نومبر ۲۰۰۶ء

اقبالؒ کا تصور اجتہاد: چند ضروری گزارشات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علامہ محمد اقبالؒ جنوبی ایشیا میں امت مسلمہ کے وہ عظیم فکری راہ نما تھے جنھوں نے اس خطے پر برطانوی استعمار کے تسلط اور مغربی فکر وثقافت کی یلغار کے دور میں علمی، فکری اور سیاسی شعبوں میں ملت اسلامیہ کی راہ نمائی کی اور ان کی ملی جدوجہد کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی نئی نسل اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو مغرب کے فکر وفلسفہ اور تمدن وثقافت سے مرعوب ہونے اور اس کے سامنے فکری طور پر سپر انداز ہونے سے محفوظ رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ انھوں نے تہذیب مغرب کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم...

لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو

― مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

اس ماہِ اگست کی ۱۲ تاریخ تھی، ایک فون کسی انگریزی بولنے والے کا آیا۔ میں اپنی سماعت کی کمزوری سے، جو غیر زبان کے معاملے میں زیادہ ہی کمزور پڑجاتی ہے (خاص کر ٹیلیفون پر) اس سے زیادہ کچھ نہ سمجھ پایا کہ کوئی مجھ سے ’’جہادیوں‘‘ کے بارے میں رائے جاننا چاہتا ہے۔ جب پتہ نہ ہو کہ کون شخص ہے اور کیا تعلق اس کا اس تفتیش و تحقیق سے ہے، تو معذرت کے سوا اور کیا مناسب؟ پس اُدھر سے اصرار کے باوجود معذرت کرکے پیچھا چھڑایا۔ دوسرے دن مفتی برکت اللہ صاحب کا فون آیا کہ لاس اینجلز ٹائمز (امریکہ) کے نمائندہ کو میں نے آپ کا فون نمبر دیا تھا۔ وہ مجھ سے موجودہ حالات...

علامہ اقبال کے تصورات تاریخ

― پروفیسر شیخ عبد الرشید

عصر حاضر کے عالم اسلام میں حکیم الامت علامہ اقبال اپنی بصیرت حکیمانہ، تبحر علمی، وسعتِ فکر، لطافت خیال اور فلسفیانہ ژرف نگاہی کی بنا پر ایک منفرد مقام اور مسند امتیاز وافتخار کے حامل ہیں۔ ملت اسلامی کی فکری وادبی تاریخ میں کوئی ایسا شاعر اور مفکر دکھائی نہیں دیتا جس کی فکر اقبال کی طرح جامع اور ہمہ گیر ہو۔ اپنے ہمہ جہت افکار کی وجہ سے ان کے بارے میں اتنا کچھ کہا اور لکھا گیاہے کہ وہ ایک پورے کتب خانے کا سرمایہ ہوسکتاہے۔ ان کا فلسفہ اور شاعری لاتعدار ارباب قلم کا موضوع نگارش بنا، لیکن تاحال ان کے تصور تاریخ پر کوئی جامع کام سامنے نہیں آیا۔...

نطشے کا نظریہ تکرارِ ابدی اور اقبال

― ڈاکٹر محمد آصف اعوان

جدید مغربی مفکرین میں نطشے ایک بہت بڑا نام ہے۔ اقبال نے اپنے کلام اور خطبات میں نطشے کے افکار وتصورات کا کئی جگہ ذکر کیاہے۔خاص طور پر نطشے کا نظریہ بقائے دوام یعنی تکرارِ ابدی Eternal Recurrence)) اقبال کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اقبال کے خیال میں اس نظریے کے ابتدائی خط وخال ہربرٹ اسپنسر (Spencer, Herbert 1820-1903) کے ہاں ملتے ہیں(۱)۔ ہر برٹ اسپنسر مادی نظریہ ارتقا کے بانیوں میں شامل ہے۔ یہی وہ مفکر ارتقا ہے جس کی فراہم کی ہوئی فکری بنیادوں پر چارلس ڈارون (1809-1882) نے اپنے نظریہ ارتقا کی بنیاد رکھی۔ ڈارون کا نظریہ ارتقا مادیت پسندجدید مغربی ذہن کا محبوب تصور...

اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

انسانی زندگی گونا گوں پہلووں سے عبارت ہے اور ان تمام پہلووں پر تاریخ کی بسیط چادر تنی ہوئی ہے ۔ صرف اسی ایک فقرے کو بغور دیکھیے کہ اس کے دو ٹکڑے ہیں۔ ’’ اور ‘‘ نے ان ٹکڑوں میں ربط اور معانی پیدا کیے ہیں ۔ اگر ’’ اور ‘‘ کے بعد والا ٹکڑا بے معنی ہے تو اس کا ذمہ دار ’’ اور ‘‘ سے پہلے والا ٹکڑا ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر ہی دوسرے ٹکڑے کی تخلیق ممکن ہوئی ہے ، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسرا ٹکڑا ’’ تخلیق ‘‘ ہوتے ہوئے بھی، پہلے ٹکڑے سے الگ، اپنی ذات میں کوئی آزاد معنی نہیں رکھتا ۔ اسی طرح اگر ’’ اور ‘‘ کے بعد والا ٹکڑا ہمیں نئے مفاہیم سے روشناس کراتا...

اقبال کا خطبہ اجتہاد: ایک تنقیدی جائزہ

― الطاف احمد اعظمی

(’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ میں) اقبال نے اسلامی قانون کے بنیادی مآخذکا بھی جائزہ لیا ہے۔ اسلامی مآخذ کاپہلا ماخذ قرآن حکیم ہے۔ اس میں تفصیلی قوانین کی جگہ اصول وکلیات زیادہ ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے انسانی فکر کے لیے پوری گنجائش رکھی ہے۔ چنانچہ مسلم فقہا نے ان اصولوں کی بنیادپر ایک نظام قانون وضع کیا جو قدرقیمت کے لحاظ سے کسی طرح بھی رومی قانون سے کم نہیں بلکہ فائق ہے، لیکن یہ بہر حال انسانی تشریحات ہیں، اس لیے ہم اس کو حرف آخر نہیں کہہ سکتے ہیں۔اگر عہد حاضر کے مسلمان قرآن مجید کے اصولوں کی روشنی میں اسلامی نظام کی نئی تشریح کریں...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مکرمی و محترمی مدیر الشریعہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ستمبر کے شمارے میں آپ نے محمد یوسف صاحب کی ایک تحریر شائع کی جو ’ترجمان القرآن‘ میں شائع نہیں کی گئی تھی۔ مدیر کی حیثیت سے آپ اپنے فیصلے میں آزاد تھے، تاہم کچھ عرض ہے۔ ایک مدیر کی حیثیت سے یقیناًآپ کو ایسے افراد سے سابقہ پیش آتا ہوگا جو کسی رسالے کو کچھ لکھ کر بھیجتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ انھوں نے ایسی چیز لکھ دی ہے جو رسالے کو لازماً شائع کرنی چاہیے۔ جب شائع نہ ہو تو وہ اپنی تحریر پہ غور نہیں کرتے، بلکہ مدیر کو قصور وار اور مجرم قرار دیتے ہیں۔ جب تحریر کی نوعیت جوابی ہو اور شائع...

نومبر ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۱۱

اقبالؒ کا تصور اجتہاد: چند ضروری گزارشات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

علامہ اقبال کے تصورات تاریخ
پروفیسر شیخ عبد الرشید

نطشے کا نظریہ تکرارِ ابدی اور اقبال
ڈاکٹر محمد آصف اعوان

اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اقبال کا خطبہ اجتہاد: ایک تنقیدی جائزہ
الطاف احمد اعظمی

مکاتیب
ادارہ