اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت

مولانا محمد یوسف

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کے جون ۲۰۰۴ء کے شمارے میں پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ کے توسط سے ان کے تازہ ترین افکار سے آشنائی ہوئی۔ موصوف نے اپنے مضمون میں آرٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے علما کے معاشرتی کردار کے حوالے سے یہ شکوہ کیا ہے کہ علما انسانی شعور کو ایڈریس کرنے کے بجائے جذباتی فضا قائم کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ غالباً اسی جذباتی فضا کا اثر ہے کہ خود میاں صاحب نے اس فضا کو ختم کرنے کے لیے جو انداز تحریر اختیار کیا ہے، وہ بھی شعور انسانی کو کم اور جذبات کو زیادہ اپیل کرنے والا ہے۔ ان کی تحریر میں سے ’’شعور‘‘ کو اپیل کرنے والا ایک نمونہ ذرا ملاحظہ فرمائیے:

’’راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مذہبی طبقے کے فن خطابت کا فنی جائزہ یہی مترشح کرتا ہے کہ ان کا دینی ادراک ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہے۔‘‘ 

موصوف نے اپنے مضمون میں کوہ صفا پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشہور خطبہ کا ذکر کیا ہے جس میں سراسر ’’شعور انسانی‘‘ کو مخاطب بنایا گیا تھا۔ موصوف اگر کچھ دیر کے لیے ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ اپنی اس تحریر کا موازنہ رسالت مآب ﷺ کے خطبے سے کریں گے تو نہ صرف دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا بلکہ موصوف کو اس حقیقت کا بھی علم ہو جائے گا کہ ان کے حصے میں دودھ کتنا آیا ہے اور پانی کتنا۔ موصوف کے زعم میں ان کا مخاطب طبقہ جس جذباتی فضا میں کھڑا ہے، خود انھوں نے بھی ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونے کی کوشش کی ہے لیکن اس نمایاں فرق کے ساتھ کہ ؂

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامہِ سیاہ میں ہے

۱۔ موصوف نے اپنے مضمون میں ’عالم‘ اور ’ماہر فقہ‘ (فقیہ) میں فرق واضح کرتے ہوئے دور حاضر کے علما کو ’ماہرین فقہ‘ قرار دیا ہے۔ موصوف رقم طراز ہیں:

’’ہمارے ہاں دین کی غلط تعبیر کی مانند ’عالم‘ کی تعریف بھی غلط کی گئی ہے۔ آج جنھیں ’علما‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ’ماہرین فقہ‘ کہلائے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔‘‘

موصوف کی اس بات کو علم فقہ کی تعریف اور اس کے مبادی ومتعلقات سے عدم واقفیت اور ناآشنائی کا نتیجہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عالم، فقیہ نہیں ہو سکتا۔ ایک فقیہ دینی مسائل میں ایک عالم سے زیادہ تحقیق رکھتا ہے۔ چونکہ ایک فقیہ کا منصب نصوص سے براہ راست احکام کا استنباط کرنا ہے جبکہ ہر عالم ایسا نہیں کر سکتا، اس لیے جو فقیہ ہوگا، وہ عالم بھی ہوگا لیکن ہر عالم، فقیہ نہیں ہو سکتا۔ ہماری معلومات کی حد تک امت مسلمہ میں کوئی فقیہ ایسا نہیں گزرا جو عالم نہ ہو۔ مدینہ منورہ کے مشہور فقہاء سبعہ سب کے سب جید علماء دین تھے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ’فقیہ‘ کی تعریف ملاحظہ ہو۔ امام اللغۃ زمخشری لکھتے ہیں: 

’’الفقیہ العالم الذی یشق الاحکام ویفتش عن حقائقہا ویفتح ما استغلق منہا‘‘ 
’’فقیہ اس عالم کو کہتے ہیں جو احکام شریعت کو واضح کرے، ان کے حقائق کا سراغ لگائے اور مغلق اور پیچیدہ مسائل کو حل کرے۔‘‘ (الفائق)

علم فقہ کی درج بالا تعریف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فقیہ، عالم ہی کو کہتے ہیں لیکن ہر عالم کو نہیں بلکہ اس عالم کو جو احکام شریعت کو واضح کرتے ہوئے مغلق اور پیچیدہ مسائل کو حل کرتا ہے۔ چنانچہ ’فقیہ‘ اور ’عالم‘ میں میاں صاحب کا قائم کردہ فرق ان دلائل کی روشنی میں درست نہیں، بلکہ اس سے ایک عجیب تضاد بیانی وجود میں آتی ہے، کیونکہ میاں صاحب ایک طرف فقہی، جہادی اور تبلیغی تینوں گروہوں کو اجتہادی روح سے عاری قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف دور حاضر کے ہر عالم کو ’فقیہ‘ کا منصب بھی عطا فرما رہے ہیں۔

۲۔ موصوف اس پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس ضمن میں مزید یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’فقہ‘ کو ’دین‘ اور ’فقیہ‘ کو ’عالم‘ تسلیم کرنے سے مسلم ذہن نے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ اپنے اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے موصوف نے ایک ’’لا جواب‘‘ دلیل پیش کی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:

’’راقم کا اشارہ اردو شاعری میں استعمال ہونے والی مشہور ترکیب ’فقیہ شہر‘ کی جانب ہے۔ کیا کوئی ایسا شعر بھی ہے جس میں ’فقیہ شہر‘ کو نرمی سے اور بغیر طنز کے مخاطب کیا گیا ہو؟‘‘

موصوف نے اپنے موقف کے حق میں اردو شاعری کی ایک ترکیب بطور دلیل پیش کی اور پھر خود ہی منصف کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اسے ’’مسلم ذہن‘‘ قرار دیا جو کہ استدلال کا ایک بالکل نرالا انداز ہے۔ شعرا رومانوی اور تصوراتی دنیا کے بادشاہ ہوتے ہیں۔ جو شاعر جتنی دور کی کوڑی لائے اور جس قدر ناممکن العمل بات کرے، اسے اتنا ہی بڑا فنکار سمجھا جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الغَاوُوْنَ O اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْنَ O وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لاَ یَفْعَلُوْنَ O اِلاَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا (الشعراء: ۲۲۴۔۲۲۶)
’’شاعروں کی اتباع گمراہ ہی کیا کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ (خیالات کی) ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں، اور وہ باتیں کرتے ہیں جن پر عمل نہیں کرتے؟ ماسوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور جو اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرتے رہے۔‘‘

درج بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شعرا کا مقام اور مرتبہ متعین کرتے ہوئے نفس اور خواہشات کے پجاری شعرا اور ان کے متبعین کی مذمت جبکہ اہل ایمان، صالح اور ذاکر شعرا کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’شاعر کا کلام ایک انسان کا کلام ہے۔ اس میں خطا کا احتمال ہے۔ چنانچہ جو بات حق ہو، اسے لے لو اور جو باطل ہو، اسے چھوڑ دو۔‘‘ چنانچہ کسی شعر میں بیان ہونے والے کسی خیال یا ترکیب کو اس اصول کی روشنی میں پرکھ کر ہی اس کے حق یا باطل ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا کسی شعری ترکیب کو قرآن وحدیث کے مقابلے میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو میاں صاحب اس ترکیب کو بنیاد بنا کر ’فقہ‘ یا ’فقیہ شہر‘ کو طنز کا نشانہ کیوں بنانا چاہتے ہیں؟

میاں صاحب نے اپنی تحریر میں جس ’’آرٹ‘‘ کا ذکر کیا ہے، اسی آرٹ کو قرآن حکیم میں علم فقہ کے نا م سے موسوم کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ فرمائیے:

وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا (البقرہ: ۲۶۹)
’’جس کو حکمت عطا کی گئی، اس کو خیر کثیر عطا کی گئی۔‘‘

امت مسلمہ کے بیشتر مفسرین کی رائے کے مطابق درج بالا ارشاد خداوندی میں ’حکمت‘ سے مراد ’علم فقہ‘ ہے جبکہ میاں صاحب نے ’حکمت‘ اور اس کے مترادف الفاظ کے لیے ’’آرٹ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ نہ جانے موصوف اپنے موقف کو ’’مسلم ذہن‘‘ کیوں قرار دیتے ہیں حالانکہ نہ صرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ’فقیہ‘ کے مقام اور مرتبہ سے مسلم ذہن کو آگاہ فرمایا بلکہ مسلم ذہن نے بھی ہمیشہ اس مقام کو قبول کیا ہے۔ بطور نمونہ چند احادیث ملاحظہ فرمائیے:

فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد (سنن الترمذی، کتاب العلم، حدیث ۲۶۰۵)
’’ایک فقیہ، شیطان پر ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ بھاری ہے۔‘‘
من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین (صحیح البخاری، کتاب العلم، حدیث ۶۹)
’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں۔‘‘

اس تفصیل کی روشنی میں قارئین پر واضح ہو چکا ہوگا کہ شاعری کی ایک ترکیب کو بنیاد بنا کر فقہ یا فقیہ کو طنز کا نشانہ بنانے میں کتنا وزن ہے۔

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

۳۔ علم فقہ سے متعلق موصوف اپنے خیالات کا مزید اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’فقہ کو دین کے متوازی کھڑا کرنے اور اسی کو دین قرار دینے سے معاشرتی بگاڑ آج جن جہتوں پر پنپ رہا ہے، وہ کسی وقت بھی ان امکانات کو چٹ کر سکتا ہے جو ٹمٹماتے چراغوں کی مانند اب بھی ہمارے باطن میں روشنیاں بکھیر رہے ہیں۔‘‘

راقم الحروف موصوف کا یہ موقف سمجھنے سے قاصر ہے۔ آخر علم فقہ کو کس طرح دین کے متوازی کھڑا کیا جا سکتا ہے جبکہ علم فقہ قرآن وحدیث سے مستنبط مسائل کے مجموعہ کا نام ہے؟ قرآن کریم میں ’فقہ‘ کی بنیاد درج ذیل ارشاد ربانی ہے:

فَلَوْ لاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ (براء ۃ: ۱۲۲)
’’پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومنوں کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکل آئی ہوتی تاکہ دین میں فہم وبصیرت حاصل کرے۔‘‘

اسی فہم وبصیرت کو ’علم فقہ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ قرآن وسنت میں غور وفکر کی وسعت ’فقہ‘ کہلاتی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے ’’تفقہ فی الدین‘‘ کے مفہوم میں درج ذیل باتوں کو بھی شامل کیا ہے:

۱۔ آفات نفسانی کی باریکیوں کی پہچان، ۲۔ ان چیزوں کی پہچان جو عمل کو فاسد بنا دینے والی ہیں، ۳۔ راہ آخرت کا علم، ۴۔ اخروی نعمتوں کی طرف غایت درجہ رجحان، ۵۔ دنیا کو حقیر سمجھنے کے ساتھ اس پر قابو پانے کی طاقت، ۶۔ دل پر خوف الٰہی کا غلبہ۔ (احیاء العلوم)

احادیث مبارکہ سے بھی ’فقہ‘ کے مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ ایک موقع پر رسالت مآب ﷺ نے صحابہ کرام کو نصیحت فرمائی:

ان الناس لکم تبع وان رجالا یاتونکم من اقطار الارضین یتفقہون فی الدین فاذا اتوکم فاستوصوا بہم خیرا (سنن الترمذی، کتاب العلم، حدیث ۲۵۷۴)
’’لوگ دین کے معاملے میں تمھارے پیروکار ہیں۔ اور بہت سے لوگ زمین کے اطراف سے تمھارے پاس دین کا فہم حاصل کرنے آئیں گے۔ جب وہ آئیں تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ یہ میری نصیحت ہے۔‘‘

درج بالا دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فقہ اسلامی کی بنیاد قرآن وحدیث میں موجود ہے اس لیے اس کو دین کے متوازی تصور کرنا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں۔ جس علم کی بنیاد قرآن حکیم میں موجود ہو، اس کو دین کے متوازی کیسے کھڑا کیا جا سکتا ہے؟ البتہ ممکن ہے کہ میاں صاحب فروعی اختلافات اور ان کے حوالے سے پائے جانے والے شدت پسندانہ رویے کو ’فقہ‘ سمجھ بیٹھے ہوں۔ اس ضمن میں ان کی طرف سے کوئی وضاحت آنے کے بعد ہی ہم کوئی گفتگو کر سکتے ہیں۔

۴۔ اسی مضمون میں موصوف نے ’السلام علیکم‘ کہنے کی سنت مبارکہ کے متعلق بھی ایک مخصوص اور منفرد نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’جس طرح ’السلام علیکم‘ کی ریت غیر مذہبی طبقے نے ڈالی ہے، اسی طرح اجتماعیت کی اس روح کا ادراک بھی (جو کہیں نظر آتا ہے) اسی طبقے نے دیا ہے۔‘‘

نہ جانے موصوف نے کس اصول کے تحت ایک مذہبی شعار کو غیر مذہبی طبقے کی طرف منسوب کر دیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ’سلام‘ کی رسم کے آغاز سے متعلق حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیے:

عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ قال خلق اللہ آدم وطولہ ستون ذراعا ثم قال اذہب فسلم علی اولئک من الملائکۃ فاستمع ما یحیونک تحیتک وتحیۃ ذریتک فقال السلام علیکم فقالوا السلام علیک ورحمۃ اللہ فزادوہ ورحمۃ اللہ۔ (صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، حدیث ۳۰۷۹)
’’حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا۔ فرمایا، جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور جو وہ جواب دیں، اس کو سنو۔ وہی تیرے اور تیری اولاد کے لیے ’سلام‘ کرنے کا طریقہ ہوگا۔ حضرت آدم نے کہا، السلام علیکم تو فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انھوں نے جواب میں ورحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔‘‘

درج بالا حدیث مبارک سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ السلام علیکم کی سنت مبارکہ کا آغاز سیدنا آدم سے ہوا اور آج تک امت مسلمہ میں جاری ہے۔ میاں صاحب وضاحت فرمائیں کہ کیا حضرت آدم کا تعلق بھی غیر مذہبی طبقے سے تھا؟ اول تو مذہبی اور غیر مذہبی کی تفریق ہی درست نہیں کیونکہ ہر مسلمان بنیادی طور پر مذہبی ہوتا ہے۔ ممکن ہے میاں صاحب اس تفریق کا ذمہ دار بھی مذہبی طبقہ کو ٹھہرائیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ میاں صاحب اتنے بھولے بھالے اور سادہ لوح کیوں بن گئے کہ ایک غلط تفریق کو بخوشی قبول فرما رہے ہیں؟ موصوف کے بقول دینی طبقے کا ادراک تو ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہے۔ آخر موصوف کے صاف ستھرے دینی ادراک پر اس کا پرتو کیسے پڑ گیا؟ لطافت کا آخر کثافت سے کیا میل ہے؟

یہ بھی ممکن ہے کہ میاں صاحب سلام کی ریت کے بارے میں اپنے موقف کی یوں تاویل کریں کہ ان کی گفتگو سلام کی رسم کے آغاز سے نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اس ریت پر عمل کرنے اور اس کو فروغ دینے سے متعلق تھی۔ میاں صاحب کی اس ممکنہ تاویل کی حقیقت کو پرکھنے کے لیے راقم الحروف چند عملی مشاہدات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنا چاہتا ہے تاکہ حقیقت حال واضح ہو سکے۔

راقم نے عصری تعلیم کے حصول کے لیے کچھ عرصہ عصری تعلیمی اداروں میں اور دینی تعلیم کے حصول کے لیے کچھ عرصہ دینی تعلیمی اداروں میں گزارا ہے۔ اس ضمن میں دو تین واقعات بطور مثال عرض کرنا چاہوں گا۔

راقم الحروف جب چھٹی جماعت میں داخل ہوا اور انگریزی کے استاد سبق پڑھانے کے لیے تشریف لائے تو انھوں نے اپنی گفتگو کا آغاز ان کلمات سے کیا: ’’عزیز طلبہ! یہ بات آپ کے لیے باعث خوشی ہوگی کہ آپ پرائمری سے مڈل حصے میں ترقی کر چکے ہیں۔ چھٹی جماعت میں آپ کو ایک نیا مضمون، ’انگریزی‘ پڑھایا جائے گا۔ آپ اپنے ماحول میں انگریزی کو عام کریں اور صبح گھر سے سکول آتے ہوئے صبح کا سلام انگریزی زبان میں Good Morning (صبح بخیر) کہہ کر کیا کریں۔‘‘ ایک طالب علم بولا کہ سر! ہمارے والدین انگریزی سے ناواقف ہیں۔ استاد محترم طالب علم کی بات سن کر مسکرائے اور ایک لطیفہ سنایا، جو یوں ہے کہ ایک بچے کو انگریزی کے استاد نے کہا کہ عزیزم، صبح جب گھر سے سکول آتے ہو تو صبح کا سلام انگریزی زبان میں کیا کرو۔ ہدایت کے مطابق بچہ جب گھر سے سکول کے لیے روانہ ہونے لگا تو انگریزی سے ناآشنا سیدھی سادھی والدہ کو ’Good Morning‘ (گڈ مارننگ) کہا۔ ماں حیرت سے بچے کا منہ تکتی رہ گئی۔ بچہ تو سلام کر کے گھر سے نکل گیا لیکن حیرت زدہ ماں نے اپنے بھائی یعنی بچے کے ماموں سے کہا: ’’میرا پتر اج گڑ منگدا منگدا سکول ٹر گیا اے‘‘ (میرا بیٹا آج گڑ مانگتا مانگتا سکول چلا گیا ہے)

کیا فرماتے ہیں محترم میاں صاحب بیچ اس مسئلے کے کہ کیا ’السلام علیکم‘ کے الفاظ چھوڑ کر Good Morning, Good Evening, Good Night وغیرہ کی ریت بھی مذہبی طبقے نے ہی ڈالی ہے؟ ان سے فقط یہی عرض کی جا سکتی ہے کہ ’’اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت‘‘۔

ایک دوسرا واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔ راقم کچھ عرصہ قبل ایک نجی کام کے سلسلے میں گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں شعبہ انگریزی کے صدر سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ موصوف ایک خوش طبع اور ملنسار آدمی ہیں۔ میں نے حاضری کا مدعا بیان کیا تو اٹھ کر میرے ساتھ چل پڑے۔ ہم دائیں طرف چل رہے تھے اور راستے میں طلبہ کے مختلف گروپ کھڑے گفتگو میں مصروف تھے۔ طلبہ اس بات کا خیال کیے بغیر کہ معزز استاد تشریف لا رہے ہیں، گفتگو میں مصروف رہے۔ سلام تو درکنار، گزرنے کے لیے ہمیں راستہ بنا کر کبھی دائیں سے بائیں اور کبھی بائیں سے دائیں چلنا پڑتا تھا۔ میں نے عرض کی، سر! طلبہ کا یہ رویہ مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس تعلیمی ادارے میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں اور سب طلبہ ہر ایک استاد کو نہیں جانتے۔ میں نے عرض کی کہ اول تو سلام کے لیے جان پہچان کی ضرورت نہیں۔ دوسرے آپ کی شخصیت اور عمر سے ہر دیکھنے والے کو اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ ادارے کے استاد ہیں۔ اس پر وہ بولے کہ بھائی، ہمارے کالجوں اور دینی مدارس میں تربیت کے حوالے سے بہت فرق ہے۔ سلام کرنے کی روایت جس طرح دینی مدارس میں موجود ہے، اس طرح عصری تعلیمی اداروں میں بہت کم ہے۔

یہ عصری تعلیم کے ایک مستند ادارے کے ایک فاضل استاد کا اعتراف ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے مذہبی طبقے کے ہاں دکھائی دینے والے عمومی منظر کا بھی ذکر کر دیا جائے۔ راقم الحروف نے ملک کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں داخلہ لیا اور ایک سال کے تعلیمی عرصہ کے دوران میں روزانہ اس بات کا عملی مشاہدہ کیا کہ ہمارے استاد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ جب قرآن حکیم کی تفسیر اور بخاری شریف کا سبق پڑھانے کے لیے تشریف لاتے تو طلبہ ابھی تقریباً پچیس فٹ کے فاصلے پر منتظر ہوتے کہ استاد محترم قریب تشریف لائیں اور ہم سلام عرض کریں کہ استاد محترم پچیس فٹ کے فاصلے سے السلام علیکم کے الفاظ ادا فرما کر سلام کرنے میں سبقت لے جاتے۔ میں نے استاد محترم سے کئی بار خود سنا کہ ’’ہمارے شیخ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ سلام کی سنت میں ہمیشہ سبقت فرمایا کرتے تھے۔‘‘ سلام کی سنت میں سبقت کرنے کی اسی عادت مبارکہ کا مشاہدہ راقم نے استاد محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید صاحب سواتی مدظلہ کے ہاں بھی کیا۔ اب دیکھیے، محترم میاں صاحب اپنے اس موقف کی کیا توجیہ کرتے ہیں کہ سلام کی ریت مذہبی طبقے نے نہیں بلکہ غیر مذہبی طبقے نے ڈالی ہے۔

۵۔ میاں صاحب اجتہاد کے متعلق علما اور مذہبی طبقے کے کردار سے بھی مطمئن نہیں، چنانچہ اپنا موقف انتہائی جذباتی انداز میں یوں بیان کرتے ہیں:

’’ہمارا مذہبی طبقہ آرٹ سے بے بہرہ ہے، اس لیے نہ صرف وہ خود اجتہادی روح سے بیگانہ ہو کر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے بلکہ ساتھ ساتھ عوام کو شعور دینے سے بھی قاصر ہے ۔ فقہی، جہادی اور تبلیغی، تینوں گروہ اجتہاد سے عاری ہیں۔‘‘

مذہبی طبقے پر موصوف کی عائد کردہ اس ’فرد جرم‘ کا جائزہ لینے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معنی اور مفہوم کی وضاحت کر دی جائے۔ اجتہاد کے معنی یہ ہیں کہ قرآن وحدیث سے کسی شرعی حکم کے استنباط کے لیے غور وفکر کی پوری قوت صرف کر دی جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں:ایک، قرآن وحدیث کے منصوص مسائل کی تعبیر وتشریح اور دوسری، منصوص مسائل پر قیاس کرتے ہوئے غیر منصوص مسائل کے احکام کا استخراج۔ 

اب آئیے اجتہاد کے حوالے سے مذہبی طبقے کے کردار کی طرف۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے راقم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جدید پیش آمدہ غیر منصوص مسائل کے حل کے لیے جید اور مستند علماء کرام کو انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر اجتہادی کوششیں بروئے کار لانی چاہییں۔ اس بات کا اعتراف کرنے میں ہمیں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ اس حوالے سے مذہبی طبقوں کی کارکردگی ادھوری اور ناقص ہے۔ آج بالفرض حکومت وریاست اور معاشرے کے تمام امور کی باگ ڈور مذہبی طبقے کو سونپ دی جائے تو ان کا علمی وفکری ہوم ورک اس درجے کا نہیں کہ دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں صورت حال کو بدل ڈالیں۔ بہت سے معاملات اور امور تشنہ تحقیق ہیں اور ان پر پوری طرح سے غور وفکر کیے بغیر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ فقہا کا فرض صرف یہ نہیں کہ وہ ناجائز اور حرام باتوں کی نشان دہی کر دیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اس کے متبادل جائز راستے تجویز کریں۔ قرآن حکیم نے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مصر کے بادشاہ نے جب ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بعد میں بتلائی جبکہ خواب میں جس آئندہ قحط کی اطلاع دی گئی تھی، اس کے سدباب کا طریقہ پہلے بتایا۔ چنانچہ فرمایا:

تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَباً فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْہُ فِیْ سُنْبُلِہٖ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تَاْکُلُوْنَ۔ (یوسف: ۴۷)
’’تم سات سال تک مسلسل فصل کاشت کرو گے۔ اس دوران میں تم جو فصل کاٹو، اس کے دانوں کو خوشوں کے اندر ہی رہنے دو، سوائے اس تھوڑی سی مقدار کے جو تمھاری خوراک بنے۔‘‘

مذہبی طبقے میں اجتہاد کے حوالے سے یہ خامی موجود ہے، تاہم وہ اجتہادی روح سے بیگانہ نہیں بلکہ اہل علم میں اجتہادی روح پوری طرح بیدار ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اجتہاد کا کام اجتماعی طور پر منظم طریقے سے انجام نہیں پا رہا، ورنہ جہاں تک جدید پیش آمدہ مسائل کے حوالے سے اجتہاد کے عمل کا تعلق ہے، وہ پوری طرح جاری وساری ہے۔ اس وجہ سے راقم میاں صاحب کے اس موقف کو کہ مذہبی طبقہ اجتہادی روح سے بیگانہ ہو کر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے اور عوام کو شعور دینے سے قاصر ہے، مبنی بر انصاف نہیں سمجھتا۔ اگر میاں صاحب کو کچھ مسائل کا سامنا ہے تو ان کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ خود ’مجتہد‘ کے منصب سے استعفا دے دیں۔ ان کے اجتہاد کے نمونے گاہے گاہے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایک دن اجتہاد کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ مسواک کا مقصد بھی دانتوں کی صفائی ہے اور ٹوتھ برش کا مقصد بھی یہی ہے، اس لیے برش سے دانت صاف کر لیے جائیں تو مسواک کی سنت ادا ہو جاتی ہے۔ 

اجتہاد کا منصب ہر حال میں اہل فن تک محدود رہے گا۔ ایسا نہیں کہ جس کا جی چاہے، اٹھے اور اجتہاد کرنا شروع کر دے۔ غیر ماہر فن کے اجتہاد کے نتیجے میں دین بازیچہ اطفال بن جائے گا اور اس کے بے شمار نمونے ہمارے سامنے ہیں۔ چند روز قبل راقم کا ایک ضروری کام کے سلسلے میں اسلام آباد جانا ہوا۔ ایک مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ایک ڈاکٹر صاحب نے قرآن حکیم کا درس دینا شروع کر دیا۔ راقم بھی قرآن کریم کا ایک نسخہ لے کر سامعین میں جا بیٹھا۔ موصوف نے درس شروع کیا تو یہ جان کر بے حد دکھ ہوا کہ موصوف نہ صرف ناظرہ قرآن مجید غلط پڑھ رہے تھے بلکہ ترجمے میں بھی واضح غلطیاں کر رہے تھے۔ قرآن حکیم ہی وہ مظلوم کتاب ہے کہ جو شخص اس کی درست تلاوت تک نہیں کر سکتا، وہ اردو کی کچھ تفاسیر کا مطالعہ کر کے خود کو مفسر قرآن سمجھنے لگتا ہے اور I Think کے فتنے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ بہرحال، درس کے دوران میں ڈاکٹر صاحب نے اجتہاد کے متعلق اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ غیر منصوص مسائل میں اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اور ساتھ ہی ایک اجتہاد کر کے بھی دکھا دیا۔ کہنے لگے کہ قرآن حکیم میں صرف چار چیزوں کی حرمت بیان ہوئی ہے، یعنی مردار، دم مسفوح، خنزیر کا گوشت اور ایسا جانور جس کو ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ ان کے علاوہ باقی چیزیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں، ان کے متعلق ہم اجتہاد کریں گے، چنانچہ ان کے علاوہ باقی کوئی بھی چیز حرام نہیں ہو سکتی، زیادہ سے زیادہ مکروہ ہوگی۔ درس میں شریک ایک صاحب نے سوال کیا کہ گدھے کے گوشت کا کیا حکم ہے؟ ڈاکٹر صاحب بولے کہ چونکہ اس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں، اس لیے یہ بھی مکروہ ہے۔ راقم اول تو آداب مجلس کی وجہ سے خاموش رہا، لیکن بالآخر بولنا پڑا۔ میں نے عرض کی کہ محترم، گدھے کا گوشت مکروہ نہیں بلکہ صریحاً حرام ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس کا ذکر قرآن کریم میں نہیں تو عرض یہ ہے کہ قرآن مجید میں تمام حرام چیزوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کچھ کا ذکر قرآن میں ہے جبکہ کچھ کا ذکر احادیث میں کیا گیا ہے جن میں گدھا بھی شامل ہے۔ غزوۂ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھے کے گوشت کو صراحتاً حرام قرار دیا تھا۔ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، ۳۸۷۷)

مذہبی طبقے کا دینی ادراک اسی طرز فکر کے حامل احباب کو ’’ابلیسیت زدہ‘‘ دکھائی دیتا ہے، لیکن خود ان کے دینی ادراک کا عالم کیا ہے، اس کی ایک جھلک مذکورہ واقعے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ 

راقم الحروف محترم میاں انعام الرحمن صاحب کا بے حد قدر دان ہے ، تاہم موصوف کے بعض ذہنی افکار اور نقطہ ہائے نظر سے اختلاف کا حق ضرور رکھتا ہے۔ درج بالا سطور میں راقم نے میاں صاحب کے بعض خیالات کے ساتھ دوستانہ اختلاف کی جسارت کی ہے اور مجھے امید ہے کہ موصوف اپنے موقف کے دفاع میں تاویلات سے کام لینے اور مذہبی طبقے کے خلاف ’’ابلیسیت زدہ‘‘ ہونے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے جذباتی طعنوں کا سہارا لینے کے بجائے جواب میں افہام وتفہیم پر مبنی اور شعور کو ایڈریس کرنے والا انداز تحریر اختیار کریں گے۔ 

آراء و افکار

(جولائی ۲۰۰۴ء)

Flag Counter