عبارت ایک وسیع معاشرہ وجود میں آئے جو سارے عالم انسانیت کے لیے ایک ایسی مثال قائم کردے کہ اس کی تقلید ہر قوم کرنے لگے۔ عالم انسانیت کی تعمیر بالآخر ایک ایسے نظریے کی بنیاد پر عمل میں آئے گی جو انسان کو محض حیوان ناطق نہیں قراردیتا بلکہ اشر ف المخلوقات مان کر اسے خلیفۃ الارض کے منصب پر فائز دیکھنا چاہتاہے۔ (۲۴) اقبال انسان کو مجبور نہیں بلکہ مختار مانتے ہیں، اس لیے تاریخ کے مطالعے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ تقدیر کے روایتی مفہوم میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ جو کچھ ہونے والا ہے، وہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ اپنے خطبات میں اقبال کہتے ہیں کہ ’’دراصل تقدیر عبارت ہے اس زمانے سے جس کے امکانات کے انکشافات ابھی باقی ہیں۔‘‘ اقبال پوری تاریخ کو حق وباطل کی آویزش کے پس منظر میں دیکھتے ہیں:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز 
چراغ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

یعنی انسانی تاریخ خیروشر کی کشمکش ہے، تاہم ان کے نزدیک انسان کی اجتماعی زندگی امن وسلامتی سے ہم کنار ہوسکتی ہے، جب وہ شر کی قوتوں پر غالب آکر حق وخیر کی بنیاد پر اپنی تعمیر کرے۔ شمس الدین صدیقی کہتے ہیں کہ ’’اقبال نے تاریخ کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ جو قوم یاجو معاشرہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نیابت کرنے کی نیت یااہلیت نہیں رکھتا، وہ فنا ہوجاتاہے۔‘‘ (۲۵) علامہ اقبال کو اعتماد کامل ہے کہ تاریخ کا عمل آخر انسان کو راہ راست پر ضرور لے آئے گا۔ تاریخ کی حرکت بے مقصد، بے منزل اور اٹکل پچو نہیں ہے۔ ازروئے قرآن اللہ تعالیٰ نے کائنات اور انسانوں کو تفریحاً کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا جیسا کہ سورۃ انبیا میں ہے : ’وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لٰعبین‘۔

علامہ کا خیال ہے کہ عمل تاریخ ایک خاص منزل کی جانب رواں ہے۔ علامہ اقبال کا تصور تاریخ اخلاقی اطلاقیت کا حامل ہے۔ اقبال کے تصور تاریخ کا مطالعہ واضح کرتاہے کہ جس طرح کارل مارکس کے نظریہ تاریخ کو تاریخ انسانی کی مادی تعبیرکا نام دیاگیاہے، اسی طرح علامہ اقبال کے نظریہ تاریخ کو بآسانی تاریخ انسانی کی اخلاقی تعبیر کا نام دیا جا سکتا ہے۔ مشہور مفکر ڈایونی سیوس نے کہاتھا کہ تاریخ حکمت ہے جو مثال سے سکھاتی ہے۔ اقبال نے بھی اخلاقی تعبیر کے لیے تاریخ سے ا ستفادہ کیا۔ ان کا کلام تاریخی تلمیحات، استعارات اور اشارات سے پرُہے۔ اسکندرو چنگیز، خسرو پرویز اور محمود وایاز ایسے نام اس کا ثبوت ہیں۔ کئی شخصیات، مقامات اور واقعات براہ راست ان کی شاعری کی بنیاد بنے۔ انھوں نے فاطمہ بنت عبداللہ، عبدالرحمن اول، بلال حبشی، سلطان ٹیپو، ہارون الرشید، طارق بن زیاد کو موضوع بنایا۔ مولائے یثرب، صدیق اکبر، مجدد الف ثانی کو موضوع بناکر حکیمانہ شاعری کی، نیز کئی مقامات، ساحل، نیل، کنارہ دریائے کبیر، خاک کا شغر، خاک بخارا، خاک نجف، سر زمین حجاز، سرزمین سمر قند وبدخشاں، مسجد قرطبہ، مسجد قوت الاسلام، قسطنطنیہ، صقلیہ، بغداد اور دہلی ایسے حوالے ان کے کلام میں عام ہیں۔ ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ میں تاریخی حالات وواقعات سے ہی استدلال پیش کیاگیاہے۔

تاریخ اسلام سے ان کو خاص دلچسپی تھی۔ اس کا واضح ثبوت علامہ اقبال کا وہ خطبہ صدارت ہے جو ۱۳؍جون ۱۹۳۲ء کو ’’انقلاب‘‘ میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ کا مضمون ۱۹۲۳ء میں شروع ہوا لیکن یونیورسٹی میں ہندو عنصر غالب ہونے کی وجہ سے یہ توجہ سے محروم رہا۔ ۱۹۲۹ء میں جب پروفیسر جے، ایف، بروس تاریخ کے پروفیسر کی حیثیت سے یونیورسٹی میں آئے تو انہوں نے ہندووں کے زیر اثر سینٹ میں یہ تجویز پیش کی کہ اسلامی تاریخ کو بی اے کے کورس سے خارج کردیاجائے۔ یہ تجویز کثرت رائے سے منظور ہوگئی تو مسلمانان پنجاب نے احتجاج کیا۔ اسی سلسلے میں ۱۱؍جون ۱۹۳۲ء کو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک جلسہ باغ بیرون موچی دروازہ لاہور منعقد ہواجس کی صدارت سر محمد اقبال نے کی اور خطبہ صدارت میں بی اے پاس کورس سے اخراج کے حوالے سے گفتگو کے بعد تاریخ کے مضمون کے حوالے سے کہا کہ :

’’مسٹر بروس کا استدلال یہ ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو ہندوستان کی تاریخ پڑھنی چاہیے۔ میرے نزدیک یہ دعویٰ غلط ہے کہ کسی قوم کی تاریخ کو اس قوم کی تاریخ نہ سمجھا جائے، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ تاریخ اجتماعی حیثیت سے انسانی روح کی ایک حرکت ہے۔ روح انسانی کا کوئی ماحول نہیں بلکہ تمام عالم اس کا ماحول ہے۔ اگر اسے کسی قوم کی ملکیت سمجھا جائے تویہ تنگ نظری کا ثبوت ہے۔ ....جب میں اٹلی گیا تو مجھے ایک شخص پرنس کتانی ملا۔ وہ اسلامی تاریخ کا بہت دلدادہ ہے۔ اس نے تاریخ پر اتنی کتابیں لکھی ہیں اور اس قدر روپیہ خرچ کیا ہے کہ کوئی اسلامی سلطنت اس کے ترجمے کا بندوبست بھی نہیں کرسکتی۔ اس نے لاکھوں روپے صرف کرکے تاریخی مواد جمع کیاہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو اسلامی تاریخ سے دلچسپی کیوں ہے تو انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ عورتوں کو مرد بنادیتی ہے۔ ‘‘(۲۶) 

اقبال تاریخ کی اہمیت کے اس حد تک قائل ہیں کہ وہ تاریخ کو فلسفہ پر ترجیح دیتے ہیں۔ سید نذیر نیازی ’’مکتوبات اقبال‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ جب علامہ نے ۴؍جون ۱۹۲۹ء کو خط میں انہیں یہ مشورہ دیا کہ ’’بہتر ہو کہ آپ کسی اچھے ہنر کی تلاش میں ولایت جائیں‘‘تو نذیر نیازی نے جواب میں عرض کیا ’’کسی سائنس یا صنعت کی تحصیل تو اب میری استطاعت سے باہر ہے، فلسفہ تاریخ کا موضوع کیا تصوف اسلام سے بہتر نہیں رہے گا؟‘‘ اس کے جواب میں علامہ اقبال نے تحریر فرمایا کہ ’’میں تصوف پر تاریخ کو ترجیح دیتاہوں ‘‘۔ غلام قادر فصیح نے جب اپنا تاریخی نوعیت کا رسالہ شائع کرنا شروع کیا تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ تک لکھا کہ ’’ میرے نزدیک یہ رسالہ نہایت مفید ہے اور ہر مسلمان کو اس کا پڑھنا ضروری ہے۔ عام مسلمانوں میں اخلاق حسنہ پیدا کرنے کے لیے اس سے اچھا ذریعہ اور کوئی نہیں کہ اس قسم کے تاریخی رسالے شائع کیے جائیں جن سے ان کو اسلاف کے حالات معلوم ہوں اور ان کے طرز عمل کا ان پر اثر پڑے۔ قوموں کی بیداری کا اندازہ اس سے ہوسکتاہے کہ ان کو اپنی تاریخ سے کہاں تک دلچسپی ہے۔ (۲۷) کلام اقبال میں وہ خود تاریخی واقعات کو بیان کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سید محمد اکرم اکرام کہتے ہیں کہ تاریخی حوادث سے نتائج اخذ کرنے میں ان کی بصیرت اتنی عمیق اور مستحکم ہے کہ انہوں نے مستقبل کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ بہت جلد اہل نظر کے سامنے مجسم ہوگیا۔ (۲۸) طویل تاریخی واقعات کو ایک یا چند اشعار میں پیش کرنے میں بھی علامہ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔ انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی سامراج نے جب کشمیر کو گلاب سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ فروخت کردیا تو علامہ نے فرمایا:

باد صبا اگر بہ جنیوا گزر کنی 
حرفے زما بہ مجلس اقوام باز گوی
دہقاں وکشت وجوی وخیاباں فروختند
قومے فرو ختند وچہ ارزاں فروختند 

برصغیر پاک وہند میں آج کون ایسا ہے جو میر جعفر اور میر صادق کے نام سے واقف نہ ہو۔ علامہ نے ’’جاوید نامہ‘‘ میں ان کے متعلق جو یہ ایک شعر کہاہے، وہ تاریخ کے سینکڑوں صفحات پر بھاری ہے:

جعفر از بنگال وصادق از دکن
ننگِ آدم ،ننگ دین، ننگِ وطن

غلام قادر روہیلہ کی فتح اور تیمور یوں کی شکست کا بیان کسی تاریخ میں پڑھ کر ممکن ہے قاری بھول جائے، لیکن بانگ درا میں شامل نظم بعنوان ’’غلام قادر روہیلہ ‘‘کو شاید فراموش کرنا ناممکن ہے۔ واقعہ کربلا کو علامہ اقبال نے ’’رموز بے خودی ‘‘ میں جس طرح تاریخی حقیقت کو برقرار رکھتے ہوئے انتہائی دلنشیں اور موثر صورت میں پیش کیاہے، وہ تاریخ اور شاعری کے حسین امتزاج کی ایک لاجواب کوشش ہے۔ یہ معنوی اعتبار سے قصیدہ کے شعر ہیں لیکن ان میں مبالغہ بالکل نہیں ہے، تاریخی حقائق بیان کیے گئے ہیں۔

علامہ اقبال کے نظریہ تاریخ، فلسفہ تاریخ، تاریخ نویسی اور معلم تاریخ کے کردار کے مذکورہ پہلوؤں کے مختصر جائزے کے بعد کہاجاسکتاہے کہ ڈی ایم اظرف کایہ خیال کہ اقبال فنی مفہوم میں فلسفئ تاریخ نہیں ہیں کیونکہ یہ تسلیم شدہ ہے کہ اقبال نے فلسفہ تاریخ کے حوالے سے وسیع یا جامع کام نہیں کیا اور تصور تاریخ کے حوالے سے محض ایک خاکہ پیش کیاہے، تاہم کئی دانشور اقبال کے تصور تاریخ کے حوالے سے دوسری رائے رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد رفیع الدین نے اس حوالے سے ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع شدہ مضمون میں لکھاہے کہ ’’عمل تاریخ کی سمت اور غرض وغایہ کے بارے میں اقبال کے خیالات نہایت واضح ہیں۔‘‘ قطع نظر اس بحث سے کہ حقیقی تکنیکی اور صحیح فنی مفہوم میں علامہ اقبال فلسفئ تاریخ ہیں یا نہیں، یہ بات بغیر کسی تردد کے کہی جاسکتی ہے کہ وہ گہرے تاریخی شعور کے مالک فلسفی تھے۔ جرمن فلسفی کارلائل نے کہا تھا کہ ہمیں ماضی کوزیادہ سے زیادہ تلاش کرنا چاہیے۔ تما م انسانوں کو لازم ہے کہ وہ ماضی کو علم کا ایک حقیقی سرچشمہ تصور کریں جس کی روشنی میں دانستہ یا نا دانستہ حال ومستقبل کی تعبیر وتعمیر ہوسکتی ہے۔ اقبال نے یہی بات سمجھانے کے لیے نظم ونثر میں بنی اسرائیل کی پختہ خیالی اور اپنی تاریخ سے محکم وابستگی کی داد دی ہے اور مثال کے طور پر بیان کیاہے کہ بنی اسرائیل کے ابتدائی زمانے کی تمام معاصر قومیں اور تہذیبیں مٹ گئی ہیں، مگر یہودی ہیں کہ بے پنا ہ آلام ومصائب برداشت کرنے کے باوجود چارہزار سال سے زندہ وسلامت ہیں اور وقت کا فنا آفریں ہاتھ ان کو مٹا نہیں سکا۔ اقبال کے نزدیک ان کا استقرار اور بقا کا راز اپنی تاریخ کے ساتھ بے پناہ شیفتگی اور وابستگی میں مضمر ہے۔ ’’رموز بے خودی‘‘ میں یہ باتیں نظم میں بیان کی ہیں اور اپنے ایک مضمون ’’قومی زندگی‘‘ میں جو ۱۹۰۶ء کے ’’مخزن ‘‘ میں شائع ہوا، انہوں نے اس تاثر کو بہ طرز نثر بیان کیا اور دونوں مقامات پر مقصود مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ دیکھنا، کہیں اپنی تاریخ نہ بھول جانا ،کہیں اپنے ماضی سے غافل نہ ہوجانا، کیونکہ جو قومیں تاریخ کو فراموش کردیتی ہیں، تاریخ انہیں فراموش کردیتی ہے: 

صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم 
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب


حوالہ جات

(۱) فکر اسلامی کی تشکیل نو ،پروفیسر محمد عثمان ،سنگ میل لاہور ،ص ۱۴۴۔۱۴۳

(۲) A Study of History (abridged edition), vol .1, USA, p.6

(۳) الاعلان بالتوبیخ،اردو ترجمہ ،مرکزی اردو بورڈ ،لاہور ،ص ۸۹

(۴) Philosophy of History, Dower Publications, N.Y., p.8

(۵) مقدمہ ،المکتبہ التجاریہ ،شارع محمد علی ،مصر ،ص ۱۰

(۶) رو ز گار فقیر ،فقیر وحیدا لدین ،کراچی ،۱۹۹۶ء

(۷) اقبال ریویو ،جلد ۳،شمارہ ۳،اکتوبر ۱۹۶۲ء ،ص ۲۶

(۸) مطالعہ اقبال ،گوہر شاہی بزم اقبال لاہور ،ص ۵۷۔۴۷

(۹) اقبال نامہ ،مرتبہ شیخ عطاء اللہ ،شیخ محمد اشرف ،لاہور ،ص ۹،۸

(۱۰) شذرات فکر اقبال ،مترجم ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی ،مجلس ترقی ادب ،لاہور ،ص ۱۴۰

(۱۱) ایضا ،ص ۱۳۰

(۱۲) سرگزشت تاریخ ،امتیاز محمد خان،کراچی،ص،۲۲۱

(۱۳) تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ ،مترجم سید نذیر نیازی ،بزم اقبال ،لاہور ،ص ۲۱۴۔۲۱۳

(۱۴) فکر اسلامی کی تشکیل نو ،ایضا ،ص ۱۴۷

(۱۵) برصغیر میں اسلامی جدیدیت ،عزیز احمد ،سنگ میل ،لاہور ،ص ۲۰۸

(۱۶) ایضاً

(۱۷) Masterpieces of the World Philosophy, N.Y., p. 768

(۱۸) سرگزشت تاریخ ،ایضا ،ص ۲۳۲

(۱۹) ایضاً 

(۲۰) روح اقبال ،یوسف حسین خان ،اعظم پریس ،حیدر اباد ،دکن ،ص ۔

(۲۱) گفتار اقبال ،محمد رفیق افضل ،دانش گاہ پنجاب ،لاہور ،ص ۱۰۵۔۱۰۴

(۲۲) برہان اقبال ،منور مرزا ،اقبال اکادمی ،لاہو ر،ص ۱۷

(۲۳) برصغیر میں اسلامی جدیدیت ،ایضاً 

(۲۴) نقوش،اقبال نمبر ،شمارہ ،۱۲۱،ستمبر ۱۹۷۷ء ،لاہور ،ص ۲۳۰

(۲۵) ایضاً ،ص ۲۲۷

(۲۶) روزنامہ انقلاب ،لاہور ،۱۳؍جون ۱۹۳۲ء

(۲۷) اقبال نامہ ،ایضاً، جلد دوم ،ص ۲۶۴

(۲۸) سہ ماہی ،اقبال ،جلد ۵۱،شمارہ ،۴،اکتوبر ،دسمبر ۲۰۰۴ء ،ص ،۵


شخصیات

نومبر ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۱۱

اقبالؒ کا تصور اجتہاد: چند ضروری گزارشات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

علامہ اقبال کے تصورات تاریخ
پروفیسر شیخ عبد الرشید

نطشے کا نظریہ تکرارِ ابدی اور اقبال
ڈاکٹر محمد آصف اعوان

اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اقبال کا خطبہ اجتہاد: ایک تنقیدی جائزہ
الطاف احمد اعظمی

مکاتیب
ادارہ