رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مراسلات

حافظ عبد الواجد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کے لیے رسول بنا کر بھیجا اور تمام انسانوں تک حق کا پیغام پہنچانے کا سلسلہ شروع کرنا آپ کی ذمہ داری تھی، ورنہ حق رسالت ادا نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرہ عرب کے گرد ونواح میں اس وقت کے تمام بادشاہوں کے نام خط لکھا۔ علامہ احمد بن علی القلقشندی کی تصنیف ’صبح الاعشیٰ فی صناعۃ الانشاء‘ کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مراسلات کی مختلف نوعیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ ان خطوط کو دو بنیادی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

ایک، مسلم امرا وقبائل کے نام مراسلات،

دوسرے، غیر مسلم امرا وقبائل کے نام مراسلات۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن غیرمسلم بادشاہوں اور امراے قبائل کو خطوط ارسال فرمائے، ان میں سے نمایاں حسب ذیل ہیں:

شاہ حبشہ اصحمہ نجاشی، شاہ روم قیصر ہرقل، شاہ فارس کسریٰ خسرو پرویز، شاہ اسکندریہ ومصر مقوقس، شاہ بحرین منذر بن ساویٰ، شاہ یمامہ ہوذہ بن علی، شاہ دمشق حارث غسانی، شاہ عمان جیفر وعبد، اہل نجران، مسیلمہ کذاب، بنو جذامہ، بنو بکر بن وائل، ذی الکلاع وغیرہ۔

چند غیر مسلم امرا کے علاوہ اکثر امرا وقبائل نے اسلام قبول کر لیا اور کفر وشرک کے اندھیروں سے نکل کر ایمان واسلام کی روشنی میں آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرمسلموں کے علاوہ مسلم امراے قبائل کے نام بھی فرامین جاری فرمائے۔ ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:

خالد بن ولید، منذر بن ساویٰ، فروہ بن عمرو جذامی، اکیدر، وائل بن حجر، مالک بن نمط، بنی نہد، اہل حضرموت، اقیال عباہلہ۔

مطالعہ سیرت میں یہ خطوط متنوع پہلووں سے اہمیت کے حامل ہیں۔ ذیل میں ان میں سے چند پہلووں پر روشنی ڈالی جائے گی۔

دعوت وانذار کے پہلو سے خطوط کی اہمیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین عرب کے علاوہ عیسائی، یہودی اور مجوسی امرا اور سرداروں کے نام دعوتی پیغامات اور مراسلات کا سلسلہ جاری رکھا جن میں انھیں وعظ ونصیحت کی گئی اور ایمان وعمل کی دعوت دی گئی۔ 

مشرکین عرب کے نام دعوتی پیغامات میں آپ نے انھیں شرک وبت پرستی سے اجتناب اور تنہا اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دی اور اپنی آخرت کو سنوارنے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کرحساب دینے پر یقین کی دعوت دی۔ علاوہ ازیں رسالت محمدی تسلیم کرنے کو کہا اور دینی ودنیاوی معاملات میں اتباع نبوت کا حکم دیا۔ 

عیسائیوں کے نام دعوتی مراسلات میں انھیں مشترک امر یعنی توحید اور عیسیٰ بن مریم کے اللہ کا بندہ ورسول اور کلمۃ اللہ ہونے کے ناتے سے اسلام اور اپنی نبوت کی تصدیق واتباع کی دعوت دی ہے جیسا کہ قیصر، مقوقس اور اہل نجران کے نام خطوط سے عیاں ہے۔ 

مجوسیوں کے نام پیغام میں آپ نے انھیں اہرمن اور یزداں کی پوجا چھوڑ کر ایک اللہ عز وجل کی طرف بلایا اور تمام کائنات کے لیے اپنے رسول ہونے کا اعلان کیا، اور انھیں توحید ورسالت پر ایمان کی دعوت دی، جیسا کہ خسرو پرویز کسریٰ کے نام خط سے ظاہر ہے۔ کسریٰ سے اسلام قبول کرنے کی صورت میں امن وسلامتی کا وعدہ فرمایا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کی صورت میں اسے تمام اہل فارس کی گمراہی اور تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا، لیکن اس بدبخت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک کو پھاڑ ڈالا۔ رسول اللہ نے اس کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی پیش گوئی فرمائی جو کہ سچ اور درست ثابت ہوئی۔

مسلم امرا وقبائل کے نام مراسلات دعوتی نوعیت کے نہیں، بلکہ وعظ ونصیحت پر مبنی ہیں اور بعض نماز، روزہ کے مسائل اور خصوصاً زکوٰۃ کی تفصیلات پر مشتمل ہیں، مثلاً زکوٰۃ کی مقدار نصاب، مقدار واجب زکوٰۃ، زکوٰۃ میں دیے جانے والے مال کی اہمیت، نوعیت او رحالت وغیرہ۔ مسلم امرا کے نام بعض مراسلات انتظامی نوعیت کی ہدایت پر مشتمل ہیں، مثلاً امرا کو اراضی دینے اور ان کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے احکام۔ اہل دومۃ الجندل کو ملکیت باغات اور اراضی کی نوعیت کا خط لکھ کر ایک قسم کا معاہدہ فرمایا۔ اسی طرح وائل بن حجر کے نام خط میں ان کی تمام جائیداد ان کی ملکیت میں برقرار رکھا گیا ہے اور کسی دوسرے آدمی کے اس زمین سے ہر قسم کے تعرض کوممنوع قرار دیا گیا ہے۔ معاہدات کے ضمن میں مختلف قبائل کو عہد وپیماں پر کاربند رہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ مسلم امرا وقبائل کو ایمان وعمل پر ثابت قدم رہنے کی صورت میں اجر وثواب، انعام واکرام اور جنت کی خوش خبری سنائی گئی ہے جبکہ غیر مسلم امرا کو اسلام قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے پر امن، سلامتی اور مغفرت وبخشش کی نوید دی گئی ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت بشیر ونذیر پیغمبرانہ صداقت کی وجہ سے کفار کو ڈنکے کی چوٹ ایمان سے انکار کی حالت میں جزیہ اور جزیہ سے انکار پر جنگ کی دھمکی دی اور جہنم کے عذاب سے ڈرایا دھمکایا اور ان کو اس سے آگاہ کر دیا کہ حکمران وسردار قبیلہ کے اسلام قبول نہ کرنے پر اس کی تمام رعایا اور اہل قبیلہ کا گناہ اس کی گردن پر ہوگا، جب کہ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عدم عمل کی صورت میں ان کی املاک کی واپسی اور امرا واقیال کی معزولی کی دھمکی دی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے ڈرایا ہے۔

مراسلات کی سیاسی اہمیت

ساتویں صدی عیسوی میں دنیا میں دو بڑی بنیادی سلطنتیں قائم تھیں، یعنی سلطنت روم اور سلطنت فارس، جبکہ جزیرہ نمائے عرب میں قبائلی طرز زندگی رائج تھا۔ سلطنت روم میں عیسائی مذہب ترقی کر رہا تھا کیونکہ قیصر مذہباً نصرانی تھا اور مسیحی مذہب کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ یہی حیثیت فارس میں مجوسی مذہب کو حاصل تھی اور وہاں کی آبادی اہرمن اور یزداں کو اپنا خالق تصور کرتی تھی۔ جزیرہ عرب میں گردش ایام نے ملت ابراہیمی کی جگہ بت پرستی کو جنم دیا۔ لوگوں نے ملت ابراہیمی سے روگردانی کی اور اللہ کے علاوہ کئی معبودان باطلہ بنا لیے تھے۔ یوں رومیوں مسیحی گمراہیوں کا شکار ہو چکے تھے، فارسی عوام توہم پرستی میں مبتلا تھے اور عرب قبائل ملت ابراہیمی سے انحراف کے علاوہ فخر ومباہات اور شدید باہمی نفرت اور تعصب کی فضا میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ پوری دنیا کفر وشرک کی لپیٹ میں تھی اور کفر وشرک کی ظلمت چاروں طرف چھائی ہوئی تھی۔ انسانیت گمراہیوں کی دلدل میں بری طرح دھنسی ہوئی تھی اور ظلم وستم کی چکی میں بری طرح پس رہی تھی۔ اب وقت آ گیا تھا کہ دنیا سے ظلم وستم کا راج ختم کر دیا جائے، ذات پات کی اونچ نیچ اور امیر وغریب اور آقا وغلام کا فرق مٹا دیا جائے اور کفر وشرک کی بیخ کنی کر دی جائے۔ دنیا میں ہمہ گیر اور عالم گیر امن کی ضرورت تھی، لہٰذا دنیاے ضلالت کے عین وسط میں آفتاب نبوت ومہتاب رشد وہدایت طلوع ہوا ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آفاقی امن وفلاح کا پیغام لے کر وادئ فاران میں نمودار ہوئے اور لوگوں کے سامنے اپنا پیغام پیش کیا۔ چند ارواح مقدسہ نے اس پیغام کو دل وجاں سے قبول کر لیا اور بارگاہ رسالت میں حاضری کا شرف حاصل کرتے ہوئے فیض یاب ہونے لگے تھے۔ اب وقت آ گیا تھا کہ جزیرہ عرب کو رشد وہدایت کی آغوش میں لینے کے بعد رحمت للعالمین ہونے کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ چنانچہ جاں نثاروں کو جمع کر کے اعلان کیا گیا کہ مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت اور رسول بنا کر بھیجا گیا، لہٰذا پیغام امن وانقلاب لے کر قریب وبعید قبائل اور ارباب اقتدار کے پاس جاؤ اور انھیں اسلام کی آغوش میں لے آؤ، بصورت دیگر وہ ذلیل ورسوا ہو کر جزیہ دینے کے لیے آمادہ ہو جائیں، ورنہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار رہیں، کیونکہ یہی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ مذکورہ تینوں صورتوں میں سے ایک کے انتخاب میں ہر شخص کو ضمیر ورائے کی مکمل آزادی دی گئی، چنانچہ کئی ایک حضرات نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور کئی ایک نے خاموشی اختیار کر لی۔ صرف کسریٰ نے اپنی بدبختی کو دعوت دی اور نامہ مبارک کو چاک کر کے قعر مذلت کے کنویں میں جا گر اور ہمیشہ کے لیے ناکام ونامراد ہو گیا۔ 

جہاں دیگر عرب قبائل اور روم وفارس اور حبشہ کے حکمرانوں کو دعوتی مراسلات ارسال کیے گئے، وہاں یمن کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ یمن اپنی زرخیزی، شادابی، خوش حالی اور منظم ومستحکم نظام حکمرانی کی وجہ سے عرب کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں نمایاں وامتیازی حیثیت رکھتا تھا، لہٰذا عالمی دعوتی پروگرام میں یمن پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اکثر خطوط اس علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائل کی طرف لکھے گئے ۔ مراسلات کے ذریعے دی جانے والی دعوت کو قبول کرتے ہوئے مندرجہ ذیل قبائل وفود کی صورت میں دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور اسلام سے بہرہ ور ہو کر رشد وہدایت کے ستارے بن کر دنیا کو جگمگائے:

وفد عبد القیس، وفد اشعریین، وفد کندہ، وفد ازد، وفد ہمدان، وفد غامد، وفد نخع، وفد بنی الحارث، وفد دوس، وفد تجیب، وفد بہرا، وفد بلی، اور وفد نجران وحضرموت۔

یہ وفود اپنے سرداروں اور ممتاز افراد کی قیادت میں حاضر ہوئے اور ذہنی وفکری انقلاب کے بعد دینی مسائل سیکھتے، سیاسی نکات حاصل کرتے اور نصائح سے فیض یاب ہو کر اصول جہاں بانی وحکمرانی معلوم کر کے اپنے اپنے علاقوں کو واپس روانہ ہوگئے۔

مراسلات کے ادبی خصائص

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مراسلات میں مکتوب نگاری کی تمام عمدہ واعلیٰ خوبیاں نمایاں ہیں۔ کلام اللہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے یکتا ہونے کے ساتھ عروج وکمال کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ آپ کے مراسلات کو عمیق نظر سے دیکھا جائے تو فصاحت وبلاغت کی بھی کئی خصوصیات روز روشن کی طرح نمایاں ہیں۔ مثلاً آپ کے مراسلات طوالت بیان سے پاک اور مسجع ومقفیٰ عبارت آرائی کے تکلف وتصنع سے کوسوں دور ہیں۔ الفاظ کے گورکھ دھندوں اور لفظ وبیان کی نمایش کے بجائے اسلوب کی سادگی نمایاں ہے۔ مراسلات ایجاز واختصار کا عظیم شاہکار ہیں۔ مراسلات کے علاوہ یہ خصوصیت آپ کی عام گفتگو میں بھی پائی جاتی ہے۔ مراسلات کا ہر جملہ پیغمبرانہ صداقت وامانت کا آئینہ دار ہے۔ یہ پختہ یقین، بلند حوصلہ اور عزم مصمم کے ساتھ دعوت حق سے معمور ہیں جن میں بڑے واضح اور نمایاں انداز میں اصول دین یعنی توحید ورسالت کی تبلیغ کی گئی ہے۔ ان کا لہجہ تند خوئی کے بجائے نرم خوئی ودل جوئی کا عمدہ نمونہ ہے۔ چند ایک امرا کے علاوہ اکثر بادشاہ آپ کے مراسلات سے متاثر ہوئے اور آپ کی دعوت پر لبیک کہا۔ مختلف قبائل سے آنے والے وفود کی اکثریت آپ کی نرم خوئی اور اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئی۔ آپ کے مراسلات پر نزاکت ولطافت کی گہری چھاپ ہے۔ 

مراسلات کا انداز تحریر واسلوب بیان بڑا سہل، نمایاں اور واضح ہے۔ تمام مراسلات کو پیش نظر رکھ کر ان کے اسلوب کو جانچا جائے تو ان کا اسلوب انشاء خطوط کا رہنما بن جاتا ہے۔ 

مراسلات کی ابتدا میں بحیثیت مرسل اسم گرامی لکھا گیا ہے۔ اسم گرامی کے ہمراہ مشہور صفت، رسول اللہ تحریر کی گئی ہے۔ بعض مراسلات میں اسم گرامی کے ساتھ لفظ عبد اللہ کا اضافہ کیا گیا تاکہ نصاریٰ کے عقیدہ فاسدہ، الوہیت مسیح کا لطیف پیرایے میں رد ہو جائے۔ مکتوب الیہ کا نام، مشہور لقب یا عرف ذکر کیا گیا ہے۔ ہرقل کے ساتھ ’عظیم الروم‘ کے لفظ سے اشارہ ہے کہ مکاتیب ومراسلات میں مناسب القاب سے مکتوب الیہ کو خطاب کیا جائے جیسے ’ہرقل عظیم الروم‘، ’کسری ابرویز ملک الفرس‘ اور ’النجاشی ملک الحبشۃ‘۔ امن وسلامتی کا جملہ مکتوب الیہ کے حسب حال مختلف ہو جاتا ہے۔ ان سے یہ رہنمائی بھی ملتی ہے مسلم مکتوب الیہ کے لیے ’سلام علیک‘ اور ’سلام علی من آمن باللہ ورسولہ‘ جبکہ کافر مکتوب الیہ کے لیے ’سلام علی من اتبع الہدی‘ لکھا جائے۔ جامع الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جائے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی جائے۔ 

مراسلات میں جامع انداز میں وعظ ونصیحت اور پند وارشاد کا اہتمام ہے۔ قاصدوں کی فرماں برداری کواپنی اطاعت واتباع قرار دیا گیا ہے۔ خطا کاروں سے درگزر کا برملا اعلان کیا گیا ہے۔ دعوت اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں نفاذ جزیہ کا حکم ہے۔ بغرض تصدیق مراسلات کے آخر میں مہر رسالت کی چھاپ ہے۔ مہر میں سب سے اوپر لفظ اللہ، درمیان میں لفظ رسول اور نیچے لفظ محمد نقش کیا گیا۔

مندرجہ بالا اسلوب تحریر اکثر مراسلات میں عیاں ہے، البتہ کچھ مراسلات میں اسلوب تحریر اور انداز ابتدا ذرا مختلف ہے۔ چنانچہ مالک بن نمط اور رفاعہ بن زید کے نام خط کا عنوان ’ہذا کتاب‘ ہے جبکہ منذر بن ساویٰ کے نام خط کا عنوان ’سلم انت‘ ہے۔

سیرت و تاریخ

(دسمبر ۲۰۰۵ء)

Flag Counter