بالاکوٹ کا سفر: چند تاثرات

مولانا محمد یوسف

(رمضان المبارک کے دوران میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کا ایک گروپ، جس میں مولانا حافظ محمد یوسف اور ڈاکٹر محمود احمد بھی شامل تھے، بالاکوٹ گیا اور زلزلہ سے متاثر ہونے والے افراد اور خاندانوں کو میڈیکل ایڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ الشریعہ اکادمی کی طرف سے کچھ امدادی رقوم تقسیم کیں۔ اس سلسلے میں لندن کے محترم میاں محمد اختر صاحب اور الشریعہ اکادمی کے بزرگ اور مہربان معاون ڈاکٹر انعام اللہ صاحب آف اٹک نے خصوصی تعاون فرمایا۔ اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیر سے نوازیں۔ آمین۔ مولانا حافظ محمد یوسف نے اس سفر کے حوالے سے درج ذیل مختصر تاثرات واحساسات قلم بند کیے ہیں ۔ مدیر)


سفر کے محرک اٹک سے ہمارے ایک مخلص اور محترم دوست ڈاکٹر انعام اللہ صاحب (چائلڈ اسپیشلسٹ) تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے فون پر ہمیں زلزلہ زدہ علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کے لیے جاری سرگرمیوں میں شرکت کی دعوت دی جسے ہم نے اپنی سعادت سمجھتے ہوئے قبول کر لیا۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریک پر میں نے چند مزید احباب کو بھی ا س سفر میں شریک ہونے کی دعوت دی، چنانچہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ سے چھ افراد پر مشتمل ایک ٹیم تیار ہو گئی جس میں راقم الحروف کے علاوہ الشریعہ فری ڈسپنسری کے انچارج ڈاکٹر محمود احمد صاحب اور اکادمی کے رفقا وطلبہ میں سے محمد اکرام، فخر عالم، عبد الرشید اور محمد عارف شامل تھے۔ اس مختصر سی جماعت کی قیادت رسماً تو میرے ذمے تھی لیکن عملاً ڈاکٹر محمود احمد صاحب ہمارے رہنما تھے۔ 

بالاکوٹ میں ہم نے انفرادی، تنظیمی اور حکومتی سطح پر جاری امدادی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا۔ حکومتی سطح پر فوج کی امدادی ٹیمیں تو اپنی ذمہ داریاں انجام دے ہی رہی تھیں، دینی رفاہی تنظیموں نے بھی اس حادثے میں ایسا بھرپور کردار ادا کیا ہے کہ صدر پاکستان کے علاوہ عالمی میڈیا بھی بادل نخواستہ ان کا اعتراف کر چکا ہے۔ الرشید ٹرسٹ، جماعت اسلامی، الرحمت ٹرسٹ، جماعۃ الدعوۃ، تبلیغی جماعت اور جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے زیر اہتمام قائم ریلیف کیمپوں کی امدادی سرگرمیاں نمایاں طور پر دکھائی دے رہی تھیں۔ بالخصوص الرحمت ٹرسٹ کی ٹیموں نے دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں سبقت حاصل کی۔ نامعلوم وجوہ کی بنا پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کوئی حصہ امدادی سرگرمیوں میں دکھائی نہیں دیا۔ بین الاقوامی سطح پر کوریا، چین، ترکی اور امریکہ کی ٹیمیں بالاکوٹ شہر میں بھرپور اور موثر کردار ادا کرتی ہوئی نظر آئیں۔

ہم بالاکوٹ پہنچے تو شہر کی سطح پر تو امدادی سرگرمیاں پوری تن دہی کے ساتھ جاری تھیں، لیکن گرد ونواح کے کئی علاقوں تک ابھی تک کسی قسم کی کوئی امداد نہیں پہنچی تھی۔ چنانچہ ہم نے ملک کی معروف دینی درسگاہ جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے کیمپ کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں کے لیے ایسے ہی علاقوں کا انتخاب کیا۔ 

بالاکوٹ کے ایک بلند وبالا پہاڑ پر واقع ایک جھونپڑی میں ہم نے نویں کلاس کی ایک طالبہ کی زخمی ٹانگ پر مرہم پٹی کی۔ اس نے بتایا کہ زلزلے کے وقت ۸۰۰ دیگر طالبات کے ساتھ وہ اپنے اسکول میں تھی اور زلزلے میں اسکول کی پرنسپل اور کئی طالبات ومعلمات جاں بحق ہو گئی ہیں۔

پہاڑ سے ہم نے شہر پر نگاہ ڈالی تو یوں لگا جیسے شہر خموشاں سامنے ہو۔ حد نگاہ تک منہدم عمارات کا ملبہ، ٹوٹی ہوئی کرسیاں، چارپائیاں، بیڈ، الماریاں، صوفے، روشن دان، کھڑکیاں، دروازے اور بکھرا ہوا گھریلو سامان کباڑ خانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ڈاکٹر محمود صاحب نے یہ منظر دیکھ کر کہا کہ آج ہم بالاکوٹ کو نہیں، پست کوٹ کو دیکھ رہے ہیں۔ 

ہمارا گزر ایک ایسی گری ہوئی عمارت کے پاس سے ہوا جہاں جابجا بستے، بوٹ، ٹوٹی ہوئی پنسلیں اور قلم بکھرے ہوئے تھے۔ یہ ملبہ ایک اسکول کی عمارت کا تھا جہاں ۸۰۰ نونہال زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے تھے۔ ان میں سے ۶۰۰ اس حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

راہ چلتے منہدم عمارات کے ملبے پر جابجا بلدیاتی امیدواروں کے پوسٹر نظر آئے۔ ایک شکستہ دیوار پر شاہ عالم خان امیدار برائے ناظم یونین کونسل بالاکوٹ کااشتہار نظر آیا۔ ایک شخص نے بتایا کہ یہ صاحب بلدیاتی الیکشن میں کامیاب ہو گئے تھے، لیکن زلزلے میں اپنے خاندان سمیت عالم بقا کو روانہ ہو گئے۔

اپنے گھروں کے ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہونے والوں میں سے تو اکثر کو نکال کر دفنایا جا چکا ہے، لیکن بازاروں اور گلی کوچوں میں دبی ہوئی اکثر لاشوں کو ابھی تک نہیں نکالا جا سکا ۔ زندہ رہنے والوں کو کچھ پتہ نہیں کہ ان کے پیارے کس بازار یا کس گلی کوچے میں زندگی کی بازی ہار کر ملبے کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان عمارتوں کے ملبے سے اس قدر ناگوار بدبو اٹھ رہی تھی کہ ان کے قریب سے گزرنا محال ہو رہا تھا۔ ملبے کے نیچے بے شمار انسان اور جانور مدفون ہیں جن کی لاشوں سے یہ بدبو اٹھ رہی ہے۔ 

بالاکوٹ کے بلیانی باغ میں ہم نے ایک ہی خاندان کی چالیس قبریں دیکھیں۔ سانولے رنگ کا ایک ادھیڑ عمر شخص برستی بارش اور یخ بستہ ہوا میں خیمے سے باہر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سلام کیا۔ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ اگر اسے کوئی تکلیف ہے تو میں اس کو دوا دوں؟ اس نے کہا، تمھارے پاس میرے غم کی کوئی دوا ہے تو دے دو۔ اس نے بتایا کہ نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اس کے محلے کا بھی کوئی فرد بشر زندہ نہیں بچا۔ وہ رو پڑا اور بار بار یہ کہتا رہا کہ میرا کیا بنے گا؟ میں اس کو تسلی کے دو لفظ بھی نہ کہہ سکا۔ شہر میں ہر شخص اسی طرح غم والم کی تصویر ہے۔ ہر بازار، گلی کوچے، ہر گھر بلکہ ہر جھونپڑی میں غم کی ایسی ہی داستانیں بکھری ہوئی ہیں اور خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہر شخص کو جھنجوڑ رہی ہیں کہ ’فاعتبروا یا اولی الابصار‘۔ کئی خاندانوں کو ہم نے دیکھا جو کھلے آسمان تلے بیٹھے تھے۔ کئی باپردہ خواتین گلیوں میں کپڑے چنتی نظر آئیں۔

ہمارے سروے کے مطابق بالاکوٹ اور گرد ونواح کے علاقوں کی ۷۰ فی صد آبادی اس سانحہ میں جاں بحق ہو گئی ہے۔ اگر شرح اموات کو مجموعی آبادی پر تقسیم کیا جائے تو ہر ہر گھر سے اوسطاً چار پانچ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اکثر سرکاری ونجی عمارات منہدم ہو چکی ہیں۔ جو عمارتیں کھڑی ہیں، دراڑیں پڑ جانے کی وجہ سے وہ رہایش کے قابل نہیں ہیں اور ان کے مکین ان کے اندر جانے سے ڈرتے ہیں۔ پورے بالاکوٹ شہر میں صرف ایک مارکیٹ اور مشرقی جانب میں پہاڑ پر واقع صرف ایک بستی ہمیں ایسی نظر آئی جو زلزلے کے آثار سے بالکل محفوظ ہے۔ 

زندہ رہنے والوں میں سے گنتی کے چند افراد ایسے ہیں جنھیں کوئی گزند نہیں پہنچی، ورنہ اکثر لوگ زخمی ہیں۔ بہت سے مردوں، خواتین اور بچوں کی ہڈیوں کا فریکچر ہو گیا ہے۔ زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ خیموں میں مرہم پٹی کے دوران میں ہم نے کئی بچے شدید زخمی حالت میں کراہتے ہوئے اور کئی نیم بے ہوشی کی حالت میں اپنی ماؤں کی گود میں بے سدھ پڑے ہوئے دیکھے۔ ایک ایسے بچے کو مرہم پٹی کے لیے لایا گیا جس کے سر میں اتنا گہرا زخم تھا کہ سر کا اندرونی حصہ صاف نظر آ رہا تھا۔ میں نے اس کو ٹافی کی پیش کش کی تو اپنی حالت سے بے نیاز بچے نے معصومیت کے ساتھ ٹافی لینے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ اس کو ٹافی دیتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

یہ زخمی بچے امت مسلمہ کے نونہال ہیں جس کے رہبر ورہنما محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب، وطن، قوم اور زبان سے قطع نظر ہر بچے کے ساتھ شفقت ومحبت اور حسن سلوک کا درس دیا اور یتیم بچوں کو بہلانے کے لیے اپنے کندھوں پر سوار کرایا۔ کیا ہم ان بچوں، بوڑھوں، جوانوں، زخمی عورتوں اور بے سہارا اور بے یار ومددگار لوگوں کو ان حالات میں تنہا چھوڑ دیں گے؟ ہرگزنہیں۔ ہمیں تو روز اول سے سبق ہی یہ پڑھایا گیا ہے کہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

آخر میں ہم خداے رحیم کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں کہ یا اللہ! اس امت پر رحم فرما۔ جو لوگ اس سانحے میں جاں بحق ہو گئے ہیں، ان کی مغفرت فرما۔ زخمیوں کو شفاے کامل وعاجل عطا فرما۔ بے آباد لوگوں کو پہلے سے بہتر آبادی اور پہلے سے اچھا روزگار عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین

اخبار و آثار

(دسمبر ۲۰۰۵ء)

Flag Counter