مکاتیب

ادارہ

(۱)

۵؍مارچ ۲۰۰۵

محترم ومکرم مولانا محمد عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سب سے پہلے تو آپ کو اور تمام مسلمانوں کو نیا ہجری سال ۱۴۲۶ھ مبارک ہو۔ اللہ پاک مسلمانوں پر رحم فرمائے اور تمام عالم میں دین کے زندہ ہونے کی شکلوں کو وجود عطا فرمائے۔ آمین۔

’الشریعہ‘ کا ملنا بہت ہی حیرت کا سبب ہوا۔ یہ محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ دینی رسالوں کے ایک جم غفیر میں مجھے یہ ہی رسالہ ایسا لگا کہ جسے میں اپنے پڑھے لکھے دوستوں میں پیش کر سکتا ہوں کہ اس میں بھولے سے بھی کوئی ایسی بات نہ ہوگی جس سے تنگ نظری اور دین کا مسخاکہ سامنے آتا ہو۔ پہلی بار میں نے رسالہ دیکھا تو اس میں رافضیت پر آپ کے ابا جان مدظلہ کا انتہائی متوازن مضمون دیکھا۔ اگلا شمارہ ملا تو قادیانیت پر شائع کردہ ایک کتابچے پر تنقیدی تبصرہ پڑھا۔ واللہ پہلی بار معلوم ہوا کہ علما بھی علما کے کیے ہوئے کام پر جان دار تبصرہ فرما سکتے ہیں اور قادیانیت جیسے touchy موضوع پر لکھے مواد کی فنی چھان پھٹک کرنے کا حوصلہ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد مجھے رسالے کا انتظار رہنے لگا۔ پھر آپ کے قبلہ ابا جان مدظلہ کی ایک تحریر پڑھی جس میں سوز دل کے ساتھ سپاہ صحابہ کے طریق کار پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ آج رسالہ ملا ہے تو سب کام چھوڑ کر پہلے اسے مکمل کیا۔ میں پچھلے ماہ سے ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کے خطاب ’’مغرب کا فکری وتہذیبی چیلنج اور علما کی ذمہ داریاں‘‘ کی اشاعت کے انتظار میں تھا۔ یہ پیاس آج بجھی ہے، بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ پیاس اب لگی ہے۔ میں کیا اور میری رائے کیا، لیکن یہ ضرور عرض کروں گا کہ مدارس اور ان کے نظام تعلیم کے بارے میں ایک عرصہ پہلے پڑھی ہوئی مولانا عیسیٰ منصوری صاحب کی کتاب کے بعد اس موضوع پر سب سے متوازن تحریر یہی ہے کہ جس میں نہ بڑبولا پن ہے اور نہ معذرت والی مدلل مداحی۔ کاش ایسا ہو جائے کہ یہ مضمون چند مدارس میں باقاعدہ مطالعے اور مذاکرے کے لیے بھیجا جا سکے۔ کاش کہ علما ڈاکٹر غازی صاحب کی اس بات کو ایک عالم کی بات کے طور پر لیں نہ کہ ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر کے خیالات کے تناظر میں، کہ اپنے خطاب میں انھوں نے اپنی اس حیثیت کو تحدیث بالنعمۃ کے طور سے جتایا بھی ہے۔ اور یہ بھی کیا ہی خوش کن اتفاق ہے کہ مولانا منصوری صاحب مدظلہ کی مذکورہ کتاب بھی آپ ہی کی عنایت کردہ تھی۔

انگریزی میں ایک محاورہ ہے: Food for thought، جس کا اردو مترادف مجھے معلوم نہیں۔ آپ کا رسالہ دراصل یہی ’ذہنی غذا‘ فراہم کر رہا ہے، اور واللہ یہ آج کی بہت ہی نایاب جنس ہے۔ آپ کے معاونین کی فہرست دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس جاں گسل محنت کے بعد ایسے صاحب الرائے لوگ ایک مقصد کے لیے جمع کیے گئے ہوں گے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز۔

نیاز مند

حافظ صفوان محمد چوہان

سینئر لیکچرر/ ڈویژنل انجینئر (کمپیوٹر اینڈ ڈیٹا سروسز)

ٹیلی کمیونیکیشن سٹاف کالج، ہری پور

(۲)

ماہنامہ ’الشریعہ‘ جنوری ۲۰۰۵ کے شمارہ صفحہ ۳۰ پر محترم پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون ’قربانی کی رسم کا نفسیاتی پہلو‘ پڑھنے کے بعد یہ طالب علم سوچ میں پڑ گیا کہ محترم پروفیسر صاحب نے اپنے مضمون کا جو سر عنوان دیا ہے، اس میں قربانی کو ایک رسم اور نفسیاتی عمل کہا گیا ہے، جبکہ عام مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قربانی کو فرض، واجب کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ میری ناقص عقل کے مطابق جس چیز یا عمل کو شریعت نے فرض یا واجب قرار دے دیا ہو، اسے رسم ورواج کے زمرہ میں شمار نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اس پر عمل پیرا ہونا لازمی امر بن جاتا ہے۔ جبکہ رسم کوئی بھی ہو، اس پر عمل پیرا ہونے یا نہ ہونے سے فرد کے عقیدے اور اس کی ذات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس طالب علم کی رائے کے مطابق پروفیسر صاحب کو سب سے پہلے قربانی کی تعریف (Definition) کرنی چاہیے تھی کہ قربانی ہے کیا؟ قربانی کیوں کی جاتی ہے؟ قربانی صرف جانور کی ہی ہو سکتی ہے یا کسی اور چیز کی بھی قربانی ہو سکتی ہے؟ نیز یہ کہ قربانی کرنے یا نہ کرنے سے فرد کی ذات اور اس کے کردار پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اور اس سے سوسائٹی یا معاشرہ میں کیا تبدیلی رونما ہو سکتی ہے؟ تاکہ مضمون پڑھتے وقت قاری کا ذہن تذبذب یا التباس میں نہ پڑ جائے۔

بے شک انسانی تاریخ میں قربانی کا تصور موجود رہا ہے، گوکہ اس کی نوعیت مختلف ادوار میں مختلف رہی ہے اور دیوی، دیوتاؤں کے حضور انسانوں اور جانوروں کی قربانیاں دی جاتی رہی ہیں بلکہ وحشت کے دور میں تو ایک انسان دوسرے انسان کی خوراک بھی بن جایا کرتا تھا، لیکن یہ جانی قربانی کسی بھی دور میں انسان کے کسی بھی فطری جذبہ کی تسکین کی خاطر نہیں کی جاتی تھی، جیسا کہ پروفیسر صاحب نے تحریر فرمایا ہے، بلکہ یہ قربانی خارج میں فطرت کی قوتوں کے ڈر اور خوف کے جبر کا نتیجہ تھی اور اس ڈر اور خوف کی مجبوری کا اثر انسان کے خیالات اور جذبات پر بھی پڑتا تھا۔ اس وقت اس کے خیال کے مطابق انسانی یا حیوانی قربانی دینے سے وہ محفوظ ومامون رہ سکتا تھا اور اس ڈر اور خوف سے اسے نجات مل جائے گی۔ وہ جاہلیت کا دور تھا۔ جوں جوں انسانی شعور کا ارتقا اور اس کی نشوو نما ہوتی چلی گئی، انسان نے فطرت کی قوتوں کو ایک ایک کر کے مسخر کرنا شروع کر دیا تو جانی قربانی کا تصور کمزور ہوتا چلا گیا۔ اب تمام دنیا میں (ماسوائے مسلم معاشرہ کے) ہر قسم کی جانی قربانی کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ایک ماہر نفسیات بتا رہے تھے کہ جب سے انسان وجود میں آیا ہے، ہنوز یہ اپنی شعوری صلاحیتوں کا صرف دس فی صد حصہ اپنے تصرف میں لا سکا ہے اور ابھی نوے فیصد شعوری صلاحیتیں اسٹور میں پڑی ہیں۔ جیسے جیسے انسانی شعور بلند ہوتا چلا جائے گا، فرسودہ تصورات وروایات ازخود ختم ہوتے چلے جائیں گے۔

فطرت (Nature)، فطری جذبہ سے مراد کسی شے کی وہ خصوصیت ہے جو اٹل ہو۔ کوئی بھی شے اپنی فطرت کو بدل نہیں سکتی۔ شیر کی فطرت درندگی، بکری کی فطرت چرندگی، یہ فطری تقاضے ہیں۔ ان کے اظہار پر سب جاندار بشمول انسان مجبور ہیں۔ کیا جانی قربانی کا عمل بھی انھی معنوں میں لیا جا سکتا ہے؟

اب رہی داخلی جذبات کی بات تو عرض ہے کہ علم النفس کی رو سے جذبات مجموعہ ہوتے ہیں ان خارجی ابتدائی نقوش کا جو وراثت، ماحول اور ابتدائی تعلیم سے بچے کے ذہن پر مرتسم ہوتے رہتے ہیں یا یہ حاصل ہوتے ہیں ان تصورات، معتقدات، رسوم ورواج کا جو تمام انسانوں کو نسلی طور پر وراثتاً ملتے ہیں، لہٰذا جانی قربانی کو کسی یکساں جذبے یا داخلی تحریک کی علامت کے طور پر تمام انسانوں میں فطری طور پر موجود قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ جذبات ہر انسان کے علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں، یکساں ہو ہی نہیں سکتے۔

اب رہیں نفسیاتی اور تحلیل نفسی کے حوالے سے میری معروضات۔ ہر فرد کی نفسیاتی کیفیت الگ الگ ہوتی ہے۔ اسی طرح مختلف اقوام اور قبائل کی نفسیات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ نفسیاتی تبدیلی کیسے رونما ہوتی ہے، میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ دو ایک مزید مثالیں لیجیے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ انگریزی خواتین اپنے جسم، ہاتھ اور منہ کا ننگا رکھنا معیوب اور گناہ سمجھتی تھیں۔ یہ ان کی اس وقت کی نفسیات تھی۔ آج اسی انگریزی معاشرہ کی خواتین لباس کے تکلف سے بھی آزاد ہو چکی ہیں۔ یہ اس وقت کی نفسیات ہے۔ ہندو کو گوشت کے نام سے ہی گھن آتی ہے، جبکہ مسلمان کی خوراک میں گوشت لازمی جزو کے طور پر شامل ہے۔ مسلمان کو سور کے نام سے گھن آتی ہے تو عیسائی اسے شوق سے کھاتے ہیں۔

ہندو قوم میں ستی کی رسم کو آپ نے داخلی جذبات کی گھٹن کا نتیجہ قرار دیا۔ اس عاجز نے جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے، وہ یہ کہ ستی کی رسم غیرت کے نام پر قتل قسم کی چیز تھی۔ شوہر کے مرجانے یا قتل ہو نے کے بعد بیوہ عورت کسی دوسرے مرد کی بیوی بننا گوارا نہیں کرتی تھی اور شوہر کے ساتھ جل مر نے کو ترجیح دیتی تھی۔ بعد میں اس عمل کو مذہبی تقدس بھی حاصل ہو گیا تھا۔ یہ سلسلہ انگریزوں نے آکر بند کیا۔ تو عرض ہے کہ اس رسم کو تحلیل نفسی یا داخلی جذبات کی گھٹن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فطری جذبات پر بند باندھنا اور ان گھٹے ہوئے جذبات کے اظہار کا غلط راستہ اختیار کرنا فرد کے اندر کا معاملہ ہے جبکہ تحلیل نفسی خارجی عمل ہوتا ہے۔ جانی قربانی میرے داخلی جذبات کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ خارجی تصورات، معتقدات، وراثت، ماحول کا نتیجہ ہے۔ یہ جو خود کش دہشت گرد پائے جاتے ہیں یا ایک خاص عقیدہ رکھنے والا شخص دوسرا عقیدہ رکھنے والے کو قتل کر دیتا ہے، یہ تحلیل نفسی کا نتیجہ ہوتا ہے، لہٰذا نفسیات یا تحلیل نفسی مستقل بالذات یکساں فطری جذبہ یا تحریک کی علامت نہیں جو تمام انسانوں میں مشترکہ طور پر پایا جاتا ہو اور ہر انسان اپنے آپ کو جانی قربانی کرنے پر مجبور پاتا ہو۔ یہ صرف اعتقاد اور عقیدہ کا مسئلہ ہے۔

آفتاب عروج

مکان نمبر 11/9-W۔ گوجر روڈ

گوجر چوک۔ سیٹلائیٹ ٹاؤن۔ چنیوٹ

(۳)

۲۶ فروری ۲۰۰۵

برادر محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے کہ صحت اچھی ہوگی۔ معلوم نہیں کہ مولانا سرفراز خان صاحب اور مولانا عبد القیوم صاحب کی صحت کیسی ہے۔ یہ خط آپ کو اس لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ کا تبصرہ المرکز الاسلامی بنوں کی فقہی کانفرنس پر پڑھا۔ میں نے اس سے قبل اپنے پرچے میں یہ تجویز بھی دی تھی کہ ایم ایم اے کی جماعتیں کم از کم جمعیت علماء اسلام (دیوبندیت) اور جماعت اسلامی اپنے سے روٹھے ہوئے لوگوں کو اپنے دائرے میں لے آئیں تو اس سے ایم ایم اے کو وسعت ملے گی۔

آپ نے اسلام کے حوالے سے جن جدید مسائل کا ذکر کیا ہے اور جس طرح مسلکی دائروں سے نکل کر تحقیقات کرنے کی جرات مندانہ رائے کا اظہار کیا ہے، اس سے مجھے بڑی خوشی ہوئی، لیکن اس سلسلے میں شریعہ اکیڈمی ہی اگر کوئی اقدام کرے تو اس سے کوئی راہ نکلے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلک، تفرد اور تحزب نے اسلامی عناصر کو بہت ہی کسا ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ باندھا شخص جولانی نہیں دکھا سکتا اور محدود فکر اسلام کے لا محدود تصور اور مقاصد کو گرفت میں نہیں لے سکتی۔ میں نے پہلے بھی ایک خط میں یہ عرض کی تھی کہ آپ خود آغاز کریں۔ مثلاً ایک موضوع ذہن میں ہے کہ ’’اسلام اور جمہوریت‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کی ضرورت ہے۔ بعض دوست جمہوریت کو کفر کہتے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جمہوریت کا موجد ہی اسلام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلکی فقہی دائرے سے یہ ذرا اونچا موضوع ہے، جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ جدید نظریاتی دوائر میں کام کیا جائے۔

نیاز مند

سید معروف شاہ شیرازی ایڈووکیٹ

چیئرمین ظلال القرآن فاؤنڈیشن

مین سہام روڈ۔ پشاور روڈ۔ راول پنڈی

(۴)

محترم جناب مدیر الشریعہ

سلام مسنون

امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔

’الشریعہ‘ کا شمارہ فروری ۲۰۰۵ نظر نواز ہوا جس میں محترم دوست میاں انعام الرحمن کا مضمون ’’ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہ‘‘ پڑھ کر خوشی ہوئی۔ ایک تو میاں صاحب کے قلم کی جولانی اور پھر زیر تبصرہ شاعری جب خود میری شاعری تھی تو صاف بات ہے، خوشی کیوں نہ ہوتی۔ تاہم مضمون سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ کتاب اشاعت پذیر ہو چکی ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ میری زیر اشاعت کتاب کے حوالے سے لکھا گیا مضمون ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری سمجھی کہ دوستوں کو شکایت کا موقع نہ ملے کہ کتاب چھپنے کے بعد ان تک کیوں نہیں پہنچی۔ میاں صاحب اور دیگر احباب کی خدمت میں سلام۔

نیاز مند

کلیم احسان بٹ

گورنمنٹ زمیندار کالج

بھمبر روڈ۔ گجرات

(۵)

محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم

ماہنامہ ’الشریعہ‘ بڑی باقاعدگی سے ہر ماہ ملتا ہے۔ بہت شکریہ۔ خوشی اس بات کی ہے کہ آپ اور آپ کے معاونین نے اپنے اس علمی وادبی جریدے کو کسی مخصوص نقطہ نظر کے فروغ کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ مذہب، سیاست اور ادب پر لکھے جانے والے متنوع موضوعات کے حامل مضامین کو ’الشریعہ‘ میں مناسب جگہ دی جاتی ہے۔ بلاشبہ ہر اچھے اور معیاری پرچے کا یہی بنیادی اصول ہونا چاہیے تاکہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے قاری کو اس کی طبع کے مطابق متوازن فکری انداز کے حامل مضامین پڑھنے کو ملتے رہیں۔

’الشریعہ‘ کی وساطت سے پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کی مختلف موضوعات پر تحریریں نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ موصوف کس طرح تنقیدی اور تحقیقی زاویوں سے ہر نوع کے موضوعات پر بڑی کامیابی کے ساتھ خامہ فرسائی کر لیتے ہیں۔ یقیناًمسلسل او رمتنوع مطالعہ سے جنم لینے والی تحریری قوت ہی انھیں اس قدر مختلف موضوعات کے فکری اظہار پر اکساتی ہے۔ 

فروری ۲۰۰۵ کے شمارے میں انعام الرحمن صاحب کے دو مضامین نظر سے گزرے: ’’اسلامی حکومت کا فلاحی تصور‘‘ اور کلیم احسان بٹ کے شعری مجموعے ’’چلو جگنو پکڑتے ہیں‘‘ پر ان کا تنقیدی مضمون ’’ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہ‘‘۔ اگرچہ دونوں مضامین ان کی تحریری قوت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں، لیکن کلیم احسان کی کتاب پر لکھا گیا مضمون بعض مقامات پر اشعار کی تشریح کے حوالے سے فکری ابہام کا باعث بنتا ہے۔ خصوصاً یہ شعر:

وہ مجھے راستہ دکھاتا ہے
مری مٹھی میں ایک جگنو ہے

اس شعر کی تشریح کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ ’’ہتھیلی‘‘ کے بجائے ’’مٹھی‘‘ میں جگنو ہونے سے کسی طور شاعر کی انانیت کا سراغ نہیں ملتا، بلکہ اس سے ایک خدشے یا ڈر کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ ہتھیلی سے جگنو کے اڑنے کا اندیشہ ہے۔ مضمون کی ابتدا میں ’’میر اور ناصر کی شعری روایت کی ترفیع‘‘ کے حوالے سے کلیم احسان کے جو اشعار بطور مثال پیش کیے گئے ہیں، میرے نزدیک وہ ’’شعری روایت کی ترفیع‘‘ نہیں بلکہ بازگشت ہیں۔ میرا خیال ہے یہ غلطی اشعار کے انتخاب کے دوران میں ہوئی۔ بہرحال یہ وہ معمولی فرو گزاشتیں ہیں جنھیں بڑی آسانی سے دور کیا جا سکتا ہے۔

میری دعا ہے کہ پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب اسی جذبے اور جوش وخروش کے ساتھ ہمیشہ اپنی فکری اور تحریری توانائی سے ساکت اذہان کو متحرک کرتے رہیں۔ آمین

والسلام

سید وقار افضل

لیکچرر، گورنمنٹ زمیندار کالج، گجرات


مکاتیب