’’حدود آرڈیننس: کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ ۔ ’’فکر و نظر‘‘ کے تبصرے کا جائزہ

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

فکر ونظر کے شمارہ اکتوبر۔دسمبر ۲۰۰۴ میں راقم کی کتاب ’’حدود آرڈیننس: کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ پر ادارۂ تحقیقات اسلامی کے نامور محقق جناب ڈاکٹر محمد طاہر منصوری کا انتہائی وقیع تبصرہ شائع ہوا جس میں جہاں انھوں نے راقم کی حقیر کاوش کو دل آویز انداز میں سراہتے ہوئے اس کا تفصیلی تعارف پیش کیا، وہاں بعض مباحث پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ علوم اسلامیہ سے وابستہ دیگر افراد کی طرح راقم بھی طویل عرصے تک یہی سمجھتا رہا کہ حدود آرڈیننس کتاب وسنت سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوگا اور کبھی اس کے مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ان قوانین کی مخالفت کے بارے میں خیال یہ تھا کہ ایسی کوئی بھی کوشش مسلم معاشرے کو مغربی اور سیکولر معاشرے میں تبدیل کرنے کے مترادف ہوگی، لیکن بعض احباب کے توجہ دلانے پر جب حدود آرڈیننس کا مطالعہ کیا تو جو کچھ محسوس ہوا، اسے کتاب کی شکل میں پیش کر دیا گیا۔

یہ کتاب درحقیقت حدود آرڈیننس پر بحث ومذاکرے کا آغاز ہے۔ مجھے اپنی کسی رائے کے قطعی طور پر درست ہونے پر اصرار نہیں ہے اور میں ہر لمحہ کتاب وسنت کی ہدایات کے سامنے اپنے دل ودماغ کی پوری آمادگی کے ساتھ سر تسلیم خم کرنا اپنے لیے لازوال سعادت کا باعث سمجھتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس موضوع پر مزید تبصرے، تحقیقات اور آرا آئیں گی جن کی روشنی میں قانون ساز اداروں کا کام نسبتاً آسان ہو جائے گا اور اجتماعی کوشش کے نتیجے میں ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا تک رسائی حاصل کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔

ذیل میں ڈاکٹر محمد طاہر منصوری کے ان تحفظات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا راقم کی مذکورہ بالا کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے اظہار کیا۔

’حدود‘ کا مفہوم

حدود کا مفہوم متعین کرتے ہوئے کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ’حدود‘ دراصل آخری درجے کے جرائم پر آخری درجے کی یا زیادہ سے زیادہ سزائیں ہیں۔ اسلام نے ان سزاؤں میں جو تخفیف رکھی ہے، اسے برقرار رکھتے ہوئے عدلیہ کو مجرم کی حالت کے پیش نظر سزا کی کمیت اور کیفیت میں تخفیف کا اختیار ہے۔ (ص ۱۲) اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فاضل تبصرہ نگار لکھتے ہیں کہ :

’’فقہا کی تصریح کے مطابق حد ایک معین سزا ہے جس میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ اس کی مقدار کا تعین شارع نے خود کر دیا ہے۔ اگر مصنف کا موقف اختیار کیا جائے تو جرم زنا میں عدلیہ سو کوڑوں کی بجائے بطور حد دس کوڑوں کی سزا دے سکے گی۔ سوال یہ ہے کہ حد زنا میں دس کوڑے کیا شارع کی منشا اور شریعت کے تقاضے کو پورا کرتے ہیں؟‘‘ (ص ۱۵۰)

اس تبصرے میں مصنف کی طرف ایک ایسی بات منسوب کر دی گئی ہے جو اس نے نہیں کہی۔ درحقیقت مصنف نے کتاب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ’حد‘ کسی جرم میں آخری یا زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر کسی جرم میں زیادہ سے زیادہ مقررہ سزا سے کم سزا دی جائے گی تو وہ بھی حد کہلائے گی۔ اسے حد قرار دینا اور اس کی بنا پر یہ کہنا درست نہیں کہ اگر جرم زنا میں عدلیہ سو کوڑوں کے بجائے دس کوڑوں کی سزا دے تو وہ بھی مصنف کے موقف کے مطابق ’حد‘ ہوگی۔ مصنف کے خیال میں اگر عدلیہ نے قرآن کی مقرر کردہ سزا دی تو یہ حد کا نفاذ ہوگا۔ البتہ اگر اس نے زنا کے جرم میں دس کوڑوں کی سزا دی تو یہ حد کا نفاذ نہیں ہے بلکہ تعزیری سزا ہے۔ رہی یہ بات کہ کیا عدلیہ یا مقننہ کو زنا میں حد سے کم سزا دینے یا مقرر کرنے کا اختیار ہے تو اس ضمن میں مصنف کا موقف یہ ہے کہ کتاب وسنت کے کسی بھی حکم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور سنت میں ایک موضوع مسئلہ سے متعلق جتنی آیات واحادیث ہیں، سب کو یک جا کر کے دیکھا جائے تو ان سے اس مسئلہ کے مختلف جوانب واطراف کے بارے میں احکام وہدایات کی تفصیل سامنے آئے گی۔ (۱) قرآن حکیم میں اسی اصول یعنی تصریف آیات کو روبعمل لانے کی وجہ سے ہمارے دور میں نسخ فی القرآن یعنی قرآن کے کسی حکم کی مکمل منسوخی (Total abrogation) کا نظریہ دم توڑتا دکھائی دیتا ہے۔ اس حوالے سے جب ہم زنا کی سزا کے بارے میں قرآن حکیم کی آیات کا تتبع کرتے ہیں تو ہمیں سورۃ النساء کی آیات ۱۵۔۱۶ میں یہ حکم ملتا ہے:

وَاللَّاتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِ کُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً O وَالَّلذَانِ یَاْتِیَانِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا O  ۔(۲)
’’تمہاری بیویوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں، ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے جو دو فرد بد کاری کا ارتکاب کریں، ان دونوں کو تکلیف پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے در گزر کرو کہ اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

مذکورہ بالا آیات میں دو مختلف صورتوں میں دو الگ الگ ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ کسی شخص کی بیوی نے اس طرح بد کاری کا ارتکاب کیا ہے کہ اس کے جرم کے چار گواہ موجود ہیں تو ایسی عورت کو گھر میں مقید رکھنا چاہیے تا آنکہ وہ مر جائے یا اس کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی اور حکم آ جائے۔

مولانا امین احسن اصلاحی نے اس حکم کو ایسی عورت کے ساتھ مختص کیا ہے جو خود مسلمانوں کے معاشرے سے تعلق رکھتی ہے، لیکن اس کا شریک جرم مرد اسلامی معاشرے کے دباؤ میں نہیں ہے۔ (۳) جب کہ مولانا محمود حسن دیوبندی نے اسے بیویوں کے ساتھ مختص کرتے ہوئے گھریلو تادیب پر محمول کیا ہے۔ (۴) مولانا دیوبندی کی رائے قرآن کے الفاظ ’نِّسَآءِ کُمْ‘ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے کیونکہ قرآن حکیم نے بالعموم نساء کم کے الفاظ مسلمانوں کی بیویوں کے لیے استعمال کرتے ہوئے ان کے شوہروں کو ان کے بارے میں احکام دینے کے ضمن میں استعمال کیے ہیں۔ (۵)

دوسری صورت یہ ہے کہ بدکاری کے دونوں مجرم عدالتی انصاف کے لیے قاضی یاجج کے سامنے ہیں تو قرآن نے ان کو ایذا دہی یعنی تعزیری سزا دینے کا حکم دیا ہے،یعنی حاکم اور قاضی کی صواب دید کے مطابق جس قدر سزا مناسب ہو، اتنی دے دی جائے۔ (۶)

ان دونوں آیات میں سے پہلی آیت کا حکم بظاہر محدود مدت کے لیے دیا گیا، کیونکہ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً کے الفاظ سے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ حکم اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان خواتین کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی نیا حکم نہیں آ جاتا، جبکہ دوسری آیت کے حکم کے عارضی ہونے کی کوئی شہادت آیت میں موجود نہیں ہے۔ تاہم بیشتر مفسرین نے ان دونوں آیات کو منسوخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سورۃ النور کی آیت نمبر ۲ کے نزول کے بعد یہ دونوں آیات منسوخ ہو گئیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فیصلہ کرنا درست ہے کہ مذکورہ بالا دونوں آیات منسوخ ہو گئیں اور اب ان کی عملی افادیت باقی نہیں رہی؟ اس کے جواب کے لیے نسخ فی القرآن کے نظریے پر ایک اجمالی نظر ڈالنا ضروری ہے۔

نسخ فی القرآن

نسخ کے مفہوم میں متقدمین اور متاخرین میں اختلاف ہے۔ قرآن حکیم کے کسی عام حکم کی تخصیص، مطلق کی تقیید یا کسی حکم میں استثنا آجاتا تو متقدمین اس کے لیے نسخ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ شاہ ولی اللہ کے بقول صحابہ کرام اور تابعین کے کلام کے استقرا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات نسخ کا لفظ اس کے لغوی معنی میں استعمال کرتے تھے نہ کہ علماء اصول کی اصطلاح کے مطابق۔ یہی وجہ ہے کہ کسی آیت کے بعض اوصاف کی تبدیلی ان کے نزدیک نسخ کہلاتی تھی، خواہ یہ تبدیلی مدت عملی کی تعیین سے متعلق ہو، یا متبادر معنی سے غیر متبادر معنی کی طرف انتقال، یا عام کی تخصیص، یا کسی قید کے بارے میں یہ بتانا کہ وہ محض اتفاقی تھی، یا منصوص اور مقیس علیہ میں امر فارق کا بیان، یا کسی جاہلی رسم یا سابقہ شریعت کے حکم کا ازالہ، یہ تمام امور ان کے نزدیک نسخ کہلاتے تھے۔ متقدمین کے نزدیک نسخ کا مفہوم بہت عام تھا، اسی لیے قدیم اسلامی ادبیات میں منسوخ آیات کی تعداد سینکڑوں تک بتائی گئی ہے، حتیٰ کہ یہ کہا گیا ہے کہ قرآن حکیم میں پانچ سو کے قریب آیات منسوخ ہیں۔ (۷) نیز یہ کہ سورۃ التوبہ کی آیت سیف (۹:۵) نے قرآن حکیم کی ایک سو تیرہ آیات منسوخ کر دیں۔ (۸)

بعد کے ادوار میں علم اصول فقہ کی تدوین اور ہر موقع اور محل کے لیے الگ الگ اصطلاحات مقرر ہونے کے بعد متاخرین نے نسخ کو اس کے متعین معنی میں استعمال کرنا شروع کیا جسے مختصر الفاظ میں ’’کلیتاً رفع حکم‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور اس کی تعریف یوں کی گئی:

’’کسی متاخر شرعی دلیل کی بنا پر کسی شرعی حکم کا بالکل اٹھ جانا اور ختم ہو جانا نسخ کہلاتا ہے۔‘‘ (۹)

قرآن حکیم کے حوالے سے نسخ پر دو پہلوؤں سے بحث کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ کیا قرآن حکیم میں نسخ ممکن ہے یا نہیں اور دوسرے یہ کہ اگر قرآن میں نسخ ممکن ہے تو کیا ہمارے پاس موجودہ مصحف میں کوئی آیت منسوخ ہے یا نہیں؟ قرآن حکیم میں امکان نسخ کے بارے میں اہل علم کے دو گروہ ہیں۔ علما کی اکثریت امکان نسخ کی قائل ہے جبکہ ابو مسلم اصفہانی (م ۳۲۲ھ) اور ان کے پیروکار سرے سے قرآن حکیم میں نسخ کے امکان کے ہی قائل نہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن میں نسخ تسلیم کر لیا جائے تو اس سے یہ بات ماننا پڑتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک حکم نازل کرنے کے بعد کوئی بات سوجھی تو اس نے پہلے حکم کو منسوخ کر کے دوسرا حکم نازل کر دیا، لیکن یہ دلیل چنداں وقیع نہیں ہے کیونکہ احکام الٰہی جس قوم اور جن افراد کے لیے نازل ہوتے ہیں، ا ن کے حالات تغیر پذیر ہوتے ہیں، اس لیے حالات کے بدلنے سے احکام میں تبدیلی آتی ہے اور ان کی تربیت کی جاتی ہے، نیز سابقہ شریعتوں کے نسخ سے بھی وجود نسخ پر استدلال کیا جاتا ہے۔ (۱۰) لیکن اس سے زیادہ سے زیادہ قرآن حکیم میں نسخ کا امکان ثابت ہوتا ہے۔ یہ امر کہ ہمارے پا س موجود مصحف میں کوئی آیت منسوخ ہے، صرف روایت سے ثابت ہو سکتا ہے، درایت سے نہیں، اس لیے ا س کے ثبوت کی تین صورتیں ممکن ہیں:

۱۔ قرآن حکیم میں اس مضمون کی کوئی آیت موجود ہو کہ فلاں حکم جو پہلے تھا، اب منسوخ کر دیا گیا ہے، جیساکہ حدیث میں آتا ہے: ’میں نے تمھیں قبروں پر جانے سے روک دیا تھا، اب تم جا سکتے ہو۔‘ (۱۱) قرآن میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں ہے۔ بعض آیات جن میں نسخ کا شبہ ہوتا ہے، ان میں قرآن حکیم نے نسخ کے بجائے تخفیف کا لفظ استعمال کیا ہے۔ (۱۲) گویا ان صورتوں میں قرآن حکیم نے حالات کی رعایت کی ہے، مطلقاً حکم منسوخ نہیں کیا بلکہ کسی قدر نرمی پیدا کر دی ہے۔

۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی واضح حکم موجود ہو کہ فلاں آیت اب منسوخ کر دی جاتی ہے۔ ایسا بھی کوئی حکم موجود نہیں ہے۔

۳۔ بعض آیات کے احکام بظاہر باہم متعارض نظر آتے ہوں اور ان میں توافق ممکن نہ ہو۔ نسخ فی القرآن کی بحث اسی تیسری صورت کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ قرآنی آیات کا تعار ض رفع کرنے کے لیے علامہ جلال الدین سیوطی نے محی الدین ابن عربی کے حوالے سے اکیس آیات کو منسوخ بتایا ہے یعنی پورے قران میں اکیس آیات ایسی ہیں کہ اگر ان پر عمل کیا جائے تو دوسری آیات سے تعارض پیدا ہوتا ہے، اس لیے انھیں منسوخ قرار دیا گیا۔ درحقیقت اس بنا پر کسی آیت کو منسوخ قرار دینے کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں کہ ہم اپنے عجز کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں ان دو آیات میں واقع ہونے والے اختلاف اور تعارض کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آیا، لہٰذا قرآن میں تضاد تسلیم کرنے کے بجائے نسخ کے ذریعے سے آیات کی تاویل کی جائے، لیکن خود قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس میں تضاد نام کی کوئی شے نہیں ہے۔ وہ ایسی صداقتوں کی تعلیم دیتا ہے جو ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں اور قرآن کی صحیح اور سچی تشریح وتفسیر وہی ہو سکتی ہے جو اختلاف اور تضاد سے خالی ہو: 

اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفًا کَثِیْرًاO ۔(۱۳)
’’کیا لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ بعد کے مفسرین اور محققین نے حالات کے تغیر، علم کی ترقی اور قرآن کے گہرے مطالعے کے نتیجے میں ان میں سے کئی آیات کے مفہوم اور محمل متعین کر دیے۔ شاہ ولی اللہ نے ان میں سے سولہ آیات کے محمل متعین کر کے ایک ایسی شاہراہ کھول دی (۱۴) جس پر چل کر بعد کے علما نے باقی چھ آیات کے محمل بھی متعین کر دیے، چنانچہ ماضی قریب میں مولانا انور شاہ کشمیری، مفتی محمد عبدہ، مولانا عبید اللہ سندھی اور دیگر کئی علما نے قرآن میں موجود کسی بھی آیت کے منسوخ ہونے سے انکار کر دیا۔ انور شاہ کاشمیری کہتے ہیں:

’’محققین کے مسلک کو دیکھتے ہوئے میں نے کلیتاً نسخ کا انکار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن حکیم میں سرے سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے، یعنی ایسی کوئی آیت نہیں کہ جس کا حکم کلیتاً منسوخ ہو گیا ہو اور وہ کسی جزئی واقعہ میں بھی معمول بہا نہ ہو۔ میرے نزدیک ایسا نہیں اور کوئی بھی آیت جسے منسوخ بتایا گیا ہے، ایسی نہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے معمول بہا نہ ہو۔‘‘ (۱۵)

آیات میں تعارض کی صورت میں ہمیشہ نسخ ہی کا قول نہیں کیا جاتا بلکہ تعارض رفع کرنے کے اور حل بھی ہیں۔ مثلاً جہاں قرآن کی کسی آیت سے دوسری آیت کا حکم جزوی طور پر متاثر ہوا ہو، اسے تنسیخ (Abrogation) کے بجائے تخصیص (Particularization)، تقیید (Specification) یا استثنا (Exception) کہتے ہیں۔ نسخ فی القرآن کے مسئلے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم کی منسوخ آیات کی تعداد میں کمی کا نظریہ آگے بڑھتا رہا تا آنکہ دور حاضر کے بیشتر علما کی رائے یہ ہے کہ قرآن حکیم میں امکان نسخ کے باوجود ایسا کوئی تعارض موجود نہیں جس میں تطبیق (Adjustment)، توفیق (Reconciliation) یا توجیہ (Accommodation) ممکن نہ ہو۔ نتیجتاً قرآن حکیم کی آیات میں اختلاف یا تعارض کا نظریہ ختم ہو گیا۔

اگر نسخ فی القرآن کے مسئلہ کو درایت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ نظریہ بہت عجیب معلوم ہوتا ہے کہ کوئی حکم موجود ہو اور ا س کے بارے میں آیت اٹھا لی گئی ہو یا آیت موجود ہو اور اس کا کوئی عملی فائدہ نہ ہو اور اس کے حکم پر کسی حالت میں عمل کرنے کی کوئی صورت نہ ہو۔ (۱۶) یہی وجہ ہے کہ دور حاضر کے مفسرین نسخ کو تشریع کے تدریجی اور ارتقائی عمل کے مراحل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

اس اصولی بحث کے بعد اب ہم مذکورہ بالا دونوں آیات پر نسخ کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔

بالعموم مفسرین نے ان دونوں آیات (النساء ۴:۱۵، ۱۶) کو منسوخ قرار دیا ہے اور اس کے لیے انھوں نے دو طرح کی شہادتیں پیش کی ہیں، داخلی اور خارجی۔ ان آیات کے منسوخ ہونے کی داخلی شہادت انھوں نے یہ دی ہے کہ قرآن حکیم نے خود یہ الفاظ کہے ہیں: اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً (یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکال دے) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر قید کی سزا کا حکم دائمی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ بعد میں کوئی اور حکم دے دے گا، جو اس حکم کو منسوخ کر دے گا۔ مفسرین کی یہ رائے درست ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے راہ نکالنے کا وعدہ کیا ہے، اس لیے یہ حکم دائمی نہیں ہے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان دو آیات میں دو الگ الگ صورتوں کے الگ الگ حکم بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن حکیم نے راہ نکالنے کا وعدہ پہلی صورت یعنی بد کار بیوی کو عمر قید کی سزا کے سلسلے میں دیا ہے نہ کہ دوسری صورت میں۔ دوسری آیت میں بدکاری کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کو ایذا پہنچانے کا حکم ہے، جسے تبدیل کرنے کا وعدہ نہیں ہے۔ اگر تبدیلی کے وعدے میں یہ حکم بھی شامل ہوتا تو راہ نکالنے کے وعدے کے الفاظ دوسری آیت کے آخر میں ہوتے نہ کہ پہلی آیت کے آخر میں۔ قرآنی الفاظ کی ترتیب صاف بتا رہی ہے کہ پہلی صورت میں سزا کی تبدیلی کا حکم آنے کا امکان ہے جبکہ دوسری صورت میں حکم قطعی، دائمی اور ابدی ہے، لہٰذا دونوں آیات کے بارے میں یہ کہنا غلط ہے کہ ان میں دیا گیا حکم دائمی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ نے جن آیات کے نسخ کی روایت نقل کر کے ان کے محمل بتائے ہیں، ان میں صرف پہلی آیت کے سورۃ النور سے منسوخ ہونے کا قول نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ یہ حکم اپنی نہایت کو پہنچ گیا تو اس میں کیا گیا وعدہ پورا کر دیا گیا۔ (۱۷) شاہ صاحب کے نزدیک بھی دوسری آیت جو زنا کی تعزیری سزا کے بارے میں ہے، منسوخ نہیں ہے۔

جہاں تک ان آیات کے منسوخ ہونے کی خارجی شہادت ہے تو اس کا تعلق بھی اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً سے ہے اور مفسرین اس امر پرمتفق ہیں کہ اللہ نے جو راہ نکالنے کا وعدہ کیا تھا، وہ پورا کر دیا، البتہ اس کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ جن اہل علم کے نزدیک قرآن کا کوئی حکم حدیث سے منسوخ ہو سکتا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا قرآنی حکم حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے منسوخ ہو گیا ہے جو یہ ہے:

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا نزل علیہ الوحی اثر علیہ کرب لذلک وتربد وجہہ علیہ الصلاۃ والسلام فانزل اللہ تبارک وتعالیٰ ذات یوم فلما سری عنہ قال خذوا عنی قد جعل اللہ لہن سبیلا الثیب بالثیب والبکر بالبکر جلد ماءۃ والرجم بالحجارۃ والبکر جلد ماءۃ ثم نفی سنۃ (۱۸)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ کو کرب ہوتا اور آپ کے چہرۂ انور کا رنگ متغیر ہو جاتا۔ ایک دن اللہ نے آپ پر وحی نازل کی۔ جب آپ کو اس سے افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: مجھ سے لے لو۔ اللہ نے عورتوں کے لیے راہ نکال دی ہے۔ شادی شدہ، شادی شدہ سے بد کاری کرے اور کنوارے آپس میں بد کاری کریں تو سو کوڑے اور پتھروں سے رجم اور کنواروں کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا دی جائے۔‘‘

اس حدیث کے بارے میں متعدد اشکال تھے جن کی بنا پر بیشتر علما نے اس حدیث کو ناسخ قرار نہیں دیا:

۱۔ یہ خبر واحد ہے اور خبر واحد سے قرآنی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا، بلکہ امام شافعی کے نزدیک قرآن کے علاوہ اور کوئی چیز قرآن کو منسوخ نہیں کر سکتی۔ (۱۹)

۲۔ اس حدیث کے پہلے حصے سے جس میں وحی کی کیفیت بتائی گئی ہے، یہ ایہام ہوتا ہے کہ شاید بعد کے الفاظ قرآنی وحی ہیں، جبکہ یہ قرآن وحی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصحاب سنن نے اس روایت کے ابتدائی جملے حذف کر دیے اور انھوں نے ’خذوا عنی‘ سے روایت نقل کی۔ (۲۰)

۳۔ اس روایت میں کنوارے جوڑے کے لیے بد کاری پر سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا بتائی گئی ہے جبکہ حنفیہ کے نزدیک جلا وطنی کی سزا حد میں شامل نہیں اور مالکیہ کے نزدیک عورت اس سے مستثنیٰ ہے۔ (۲۱) شادی شدہ جوڑے کے لیے اس روایت میں سو کوڑوں اور رجم کی سزا بتائی گئی ہے جبکہ جمہور فقہا اس پر متفق ہیں کہ جسے رجم کی سزا دی جائے، اسے کوڑوں کی سزا نہیں دی جائے گی۔ (۲۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی یہ راویت کسی فقہی مکتب فکر کا مستدل نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ بالعموم مفسرین نے یہ رائے اختیار کی کہ مذکورہ بالا حکم (عمر قید) سورۃ النور کی آیت نمبر ۲ : ’الزانیۃ والزانی‘ سے منسوخ ہے۔ (۲۳) اس رائے پر یہ اعتراض تو نہیں کیا جا سکتا کہ قرآنی حکم کسی غیر قرآنی حکم سے منسوخ ہو گیا، البتہ اس میں یہ امر قابل غور ہے کہ سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیت نمبر ۱۵ کے آخری الفاظ ہیں اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً (یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکال دے) اس جملے میں ’لہن‘ کا تقاضا یہ ہے کہ بعد میں آنے والے حکم میں ان خواتین کے لیے تخفیف ہو، کیونکہ ’لہن‘ کا لام یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی خواتین کو جنھیں بد کاری پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے، بعد میں ریلیف دینا چاہتا ہے جبکہ سو کوڑوں کی سزا یا رجم کی سزا ریلیف نہیں ہے بلکہ عمر قید کی بہ نسبت شدید تر سزا ہے، اس لیے اگر ’الزانیۃ والزانی‘ کے تحت کوڑوں کی سزا یا سنت ثابتہ کے تحت رجم کی سزا کو ناسخ قرار دیا جائے تو ’لہن‘  کے تقاضے پورے نہیں ہوتے جبکہ قرآن کے مفہوم کے تعین میں سب سے پہلی اور اہم چیز جس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، وہ عربی زبان کی دلالت لفظی ہے۔ (۲۴)

اگر ’لہن‘ کے پیش نظر اس امر سے اتفاق کیا جائے کہ اللہ کی منشا یہ ہے کہ بعد میں کوئی تخفیف کر دی جائے تو اس کے لیے ہمیں قرآن حکیم کی تفسیر کے اصول ’’تصریف آیات‘‘ کے حوالے سے دیکھنا ہوگا کہ بیوی کی بدکاری کی صورت میں قرآن نے کہاں کہاں کیا کیا احکام دیے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں دو جگہ ایسے احکام ملتے ہیں جو واقعتاً ریلیف ہیں۔ ان احکام کا تعلق ا س ا مر سے بھی ہے کہ اگر کوئی شخص بیوی کی بد کاری کا قضیہ عدالت میں لے جانے کے بجائے اسے خانگی سطح پر نبٹانا چاہتا ہے تو اس کے لیے فوری اقدام یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بیوی کو گھر میں پابند کر دے تاکہ وہ اس ماحول سے الگ ہو جائے جو گناہ میں مبتلا ہونے کا باعث ہے۔ اس کے بعد اگر وہ اسے مستقل طور پر علیحدہ کرنا چاہتا ہے تو پہلا حکم سورۃ النساء کی آیت ۱۹ کی روشنی میں یہ ہے کہ اسے خلع کے ذریعے سے الگ کر دے، جو عمر قید کی سزا کاٹنے والی خاتون کے لیے بجا طور پر ریلیف ہے، جو یہ ہے:

یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْہًا وَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضِ مَآ آتَیْتُمُوْہُنَّ اِلاَّ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ (۲۵)
’’اے ایمان والو! تمہارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ جو کچھ تم نے انھیں دیا ہے، اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے انھیں تنگ کرو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلی بد کاری کی مرتکب ہوئی ہوں۔‘‘

ابن مسعود اور ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اگر بیوی زنا کا ارتکاب کرے تو اسے پریشان کر کے مہر کی واپسی پر آمادہ کرنا جائز ہے۔ (۲۶) یعنی اس آیت کی روشنی میں بیوی کو ناجائز تنگ کرنا تاکہ وہ جان چھڑانے کے لیے شوہر سے لیا ہوا مہر واپس کر کے خلع کر لے، جائز نہیں، البتہ اگر بیوی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوتی ہے تو اس سے مہر واپس لے کر خلع کرنا جائز ہے جو اس کے لیے عمر قید سے نجات کا ذریعہ ہے۔ اگلی آیت میں ا س حکم کی مزید تاکید کرتے ہوئے کہا: ’اَتَاْخُذُوْنَہُ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا‘ (۲۷) (کیا تم بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے دیا ہوا مال واپس لو گے؟)

امر واقعہ یہ ہے کہ جو بیوی اپنے گناہ کی پاداش میں جس پر چار گواہ موجود ہیں، گھر میں نظر بند ہے اور عمر قید کاٹ رہی ہے، ساتھ ہی شوہر اور خاندان کی طرف سے ناخوش گوار تعلقات کا سامنا کر رہی ہے، ا س کے لیے خلع یعنی مال کے بدلے طلاق خریدنا بہت بڑا ریلیف ہے اور غالباً سورۃ النساء کی آیت ۱۵ میں اسی ریلیف کا وعدہ تھا۔ اگر ایسی صورت درپیش ہو کہ خلع کے معاملات نہیں طے ہوتے اور مرد ایسی بیوی کو رکھنے کے لیے تیار نہ ہو تو سورۃ الطلاق میں ایک دوسرا حل دیا گیا ہے جو یہ ہے:

یَآ اَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ لاَ تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ بُیُوْتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلاَّ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ (۲۸)
’’اے نبی، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ (عدت کے دوران) نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خودنکلیں، الا یہ کہ وہ صریح بے حیائی کی مرتکب ہوں۔‘‘

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ طلاق کی صورت میں عدت کے دوران مطلقہ بیوی کو گھر سے بے دخل نہ کرو، البتہ اگر اس نے کھلی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہو تو اسے طلاق دے کر گھر سے نکال سکتے ہو۔ گویا یہ دوسرا ریلیف ہے جو اس بیوی کو دیا گیا ہے جس کو سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۵ میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ 

مذکورہ بالا احکام اس صورت میں تھے جب شوہر اس معاملے کوخانگی سطح پر طے کرنا چاہتا ہو۔ اور اگر وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جانا چاہتا ہو تو جس ریلیف کا وعدہ مذکورہ بالا آیت میں کیا گیا ہے، وہ ریلیف اگلی آیت میں دے دیا گیا جو یہ ہے:

وَالَّلذَانِ یَاْتِیَانِہَا مِنْکُمْ فَآذُوْہُمَا فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا O ۔(۲۹)
’’جو دو فرد (مرد اور عورت) بد کاری کا ارتکاب کریں، انھیں ایذا پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے در گزر کرو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘

یعنی جو جوڑا بدکاری کا ارتکاب کرتا ہے اور ان کے خلاف چار گواہ موجود ہیں تو انھیں تعزیری سزا دو۔ ظاہر ہے تعزیری سزا دینا عدالت کا کام ہے، اس لیے اس آیت کا تعلق عدالتی کارروائی کے تحت تعزیری سزا سے ہے۔

قرآن حکیم کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے جہاں جہاں اپنے سابقہ حکم میں کوئی تخفیف یا جزوی تبدیلی کی ہے، بالعموم اس امر کا التزام کیا ہے کہ پہلا اور دوسرا حکم ساتھ ساتھ بیان کیا جائے تاکہ مسلمان کسی قانونی الجھن کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً سورۃ الانفال کی آیت نمبر ۶۵ کے حکم میں اس سے اگلی آیت میں تخفیف کر دی گئی۔ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۵۰، ۵۱ کی اجازت کو اس سے اگلی آیت میں ختم کر دیا گیا۔ سورۃ المزمل کے آغاز میں دیے گئے قیام اللیل کے حکم میں اسی سورت کی آخری آیت میں تخفیف کر دی گئی۔ قرآن کے اس اسلوب کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں کہ سورۃ النساء کی آیت ۱۵ میں دیے گئے حکم میں اگلی آیت میں تخفیف کر دی گئی۔

الغرض جرم زنا پر سو کوڑوں سے کم سزا دینا حد نہیں ہے اور نہ ہی کتاب کے مصنف نے اسے حد قرار دیا ہے، البتہ اگر عدالت ا س پر سو کوڑوں سے کم کوئی سزا دے گی تو وہ سورۃ النساء کی آیت ۱۶ کے تحت تعزیری سزا ہوگی اور کوئی بھی سزا ’حد‘ اسی وقت قرار پائے گی جب کہ قرآن کی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔

عادی اور اتفاقی مجرم میں فرق

فاضل تبصرہ نگار لکھتے ہیں:

’’مصنف کا یہ بھی خیال ہے کہ حدود عادی مجرموں کے لیے ہیں، اتفاقی مجرموں کے لیے نہیں۔ (ص ۲۳) اس سے یہ مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایک شخص نے ایک یا دو دفعہ بد کاری کا ارتکاب کیا تو اس پر حد زنا جاری نہیں ہوگی۔ کیا اس طرح کا طرز عمل زنا، قذف، چوری اور دیگر جرائم حدود کی حوصلہ افزائی کا باعث نہیں بنے گا؟ عادی اور اتفاقی مجرم کے درمیان فرق کیسے کیا جا سکے گا؟ کسی جرم کے کتنی دفعہ ارتکاب سے ایک شخص اتفاقی سے عادی مجرم میں تبدیل ہوگا؟ ہمارے خیال میں مذکورہ موقف بہت سی قانونی پیچیدگیوں کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔‘‘ (ص ۱۵۰)

اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مصنف نے صرف زنا اور چوری کی سزاؤں کے حوالے سے عادی اور اتفاقی مجرم میں فرق کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں جرائم کی حدود بیان کرتے ہوئے قرآن حکیم نے اسم فاعل کے صیغے (’السارق والسارقۃ‘ اور ’الزانیۃ والزانی‘) استعمال کیے ہیں جو اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان الفاظ کے بعد بیان کیا گیا حکم عادی مجرموں کے لیے ہے۔ جہاں تک قذف، ڈاکے یا دیگر جرائم کا تعلق ہے، ان کے بارے میں یہ فرق نہیں ہے کیونکہ قرآن حکیم نے ان جرائم کی سزائیں بیان کرتے ہوئے مختلف اسلوب بیان اختیار کیا ہے جس کی تفصیل کتاب میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ جن صورتوں میں عادی مجرموں پر حد جاری کرنے کا حکم ہے، ان جرائم میں اتفاقی مجرموں کے لیے کتاب وسنت میں تعزیری سزاؤں کا حکم موجود ہے۔ مثلاً سورۃ النساء کی آیت ۱۶ میں بد کاری پر تعزیری سزا کا حکم ہے، جس کی تفصیل اوپر بیان کی گئی ہے اور چوری کے جرائم میں قطع ید کے بجائے چوری کے مال سے دوگنا جرمانہ عائد کرنے کی مثالیں ہماری کتاب میں موجود ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ اس سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوگی یا قانونی پیچیدگیاں جنم لیں گی۔ صرف اس قدر فرق ہوگا کہ پہلی بار ارتکاب جرم پر تعزیری سزا ہوگی اور دوسری بار کے ارتکاب جرم پر حد جاری ہو جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ان جرائم سے تعزیری سزائیں ختم کرنے کی وجہ سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس قدر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ گزشتہ ربع صدی سے حدود آرڈیننس کے نفاذ کے باوجود کسی شخص پر حد جاری نہیں ہوئی جبکہ معاشرہ جرائم کی آماج گاہ بن چکا ہے۔ 

رہی یہ بات کہ اتفاقی اور عادی مجرم میں کیا فرق ہے؟ اگر لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو جو شخص کسی جرم میں دوسری بار ماخوذ ہوتا ہے، اسے عادی مجرم کہنا چاہیے۔ نیز دنیا بھر میں قانونی دانش دو ایسے افراد کو یکساں قرار نہیں دیتی جن میں سے ایک کسی جرم میں پہلی بار ماخوذ ہو اور دوسرا اس جرم میں ایک بار سزا یاب ہو چکا ہو اور دوسری بار ماخوذ ہوا ہو۔ کتاب وسنت نے گناہ کے ارتکاب اور گناہ پر اصرار میں جو فرق کیا ہے، اس کی تفصیل زیر بحث کتاب میں موجود ہے، تاہم ہم نے یہ بحث نہیں کی کب کوئی مجرم اتفاقی سے عادی میں تبدیل ہو جائے گا جس کی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف ایسے امور بلکہ حدود آرڈیننس کی تمام متبادل دفعات کا تعلق قانون سازی سے ہے۔ ہمارا موضوع صر ف حدود آرڈیننس کی خامیوں کا تعین کر کے اس موضوع پر بحث ومذاکرہ کا آغاز کرنا تھا۔ متبادل قانون کیا ہو؟ یہ علما، فقہا، مفکرین، ماہرین قانون، اسلامی نظریاتی کونسل اور مقننہ کا کام ہے کہ وہ ہماری ناچیز کاوش اور حدود آرڈیننس کے نفاذ کے پچھلے پچیس سالہ تجربات کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ کریں۔

مذکورہ بالا بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:

۱۔ اگر کسی شخص کی بیوی بدکاری کا ارتکاب کرے اور اس پر چار گواہ موجود ہوں تو عورت کو گھر میں پابند کر دیا جائے اور اگر میاں بیوی اکٹھے نہ رہنا چاہتے ہوں لیکن معاملہ خاندانی سطح پر طے کرنا چاہتے ہوں تو خلع یا طلاق کے ذریعے علیحدہ ہو جائیں۔

۲۔ اگر شوہر اس معاملے کو عدالت میں لے جائے اور بدکاری میں ملوث جوڑے نے پہلی بار بدکاری کا ارتکاب کیا ہے تو سورۃ النساء کی آیت ۱۶ کے تحت انھیں تعزیری سزا دی جائے اور پھر انھیں اپنی روش تبدیل کر کے (توبہ کر کے) پاک صاف زندگی بسر کرنے کا موقع دیا جائے۔

۳۔ اگر وہ عادی مجرم ہو جاتے ہیں تو سورۃ النور کی آیت ۲ کے تحت انھیں سو سو کوڑوں کی سزا دی جائے اور اگر ان کا جرم حرابہ کے درجے کو پہنچ جاتا ہے تو سورۃ الاحزاب کی آیات ۶۰، ۶۱ کے تحت سزائے موت (رجم) دی جائے۔

۳۔ اگر شوہر کے پاس اپنی بیوی کی بد کاری ثابت کرنے کے لیے چار گواہ نہیں ہیں تو وہ دونوں سورۃ النور کی آیت ۶۔۹ کے تحت لعان کے ذریعے علیحدہ ہو جائیں۔

اسقاط حد میں توبہ کا کردار

فاضل تبصرہ نگار لکھتے ہیں:

’’مصنف کا حدود آرڈیننس پر ایک اعتراض یہ ہے کہ اس میں توبہ کی گنجایش نہیں رکھی گئی۔ ان کی رائے میں اگر کوئی شخص زنا یا چوری کے بعد عدالت میں توبہ کر لیتا ہے اور اپنے چال چلن کی درستی کا یقین دلاتا ہے تو ایسے شخص سے حد ساقط ہو جانی چاہیے۔ ہمارے خیال میں اس طرح تو حدود کبھی بھی نافذ نہیں ہو سکیں گی اور حدود کے اجرا کا پور انظام معطل ہو کر رہ جائے گا۔ اگر عدالت کو یہ قانونی حق دلایا جائے کہ وہ توبہ قبول کر کے حد کو ساقط کر دے تو عدالتیں اور خود مجرم اس کا کتنا غلط استعمال کریں گے۔ کیا کوئی شخص تصور کر سکتا ہے کہ ایک شخص کو عدالت سو کوڑے لگانے یا سنگ سار کرنے کی سزا سنائے اور وہ توبہ نہ کرے۔‘‘ (ص ۱۵۱)

فاضل تبصرہ نگار نے جس اندیشے کا ذکر کیا ہے، مصنف نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ’’جو گرفت میں آنے سے پہلے گناہ سے تائب ہو جائے، اس سے اسی طرح اللہ کے حقوق ساقط ہو جاتے ہیں جس طرح محارب سے ساقط ہو جاتے ہیں اور یہی رائے زیادہ صحیح ہے۔‘‘ (ص ۴۹)

درحقیقت ہمارے ہاں توبہ اور استغفار میں فرق نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے خلط مبحث پیدا ہو جاتا ہے۔ توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے گناہ پر نادم ہو کر اپنی روش تبدیل کر لے اور گناہ آلود زندگی ترک کر کے ایسی زندگی اختیار کر لے جو اس گناہ سے پاک ہو جس سے اس نے توبہ کی ہے، جبکہ استغفار کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے یہ درخواست کرے کہ اسے اس گناہ کی سزا نہ دی جائے۔ استغفار کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس شخص نے توبہ بھی کی ہو اور اپنی زندگی کی روش بدل لی ہو۔ ہماری بحث کا تعلق توبہ سے ہے جبکہ فاضل تبصرہ نگار نے جو اعتراض کیا ہے، اس کا تعلق توبہ سے نہیں بلکہ استغفار سے ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے جرم کی سزا پانے کے لیے عدالت کے سامنے پیش ہے تو اب اس کے لیے روش تبدیل کرنے کا کون سا وقت ہے؟ اب جو کچھ وہ کر سکتا ہے، وہ صرف استغفار ہے یعنی یہ درخواست کہ اسے اس جرم پر سزا نہ دی جائے اور کسی عدالت کو حدود کے معاملات میں استغفار کی قبولیت کا اختیار نہیں ہے۔ ہم نے اپنی تالیف میں ان سوالات کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں علما کی آرا کا تجزیہ پیش کیا ہے، تاہم توبہ کے بارے میں دو امور پیش نظر رکھنا ضروری ہیں:

۱۔ توبہ کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، حقوق العباد سے نہیں، یعنی اگر ارتکاب جرم میں کسی فرد کو جانی، مالی، عزت وآبرو کا یا کسی اور طرح کا نقصان پہنچایا گیا تو توبہ کے باوجود اس کی تلافی کے بغیر جرم معاف نہیں ہوتا۔ جہاں تک حقوق اللہ کا تعلق ہے تو جب تک اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا، ہر شخص اپنی روش تبدیل کر کے ازسرنو اللہ سے وفاداری کا عہد وپیمان کر سکتا ہے اور اس کی توبہ قبول ہوگی۔

۲۔ توبہ کو جرائم کی سزاؤں میں موثر قرار دینے کے پس منظر میں ’’تقادم (Time bar)کے اثرات‘‘ کے نظریے کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ فقہا کا اس امر پر اتفاق ہے کہ قرض تقادم سے معاف نہیں ہوتا، لیکن شراب نوشی کی سزا تقادم سے ساقط ہو جاتی ہے۔ حدود میں تقادم سے مراد یہ ہے کہ جرائم حدود میں سے کسی جرم کے ارتکاب پر اتنا وقت گزر جائے کہ اس عرصے میں گواہ اپنی گواہی پیش کر سکتے تھے، لیکن انھوں نے بلا عذر شرعی عدالت کی طرف رجوع نہیں کیا تو حنفیہ کے نزدیک بلا عذر تاخیر کے سبب سے ان کا دعویٰ قابل سماعت رہے گا نہ ان کی شہادت قابل قبول، البتہ اس حکم کا تعلق ان حدود سے ہے جو خالصتاً حقوق اللہ سے متعلق ہیں، یعنی حد زنا، حد خمر اور حد سرقہ۔ حد قذف اس میں شامل نہیں کیونکہ وہ بندے کا حق ہے۔ (۳۰)

تقادم کے باعث دعوے کے ناقابل سماعت ہونے میں جہاں اس امر کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے میں بد نیتی اور دشمنی کا عنصر شامل ہو سکتا ہے، وہاں یہ بات بھی پیش نظر ہے کہ وقت گزر نے کے باوجود اگر اس شخص نے دوبارہ وہ جرم نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی روش تبدیل کر لی اور یہی توبہ ہے۔

توبہ کے علاوہ دیگر مباحث میں بھی فقہا کے اختلافات اور دلائل کا مقدور بھر غیر جانب دارانہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے، لیکن صدیوں سے چلے آنے والے فقہی اختلافات کو کسی تجزیے سے ختم کیا جا سکتا ہے نہ ان میں کوئی قول فیصل دینا ممکن ہے۔ ان کی تفصیل اور تجزیے کی افادیت صرف یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی با اختیار ادارہ ان مسائل میں قانون سازی کرے تو فقہی اختلافات کے تجزیے کو بھی پیش نظر رکھے۔

حدود آرڈیننس کی اصل خرابی

حدود آرڈیننس کی سب سے بڑی خرابی جس کا ہم نے کتاب میں تفصیل سے ذکر کیا ، لیکن فاضل تبصرہ نگار نے اسے نظر انداز کر دیا، یہ ہے کہ اس میں انسانی قوانین کو الہامی قوانین کے نام پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ حدود آرڈیننس چار قوانین پر مشتمل ہے جن میں ایک سو ایک دفعات ہیں۔ ان میں سے صرف اٹھارہ دفعات کا تعلق حدود سے ہے اور باقی ۸۳ دفعات تعریفات، طریق کار اور تعزیری سزاؤں سے متعلق ہیں۔ لیکن ستم یہ ہے کہ ان تمام دفعات کے بارے میں ہر قانون کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس قرآن وسنت میں متعین کردہ اسلامی قانون کے مطابق ہے جبکہ تعزیرات کو کتاب وسنت میں مذکور سزائیں قرار دینا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا ہے۔ قرآن حکیم کی چودہ آیات میں اللہ کی طرف غلط بات منسوب کرنے اور اللہ پر افترا پردازی کو سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیا۔ نیز قیامت کے روز اس جرم کی شدید ترین باز پرس کی وعید سنائی گئی۔ قرآن حکیم میں ہے:

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتَابَ بِاَیْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ (۳۱)
’’ان لوگوں کے لیے تباہی ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَّواْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ (۳۲)
’’جس نے دانستہ میری طرف جھوٹی بات منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔‘‘

ہمارے علم میں حدود آرڈیننس کی تشکیل ونفاذ سے پہلے اسلامی تاریخ کی پوری چودہ صدیوں میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ امت کے کسی فرد یا طبقے نے اپنی آرا، افکار یا اپنی قانون سازی کو الہامی قوانین قرار دینے کی جسارت کی ہو۔ اسلامی تاریخ کا یہ پہلا اور منفرد واقعہ ہے جہاں اس قدر شدید بے احتیاطی کا ارتکاب کیا گیا۔ مثال کے طور پر حدود آرڈیننس (حد زنا) کی دفعہ ۱۵ اور ۱۶ کے تحت جائز نکاح کا یقین دلا کر کسی عورت سے دھوکے سے مباشرت کرنے کی سزا پچیس سال قید با مشقت اور تیس تک کوڑوں کی سزا ہے اور مجرمانہ نیت سے کسی عورت کو ورغلانے پر سات سال تک قید اور تیس کوڑوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ مذکورہ جرائم سنگین نوعیت کے جرائم ہیں اور ان پر دی جانے والی سزا کسی طور نا مناسب نہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی سزا قرآن میں ہے نہ سنت میں جبکہ ان کو قرآن وسنت کی متعین کردہ سزاؤں کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ یہ سزائیں حکومت کے اس اختیار کے نتیجے میں مقرر کی گئی ہیں جو اسے تعزیری قوانین کی تشکیل اور نفاذ کے سلسلے میں حاصل ہے۔ ان سزاؤں کو کتاب وسنت کی سزائیں قرار دینا افتراء علی اللہ ہے اور ارشاد ربانی ہے:

لاَ تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ وَّقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی O (۳۳)
’’اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ، ورنہ وہ سخت عذاب سے تمہارا ستیا ناس کر دے گا۔ جھوٹ جس نے بھی گھڑا، نامراد ہوا۔‘‘

بہرحال اللہ کی آخری عدالت میں جواب دہی کے احساس کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی قوانین کی تشکیل اور نفاذ میں انتہائی احتیاط، تدبر اور دانش کا مظاہرہ کیا جائے۔ مبادا ہمارا کوئی غیر محتاط اقدام اسلام اور اسلامی قوانین کی بدنامی کا باعث بن جائے۔

شراب نوشی کی سزا

شراب نوشی کی سزا کے بارے میں ہم نے لکھا ہے کہ یہ قرآن حکیم میں مذکور نہیں اور سنت نے قطعی سزا مقرر نہیں کی۔ اس سزا کو باقی رکھنا تو سنت ہے لیکن اس کی مقدار کا تعلق تعزیر سے ہے، حد سے نہیں۔ (ص ۲۵۰۔۲۵۶) اس بات کو بعض جرائد نے اس عنوان سے شائع کیا ہے کہ شراب نوشی پر کوئی سزا نہیں ہے، جس سے بہت بڑی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی پر سزا دینے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

من شرب الخمر فاجلدوہ (۳۴)
’’جو شراب پیے، اسے کوڑے لگاؤ۔‘‘

لیکن آپ نے کوڑوں کی تعداد مقرر نہیں کی، اس لیے اسے حد قرار دینا درست نہیں۔ اس رائے پر یہ اعتراض کیا جا سکتاہے کہ اسلامی ادبیات کی کتب حدیث اور فقہ میں شراب نوشی کی سزا کے لیے ’حد‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا حد ہے، اسے تعزیری سزا دینا تفرد ہے، لیکن اگر ہم اسلامی قوانین کی ساخت، عدالتوں کے طریق کار اور قاضیوں کے اختیارات کو مدنظر رکھیں تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ شراب نوشی کی سزا کو کتب حدیث اور فقہ میں ’حد‘ کیوں قرار دیا گیا، جبکہ انھیں کتب میں یہ تفصیل مذکور ہے کہ جب شراب نوشی کی کثرت ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کے مشورے سے ۸۰ کوڑے سزا مقرر کی۔ حد، حقوق اللہ کی پامالی پر دی جانے والی مقرر سزا کو کہتے ہیں۔ اسلامی قانون تعزیرات کی چونکہ دفعہ بندی (Codification) نہیں ہوئی تھی، اس لیے قضاۃ اپنی صواب دید کے مطابق تعزیری سزائیں دیتے تھے، لہٰذا کسی جرم کی تعزیری سزا کی مقدار مقرر نہیں تھی، البتہ شراب نوشی کی تعزیری سزا عہد صحابہ میں مقرر کر دی گئی تھی، اس لیے اسے حقوق اللہ کی پامالی پر مقرر سزا ہونے کے حوالے سے حد کا نام دیا گیا۔ پس حد سے مراد اگر ایسی مقررہ سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی ہو تو شراب نوشی پر سزا حد قرار نہیں پائے گی، لیکن اگر حکومت کی مقرر کردہ سزائیں بھی ’حدود‘ قرار دی جائیں تو نہ صرف شراب نوشی کی سزا بلکہ قانون تعزیرات کی دفعہ بندی کے بعد ہر جرم کی مقررہ سزا کو حد کہنا چاہیے، جبکہ حدود آرڈیننس میں حد کی تعریف یہ کی گئی ہے:

’’حد سے مراد وہ سزا ہے جس کا قرآن کریم یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حکم دیا گیا ہو۔‘‘


حوالہ جات

۱۔ احسان اللہ فہد اصلاحی، ’علامہ ابن تیمیہ کے نزدیک فہم قرآن کے اصول‘، ماہنامہ ترجمان القرآن، لاہور، ستمبر ۱۹۹۴، ۲۲

۲۔القرآن، النساء ۴:۱۵۔۱۶

۳۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، تاج کمپنی دہلی، ۱۹۹۹، ۲:۲۶۵

۴۔ ملاحظہ ہو تفسیر عثمانی، فوائد بذیل آیت ۱۵، سورۃ النساء۔ یاد رہے کہ تفسیر عثمانی کا ترجمہ اور سورۃ البقرۃ اور النساء کے فوائد مولانا محمود حسن دیوبندی کی تحریر ہیں۔

۵۔ مثلاً احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم (۲:۱۸۷) ، نساء کم حرث لکم (۲:۲۲۳)، امہات نساء کم (۴:۲۳)، ربائبکم اللاتی فی حجورکم من نساء کم (۴:۲۳)، للذین یولون من نساء ہم (۲:۲۲۵)، والذین یظاہرون منکم من نساء ہم (۵۸:۲) وغیرہ متعدد آیات میں نسائکم اور نساء ہم سے بیویاں مراد لی گئی ہیں نہ کہ عام عورتیں۔

۶۔ تفسیر عثمانی، حوالہ بالا

۷۔ شاہ ولی اللہ، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر، ادارۂ اسلامیا ت لاہور، ۱۹۸۲، ۳۲

۸۔ وہبہ الزحیلی، اصول الفقہ الاسلامی، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ۲:۹۳۶ بحوالہ الناسخ والمنسوخ لابن خزیمہ وکتاب الناسخ والمنسوخ فی القرآن الکریم لابی جعفر النحاس، ۲۶۴

۹۔ عبد الکریم زیدان، الوجیز فی اصول الفقہ، نشر احسان للنشر والتوزیع، طہران، ۱۳۸۰، ۳۸۸

۱۰۔ تفصیل کے لیے دیکھیے، تدبر قرآن، ۱:۳۰۸۔۳۱۷

۱۱۔ مسلم بن حجاج القشیری، صحیح مسلم، دار السلام ریاض، ۱۹۹۸، حدیث نمبر ۲۲۶۰

۱۲۔ مثلاً سورۃ الانفال کی آیات ۶۵۔۶۶، المزمل ۷۳ کی آیات ۲۔۴، ۲۰، المجادلہ ۵۸ کی آیات ۱۲۔۱۳

۱۳۔ القرآن، النساء ۴:۸۲

۱۵۔ انور شاہ کاشمیری، فیض الباری علیٰ صحیح البخاری، دار المعرفۃ بیروت، ۳:۱۴۷

۱۶۔ محمد خضری بک، اصول الفقہ، مطبعۃ الاستقامۃ ، القاہرۃ، ۲۵۷

۱۷۔ شاہ ولی اللہ، الفوز الکبیر، ۳۵

۱۸۔ احمد بن حنبل، مسند، ۵:۳۱۸، ۳۲۱، ۳۲۷، حدیث نمبر ۲۲۲۰۸، ۲۲۲۲۸، ۲۲۲۷۴

۱۹۔ الشافعی، محمد بن ادریس، الرسالہ، مطبع الحلبی، ۱۱۰

۲۰۔ دیکھیے مسلم، حدیث نمبر ۱۴۴۴، ترمذی ۱۴۳۴، ابو داود ۴۴۱۵، ابن ماجہ ۲۵۵۰

۲۱۔ عبد القادر عودہ، التشریع الجنائی الاسلامی، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۹۹۴، ۱: ۶۳۹

۲۲۔ شوکانی، محمد بن علی، نیل الاوطار، دار ابن حزم، بیروت، حدیث نمبر ۳۱۳۰، ص ۱۴۶۳

۲۳۔ ابن کثیر، اسماعیل بن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، دار القرآن الکریم بیروت، ۱:۳۶۶

۲۴۔ قرآن فہمی کے لیے عربی زبان کی دلالات کی اہمیت کے لیے دیکھیے: الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم، الموافقات فی اصول الاحکام، دار الفکر، ۲:۴۲۔۴۶

۲۵۔ القرآن، النساء ۴:۱۹

۲۶۔ تفسیر ابن کثیر، ۱:۳۶۸

۲۷۔ القرآن، النساء، ۴:۲۰

۲۸۔ ایضاً، الطلاق ۶۵:۱

۲۹۔ ایضاً، النساء ۴:۱۶

۳۰۔ الکاسانی، علاء الدین ابوبکر بن مسعود، بدائع الصنائع، دار الکتب العربیہ بیروت، ۷:۵۱۔ ابن عابدین، رد المحتار، بولاق، ۲:۱۵۸۔ ابن الہمام، شرح فتح القدیر، بولاق، ۴:۱۶۲۔

۳۱۔ القرآن، البقرہ ۲:۷۹

۳۲۔ یہ حدیث متواتر ہے اور بالعموم ہر مجموعہ حدیث میں موجود ہے۔

۳۳۔ القرآن، طہ ۲۰: ۶۱

۳۴۔ شوکانی، نیل الاوطار، حدیث نمبر ۳۲۱۱، ص ۱۵۰۰


آراء و افکار