اقبال کا خطبہ اجتہاد: ایک تنقیدی جائزہ

الطاف احمد اعظمی

(’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ میں) اقبال نے اسلامی قانون کے بنیادی مآخذکا بھی جائزہ لیا ہے۔ اسلامی مآخذ کاپہلا ماخذ قرآن حکیم ہے۔ اس میں تفصیلی قوانین کی جگہ اصول وکلیات زیادہ ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس نے انسانی فکر کے لیے پوری گنجائش رکھی ہے۔ چنانچہ مسلم فقہا نے ان اصولوں کی بنیادپر ایک نظام قانون وضع کیا جو قدرقیمت کے لحاظ سے کسی طرح بھی رومی قانون سے کم نہیں بلکہ فائق ہے، لیکن یہ بہر حال انسانی تشریحات ہیں، اس لیے ہم اس کو حرف آخر نہیں کہہ سکتے ہیں۔اگر عہد حاضر کے مسلمان قرآن مجید کے اصولوں کی روشنی میں اسلامی نظام کی نئی تشریح کریں تو وہ کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے، اور اس عمل پر متقدمین کے کام اور ان کی آرا کو حائل نہیں ہونا چاہیے۔ (۱)

اسلامی قانون کا دوسرا ماخذ حدیث ہے۔ حدیث کے بارے میں ہر دور کے علما میں اختلاف رہاہے، اس لیے اقبال نے اس نزاع سے بچتے ہوئے صرف ان احادیث تک اپنی بات محدود رکھی ہے جن کی حیثیت قانونی ہے یعنی جن کاتعلق معاملات زندگی سے ہے۔اس سلسلے میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نبی ﷺنے قانون سازی کے عمل میں عربوں کے کن عادات ورسوم کو باقی رکھا اور کن عادات ورسوم میں جزئی ترمیمات کے بعد ان کو اسلامی قانون کا درجہ دیا۔ اس سلسلے میں اقبال نے شاہ ولی اللہ کے حوالے سے لکھاہے کہ جو پیغمبر بھی آتاہے، وہ کار رسالت کی انجام دہی میں مخاطب قوم کی عادات، طریقے اور نفسیات کا پورا لحاظ رکھتاہے۔ اس اعتبار سے وہ جو قوانین بناتاہے، وہ دائمی نہیں ہوتے بلکہ اسی قوم کے ساتھ مختص ہوتے ہیں۔ ان کو جوں کاتوں دوسری قوموں پر نافذ نہیں کیا جاسکتاہے، مثلاً جرائم کی سزا وغیرہ۔یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ ؒ نے فقہ اسلامی کی تدوین میں اس نوع کی حدیثوں سے بہت کم تعرض کیاہے۔ انہوں نے استحسان (۲) کا جو اصول وضع کیا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ احادیث کی طرف ان کی توجہ زیادہ کیوں نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ قانون سازی کے عمل میں حالات زمانہ پر غور وفکر نہایت ضروری ہے۔ مخصوص قسم کے حالات میں بنائے گئے قانون کو اس سے مختلف حالات میں نافذ کرنا قانون کے مقصد وغایت کو نظر انداز کرنا ہے۔(۳)

بعض علما کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ ؒ کے عہد میں حدیث کے مجموعے مرتب نہیں ہوئے تھے اورمعاملات کی بہت سی حدیثیں ان تک نہیں پہنچی تھیں، اس لیے انہوں نے احادیث سے بہت کم تعرض کیاہے۔یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ امام مالکؒ اورزہری ؒ کے قانونی مجموعے موجود تھے۔ امام ابو حنیفہؒ خود بھی حدیث کے جید عالم تھے۔ اگر وہ چاہتے تو حدیث کا ایک مجموعہ تیار کر سکتے تھے۔ اقبال کاخیال ہے کہ حدیث کے باب میں امام ابوحنیفہؒ کاطرز عمل بالکل درست تھا۔ احادیث دراصل نبی ﷺ کے اجتہادا ت ہیں۔ ہم ان کی مدد سے یہ جان سکتے ہیں کہ آپﷺ نے وحی کی تشریح کس طرح کی۔ (۴)

اسلامی قانون کاتیسرا ماخذ اجماع ہے۔ اقبال نے لکھا ہے کہ علما نے اس سلسلے میں نظری بحثیں تو بہت کیں لیکن اس خیال کو ایک مستقل ادارے کی شکل میں تبدیل نہ کرسکے۔ اجماع کے سلسلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا صحابہؓ کا اجماع ہر دور میں قابل اتباع ہے؟ اقبال کا خیال ہے کہ جن امور کا تعلق واقعات (facts) سے ہو مثلاً معوذتین جزو قرآن ہیں یا نہیں، ان میں صحابہؓ کی اتباع واجب ہے کیونکہ صحیح حالات سے وہی لوگ واقف ہو سکتے ہیں، لیکن جن امور کاتعلق قانون سے ہے، ان میں صحابہؓ کا فیصلہ ہر دور کے مسلمانوں کے لیے واجب الاطاعت نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق کسی حکمی آیت کی تشریح سے ہے اور یہ تشریح اپنے عہد کے حالات اور تقاضوں کے لحاظ سے ہوگی۔ اقبال نے تائید میں کرخی ؒ کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے لکھاہے کہ جن امور کا تعلق قیاس سے نہیں ہے، ان میں صحابہؓ کی سنت واجب العمل ہے لیکن قیاسی امور میں یہ واجب نہیں ہے۔ (۵)

اقبال نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ اجماع قرآن کا ناسخ ہے۔ اجماع تو درکنار، حدیث رسول ﷺ کو بھی یہ حیثیت حاصل نہیں ہے۔(۶) اجماع سے مراد علما کے ایک بڑے گروہ کاکسی شرعی معاملے میں اتحاد رائے ہے۔اقبال کے نزدیک عہد حاضر میں اجماع کی صحیح ترین صورت عوامی نمائندوں کی مجلس ہے، لیکن اس کے ساتھ قانون دان علما کی ایک جماعت بھی ہو جو وضع قانون میں مجلس کی مدد کرے اور اس کے ذریعے بنائے گئے قوانین کی نگران بھی ہو۔ (۷)

اسلامی قانون کا چوتھا ماخذ قیاس (Reason) ہے یعنی مماثلت علت کی بنیاد پر قانون سازی۔اصول قیاس کا سب سے زیادہ استعمال امام ابوحنیفہؒ نے کیاہے۔ اقبال نے لکھاہے کہ اس کی وجہ اس عہد کے سیاسی اور سماجی حالات تھے۔ انہوں نے شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ اسلام کے مفتوحہ ممالک میں جو سماجی اور معاشی حالات ہیں، ان کے بارے میں حدیث سے کوئی رہنمائی نہیں ملتی۔ چنانچہ انہوں نے قیاس سے کام لیا اور حالات زمانہ کے لحاظ سے نئے احکام نکالے۔ یہ طرز عمل ایک لحاظ سے درست تھا اور ایک لحاظ سے غلط۔ انہوں نے اصول قیاس پر ارسطو کی منطق کی مدد سے اسلام کاایک مکمل نظام قانون بنا ڈالا۔ جو معاملات ابھی تک پیش نہیں آئے تھے، ان کے لیے بھی قوانین بنا ڈالے ۔اس بے روح میکانکی عمل نے اسلامی قانون کے ارتقا کو متاثر کیا اور بعد کے فقہا کی تخلیقی آزادی کاراستہ بالکل مسدود ہو گیا۔ (۸)

امام مالک ؒ اور امام شافعی ؒ دونوں نے امام ابو حنیفہؒ کے اصول قیاس پر تنقیدکی ہے جو ان کے قومی مزاج کاخاصہ تھا۔ انہوں نے تصور کے بجائے عملی واقعات کواہمیت دی۔اس کے برخلاف ایرانی مزاج تجریدی تھا، وہ واقعہ سے زیادہ تصور کو اہمیت دیتاتھا۔ فقہاے حجاز نے عملی واقعات کو دائمی حیثیت دی اور قیاس سے اجتناب کیا۔ ان کا یہ طرز عمل درست نہ تھا،کیونکہ قیاس کی بنیاد عملی واقعات (concrete)کے مطالعے پر ہے اور یہ ایک درست طریقہ ہے یعنی استقرائی طریقہ۔ اس میں حالات سے ہم آہنگی اور فکری آزادی دونوں چیزیں موجود ہیں جب کہ استخراجی طریقہ میں یہ دونوں عناصر ناپید ہیں، لیکن جس طرح علماے حجاز نے عملی واقعات پر مشتمل احادیث کو دائمی حیثیت دی اور بایں طور اسلامی قانون کو ترقی اور حرکت سے محروم کر دیا، اسی طرح فقہاے عراق نے امام ابو حنیفہؒ کے اجتہادات کو ہر پہلو سے مکمل قرار دے کر مزید قیاس کا دروازہ بند کر دیا۔ (۹)

اقبال کا خیال ہے کہ متن وحی کے اندر رہتے ہوئے قیاس کا حق جس طرح متقدمین علما کو حاصل تھا، اسی طرح عہد حاضر کے علما وفضلا کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ علما کا یہ کہنا کہ اجتہاد کا دور ختم ہو چکا ہے، محض افسانہ ہے ۔اس خیال کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسلامی قانون ایک مدون شکل (crystalized legal thoughts) میں موجو د ہے ،اور اس کی دوسری وجہ علما کی کاہلی ہے جو روحانی انحطاط کا لازمی نتیجہ ہے۔ اسی کاہلی کی وجہ سے انہوں نے متقدمین فقہا کو بت کادرجہ دے رکھا ہے اور ان کی تشریحات وآرا سے بال برابر ہٹنا خلاف عقیدت ٹھہرایا ہے، لیکن عہد جدید کے دانشور اپنی عقلی آزادی کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دسویں صدی ہجری کے نامور فقیہ سرخسی نے لکھا ہے کہ اگر اس افسانہ (یعنی یہ کہ اب اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے)کے قائلین کاخیال ہے کہ متقدمین علما کو اجتہاد کے زیادہ مواقع اور آسانیاں دستیاب تھیں تو یہ ایک لغو خیال ہے۔ ہر شخص معمولی غورفکر سے دیکھ سکتاہے کہ متقدمین کے مقابلے میں اس عہد کے علما کے لیے اجتہاد زیادہ آسان ہے۔ قرآن وسنت پر مشتمل جو عظیم تفسیر ی اور خبری ذخیرہ اس وقت موجو دہے، وہ پہلے کے لوگوں کو حاصل نہ تھا۔اس دور کا مجتہد اس وسیع علمی ذخیرے کی مدد سے کہیں زیادہ آسانی کے ساتھ اجتہاد کے فریضے سے سبکدوش ہو سکتاہے۔ (۱۰)


اقبال کی آرا پر تبصرہ

اسلامی قانون کے چاروں مآخذ کے بارے میں اقبال نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ کلی طور پر صحیح نہیں ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قرآن مجید کتاب اصول ہے اور اس میں معاملات زندگی کے متعلق احکام کی تفصیلی صورتیں کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں، جیسا کہ اقبال نے سمجھاہے کہ قرآن مجید کی اصلی غایت خدا اور کائنات کا ادراک وعرفان ہے، اس لیے مسائل حیات سے اس میں زیادہ تعرض نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی ذہن اور اس کے مختلف سماجی ادارات دونوں ارتقا پذیر ہیں، اس لیے کوئی ایسا مجموعہ قوانین نہیں بنایا جاسکتاتھا جو ہر دور کے مختلف النوع تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ اسی لیے زیادہ تر اصولی احکام دیے گئے ہیں ۔مفصل قوانین کی تعداد نہایت قلیل ہے۔

یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ قر آن میں بعض اصولی احکام کی تفصیل کیوں کی گئی ہے؟ جس طرح نصوص قرآن کی مدد سے نبیﷺ نے بہت سے تفصیلی احکام وقوانین بنائے، اسی طرح ان اصولی احکام کی تفصیلی صورت بھی آپؑ بنا سکتے تھے۔ دوسرے بہت سے علما کی طرح اقبال بھی اس کی حقیقی وجہ سمجھنے سے قاصر رہے۔

قرآنی احکام کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک قسم ان احکام کی ہے جن کاتعلق عقائد اور عبادات سے ہے ،اور دوسری قسم میں وہ احکام آتے ہیں جن کاتعلق اجتماعی معاملات سے ہے۔ عقائد کے متعلق جو احکام قرآن مجید میں مذکور ہیں، وہ مفصل بھی ہیں اور ناقابل تغیر بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا تعلق ناقابل تغیر کائناتی حقائق سے ہے ،لیکن عبادات کا معاملہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ یہاں کلی اور جزئی دونوں طرح کے احکام ملتے ہیں اور ان میں بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ مثلاً عبادات میں نما ز کو لیں۔ قرآن مجید میں نماز کی تفصیلی صورت مذکور نہیں ہے، لیکن وضو کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہ بات بظاہر بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ یہ کام تو نبی ﷺ بھی کرسکتے تھے اور احادیث میں وضو کی تفصیل موجود ہے ۔ قرآن میں حکم وضو کی تفصیل سے دراصل روح عبادت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ وہ ایک عمل تطہیر ہے جس سے جسم اور نفس دونوں کی پاکی حاصل ہوتی ہے۔قرآن مجید میں فرمایا گیاہے:

إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنکَرِ (سورۃ عنکبوت: ۴۵)
’’ بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے‘‘۔

روح عبادت کو قرآن مجید کی اصطلاح میں تقویٰ کہا گیاہے ۔روزے کے ذکر میں ہے: ’’ اے ایمان والو، تم پر اسی طرح روزہ فرض کیاگیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر یہ فرض تھا تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘(سورۃ بقرۃ: ۱۸۳) حج کے ذکر میں ہے: ’’ اللہ تک نہ تو ان کا گوشت پہنچتاہے اور نہ ان کا خون بلکہ اس تک جو چیز پہنچتی ہے وہ تمھارا تقویٰ ہے۔‘‘ (سورۃ حج:۳۷) 

نماز کے بعد زکوٰۃ کو لیں۔ زکوٰۃ کانصاب قرآن مجید میں غیر متعین ہے، لیکن مصارف زکوٰۃ متعین کر دیے گئے ہیں۔ نصاب زکوٰۃ کے عدم تعین کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق انسان کی اقتصادی حالت سے ہے اور اقتصادی حالت ہر دور میں بدلتی رہتی ہے۔ اس کا کوئی ایسا نصا ب متعین نہیں کیاجاسکتاتھا جو ہر دور کے انسانوں کی معاشی حالت کے مطابق ہو ۔ مصارف زکوۃ کے تعین کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حالات و ظروف زمانہ کی تبدیلی کابرائے نام ہی اثر ان پر پڑ سکتاہے، پھر بھی تعین میں وسیع الاطلاق الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مثلاً مصارف زکوٰۃ کی ایک مد ’’فی سبیل اللہ‘‘ ہے جس میں بے حد وسعت اور گنجائش ہے۔ مصارف زکوٰۃ کے تعین کی دوسری وجہ سماج کے کمزور طبقات یعنی غرباو مساکین وغیرہ کے حقوق کاتحفظ ہے۔ اس معاملے کو اللہ نے وحی کاجز اسی لیے بنایا تاکہ آئندہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو سکے ۔

اب غیر تعبدی احکام وقوانین کی طرف آئیں۔ عائلی قوانین کی تفصیل ہم کو سورۃ بقرۃ اور دوسری سورتوں میں ملتی ہے۔ اس تفصیل کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ یہاں عورتوں کے حقوق کا تحفظ مقصود ہے جو مردوں کے مقابلے میں بہر حال سماج کا ایک کمزور طبقہ ہے ۔ قرآن مجید میں عائلی زندگی سے متعلق جو احکام مذکور ہیں، وہ ہر اعتبارسے تفصیلی نہیں ہیں اور یہ بھی خالی از علت نہیں۔جن عائلی معاملا ت کاتعلق حالات کی تبدیلی سے تھا، ان کو غیر متعین حالت میں رکھا گیا ہے ،مثلاً مہر اور متاع کا تعین۔ معلوم ہے کہ مہر کاتعلق شوہر کی مالی استطاعت سے ہے اور یہ استطاعت ہر مرد میں یکساں نہیں ہوسکتی ہے اور نہ ہی ہر دور کے لیے اس کی کوئی متعین صورت ممکن ہے۔ مثال کے طور پر اگر آج کے معاشی حالات کے لحاظ سے مہر کی رقم دس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ مقرر کی جائے توچند ہی سال کے بعد یہ رقم نہایت قلیل معلو م ہوگی۔یہی معاملہ متاع کا ہے۔ طلاق کے بعد عورت کی دل بستگی اور آیندہ کی زندگی میں اس کو پیش آنے والے معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے مرد پر لازم کیا گیاہے کہ وہ اس کو مالی مدد دے۔کسی دورمیں علما نے فتویٰ دیا تھا کہ مطلقہ عورت کا متاع ایک جوڑا کپڑا ہے۔ ممکن ہے کہ اس دور کے اقتصادی حالت کے لحاظ سے متاع کی یہ شکل مناسب رہی ہو، لیکن موجودہ دور میں اس کو مناسب کون کہہ سکتاہے ؟عائلی زندگی سے متعلق دوسرے احکام کی بھی یہی نوعیت ہے۔

اس گفتگو سے ہم اس نتیجے تک پہنچے کہ قرآن مجید میں جن معاملات زندگی سے متعلق تفصیلی احکام دیے گئے ہیں، وہ ناقابل تغیر ہیں اور جہاں یہ تفصیل نہیں ہے، وہاں بالقصد تفصیل سے گریز کیا گیا ہے تاکہ ان امور میں حالات ومقتضیات زمانہ کے لحاظ سے تفصیلی احکام بنائے جائیں۔ اسی کانام اجتہاد ہے۔ اس سلسلے میں نبی ﷺ کے اجتہادات کی حیثیت نظائر کی ہے۔ نصوص قرآن اور نبی ﷺ کے اجتہادات کو سامنے رکھ کر مماثلت علت کی بنیاد پر نئے مسائل کا حل نکال لینا آسان ہے۔ اس پر مزیدگفتگو ہم آگے کریں گے ۔

اسلامی قانون کے دوسرے ماخذ یعنی حدیث پر اقبال نے جو بحث کی ہے، وہ مفید ہے لیکن جامع نہیں ہے ۔یہاں حدیث کے سلسلے میں چند اصولی باتوں کاتذکرہ مناسب ہو گا۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن وسنت دو علیحدہ چیزیں ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔قرآن مجید اصل اور سنت اس کی فرع ہے، دوسرے لفظوں میں سنت قرآن مجید کے اصول وکلیات کی شرح وتفسیر ہے۔

یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس شرح وتفسیر کاتعلق معاملات سے متعلق احکام سے ہے ۔عقائد کے معاملے میں قرآن مجید کسی شرح ووضاحت کا محتاج نہیں ہے، وہ بالکل واضح اور مفصل ہیں ۔عقائد سے متعلق جب بھی کوئی اختلاف واقع ہو گا تو صرف قرآن مجید کی طرف رجوع کیا جائے گااور اس کا فیصلہ واجب العمل ہو گا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِن شَیْْءٍ فَحُکْمُہُ إِلَی اللَّہِ (سورۃ شوریٰ :۱۰)
’’ اور جس بات میں بھی تمھارا اختلاف ہو، اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے‘‘۔

دوسری جگہ فرمایا ہے:

وَمَا أَنزَلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ إِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ (سورۃ نحل:۶۴) 
’’ اور ہم نے تم پر کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ جن امور میں وہ اختلاف کرتے ہیں، ان کی اصل حقیقت ان پر واضح کردو۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید صرف مسلمانوں کے ہی اختلافات میں حکم نہیں ہے بلکہ عقائد سے متعلق دوسرے فرقوں کے مذہبی اختلافات کے تصفیہ کابھی واحد ذریعہ یہی کتاب ہے۔ عقائد کی تشریح وتوضیح میں احادیث کو صرف تائید کے طور پر لایا جاسکتاہے۔ جہاں قرآن وحدیث کے بیان میں تعارض واقع ہوگا، وہاں اصل یعنی قرآن مجید کا حکم ہی قابل حجت ہوگا اور حدیث کے بارے میں سکوت اختیار کرنا ہوگا۔ اس وقت عقائد کے متعلق مسلمانوں کے سارے مذہبی اختلافات اصل وفرع کے اس تعلق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس میں علماء سو کی غلط تاویل وتشریح کا بھی دخل ہے۔

یہ بات کہ سنت کی حیثیت قرآن کے مجمل احکام یا نصوص قرآن کی شرح وتفصیل کی ہے، کچھ ہماری ذہنی اختراع نہیں ہے۔ تمام صالح علما وفقہا نے یہی بات لکھی ہے ۔اس سلسلے میں علامہ شاطبی ؒ لکھتے ہیں:

’’سنت اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے قرآن حکیم ہی کی طر ف رجوع ہونے والی ہے۔وہ یعنی سنت قرآن حکیم کے مجمل کی تفسیر یامشکل کا بیان یا مختصر کی تشریح ہے ۔اس پر اللہ تعالی کا یہ قول دلیل ہے : ’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم‘ (ہم نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے تاکہ جو ان کی طرف بھیجا گیا ہے، اس کو ان لوگوں پر واضح کردو) پس سنت میں کوئی ایسی بات نہیں ملے گی جس کی اجمالی یا تفصیلی بنیاد قرآن حکیم میں موجود نہ ہو ....... قرآن مجید میں ہے : ’وانک لعلی خلق عظیم‘ ( تم عظیم خلق کے مالک ہو ) حضرت عائشہؓ نے خلق کی وضاحت میں فرمایا کہ رسول ﷺ کا خلق قرآن مجید ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے تمام اقوال وافعال اور اقرار سب قرآن مجید کی طرف رجوع ہونے والے ہیں، کیونکہ خلق کاتعلق انہی امور سے ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو ’تبیانا لکل شئی‘ (سورۃ نحل:۸۹) فرمایا ہے، اس سے بھی سنت کا فی الجملہ قرآن میں ہونا لازم آتاہے ........اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو قبول کرنے میں توقف ضروری ہے۔‘‘(۱۱)

سنت کے اس مفہوم کی روشنی میں دیکھیں کہ قرآن مجید میں حکم ہے کہ زکوٰۃ دو (واتو االزکوۃ ) لیکن کس مقدار میں اور کب دی جائے؟ اس کی تعیین نبی ﷺ کے قول وفعل نے کی۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹ دو، لیکن مال مسروقہ کی کس نوع میں اور کس مقدار پر ہاتھ کاٹا جائے اور یہ ہاتھ کہاں تک کٹے،اور کن حالات میں یہ حکم نافذالعمل ہے؟ ان امور کی تفصیل وتعیین نبیﷺ نے کی۔

یہاں ایک اہم سوال اٹھتاہے کہ نبی ﷺ کی تشریحات نصوص یعنی اجتہادات کی حیثیت دائمی ہے یعنی ناقابل تغیر اور ہر دور کے حالات میں خواہ وہ عہد نبویﷺ کے حالات سے یکسر مختلف ہوں،کسی ردوبدل کے بغیر واجب التعمیل ہیں؟ کم نظر علما کا خیال ہے کہ اجتہادات نبوی ﷺ دائمی ہیں اور ان میں کوئی ترمیم واضافہ جائز نہیں ہے۔اس سلسلے میں قول حق یہ ہے کہ نبی ﷺ کے وہ اعمال جو عبادات اور اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں، ناقابل تغیر ہیں، لیکن معاملات سے متعلق احکام کی حیثیت دائمی نہیں ہے۔ حالات اور ظروف زمانہ کے لحاظ سے اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا نبی ﷺ کے اجتہادات میں مقامی حالات اور عربوں کی عادات ونفسیات کاکوئی لحاظ رکھا گیاہے؟ اس موضوع پر شاہ ولی اللہ نے نہایت عمدہ بحث کی ہے اور اس کا کچھ حصہ اقبال نے بھی نقل کیاہے جیسا کہ بیان ہوا۔شاہ صاحب لکھتے ہیں:

’’ اگر تم رسول اللہ ﷺ کی شریعت کی گہرائیوں کو سمجھنا چاہو تو پہلے عرب امیّوں کے حالات کی تحقیق کرو جن میں آپ ﷺ مبعوث ہوئے تھے۔ وہی لوگ دراصل آپ کی شریعت کا تشریعی مادہ ہیں۔ اس کے بعد اپ کی اصلاح کی کیفیت پر نظر ڈالو جو ان مقاصد کے تحت تشریعی، تیسیر احکام ملت کے باب میں آپ نے انجام دی‘‘۔ (۱۲)

حجۃ اللہ البالغہ میں ہی وہ مزید لکھتے ہیں :

’’ ان احکام ومراسم میں جو باتیں صحیح اور سیاست ملیہ کے اصول وقواعد کے موافق ہوتیں، ان میں یہ حضرات انبیا کوئی تبدیلی نہیں کرتے بلکہ اس کی طرف دعوت دیتے اور ان کی اتباع پر قوم کو ابھارتے ہیں، اور جو باتیں بری ہوتی ہیں یا ان میں تحریف داخل ہو چکی ہوتی ہے، ان میں وہ بقدر ضرورت ترمیم کرتے ہیں او رجن امور میں اضافہ کی ضرورت سمجھتے ہیں، ان میں اضافہ کرتے ہیں ‘‘ ۔( ۱۳)

ان اقتباسات سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ کے بہت سے اجتہادات مقامی نوعیت کے تھے اور ایک خاص قوم (عربوں) کی عادات ورسوم کی رعایت پر مبنی تھے۔ اس کے علاوہ بعض اجتہادات میں وقتی مصالح کا لحاظ بھی شامل تھا ۔جب صورت واقعہ یہ ہے تو پھر یہ قول کہ نبی ﷺ کے تمام اجتہادات دائمی ہیں، کیوں کر صحیح ہو سکتاہے۔

علما جب ناسخ ومنسوخ کے مسئلے پر بحث کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت نے شریعت موسوی کو منسوخ کردیاہے۔ جب سوال ہوتاہے کہ آخر اللہ نے خود اپنی بنائی ہوئی شریعت کو منسوخ کیوں کیا؟ تو اس کا جواب دیا جاتاہے کہ بنی اسرائیل کو جو احکام دیے گئے تھے، وہ ان کے تمدنی حالات اور ان کی مخصوص عادات و نفسیات کے مطابق تھے ۔چونکہ عربوں کے تمدنی کوائف اور ان کی عادات ورسوم قوم یہود سے مختلف تھے، اس لیے قانون موسوی میں ترمیم واضافہ ناگزیر تھا۔ یہ بالکل صحیح جواب ہے اور حقائق پر مبنی ہے۔پھر علما کس طرح کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے جملہ اجتہادات میں ادنیٰ تغیر بھی ممکن نہیں ہے؟ کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ جو سماجی ومعاشی اور تہذیبی احوال عہد نبوی ﷺ میں تھے، وہی احوال وکوائف آج بھی ہیں اور جو قومی عادات ورسوم اور نفسیات عربوں کے تھے، وہی ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے بھی ہیں ؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناًنفی میں ہوگا تو پھر یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ معاملات کے متعلق نبی ﷺ کے کل اجتہادات دائمی نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان میں ہر ملک کے حالات ومقتضیات کے لحاظ سے ضروری حد تک ترمیم و اضافہ نہ صرف جائز ہے بلکہ یہ عین سنت نبی ﷺ کی پیروی ہو گی۔ اس سلسلے میں قرآن مجید کی درج ذیل آیت واضح رہنمائی کرتی ہے:

وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ (سورۃنحل:۴۴)
’’اور ہم نے تمھاری طرف ذکر (قرآن حکیم) نازل کیا ہے تاکہ جو چیز لوگوں کی طرف نازل کی گئی ہے، تم ان کو ان کے سامنے کھول کر بیان کردو ،اور توقع ہے کہ وہ غور کریں گے ‘‘۔

علماے اسلام نے سنت کے اثبا ت میں اس آیت کو کثرت سے نقل کیاہے لیکن اکثر نے ’ولعلھم یتفکرون‘ کے جملے کو نظر انداز کردیا ہے۔ انہوں نے یا تو اس جملے کا صحیح مطلب نہیں سمجھا اور یا اپنے نقطہ نظر کے خلاف پاکر اس سے چشم پوشی کی ہے۔مذکورہ آیت سے بالکل واضح ہے کہ کار رسالت میںیہ بات داخل تھی کہ آپﷺ اپنے عہد کے تمدنی حالات اورمخاطب قوم کی نفسیات وعادات کا لحاظ کرتے ہوئے آیات کی قولی اور عملی تشریح کریں اور بعد کے لوگ ان تشریحات رسول ﷺ (اجتہادات) کی روشنی میں اپنے عہد کے حالات اور تقاضوں کی رعایت کرتے ہوئے جہاں ضروری ہو، وہاں اجتہاد کریں ۔یہی مطلب ہے ’ولعلھم یتفکرون‘ کا ۔

صحابہ رضی اللہ عنھم نے ’ولعلھم یتفکرون‘ کاصحیح مطلب سمجھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد متعدد نئے اجتہادات کیے۔ مثلاً نبوی عہدمیں عورتوں کو اجازت تھی کہ وہ مسجد وں میں جاکر عبادت کریں، لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہد میںیہ اجازت منسوخ کردی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اس حالت کو دیکھتے جو عورتوں نے ا ب پیدا کردی ہے توان کو مسجدوں میں جانے سے روک دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئی تھیں۔ (۱۴) اسی طرح نبی ﷺ کے عہد میں نص قرآنی کے مطابق کتابیہ عورتوں سے نکاح کی اجازت تھی، لیکن خلیفہ ثانی نے اس اجازت کومعطل کردیا۔ معلوم ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں ایک نشست میں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق خیال کیا جاتا تھا، لیکن عہد فاروقی میں ان کو طلاق بائنہ قرار دے کر نافذ کر دیا جاتا تھا۔ عہد نبویﷺ اور عہد صدیقیؓ میں یہ معمول تھا کہ مفتوحہ زمین مجاہدین میں تقسیم کردی جاتی تھی، لیکن عہد فاروقی میں جب عراق فتح ہوا تو حضرت عمرؓ نے مفتوحہ اراضی کو مجاہدین میں تقسیم کرنے سے انکار کردیا۔

یہ چند مثالیں میں نے دکھانے کے لیے نقل کی ہیں کہ عہد صحابہؓ میں رسول اللہﷺ کے اجتہادات میں بقدر ضرورت تغیر کو جائز سمجھا جاتاتھا اور اس کی وجہ بدلے ہوئے حالات تھے۔ تاریخی طورپر ثابت ہے کہ خلیفہ ثانی کے اجتہادات کو جماعت صحابہؓ کی تائید حاصل تھی۔ اگر احکام نبوی میں تبدیلی خلاف ایمان ہوتی تو صحابہؓ کرام اس پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔

خلیفہ ثانی کے ان اجتہادات کے پیش نظر علماے حق نے اسلامی قانون سازی میں اس بات کو ایک مسلمہ اصول کی حیثیت سے تسلیم کیاہے کہ معاملات سے متعلق شریعت کے جزئی احکام حالات اور ظروف زمانہ کی تبدیلی سے بدل جاتے ہیں، اور یہ ایک بالکل فطری بات ہے ۔قاضی بیضاوی نے لکھاہے:

وذلک لان الاحکام والا یات نزلت لمصا لح العباد وتکمیل نفوسھم فضلا من اللہ ورحمتہ وذلک یختلف باختلاف الاعصار والاشخاص کاسباب المعاش فان النافع فی عصر واحد یضر فی غیرہ (۱۵)
’’ جوا ز نسخ یہ ہے کہ اللہ کے فضل وکرم سے بندوں کے مصالح اور ان کے نفوس کی تکمیل کے لیے احکام مقرر ہوئے اور آیتیں نازل ہوئیں۔ یہ مصالح اشخاص اور ازمنہ کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، جیسے اسباب معاش وغیرہ ۔پس ہم دیکھتے ہیں کہ ایک زمانہ میں جو چیز نافع ہوتی ہے، دوسرے زمانہ میں وہی چیز مضر بن جاتی ہے‘‘۔

اس سلسلے میں عہد حاضر کے معروف ہندی عالم مولانا قاری محمد طیب صاحب مرحوؒ م کے خیالات بھی ملاحظہ ہوں: 

’’ان قواعد کلیہ میں جو ضوابط عبادات اور عقائد کے بارے میں ہیں، ان کی عملی جزئیات بھی شریعت نے خود متعین کر دی ہیں، اس لیے ان میں تغیر وتبدیل یا کسی تشکیل جدید کاسوال پید انہیں ہوتا، البتہ معاملاتی ،معاشرتی اور سیاسی واجتماعی امور میں چونکہ زمانے کے تغیرات سے نقشے ادلتے بدلتے رہتے ہیں، اس لیے شریعت نے ان کے بار ے میں کلیات زیادہ بیان کی ہیں اور ان کی جزئیات کی تشخیص کو وقت کے تقاضوں پر چھوڑ دیا ہے جن میں اصول وقواعد کلیہ کے تحت توسعات ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے‘‘۔(۱۶)

چوتھی صدی ہجری تک مذکورہ تشریعی اصول کے مطابق اجتماعی امور سے متعلق احکام شریعت میں، خواہ ان کا تعلق نبی ﷺ کے اجتہادات سے ہو اور خواہ صحابہؓ کے اجتہادات سے، حالات زمانہ کے لحاظ سے برابر تغیر وتبدل کا عمل جاری رہا اور قیاس کے اصول پر نئے احکام وضع کیے گئے۔موجودہ مکاتب فقہ کاوجود اس تغیر کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔ لیکن چوتھی صدی ہجری کے بعد علما اور فقہا کے رویے میں واضح تبدیلی ملتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف نبی ﷺ اور صحابہؓ کے اجتہادات کو دائمی حیثیت دی بلکہ فقہا (ائمہ اربعہ) کے اجتہادات یعنی قیاسی احکام میں بھی کسی تبدیلی کو خارج از بحث قرار دیا۔

ایک زمانہ تھا کہ امام ابو حنیفہ ؒ نے معاملات سے متعلق مستند احادیث کی موجودگی میں قیاس سے کام لیا اور حدیث سے صرف نظر کر گئے۔ مثال کے طورپر نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق پانچ وسق سے کم غلے اور پھلوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے (بخاری) لیکن امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ہر قسم کی زمینی پیداوار میں خواہ پانچ وسق سے کم ہو، زکوٰۃ واجب ہے ۔اگر آج کوئی عالم دین یہ کہنے کی جرات کرے کہ نبی ﷺ نے زکوٰۃ کا جو نصاب مقرر کیاتھا، اس میں معاشی حالات کے بدل جانے کی وجہ سے تبدیلی کی ضرورت ہے تو سب سے پہلے فقہ حنفی کے پیرو ہی تکفیر کی تلوار لیے اس غریب عالم کے پیچھے دوڑ پڑیں گے۔

اصحاب علم جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے زکوٰۃ کاجو نصاب بنایا تھا، وہ اس عہدکے معاشی حالات کے مطابق تھا اور اسی کو پیش نظر رکھ کر آپ ﷺ نے حد غنا کا تعین کیا تھا۔ مثلاً یہ کہ اگر کسی مسلمان کے پاس ۲۰ مثقال سونا/ ۲۰۰ درہم چاندی ہو تو وہ غنی سمجھا جائے گا اور اس پر زکوٰۃ عائد ہو گی۔ چاندی کو بنیاد بناکر غلے، پھلوں اور جانوروں وغیرہ کانصاب مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے بالکل ظاہر ہے کہ تمام اجناس زکوٰۃ میں قدر وقیمت کے لحاظ سے مساوات تھی۔ پانچ وسق غلہ یا پھل باعتبار قیمت ۲۰۰ درہم چاندی کے مساوی تھے، لیکن بعد کے ادوار میں نہ صرف سونے اور چاندی کی قیمتوں میں فرق پیدا ہوا بلکہ دوسری اجناس زکوٰۃ کی قدرو قیمت میں بھی نمایاں تبدیلی ہوئی اور بایں طور چاندی اور دیگر اجناس زکوٰۃ میں باعتبار قدر (value) جو توازن عہد نبویﷺ میں تھا، وہ باقی نہیں رہا۔

مثال کے طورپر نبی ﷺ کے عہد میں پانچ وسق غلہ یا پھل رکھنے والے شخص کوغنی سمجھا جاتاتھا اور اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی تھی، لیکن آج کے دور میں پانچ وسق کو حد غنا قرار نہیں دیا جاسکتاہے۔ اس مقدار میں غلہ یا پھل رکھنے والا شخص غنی کے بجائے مفلس سمجھا جاتا ہے۔ حد غنا میں اس فرق کی وجہ غلے کی قیمت میں کمی اور دوسری اشیاے صرف کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔

اسلامی قانون کا تیسراماخذ اجماع ہے، یعنی اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ کرنا۔ یہ دراصل اجتماعی اجتہاد ہے جو قرآن وسنت کی نصوص کی روشنی میں انجام پاتاہے ۔ اس کے متعلق اقبال نے جن خیالات کا اظہارکیاہے، وہ فکر انگیز ہیں ۔سنت کی طرح اجماع بھی زمانی ہے، یعنی آیندہ حالات کے لحاظ سے اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے لیکن یہ تبدیلی ایک دوسرے اجماع ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ کوئی انفرادی اجتہاد کسی اجماع کو منسوخ نہیں کرسکتا ہے ۔اقبال نے ان امور سے کوئی تعرض نہیں کیا ہے۔

اس دور میں اجماع کی مختلف صورتیں ممکن ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ امیر المسلمین کی نگرانی میں علما کی ایک مجلس یہ کام کرے جس میں شریعت کے ماہرین کے ساتھ جدید فلسفہ قانون کے علما بھی شامل ہوں۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ مسلم عوام کے ذریعے منتخب مجلس یہ فریضہ انجام دے ، لیکن یہ اطمینان بخش صورت نہیں ہے کیونکہ عوامی نمائندوں کی اکثریت اسلامی قانون اور اس کے اصول استخراج سے ناواقف ہوتی ہے۔ مناسب تر صورت یہ ہے کہ اسلامی قانون کے ماہر علما کی مجلس اس کام کو انجام دے اور عوامی نمائندوں کی مجلس ضروری بحث ومباحثہ کے بعد اس کی منظوری دے ۔اگر مباحثہ کے درمیان میں کوئی مفید قانونی نکتہ ابھر کر سامنے آئے تو اس کو مجلس قانون کے پاس مزید غور وفکر کے لیے بھیجا جا سکتاہے۔ اقبال نے موخر الذکر صورت کو ترجیح دی ہے۔ 

اسلامی قانون کاچوتھا ماخذ قیاس (۱۷) ہے جو مماثلت کے اصول پر مبنی ہے۔یہ اجتہاد ہی کا دوسرا نام ہے اور کثیر الوقوع ہے۔ معلوم ہے کہ فقہ حنفی کی بنیاد اصول قیاس پر ہے۔ دوسرے مکاتب قانون کے علما، حدیث کی موجودگی میں قیاس کے قائل نہیں ہیں۔وہ ہر حال میں سنت کی پیروی کو ضروری خیال کرتے ہیں۔اس سلسلے میں اقبال نے فقہا ے حجا ز اور فقہاے عراق کے طرز فکر پر جو تنقید کی ہے، وہ بالکل صحیح ہے ۔

عام حالات میں نصوص قرآ ن وسنت کی پیروی لازمی ہے۔ پچھلے اجتہادات میں خواہ ان کا تعلق نبیﷺ کے اجتہاد سے ہو اور خواہ صحابہؓ اور تابعین کے اجتہادات سے،حذف واضافہ صرف اسی صورت میں جائز ہے جب حالات زمانہ شدت کے ساتھ اس کے متقاضی ہوں۔ البتہ نئے مسائل میں جن کے بارے میں اسلامی شریعت خاموش ہو، اصول قیاس پر عمل کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ ان مسائل میں اجتہاد نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہو جاتاہے۔

فقہا نے اصول قیاس سے جو تجاوزکیا (یعنی استدلال) وہ راقم کے خیال میں صحیح نہیں ہے ۔استحسان کے بارے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے لکھاہے کہ وہ تحریف فی الدین ہے۔ (۱۸) حقیقت یہ ہے کہ استصلاح جیسے اصول کااستعمال کرکے کسی بھی حرام کو بلطائف الحیل حلال بنایا جاسکتاہے۔ شرعی احکام کو ہر حال میں منصوصات پر مبنی ہونا چاہیے۔نصوص قرآن سے باہر کوئی قانون سازی جائز نہیں ہے۔

یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قیاسی احکام حالات اورظروف زمانہ کے تابع ہیں اور ان کی تبدیلی سے وہ بھی تبدیل ہوجائیں گے یا یوں کہہ لیں کہ ان کی اطلاقی صورتیں بدل جائیں گی۔ اس سلسلے میں حنفی فقہا کارویہ ماضی کی طرح آج بھی قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے حنفی فقہ کو، جو زیادہ تر قیاسی اور استدلالی احکام پر مشتمل ہے،ناقابل تغیر سمجھ لیاہے۔یہاں یہ بات بھی واضح کردوں کہ دین کے مہمات امور میں انفرادی قیاس جائز نہیں ہے۔ضروری ہے کہ اسلامی قانون کے ماہر علما کی ایک بڑی جماعت یہ کام انجام دے۔یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ قیاس کوئی مستقل ماخذ قانون نہیں ہے۔وہ دراصل اجتماعی اجتہاد (اجماع) کی قانونی اساس ہے جس پر نئے احکام متفر ع ہوتے ہیں۔

اقبال نے اسلامی قانون کے فروعی مآخذ مثلاً استحسان، استصلاح (۱۹) یا مصالح مرسلہ اور عرف ورواج وغیرہ کاذکر نہیں کیا ہے۔ممکن ہے کہ وہ ان فروعی ماخذ کے قائل نہ رہے ہوں۔

اسلامی قانون کے ماخذ کی نسبت اس تفصیلی گفتگو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مستقل بالذات ماخذ قانون کی حیثیت صرف قرآن مجید کو حاصل ہے اور وہ دائمی یعنی ناقابل تغیر ہے ۔دیگر مآخذ قانون کی یہ حیثیت نہیں ہے ۔وہ احوال ظروف زمانہ کے تابع ہیں یعنی قابل تغیر جیسا کہ بیان ہوا۔ جب صورت واقعہ یہ ہے تو پھر علما کا یہ کہنا کہ عہد حاضر میں اجتہاد مطلق ممکن نہیں ہے، کیونکر صحیح ہو سکتاہے؟ اجتہاد ہر دور میں فرض کفایہ ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کی بحث پوری طرح مدلل ہے۔ یہ با ت صحیح ہے کہ اس دور میں ایسے علما اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہیں جو ائمہ اربعہ کی سی نظر اور علم رکھتے ہوں۔ اس کی تلافی اس طرح ممکن ہے کہ کسی ایک عالم کے بجائے اسلامی قانون کے فاضل علما کی ایک جماعت یہ کام کرے، بالکل اسی طرح جیسے امام ابوحنیفہؒ نے اپنے عہد میں یہ کام کیا تھا۔ یوں بھی اجتہاد مطلق کے لیے ضروری ہے کہ وہ انفرادی کے بجائے اجتماعی ہو کیونکہ اس میں خطا کا امکان بہت بعید ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ علماے سلف نے اجتہاد مطلق کے لیے کڑی شرطیں محض اس لیے رکھی ہیں تاکہ موجودہ فقہی دبستانوں کا تسلط باقی رہے اور ائمہ اربعہ کے اجتہادات سے ہٹ کر کسی نئے اجتہاد کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔یہ بھی اسلاف پرستی کی ایک شکل ہے جس میں اس وقت مسلمانوں کا سواد اعظم مبتلا ہے۔ اسی کو رانہ تقلید نے ان کے قوائے فکریہ کو مفلوج بنایا اور اسلامی قانون کی ترقی رک گئی۔

گزشتہ صفحات میں ہم نے اسلامی قانون کے مآخذ کے بارے میں اقبال کے خیالات کاجو تنقیدی جائزہ لیا ہے، اس سے بالکل واضح ہو گیا کہ وہ ان مآخذ کے بارے میں ایک واضح تصور رکھتے ہیں، لیکن اسلامی قانون کے اولین ماخذ یعنی قرآن مجید کے متعلق ان کے خیالات بہت واضح نہیں تھے۔ مثلاً ان کا خیال ہے کہ قرآن مجید کے بعض احکام مقامی نوعیت کے ہیں اور ان کا اطلاق بعد کے زمانوں پر نہیں ہوتا۔اس سلسلے میں انہوں نے جرائم کی ان سزاؤں کا ذکر کیا ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں۔ انہوں نے لکھاہے کہ یہ سزائیں عربوں کے مزاج اور ان کے مخصوص تمدنی حالات کے تحت مقرر کی گئی تھیں، اس لیے مستقبل کی مسلم اقوام پر ان کو جوں کاتوں نافذ کرنا صحیح نہ ہوگا۔ ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

Shari'at values (ahkam) resulting from this application (e.g., rules relating to penalties for crimes) are in a sense specific to that people, and, since their observance is not an end in itself, they can not be strictly enforced in the case of future generations. (20)

اقبال کا یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید میں، جیسا کہ ہم اس سے پہلے لکھ چکے ہیں، جن معاملات زندگی کے متعلق کوئی قانون واضح لفظوں میں دے دیا گیا ہے، اس کی حیثیت مقامی نہیں ہے۔ اس کا اطلاق مستقبل کی جملہ اقوام عالم پر بھی ہوگا، البتہ اس کے نفاذ میں اصول تدریج (۲۱) کالحاظ رکھا جائے گا۔ ہلکی سزاؤں کے بعد سخت سزائیں ۔مثال کے طور پر قرآن مجید میں زنا کی ایک سزا قید وبند ہے۔ (۲۲) اس سے زیادہ سخت سزا کوڑوں کی ہے۔ (سورۃنور:۲) اور اس فعل شنیع کے مکرر ارتکاب کی صورت میں سخت ترین سزا رجم کی ہے، یعنی سنگ ساری ہے اوریہ اجتہاد رسول ﷺ ہے۔

اس نوع کی بعض فکری لغزشوں کے باوجود میں کہوں گا کہ اقبال قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے اس عہد میں اجتہاد کی طرف مسلمانوں کے ارباب علم وفکر کو متوجہ کیا جب قوم کے اکثر علما وفقہا نے اس اہم ضرورت کی طرف سے مکمل طور پر چشم پوشی اختیار کررکھی تھی۔ وہ اس لحاظ سے بھی قابل ستائش ہے کہ انہوں نے اس معاملے میں جرات فکر کا مظاہرہ کیا اور کسی خوف طعن وتشنیع کے بغیر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس جرات اظہار کی وجہ سے ان سے بعض فکری خطائیں سرزد ہوئیں جیسا کہ اوپر بیان ہوا، لیکن اس سے مسلمانوں کے فکری جمود کو توڑنے میں بہت مدد ملی۔ سر سید علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کی تقلیدی روش کے خلاف جو اعلان جہاد کیا تھا، اقبال کی کوشش اسی کی صدائے باز گشت ہے۔ (۲۳)

اقبال زندگی کاحر کی تصور رکھتے تھے اور یہ تصور قرآن مجید سے ماخوذ ہے۔ انہوں نے اپنی نظم ونثر دونوں میں مسلمانوں کو حرکت وعمل کی دعوت دی ہے۔ اجتہاد بھی ایک فکر ی حرکت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اقبال تقلید کے مخالف تھے جیسا کہ زیر بحث خطبے سے بالکل واضح ہے۔ اپنی مشہور نظم ’’ جاوید نامہ‘‘ میں انہوں نے لکھا ہے:

زندہ دل خلاق اعصار ودہور
جانش از تقلید گردد بے حضور
اے بہ تقلیدش اسیر، آزاد شو
دامن قرآں بگیر آزاد شو

لیکن اقبال یہ بھی کہتے ہیں کہ زمانہ انحطاط میں تقلید ہی بہتر ہے اور اسی ذریعے سے ملت کی شیرازہ بندی ممکن ہے۔ اس کی دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ عہد زوال میں بالغ نظر علما تقریباً ناپید ہوتے ہیں، اس لیے عالمان کم نظر کا اجتہاد دین وایمان کی تباہی کا موجب ہوگا۔ان حالات میں محفوظ تر طریقہ یہی ہے کہ اسلاف کی مکمل اقتداکی جائے۔جاوید نامہ کے اشعار ذیل ملاحظہ ہوں:

مضمحل گردد چو تقویم حیات 
ملت از تقلید می گیرد ثبات
راہ آبا رو کہ ایں جمعیت است
معنئ تقلید ضبط ملت است
در خزاں اے بے نصیب از برگ وبار 
از شجر مگسل بامید بہار
پیکرت دارد اگر جان بصیر 
عبرت از احوال اسرائیل گیر
زانکہ چوں جمعیتش از ہم شکست 
جز براہ رفتگاں محمل نہ بست
نقش بر دل معنئ توحید کن
چارۂ کارِ خود از تقلید کن
اجتہاد اندر زمانِ انحطاط 
قوم را برہم ہمی پیچد بساط
ز اجتہادِ عالمانِ کم نظر
اقتدا بر رفتگاں محفوظ تر

لیکن یہ وہی دلیل ہے جو اجتہاد کے منکرین ہر دور میں دیتے آئے ہیں۔ اقبال نے اسی خطبے میں اس دلیل کی تردید کی ہے ۔ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

For fear of further disintegration, which is only natural in such a period of political decay, the conservative thinkers of Islam focused all their efforts on the one point of preserving a uniform social life for the people by a jealous exclusion of all innovations in the law of shariat as expounded by the early doctors of Islam ........ but they did not see, and our modern ulama do not see that the ultimate fate of a people does not depend so much on organisation as on the worth and power of individual men. (24)
’’مزید سماجی انتشار کے خوف سے، جو سیاسی زوال کے زمانے میں ایک فطری امر ہے، اسلام کے تقلید پرست علما نے اپنی ساری توجہ صرف اس بات پر مرکوز کر دی کہ کس طرح مسلمانوں کی سماجی زندگی کی وحدت کو انتشار سے محفوظ رکھا جائے۔اس غرض کے لیے انہوں نے ضروری سمجھا کہ فقہا ے سلف نے اسلامی شریعت کی جو تشریح کردی ہے، اس سے سر مو انحراف نہ کیا جائے اور نئے خیالات سے پرہیز کیا جائے، لیکن وہ یہ بات نہ سمجھ سکے اور عہد حاضر کے ہمارے علما بھی اس کو نہیں سمجھتے کہ کسی قوم کی تقدیر کافیصلہ سماج کی تنظیم سے کہیں زیادہ افراد کی لیاقت اور ان کی فکری قوت پر منحصرہے۔‘‘

زمانہ انحطاط میں اجتہاد کے جس خطرے کا ذکر اقبال نے ’’جاوید نامہ‘‘ کے اشعار میں کیا ہے، اس کا تعلق ا نفرادی طریقہ اجتہاد سے ہے۔ اجتماعی اجتہاد کی صورت میں عالمانِ کم نظر کے اجتہاد کے نقصانات سے بچا جاسکتاہے۔

کسی زوال پذیر قوم کی تجدیدواحیا کے لیے نہایت ضروری ہے کہ اس میں ایک ایسی جماعت ہو جس کی قوت فکریہ نہ صرف بیدار ہو بلکہ وہ نئے حالات ومسائل کافکر کی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو جیسا کہ اقبال کا بھی خیال ہے۔ آج دنیا میں مسلمان نہ تعداد کے اعتبارسے کم ہیں اور نہ مادی اسباب ووسائل کے لحاظ سے کسی قوم سے ہیچ وپوچ ہیں۔ لیکن ذہنی وفکری اور اخلاقی قوت کے اعتبارسے وہ بہت سی قوموں سے بلاشبہ فروتر اور کم مایہ ہیں، اور یہ دونوں چیزیں بڑی حد تک تقلید اعمیٰ کے ہی برگ وبار ہیں۔ اس لیے دور انحطاط میں تقلید کی حمایت کامطلب عمل انحطاط کو مزید مستحکم اور مستمر بنانا ہوگا۔ تقلید عوام کے لیے بے شک جائز ہے، لیکن قوم کے اصحاب علم کے لیے کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔

(مصنف کی کتاب ’’خطبات اقبال: ایک مطالعہ‘‘ سے ماخوذ)


حوالہ جات


(۱)

 The Reconstruction of Religious Thought In Islam: The Principle of Movement in the Structure of Islam, p.169

(۲) فقہا نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ مسئلہ کے نظائر میں جو حکم موجود ہے، اس کو کسی قوی وجہ سے چھوڑ کراس کے خلاف حکم لگانا۔ (منہاج الاصول ) اس کا مقصد مشکل کو چھوڑ کر آسان صورت اختیار کرناہے۔اس میں ظاہری قیاس کو ترک کرکے اس چیز کو اختیار کیا جاتاہے جو لوگوں کی ضرورتوں کے زیادہ موافق ہوتی ہے۔ (المبسوط ج ۱۰، فی الاستحسان)

(۳)

 The Principle of Movement In the Structure of Islam, p.172

(۴) ایضاً ص ۱۷۳ 

(۵) ایضاً ص ۱۷۵

(۶) ایضاً ص ۱۷۴

(۷) ایضاً ص ۱۷۵

( ۸) ایضاً ص ۱۷۷

(۹)ایضاً ص ۱۷۷،۱۷۶

(۱۰) ایضاً، ص ۱۷۸

(۱۱) الموافقات، علامہ شاطبی، ج۴، المسئلۃ الثالثۃ

(۱۲) حجۃ اللہ البالغۃ، ج۱، باب ماکان علیہ حال اہل الجاہلیۃ

(۱۳) ایضاً ج۱ ،باب اسباب نزول الشرائع الخاصۃ

(۱۴)دیکھیں ،بخاری ج۱، باب خروج النساء الی المسجد

(۱۵) تفسیر بیضاوی ص ۹۸

(۱۶) فکر اسلامی کی تشکیل جدید (مقالات سیمینار، منعقدہ ۱۹۷۶ء جامعہ اسلامیہ دہلی) خطبہ مولانا قاری محمد طیبؒ ،ص ۴۴

(۱۷) فقہا نے لکھا ہے کہ دو مسئلوں میں اتحاد علت کی وجہ سے جو حکم اس مسئلے کا ہے، وہی حکم دوسرے مسئلے کا قرار دینا قیاس ہے ۔ اس کی تعریف یوں بھی کی گئی ہے کہ جب فقہا فرع (نیا مسئلہ) کا حکم اصل (سابقہ فیصلہ) سے نکالتے ہیں تو ا س کو قیاس کہتے ہیں۔ (دیکھیں حسامی ص ۹۱)

(۱۸) حجۃ اللہ البالغۃ ج ۱، ص ۱۲۰

(۱۹) فقہا کی اصطلاح میں صرف ضرورت او رمصلحت کو بنیاد بنا کر مسائل استنباط کرنے کا نام ہے، خواہ شریعت کی کوئی اصل اس کی شہادت نہ دے اور نہ ہی وہ اس کو لغو کہے، لیکن وہ حکم مصالح پر مبنی ہو اور عقل ا س کو قبول کرتی ہو۔

(۲۰)

 The Principle of Movement in the Structure of Islam, p.172

(۲۱) اسلامی شریعت میں اصول تدریج کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پہلے مفصل کی وہ سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے۔ پھر جب لوگ اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوگئے تو اس وقت حلال وحرام کے احکام نازل ہوئے۔اگر اول دن ہی یہ حکم نازل ہوتا کہ لوگو، شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے ۔اسی طرح اگر ابتدا میں زنا سے اجتناب کاحکم نازل ہوتا تو لوگ کہہ اٹھتے کہ ہم اس سے ہر گز باز نہ آئیں گے۔ (دیکھیں ،بخاری ،باب تالیف القرآن)

(۲۲)دیکھیں،سورۃ نساء :۱۵ ۔ اس قید وبند کی کوئی مدت متعین نہیں ہے۔ اس کا تعین حالات اور جرم کی نوعیت کے اعتبار سے ہوگا۔ بہت سے علما نے لکھا ہے کہ سور ہ نور میں بیان کردہ سزا نے سورۃ نسا کی سزا ئے زنا کو منسوخ کردیاہے، لیکن راقم سمجھتاہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہواہے۔قرآن مجید میں بیان کردہ کوئی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا ہے۔ مخصوص حالات کی وجہ سے وہ صرف معطل ہوجاتاہے، اور جوں ہی حالات اس کے موافق ہوتے ہیں، وہ حکم دوبارہ نافذ ہوجاتاہے ۔ایک ناموافق اور ناپختہ مسلم سماج میں اسلامی قانون کے معطل احکا م کی طرف مراجعت کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ اصول تدریج کے مطابق پہلے اسلام کے ابتدائی دور کے احکام، جو بعد میں معطل ہوگئے تھے ،نافذ ہوں گے اور پھر آہستہ آہستہ دور آخر کے قوانین کی تنفیذ ہوگی۔ اصول تدریج کی عدم رعایت ہی کی وجہ سے آج اکثر مسلم ملکوں میں اسلامی شریعت کا بڑا حصہ غیر نافذ العمل ہے۔

(۲۳) بلاشبہ اسلامی عقاید کی تفہیم میں سرسید سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، لیکن اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان کی اجتہادی مساعی نے مسلمانوں کے فکری جمود کو توڑ نے میں نمایاں رول ادا کیا ہے، اور اس کے اثرات ان کے بعد کے اہل علم کی تحریروں میں صاف طور پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔

(۲۴)

 The Principle of Movement in the Structure of Islam, p.151


شخصیات

نومبر ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۱۱

اقبالؒ کا تصور اجتہاد: چند ضروری گزارشات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

علامہ اقبال کے تصورات تاریخ
پروفیسر شیخ عبد الرشید

نطشے کا نظریہ تکرارِ ابدی اور اقبال
ڈاکٹر محمد آصف اعوان

اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اقبال کا خطبہ اجتہاد: ایک تنقیدی جائزہ
الطاف احمد اعظمی

مکاتیب
ادارہ